@MNasAwan555 ذہانت جج کرنا آسان کام نہیں زیادہ تو وہ عورتیں شوہر کو تنگ کرتی ہیں طلاق تک مانگتی ہیں جو ذہنی تیز ہوتی ہیں شریف لڑکی سیدھی سادی ہی ہوتی ہے
@Sadiajavedppp کراچی کا الگ یونٹ بننے سے MQM کا کویٔ تعلق نہیں ہونا چاہیے PTI اور جماعت اسلامی بہتر ہے اگر MQM کو ہی اقتدار ملنا ہے تو PPP اس سے بہتر ہے قربانی کی کھالیں تو نہیں چھینتے
@Rabbia223344 ویوز سے آمدنی ہوتی ہے اللہ تعالی کے ہاں وہ خود جواب دیگی ہوسکتا ہے آپ برقعہ پہنتی ہوں لیکن آخرت میں پتہ لگے آپ کے گناہ اس ایکٹرس کی نسبت سے بہت زیادہ ہیں
@mianzaminabbas جب پاکستان بنا تو بنگالی بولنے والے اکثریت تھے اس کے باوجود قایٔد اعظم نے ڈھاکہ میں یہ واضح اعلان کیا کہ پاکستان کی قومی زبان صرف اردو ہوگی پھر آیین میں لکھا گیا کہ دفتری زبان دس سال میں اردو ہوگی لیکن ایسا نہ ہو سکا علامہ اقبال سیالکوٹ پیدایش لیکن شعر اردو/فارسی میں کہتے رہے
@qur92561 حر تحریک ان کے مذہبی پیشوا پیر صاحب پگاڑا کے لۓ تھی اسکا تحریک پاکستان یا مسلم لیگ سے کویٔ تعلق نہیں تھا نہ پیر صاحب پگارا کبھی قایٔد اعظم سے ملے وہ حروں کے پیر کی حیثیت سے انگریزوں سے لڑے
مریم نواز صاحبہ یہ پنجاب کی خواجہ فرید یونیورسٹی میں ہو رہا!
ایک داڑھی والا استاد عقیل الرحمان طالبہ سے جنسی تعلق بنانے کی خواہش میں اسکو بلیک میل کر رہا
یہ سکرین شاٹس ضلع رحیم یار خان خواجہ فریدؒ یونیورسٹی میں پڑھتی ایک طالبہ کی طرف سے سوشل میڈیا فیس بک کے ایک گروپ میں شئیر کئے گئے ہیں
جس نے شاید خوف کے مارے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی. اس میں ایک استاد اس کو نمبرز/ گریڈز کا خوف لالچ دے کر جنسی تعلق چاہتا ہے. اس کی فی الفور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے میں اور اگر یہ سچ ہے تو اس بے غیرت انسان کو قرار واقعی سزا ہونی چاہیے
باقی یہ حقیقت بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ آج کل یونیورسٹیوں میں پڑھانے والے اکثر اساتذہ طلباء کو اس طرح بلیک میل کرتے ہیں لیکن بچیاں ہِمّت نہیں کر پاتی سماج کے دباؤ والدین کے خوف اور بدنامی کی وجہ سے اگر کوئی کردے تو ادارہ بھی سو فیصد اپنی ساکھ بچانے کے لئے ایسے عناصر کو بچاتا ہے
@prohibent نہیں اب بہت دیر ہوگیٔ کراچی کی ڈیمو گرافی تبدیل ہوگیٔ اب اردو بولنے والے آدھے سے بھی کم ہیں بہترین موقع جنرل ضیا کے زمانے میں تھا اسی نے 1984 میں MQM بنوایٔ تھی جسنے کراچی اور حیدر آباد کی دو سیٹیں چھوڑ کر ساری سیٹیں جیت لیں تھیں
رحیم یار خان یونیورسٹی کے ایک وڈی داری والے ٹیچر کا طالبات کو ہراساں کرنے کا معاملہ
طالبہ نہیں ٹیچر کے واٹس ایپ پر کئے گئے میسیجز وائرل کر دیئے
واقعے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور ثابت ہونے پر سخت ایکشن ہونا چاہئے
ملک خصوصا” سندھ کے کونے کونے سے بد کرداروں کو کراچی پر مسلط کردیا گیا ھے
شراب کے نشے میں دھت ٹریفک پولیس افسر نے سوز کی ڈرائیور کی جان لے لی
تمام ثبوت سامنے ہیں اسے پکڑنے والے اسکے وکیل اورانصاف فراھم کرنے والے سب ایک ہی گروہ ھے
کچھ دنوں میں یہ ترقی پاکر مزید عیاشیاں کررھا ھوگا