لندن میں پاکستانی سفارت خانے کے باہر ہونے والا احتجاج ایک بے بنیاد میڈیا اسٹنٹ اور منافقت پر مبنی ڈرامہ ہے۔ مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر حقوق کی دہائی دینے والے اس ٹولے کا تعلق دراصل بھارتی ایجنسی 'را' کے آلہ کاروں سے ہے ، جن کا مقصد صرف بیرونی ایجنڈے کے تحت ریاست کو بدنام کرنا ہے۔
عوامی حقوق کے نام پر رچایا جانے والا ڈھونگ آخر کار بے نقاب ہو گیا! میرپور کا رہائشی اور انگلینڈ میں بیٹھا انڈین ٹاؤٹ امجد ایوب مرزا غداری کے تمام ریکارڈ توڑ کر کھل کر سامنے آ چکا ہے۔
#ہر_زمانہ_میرے_حسین_کا
حنیف کریانہ اسٹور کو شہری انتظامیہ نے بھاری مشینری سے منہدم کرکے جائے وقوعہ اور تمام کرائم سین کو صاف کردیا ہے!
جبکہ ابھی کیس کی تفتیش مکمل نہیں ہوئی
یہ کونسے قانون اور قاعدے کے تحت کیا گیا ہے ؟
اس کیس کے وقوعہ کے پہلے دن یہ بیان سامنے آیا کہ اس واردات میں دو ملزمان ملوث ہیں جو دکان میں موجود تھے
اس کے بعد منتہا کے ماموں کا بیان آیا کہ بچی کی گمشدگی کے بعد جب انہوں نے بچی کی تلاش شروع کی اور حنیف کریانہ اسٹور سے زرا فاصلے پر خان کراکری اسٹور کے CCTV کیمرہ کی کلپ کھلوا کر دیکھی تو بچی 11 بج کر 3 منٹ پر دکان کے اندر داخل ہوتی نظر آئی
انہوں نے 11 بج کر 33 منٹ تک کی وڈیو دیکھی مگر بچی دکان سے نکلتی نظر نہیں آئی
اس کے بعد انہوں نے دوسرے کارنر پر واقع اک دکان کی CCTV فوٹیج دیکھی کہ شاید بچی پچھلی طرف سے نکل گئی ہو مگر ایسا کچھ نہیں ہوا تھا
جب یہ اھل علاقہ کے چند افراد کے ساتھ دکان کے اندر گئے تو دکاندار کاؤنٹر پر موجود تھا
اس کے علاوہ دکان میں چار ملازمین اسٹور میں اور اوپری منزل پر موجود گودام میں موجود تھے
جب بچی کے ماموں نے ان سے پوچھا کہ بچی دکان میں داخل ہوتی نظر آئی ہے مگر باہر نکلتے نظر نہیں آئی
تو ان پانچوں نے بتایا کہ بچی آئی تھی مگر سودا لے کر چلی گئ
ماموں نے اس دکان کی نگرانی نہیں چھوڑی اور پولیس کے آنے تک دکان پر مستقل نظر رکھی
جب پولیس تلاشی لینے دکان کے اندر داخل ہوئی تو SHO نے بھی پوچھ گچھ کی
مگر ان لوگوں نے وہی بیان دیا کہ بچی سودا لے کر چلی گئ تھی۔ اس دوران SHO نے اک بندے کے جوتے پر کچھ خون کے نشانات دیکھ کر جب پولیس کے روایتی طریقے سے تفتیش کی تو سب پتہ چل گیا
بچی کی لاش دکان کے اک کونے میں کچرے اور کارٹن کے نیچے سے برامد کرلی گئ
یہاں اس شخص کا نام نہیں بتایا گیا جس کے جوتے پر خون کے قطرات دیکھ کر SHO نے تفتیش کی
دوسری بات یہ کہ اگر وقوعہ کے وقت یہ پانچوں دکان میں موجود تھے تو اصولا تو بچی کو کاونٹر پر بیٹھے حنیف کو پیسے دے کر سودا لے جانا تھا
دکاندار کی موجودگی میں بچی اوپر کیسے پہنچ گئ؟
اگر ارسلان اصل مجرم ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دکاندار اور دیگر تین افراد کی دکان میں موجودگی کے باوجود بچی کو اوپر لے گیا اور سب کچھ کیا
مگر باقی سب گونگے بہرے بنے رہے؟
اگر یہ سب اس جرم میں ملوث نہیں ہیں تو پھر بچی کے دکان سے سودا لے کر چلے جانے کا بیان کیوں دیا؟
یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ دکاندار کی چند روز پہلے بچی کے والد سے کسی بات پر بحث و تکرار ہوئ تھی جس پر دکاندار نے بچی کے والد کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں؟
تو پھر پولیس نے کس بنیاد پر صرف ارسلان کو مجرم ٹھہرا کر اس کو پار لگادیا؟
جبکہ بتایا جارہا ہے کہ ارسلان گزشتہ تین سال سے دکان پر ملازم تھا مگر اس کی طرف سے ماضی میں ایسی کوئ شکایت نہیں ملی جبکہ یقینا اگر بچی ریگولرلی ان کی دکان پر آتی تھی تو پہلے بھی درجنوں بار آچکی ہوگی
کہیں ایسا تو نہیں کہ اصل مجرم کوئ اور ہو مگر دکاندار نے بھاری معاوضے کا لالچ دے کر ارسلان کو الزام اہنے سر لینے کا کہا ہو اور بعد از گرفتاری ضمانت وغیرہ کا بھی وعدہ کیا ہو؟ مگر کوئ بھی ذی شعور اس قدر گھناؤنے اور شیطانی جرم کا الزام اپنے سر نہیں لے سکتا۔
باقی چار ملزمان کی نہ تو تصاویر شئر کی جارہی ہیں اور نہ ان سے متعلق کوئ دیگر تفصیل جاری کی جارہی ہے
جبکہ حالات و واقعات کے مطابق تو یہ بھی جرم میں برابر کے شریک ہیں DNA اور فارنسک کی رپورٹ آنے سے پہلے کیسے پولیس نے ارسلان کو پکا مجرم قرار دے کر پار لگا دیا؟
پولیس کا کسی ایک شخص کو مرکزی ملزم قرار دینا عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب اس کے خلاف ابتدائی شواہد، اعترافی بیان، برآمدگی، فارنزک شواہد یا دیگر قرائن موجود ہوں۔ تاہم عوامی سطح پر سامنے آنے والی معلومات اکثر مکمل نہیں ہوتیں۔ DNA اور فارنزک رپورٹس کی اہمیت بہت زیادہ ہے
مزید مشکوک کرنے والی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ شہر کی انتظامیہ نے کرین اور دیگر مشینوں کے ذریعے حنیف کریانہ اسٹور کو منہدم کر دیا ہے یعنی کیس کی مکمل تفتیش ختم ہونے سے پہلے ہی جائے وقوعہ اور تمام اہم ترین ثبوت مکمل طور پر ختم کردئے گئے ہیں
یہ اقدام پولیس اور انتظامیہ کی نیت اور کارکردگی پر انتہائ سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھاتا ہے
یہ کس قانون یا اصول کے تحت کیا گیا ؟
ہم منہ دیکھتے رہ گئے۔۔
ابھی ایرانی صدر کے دورے کے اختتام پر ایرانی صدر اور پاکستانی وزیراعظم کی مشترکہ نیوز کانفرنس چل رہی تھی تمام ٹی وی چینلز پر۔
وزیراعظم پاکستان نے انگریزی میں خطاب کیا۔
ایرانی مترجم نے اسے فارسی میں ترجمہ کیا۔
پھر ایرانی صدر نے فارسی میں خطاب کیا۔
ایرانی مترجم نے اس کا انگریزی ترجمہ پیش کیا۔
بعد میں صحافی نے فارسی میں سوال کیا، جسے پھر انگریزی میں منتقل کیا گیا۔
اس پورے منظر میں اردو بے چاری جو قومی زبان ٹہری؟
پھر پاکستان کے کروڑوں ناظرین؟
نہ ہم فارسی سمجھتے ہیں، نہ اکثریت انگریزی سمجھتی ہے۔
عوام صرف چہروں کے اتار چڑھاؤ، تالیاں ،جھپیاں اور مسکراہٹیں دیکھتی رہ گئی ۔
انگریزی بین الاقوامی زبان ہے، اس لیے اس کا استعمال ضروری ٹہرا۔
فارسی ایران کی قومی زبان ہے، اس لیے ایرانی صدر کا فارسی میں بولنا بھی قابلِ فہم ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان کی قومی زبان اردو سے یہ سوتیلا پن کیوں؟
