ایاز لطیف پلیجو صاحب کی یہ وہ حالیہ تقریر ہے جس نے "سب" کو پریشان کر کہ رکھ دیا ہے.
اسی تقریر میں انھوں نے بھت سی باتوں کا کھل کہ اظھار کیا ہے اور انھوں نے مصطفی کمال کے ان انکشافات کو بھی عیاں کیا ہے، جس میں نیچے کوٹ کی گئی وڈیو میں مصطفی کمال نے اپنے ہی حواریوں کے لیے کیے ہیں.
تھوڑا وقت ملے تو ضرور ملاحظہ کریں، کیوں کہ یہ ہی اِس دور کی تاریخ ہے جو وقت کے لمحے رقم کرتے جا رہے ہیں..!
#SindhIsOne
#SindhUnitedMarch
#SindhIsUnite
#SindhIsOurRedline
#SindhIsUndivided
@AyazLatifPalijo@KamalMQM
پیمرا کی کائونسل اف کمپلینٹ کیلے صوبائی میمربز جو مقرر کیے گۓ ہیں ان میں پنجاب کیلے تمام پنجابی کےپی میں تمام پشتون جبکہ سندھ میں سارے میمبرز غیرسندھی مقرر کیے ہیں۔6میمبرزیں سے
3 مہاجر
ایک پنجابی
ایک پشتون
ایک ہزارہ وال
اس سندھ دشمن متعصب فیصلے پر لعنت PMLN کو جاۓگی یااتحادیPPکو؟
@Khalid_Munir تحریک پاکستان میں کسی سندھی نے انگریزوں کی جیل کاٹی؟ متحدہ ہندوستان میں کتنے ICS سندھی تھے ؟ کراچی میں 1947 میں کتنے مسلمان سندھی ڈاکٹر تھے ؟
@grok
The word Hur Arabic for "free man." It was given to them by their spiritual leaders to signify that they bowed to no earthly ruler or foreign occupier, only to God.
@qur92561 حر تحریک ان کے مذہبی پیشوا پیر صاحب پگاڑا کے لۓ تھی اسکا تحریک پاکستان یا مسلم لیگ سے کویٔ تعلق نہیں تھا نہ پیر صاحب پگارا کبھی قایٔد اعظم سے ملے وہ حروں کے پیر کی حیثیت سے انگریزوں سے لڑے
@FSyed14046@grok
برطانوی سامراج کے خلاف غیر سمجھوتہ کار مزاحمت کے طور پر ہوا تھا۔ ان کا بنیادی نعرہ "وطن یا کفن، آزادی یا موت" تھا۔ یہ بنیادی طور پر ایک مقامی مسلح جدوجہد تھی جو سندھ کی سرزمین سے انگریزوں کا بوریا بستر گول کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی، نہ کہ مسلم لیگ کے سیاسی پلیٹ فارم سے۔
@FSyed14046@grok
جب انگریز حکومت نے پیر صاحب پگارا پر مقدمہ چلایا، تو قائد اعظم محمد علی جناح نے خود بمبئی ہائی کورٹ میں پیر صاحب پگارا کے وکیل صفائی کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
@FSyed14046@grok
حروں کی شدید مزاحمت نے سندھ میں انگریزوں کے انتظامی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جس کی وجہ سے انگریزوں کو وہاں مارشل لا تک لگانا پڑا۔ اس مزاحمت نے بالواسطہ طور پر انگریزوں کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
@FSyed14046@grok
یہ کہنا درست ہے کہ حر تحریک خالصتاً پیر صاحب کی روحانی قیادت میں مریدین کی تحریک تھی، لیکن اسے تحریکِ پاکستان سے بالکل الگ تھلگ دیکھنا تاریخی طور پر مکمل تصویر پیش نہیں کرتا، کیونکہ اس کے اثرات نے بالآخر پاکستان کی آزادی کی راہ ہموار کرنے میں مدد دی۔
“Asim Munir is a mentally unstable person whose moral degradation has led to the complete collapse of the Constitution and the rule of law in Pakistan, leaving the fundamental human rights of every Pakistani unprotected.
My wife and I have been imprisoned on fabricated charges at his command, and we are being subjected to severe psychological torment. I have been completely isolated in a cell, placed in solitary confinement. For four weeks I was not permitted to see a single human being, and I was kept entirely cut off from the outside world. Even the basic necessities guaranteed under the jail manual have been denied to us.
Despite the orders of the High Court, first my meetings with my political colleagues were prohibited, and now even my meetings with my lawyers and family have been stopped. Any human rights charter will show that psychological torture is classified as 'torture', and it is regarded as even more severe than physical abuse.
