ادھر ادھر کی باتیں کیا۔ اگر اس خاتون افسر نے بے دردی کی آخری حد تک اذیت پہنچا کر قتل کی جانے والی ننھی آیت نور کی والدہ کو گندی گالیاں دیں تو اسے برطرف ہونا چاہیے ۔نمسنہ عبرت بنانا چاہیے۔مءکمانہ کارروائی میں تامل کیا ہے؟
میٹرک پاس ثمینہ ظفر نے آیت نور کی والدہ کیساتھ ایسے وقت میں انتہائی نازیبا زبان استعمال کی جب اس کی ڈلیوری کی تاریخ بالکل قریب تھی ۔ یعنی اس شدید زہنی ٹارچر سے کچھ بھی ہوسکتا تھا ۔
معلوم کرنے پر یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سپریم کورٹ نے مارچ 2023 میں ثمینہ ظفر کو ہیڈ کانسٹیبل پر کیا تھا ۔ آؤٹ آف ٹرنز پرموشنز ہیں ۔ پھر بھی سرکاری ریکارڈ میں ڈی ایس پی اور زمہ داریاں ایس پی کی سنبھال رہی ہیں ۔ اس پر بھی انکوائری ہونی چاہیے ۔
خیبر پختونخواہ کی ایس پی ثمینہ ظفر نے تمام نسوانی حیا اور قانون کو پامال کرتے ہوئے مظلوم ماں کے منہ پر غلیظ ترین تہمتیں لگائیں اور یہاں تک کہہ دیا کہ: "تمہارا کتنے مردوں کے ساتھ چکر ہے؟
اگر تم حاملہ نہ ہوتیں تو تمہارے جسم کے اندر بازو ڈال کر بتا دیتی کہ تم پر کتنے لوگ چڑھے ہیں
بات صرف یہیں ختم نہیں ہوئی، ایس پی ثمینہ ظفر نے اس تڑپتی ہوئی ماں پر اپنے ہی بہنوئی کے ساتھ ناجائز تعلقات کا گھناؤنا الزام عائد کیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ: "تم نے اپنے ان ہی ناجائز رشتوں کو چھپانے کے لیے خود اپنی معصوم بیٹی آیت نور کو راستے سے ہٹایا ہے، اب تمہاری ایسی اندرونی تفتیش کروں گی کہ تمہارے سارے ناجائز یار سامنے آ جائیں گے!
قانون کی وردی میں چھپے اس ظلم کا نشانہ صرف یہ ماں ہی نہیں بنی، بلکہ آیت نور کے خالو نواز کو بھی پولیس نے مسلسل 5 سے 6 دن تک غیر قانونی حراست میں رکھ کر اس قدر درندانہ تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ شخص آج بھی اپنے قدموں پر بیٹھنے کے قابل نہیں رہا۔ کیا انصاف کے نام پر یہ دندناتا ہوا ظلم کسی کو نظر نہیں آتا؟ یہ تفتیش نہیں، بلکہ مظلوموں کی تذلیل اور قانون کا سرعام جنازہ ہے!
ایس پی ثمینہ ظفر عمر ایوب خان کی سہیلی ہے ۔ کا نسٹیبل بھرتی ہوئی تھی ۔ لیکن آؤٹ آف ٹرن ترقیاں ہوئیں ۔ سپریم کورٹ نے ہیڈ کانسٹیبل بنانے کے احکامات دئے مگر صوبائی حکومت نے اس کو ایس پی سیکیورٹی ہزارہ لگادیا ۔ اور اس کی تفتیش دیکھیں بچی کی والدہ پر ہی شک کرتی رہی ۔ اس کی اور بھی کہانیاں ہیں تیز رفتار ترقی کی ۔ جلد وہ بھی سامنے آئیں گی
ایس پی ثمینہ ظفر نے آیت نور کی والدہ سے کہا کہ تمہارا کتنے لوگوں کیساتھ چکر ہے ۔ اگر تم حاملہ نہ ہوتی تو تمہارے اندر بازو دیکر بتادیتی کہ تم پر کتنے لوگ چڑھے ہیں ۔
ثمینہ ظفر نے آیت نور کی والدہ سے یہ بھی کہا کہ تمہارا اپنے بہنوئی سے ناجائز رشتہ ہے جس کیلئے تم نے خود آیت نور کو راستے سے ہٹایا ہے ۔
آیت نور کی والدہ کے بہنوئی نواز کو 5 سے 6 دن تک پولیس نے اٹھایا اور اتنا تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ آج بھی بیٹھ نہیں سکتا ۔
@SohailAfridiISF@YarMKNiazi
ایس پی ثمینہ ظفر نے آیت نور کی والدہ سے کہا کہ تمہارا کتنے لوگوں کیساتھ چکر ہے ۔ اگر تم حاملہ نہ ہوتی تو تمہارے اندر بازو دیکر بتادیتی کہ تم پر کتنے لوگ چڑھے ہیں ۔