اگر ترجمہ اردو میں بھی ہو جاتا تو پاکستانی عوام اس تاریخی موقع پر اس سفارتی گفتگو میں شریک محسوس کرتے۔
زبان صرف ابلاغ کا ذریعہ نہیں ہوتی، تعلق کا ذریعہ بھی ہوتی ہے۔
جب قوم کی قیادت بات کرنے کے لیے دوسری زبانوں کی محتاج ہو جائے تو یہ صرف لسانی مسئلہ نہیں رہتا، یہ احساسِ شمولیت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
آج ٹی وی کے سامنے بیٹھے ہوئے شدت سے محسوس ہوا کہ ہم صرف ناظرین ہیں۔
ایرانی قوم جو سب سمجھ رہی تھی وہ شامل تھی،حصہ تھی اس تاریخی لمحہ کا۔
یہ دکھ کوئی چھوٹا دکھ نہیں۔
ہم اس قومی گفتگو کے شریک کیوں نہیں تھے ؟ہم تماشائی ہی رہیں گے مگر کب تک؟"۔
افشاں نوید
#موناسکندر
اس فتنہ سے بچنے کی سب سے بڑی وجہ تو آپ نے بیان ہی نہیں کی ،،سارے مدرسے بند یوجائیں گے اور سارے مولویوں کی روزی بند ہو جائے گی اور ملک میں لاکھوں مولوی بے روز گار ہو جائیں گے اور قادیانی کارڈ کی کوئی قیمت نہیں رہے گی
فتنۂ غامدی سے ہوشیار رہیں!
میں نے کافی عرصہ یہ سن رکھا تھا کہ جاوید احمد غامدی صاحب ایک بہت بڑا فتنہ ہیں۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ آخر اس شخص کا جرم کیا ہے؟
پڑھا تو معلوم ہوا کہ واقعی معاملہ انتہائی خطرناک ہے۔
سب سے پہلے تو یہ شخص لوگوں کو قرآن پڑھنے کی دعوت دیتا ہے۔ صرف پڑھنے کی نہیں، سمجھنے کی بھی!
اب آپ خود سوچیں، اگر عام مسلمان قرآن سمجھنے لگ گئے تو صدیوں سے چلے آنے والے "یہ مت پوچھو کیوں، بس مان لو" والے سنہری اصول کا کیا بنے گا؟
قرآن خود کہتا ہے:
"أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ"
(النساء: 82)
مگر ظاہر ہے، قرآن تو یہ بات سب کے لیے کہہ رہا ہوگا، ہمارے لیے تھوڑی!
پھر اس فتنے کا دوسرا جرم یہ ہے کہ یہ کہتا ہے دین میں اصل اتھارٹی اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہیں۔
یہ بات بظاہر تو ٹھیک لگتی ہے، مگر ذرا اس کے نتائج پر غور کیجیے!
اگر لوگ واقعی ہر بات کی دلیل قرآن و سنت سے مانگنے لگے تو پھر "ہمارے ہاں یہی ہوتا آیا ہے" جیسی مضبوط دلیل کا کیا ہوگا؟
پھر اس شخص کی جسارت دیکھیے کہ یہ نوجوانوں کو نماز کے الفاظ سمجھنے کی ترغیب دیتا ہے۔
حالانکہ اصل روح تو شاید یہی تھی کہ بندہ ساری زندگی "اِھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ" پڑھتا رہے مگر کبھی یہ نہ پوچھے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔
یہ شخص لوگوں کو بتاتا ہے کہ قرآن کہتا ہے:
"لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ"
یعنی عقل استعمال کرو۔
اب اگر لوگ واقعی عقل استعمال کرنے لگے تو ہر مسئلے میں سوال پوچھیں گے، تحقیق کریں گے، دلیل مانگیں گے۔ پھر بحثیں کیسے چلیں گی؟
اور سب سے بڑا فتنہ تو یہ ہے کہ یہ شرک، جھوٹ، بہتان، تکفیر، نفرت اور اخلاقی خرابیوں پر زیادہ زور دیتا ہے۔
حالانکہ امت کے اصل مسائل تو ظاہر ہے ٹوپی کے زاویے، مسواک کے قطر، شلوار کے سینٹی میٹر اور داڑھی کے ملی میٹر ہی ہیں۔