My sister Noreen Niazi was dragged on the road simply because she demanded her rightful meeting with me. Only a man like Asim Munir could sanction such conduct. He has imprisoned Dr. Yasmin Rashid, an elderly cancer survivor, purely out of political vengeance. My wife, Bushra Begum, has been imprisoned only to exert pressure on me. Even her children are not allowed to meet her, and she has been deprived of all facilities. These examples reveal the character and mental disposition of this man.
Enduring solitary confinement is extremely painful, but I am bearing it only for the sake of my nation. Until the nation itself breaks the chains of slavery, the mafias imposed on Pakistan will continue to exploit it. The extension mafia, land mafia, sugar mafia, and mandate-thief mafia will keep this nation enslaved until the people themselves rise. Today you are their slaves; your future generations will be slaves to their generations. If you want to break this cycle, the nation must break the chains of enslavement itself and stand up for Haqeeqi Azadi (genuine freedom).
There is no place in my party for those who play on both sides of the wicket. Such people are the ‘Mir Sadiq’ and ‘Mir Jafar’ of Pakistan Tehreek-e-Insaf. The participation of PTI individuals in the NDU workshop is shameful. On one hand, we are enduring all kinds of hardships, and on the other hand, when our own people socialise with those who oppress us, it causes me deep pain.
I have always stated that drone attacks and military operations on our own people only fuels terrorism. Asim Munir’s policies are disastrous for this country. It is because of his policies that the scourge of terrorism has spiraled out of control, which deeply grieves me. He has no regard for the interests of his own nation. Whatever he is doing is merely to please the Western world. He deliberately ignited tensions with Afghanistan seeking to portray himself internationally as a ‘mujahid’ (warrior). He first threatened Afghans, then expelled refugees by force, and conducted drone strikes on them; the consequences of which came in the form of rising terrorism inside Pakistan. This man has sacrificed the country to terrorism for his own personal interests.
Sohail Afridi is commendable because he chose resistance over reconciliation during repressive times. My message to Sohail Afridi is to continue playing on the front foot. There is no law or constitution in this country. The law is invoked only against Pakistan Tehreek-e-Insaf; everyone else remains exempt. Whatever Sohail Afridi is doing, he should continue. He has my full support.
As for those issuing threats of Governor’s Rule: impose it right away instead of waiting, and then see consequences for themselves!
Conversation with his sister by the unjustly imprisoned former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, after one month of solitary confinement in Adiala Jail (December 2, 2025) 1/2
🚨فیلڈ مارشل کا اسرائیلی فوجی کے ساتھ کاروبار کا بھانڈہ الجزیرہ نے پھوڑ دیا🔥
اسلام آباد مارچ کا نیا لائحہ عمل، اور فوجی مصنوعات کے بائیکاٹ مہم🚨
جنید اکبر بیانات پہ مقدمہ اور خیبر پختونخواہ اسمبلی کا بڑا قدم🔥 https://t.co/cos0APdbBn
سندھ پر حکمرانی راجہ داہر کے بعد مسلمان ہی کرتے آئے ہیں
باب الاسلام سندھ ہے
ٹھٹہ کا مکلی قبرستان جاکر دیکھ سندھ کی تاریخ
ہندوستان کے مسلمان اب بھی پاکستان کی کل ابادی سے زیادہ ہیں
جو وہاں رہتے ہیں وہ اپنے حصے کا پاکستان کیوں نہیں ساتھ اٹھاکر یہاں تین کپڑوں میں آئے
پاکستان کی جنگ پہلے ڈھاکہ میں لڑی گئی مسلم لیگ ہندوستان نہیں بنگلہ دیش میں بنی تھی
پاکستان کی قرارداد علی گڑھ کے لونڈوں نے نہیں سندھ کے مسلمانوں نے منظور کی
Hyderabad: Jeay Sindh Rahbar Committee Chairman Riaz Ali Chandio, along with other leaders, addressing a press conference following the committee’s leadership meeting.