ثمینہ ظفر نے آیت نور کی والدہ سے یہ بھی کہا کہ تمہارا اپنے بہنوئی سے ناجائز رشتہ ہے جس کیلئے تم نے خود آیت نور کو راستے سے ہٹایا ہے ۔
آیت نور کی والدہ کے بہنوئی نواز کو 5 سے 6 دن تک پولیس نے اٹھایا اور اتنا تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ آج بھی بیٹھ نہیں سکتا ۔
@SohailAfridiISF@YarMKNiazi
وہ بیویاں جنہوں نے سیدھے خواب، ٹیڑھے انداز میں گزار دیے
" نجو بی بی نے سہاگ رات کو ہی سمجھ لیا تھا
جب اس کے راکٹ پہ پہلی نظر پڑی تو ایسا لگا جیسے کوئی قینچی لے کر چاند کی طرف اشارہ کر رہا ہے "
نجو نے دل میں سوچا
یار یہ کیا زاویہ ہے؟
نہ مشرق، نہ مغرب
سمجھ ہی نہ آیا کہ حملہ کس سائیڈ سے متوقع ہے
شروع شروع میں خاموش رہی،
کہا شاید موسم کا اثر ہے،
پر جب ہر دفعہ وہ " ٹیڑھا پھیر " مار کے الٹا سیدھا ہو جاتا،
تو نجو نے بھی نیچے تکیے کا رخ بدلنا سیکھ لیا
اک دن نجو نے ہمت کر کے پوچھا:
" شوکت، یہ جو آپ کا اوزار ہے ، کیا کبھی سیدھا نہیں ہوگا ؟ "
کہنے لگا:
" بیگم! یہ خاندانی خم ہے، مردانگی کی نسل در نسل لکیر ہے! "
اب نجو بھی ہنس دی
پھر یوگا شروع کیا،
نئی سیکس پوزیشن سیکھی نئے کشن منگوائے،
اور کاما سترا کے کچھ مشکل پیج بھی سمجھنے لگی
بیوی اگر سچی چاہت رکھے،
تو ٹیڑھا بھی اس کے لیے " سپاٹ آن " ہو جاتا ہے
کیونکہ سچ یہ ہے
" مرد کا ٹیڑھا راکٹ اگر نیت کا سیدھا ہو،
تو بیوی بھی زاویہ سیکھ جاتی ہے "
اور پھر ضروری نہیں ملاپ کیلئے سب کچھ سیدھا ہو
کچھ لچک بھی ہونی چاہے
ٹیڑھا ہو پر بے دم نہ ہو
Short Story
Adulterated
پاکستان میں نیا ٹرینڈ شروع ہوگیا ہے۔ماضی کے ملزمان جو سنگین الزامات پر نیب میں گرفتاری/انکوائریز کا سامنا کرتے رہیں انہیں اب انکوائری افسر لگایا جارہا ہے تاکہ ثابت ہو بڑے ہی ایماندار لوگ ہیں۔
پہلے صدر زرداری نے نیب کے سابق
ملزم ڈاکٹر عاصم حسین کو OIC Constech کے کوارڈینیٹر ڈاکٹر اقبال کا انکوائری کمیٹی کا سربراہ لگایا تو اب وزیراعظم نے سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کو پمز انکوائری کا سربراہ لگا دیا ہے۔ شاہد خان بھی نیب کے ملزم تھے۔
ویسے کوئی یہ سوال بھی اٹھا سکتا ہے اگر زرداری صاحب اور شہباز شریف صاحب نیب کے ملزم/قیدی ہو کر ملک کے صدر اور وزیراعظم لگ سکتے ہیں تو ڈاکٹر عاصم حسین اور شاہد خان آج دوسروں پر انکوائری افسر کیوں نہیں لگ سکتے؟
@KhawajaMAsif@AAliZardari@CMShehbaz
یہ ارمغان کا والد کامران قریشی ہے ۔ ارمغان نے اپنے دوست مصطفیٰ عامر کو لوہے کی راڈ سے تشدد کرکے مارا تھا اور اس کو گاڑی سمیت جلا کر نذر آتش کردیا تھا ۔ آج اس کا والد پاکستان کے نظام انصاف کو اپنے بازو سے اشارے کرکے بتارہا ہے کہ اس ملک میں انصاف کا کوئی نظام نہیں ہے یہ ایسا کرسکتا ہے کیوں کہ یہ طاقتور اور بااثر ہے جبکہ اگر کوئی غریب ہو تو پھر پولیس بغیر لیڈی کانسٹیبل دو خواتین کو اٹھا کر تھانے لاتی ہے اور وہاں ان کی موت بھی ہوجاتی ہے ۔ کیوں کہ وہ غریب تھیں ۔ اس ملک میں جرائم پیشہ ہونا جرم نہیں ہے غریب ہونا جرم ہے