پھر یہ شخص کہتا ہے کہ دین لوگوں تک دعوت، حکمت اور دلیل سے پہنچاؤ۔
قرآن بھی کچھ ایسی ہی بات کرتا ہے:
"ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ"
(النحل: 125)
لیکن اگر ہر چیز حکمت اور دلیل سے ہونے لگے تو پھر غصہ، شور، فتوے اور الزام کس کام آئیں گے؟
میں تو اب اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ واقعی یہ شخص بہت خطرناک ہے۔
کیونکہ یہ لوگوں کو دین سے دور نہیں، براہِ راست قرآن کے قریب لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ انہیں اندھی تقلید نہیں، شعوری ایمان کی دعوت دیتا ہے۔
یہ انہیں شخصیات کا نہیں، دلائل کا اسیر بنانا چاہتا ہے۔
لہٰذا میری تمام بہنوں اور بھائیوں سے گزارش ہے کہ اس فتنے سے بچیے۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے لگیں، دین پر غور کرنے لگیں، ہر بات کی دلیل مانگنے لگیں اور پھر آپ کو احساس ہو جائے کہ اللہ نے آپ کو دماغ صرف ٹوپی سنبھالنے کے لیے نہیں دیا تھا۔ 🤭
ہزارے کی اس اماں کو آج سے پچاس سال قبل کراچی لیاری سے اغ*واء کیا گیا تھا
انکو گھر میں پیار سے ڈوڈو کہہ کر پکارتے تھے،والد کا نام کالو خان مشہور تھا۔
اماں بتاتی ہے کہ انکی عمر دس سال تھی کراچی کے علاقے لیاری میں ایک گندے نالے پر انکا گھر تھا۔ چاکیواڑہ کا نام انکو یاد ہے۔
انکے گھر میں حمیدہ نامی ایک خاتون آئی اپنے ساتھ چاول لائی تھی۔ گھر میں کوئی نہیں تھا۔ میری بھابھی برتن دھونے میں مصروف تھی۔ خاتون چاول لائی میں نے کھائے، پھر مجھے اس نے کہا چلو بیٹا کھڈا مارکیٹ تمہارے ابو کی دوکان پر چلتے ہیں! میں ساتھ ساتھ گئی تو دو گلیوں بعد مجھے ایک گاڑی میں بٹھایا اور میں چاول کھانے کے بعد سے نیم بےہوش تھی۔
مجھے کراچی سے گھنٹوں دور لیکر گئے۔میں دن رات روتی تھی کہ گھر جاونگی وہ مجھے مارتے ڈراتے اور راتوں کو سلانے کے لئے دو دو نیند کی گولیاں کھلاتے۔ دس سال تک مجھے انہوں نے اپنے پاس رکھا مجھ سے دریا/سمندر کنارے مزدوری کروائے۔ میں کراچی میں تھی لیکن ہمارا اصل علاقہ ہزارہ ہے۔
میں مچھلی اور جھینگے کی بدبو میں بالکل برداشت نہیں کرسکتی تھی لیکن مجھ سے زبردستی انکی صفائی کام کرواتے تھے۔
دس سال بعد مجھے کسی اور جگہ بیچ دیا گیا۔پھر میری شادی ہوئی اور آج تک اپنوں کو یاد کرکے روتی رہتی ہوں۔
ڈوڈو نے اپنے والد کا نام نام کالو خان سے مشہور بتایا،والدہ گلاب جان،تین بھائی امین،شفیع اور جاوید تھے۔
ایک بہن تھی جسکو پیار سے جانے بولتے تھے۔
والد کالو خان کھڈا مارکیٹ میں مٹھائی کی ایک دوکان میں کام کرتے تھے۔مٹھائیوں کا کام جانتے تھے۔ مٹھائی کی دوکان ذاتی تھی یا کسی اور کی یاد نہیں۔
شاید انکا گھر چاکیواڑہ میں تھا۔
اماں کہتی ہے کہ ہم جب کراچی آرہے تھے تو مجھے یاد ہے ہزارے میں ہمارا گاؤں تھا۔(ہری پور کا نام بھی اماں نے لیا)۔ہم اپنے گھر سے پیدل چل کر بیڑ/ نامی ایک علاقے میں آتے تھے۔یہاں ہوٹل میں کھانا کھاکر بس میں کراچی کے لئے بیٹھ جاتے۔ بیڑ علاقے میں اماں کو لکڑی کا ایک پل یاد ہے۔ وہ پل ہم نے گوگل سے نکال کر دکھایا تو اماں کی آواز بند ہوگئی اور چہرے پر موبائل کی روشنی سے آنسوؤں کی لڑی چمکتی نظر آئی۔