محترم، اپنے من گھڑت پروپیگنڈے کو سچا ثابت کرنے کے لیے تاریخ کے فرضی حوالے خود سے ایجاد کرنا بند کریں!پہلی بات تو یہ کہ لارنس آف عربیہ نے 1927ء کے اپنے خطوط میں کراچی کو کبھی 'قدیم یونان' نہیں کہا، بلکہ وہ یہاں کی مٹی اور گرمی سے بیزار ہو کر کراچی کو 'Sorry Place' (بے رونق جگہ) کہتا تھا اور کینٹونمنٹ کی بیرک سے باہر بھی نہیں نکلتا تھا۔ قدیم یونان کا تذکرہ صرف اس لیے ہے کہ سکندرِ اعظم کی یونانی فوج نے تقسیم سے صدیوں پہلے کراچی کے ساحلوں پر کیمپ لگایا تھا، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ شہر تمہاری ہجرتوں سے پہلے ہی تاریخ کا حصہ تھا!دوسری بات، تم نے خود مانا کہ 1927ء میں (تقسیم سے پورے 20 سال پہلے) کراچی ایک اہم ترین اور ماڈرن بندرگاہ بن چکا تھا جہاں 1880ء کی دہائی سے پبلک ٹرام چل رہی تھی۔ تو میاں! جب تمہاری نسلوں کو کراچی کا جغرافیہ بھی نہیں معلوم تھا، یہ شہر تب سے برصغیر کا سب سے ماڈرن اور تجارتی طور پر متمول مرکز بن چکا تھا۔ ہجرت کر کے آنے والے صنعتکار کسی بنجر ویرانے کو آباد کرنے نہیں آئے تھے، بلکہ وہ پہلے سے قائم شدہ ایک بہت بڑے اور بومنگ پورٹ سٹی (Booming City) میں آئے تھے جہاں سندھ دھرتی نے انہیں کھلی زمین، امن، گیس، بجلی اور انڈیا سے کہیں زیادہ معاشی عروج کے مواقع فراہم کیے۔بلدیاتی فنڈز کے جائز مطالبے کی آڑ میں من گھڑت تاریخیں ایجاد کرنا اور 'انتظامی یونٹس' کے بہانے لسانی فسادات (Ethnic Riots) کی آگ بھڑکانے کے فرضی خواب دیکھنا بند کرو۔ کلاچی (کراچی) ہمیشہ سے سندھ کا دل تھا اور رہے گا۔ اب جا کر پہلے اپنی معلومات درست کرو اور پھر تاریخ پر بات کرنا! 🤫📚🔥#UndividedSindh #SindhIsOne #KarachiIsSindh"
تمہاری اس عجیب و غریب لاجک پر واقعی صرف ہنسا ہی جا سکتا ہے! تاریخ کا پتہ نہیں اور چلے ہیں تحریکِ پاکستان پر بحث کرنے۔ ذرا آنکھیں کھول کر یہ حقیقت پڑھو اور اپنی الجھن دور کرو:1۔ قائدِ اعظم اور مسلم لیگ کا وژن کیا تھا؟تمہاری عقل پر ماتم ہے جو تم سمجھتے ہو کہ سندھ کے اکابرین صرف 'اپنے صوبے' کے لیے سوچ رہے تھے! برصغیر کے مسلمانوں کی جدوجہد ایک واحد قومی تشخص (One Muslim Nation) کے لیے تھی۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح کا فارمولا یہ تھا کہ مسلم اکثریتی صوبے (پنجاب، سندھ، بنگال، خیبر پختونخوا) مل کر ایک آزاد ریاست 'پاکستان' بنائیں گے تاکہ پورے برصغیر کے مسلمانوں کو ہندو اکثریت کے مرکز (Center) کی مستقل غلامی سے بچایا جا سکے۔ اگر سندھ اسمبلی قرارداد پاس نہ کرتی تو مسلم لیگ کا یہ دعویٰ کیسے سچ ثابت ہوتا کہ مسلم اکثریتی صوبے ایک الگ وطن چاہتے ہیں؟ یہ قرارداد پورے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے سندھ کا ایک تاریخی تحفہ تھا۔2۔ 'سندھو دیش' کا مضحکہ خیز طعنہ:تمہاری یہ لاجک کہ 'سندھو دیش بنا لیتے'، تمہاری شدید سیاسی نادانی کا ثبوت ہے۔ 1943ء میں سندھ کے غیور مسلم رہنماؤں نے کسی الگ لسانی ملک کا نہیں، بلکہ مذہبِ اسلام اور مسلم قومیت کی بنیاد پر 'پاکستان' کا نعرہ لگایا تھا۔ انہوں نے دھرتی کا دل کھول کر تمہیں یہاں پناہ دی، اور آج تم ان کی اسی قربانی کا مذاق اڑا کر انہیں طعنے دے رہے ہو؟3۔ اقلیت اور اکثریت کا مغالطہ (مذاق کا جواب):تم جو ایموجیز لگا کر 'اقلیت کو آزادی کا حق ہے' کا راگ الاپ رہے ہو، تو یہ سن لو کہ کراچی کوئی الگ ملک یا صوبہ نہیں ہے، یہ سندھ کا دل ہے۔ مائیگریشن کر کے ایک بومنگ تجارتی شہر میں دکانیں اور فلیٹ خرید لینے سے کسی کو زمین کا ٹکڑا کاٹ کر نیا صوبہ بنانے کا حق نہیں مل جاتا! اگر یہ لاجک مان لی جائے، تو کل کو لندن، نیویارک اور دبئی میں رہنے والے لاکھوں پاکستانی اور انڈین بھی وہاں الگ صوبے اور 'انتظامی یونٹس' مانگ رہے ہوتے۔بلدیاتی اختیارات کا نام لے کر دراصل تم لوگ دوبارہ لسانی فسادات (Ethnic Riots) کی آگ بھڑکانا چاہتے ہو تاکہ تمہارے کٹھ پتلی لیڈروں کی گرتی ہوئی سیاست بچ سکے۔ حقائق کے سامنے تمہارا پروپیگنڈا پھر ننگا ہو چکا ہے، اب جا کر تاریخ کی بنیادی کتابیں پڑھو! 🤫📚🔥#UndividedSindh #SindhIsOne #KarachiIsSindh"
Please pray for my little daughter Rafif to recover soon from this severe cold and feel better again. 🤲🏻🥺❤️🩹
Rafif is strong, and God willing, she will overcome this. Please keep her in your prayers. 🙏🏻❤️
تم فرما رہی ہو کہ کراچی 'سونے کا انڈہ دینے والی مرغی ہے' تو ذرا عقلِ سلیم سے یہ بھی تو سوچو کہ اس مرغی کو دانہ پانی اور خوراک کون دیتا ہے؟
مرغی اپنے اندر سے انڈہ پیدا نہیں کرتی، جب تک اسے خوراک نہ ملے۔آؤ اب تمہیں معاشی حقیقت کا آئینہ دکھائیں کہ یہ مرغی انڈہ کیسے دیتی ہے
:1۔ کارخانوں کا دانہ پانی (توانائی):کراچی کی انڈسٹری اور فیکٹریاں اگر سونا اگلتی ہیں، تو وہ اس لیے کیونکہ انہیں چلانے کے لیے 60 فیصد سے زائد قدرتی گیس اور تھرپارکر کے سستے کوئلے کی بجلی اندرونِ سندھ کی دھرتی دیتی ہے। اگر بدین، گھوٹکی اور تھر کے اضلاع اپنی گیس اور بجلی کی سپلائی روک دیں، تو کراچی کی انڈسٹری کی یہ 'مرغی' ایک دن میں تڑپ کر رہ جائے اور انڈہ دینا تو دور، یہاں اندھیرا چھا جائے
۔2۔ بندرگاہ کا سچ (Sea Port):کراچی اگر پاکستان کا 60 سے 70 فیصد ریونیو دیتا ہے، تو وہ اس لیے کیونکہ وہ سندھ کا ساحل اور بندرگاہ (Sea Port) ہے۔ پوری دنیا سے جو سامان امپورٹ ہو کر پورے ملک اور اندرونِ سندھ کی منڈیوں میں بکنے جاتا ہے، اس پر کسٹم ڈیوٹی اور امپورٹ ٹیکس کراچی کی پورٹ پر جمع ہوتا ہے۔ اگر اندرونِ سندھ اور باقی ملک اس امپورٹڈ سامان کو خریدنا بند کر دے، تو کراچی کی بندرگاہ ویران ہو جائے۔ کراچی کوئی الگ جزیرہ نہیں، وہ پورے سندھ کا تجارتی گیٹ وے ہے۔
3۔ شہروں کا مقابلہ اور حکمران:
سندھ کے حکمرانوں اور پیپلز پارٹی کی نااہلی اور کرپشن اپنی جگہ ایک حقیقت ہے، اور اس کا سب سے بڑا عذاب خود اندرونِ سندھ کے غریب ہاری اور مڈل کلاس بھگت رہے ہیں۔ لیکن حکومت کی کرپشن کا غصہ دھرتی ماں پر نکالنا اور 'لسانی صوبے' کے بہانے دھرتی کے ٹکڑے کرنے کی بات کرنا سراسر نادانی ہے۔ یہ وسائل کی جنگ نہیں، بلکہ الیکشن کے دنوں میں معصوم شہریوں کو لسانی فسادات کی آگ میں جھونکنے کا سیاسی تماشہ ہے۔کراچی کوئی کسی کی بادشاہت یا جاگیر نہیں، یہ صوفیوں کی دھرتی سندھ کا اٹوٹ انگ ہے۔ دھرتی کا نمک کھا کر اس کے ٹکڑے کرنے کے خواب دیکھنا چھوڑ دیں، کیونکہ سندھ ایک تھا، ایک ہے اور ہمیشہ ایک ہی رہے گا! 🤫🔥#UndividedSindh #SindhIsOne #KarachiIsSindh"