کراچی چاکیواڑہ یا اطراف میں نالے پر اگر رہائش تھی تو وہ تمام گھر شاید سرکار نے خالی کروادئیے ہیں۔بیڑ میں انکا خاندان ملنا ممکن ہے۔
ماموں کا نام علی الزمان تھا اور ان کے بیٹوں کے نام فرمان،زعفران ہیں۔
چچا کا نام خانو تھا۔ خانو کے بیٹے کا نام عظیم اور مسکین ہے۔
بھانجے کا نام نواز، مشتاق اور ریاض۔۔
لیاری میں نالے کے پاس انکی پھوپھی بھی رہتی تھی۔جنکا نام زرینہ تھا۔ زرینہ کے دو بیٹے تھے ممتاز اور سلیم۔ ممتاز چونے کے کھلونے بناکر کھڈا مارکیٹ میں بیچتا تھا۔
اماں کو جب بیڑ میں لکڑی کا پل موبائل میں دکھایا تو بیٹے سے کہنے لگی یہ تصویر اپنے موبائل میں رکھو میں صبح شام دیکھتی رہونگی میرے دل تو سکون ملتا رہےگا۔
آپ تمام دوستوں سے اپیل ہے کہ خدارا ماں جی کو اپنوں سے ملانے میں ہمارا ساتھ دیں۔انکے گاؤں یا کراچی سے ضرور انکا خاندان مل سکتا ہے۔آپ کا ایک شئیر آپکو بےشمار دعاؤں کا حقدار بناسکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
21 june 2026
#waliullahmaroof
زوال بلا وجہ نہیں آتے،
جب کمزور کو تو سزا دی جائے اور طاقتوروں کو چھوڑ دیا جائے
تو سماج اپنی موت مرنا شروع ہوجاتے ہیں،
اگر اِن مولوی صاحبان کو بھی اُن 450 بچوں اور جوانوں کی طرح توہین کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا تو شاید اس ملک میں توہین کے مبینہ مقدمات کا سلسلہ بند ہوجاتا، لیکن ملک جو مولویوں سے لبالب بھرا ہوا ہے ایک بھی ایسی توانا آواز نہیں اُٹھی کہ وہ انصاف کرو جو اسلام کی منشاء ہے ناکہ منافقت کا مظاہرہ کرو۔
Dr. Tahir Ahmad, a 31-year-old Ahmadi doctor, was shot dead in Pakistan’s Nankana.
#Ahmadi killings in Pakistan continue and are frequently reported.
State-sanctioned #AhmadiPersecution continues...
@Fareeha786@YasMohammedxx 1/
افسوس محرم کو بھی تہوار بنا دیا گیا ہے۔
اداکارہ سعدیہ امام جو خود کو سیدہ کہتی ہیں بڑے فخر سے بتا رہی ہیں کہ وہ محرم کی تیاریاں کر رہی ہیں۔
کیسی تیاریاں؟؟
نئے نئے ڈیزائن کے کالے کپڑے پہن کے، 2 کلو میک اپ کر کے، ٹی وی چینل پر بیٹھ کر آنسو بہانا
کیا کربلا ہمیں یہ سکھاتا ہے؟؟
کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ CCDسربراہ سہیل ظفرچٹھہ کی سانحہ چکوال کے متاثرہ فیملی کے گھرآمد،9سالہ بچی کی قبرفاتحہ خوانی بھی کی ۔
کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے SOPsکی خلاف ورزی برداشت نہیں کرینگے ،آفیسرنے غلط اندازے پربے تحاشہ فورس کااستعمال کیاجس کی وجہ سے ننھی جان محروم ہوئے ہیں CCDڈیپارٹمنٹ غیرجانبدارانہ طریقے سے کام کرے گا اپنے آفیسرکوبچانے کی کوشش نہیں کرینگے
ایک شخص کی غلطی کوپورے ڈیپارٹمنٹ کی غلطی کی صورت میں پیش کرنا ناانصافی ہے،سہیل ظفر چٹھی کی میڈیا سے گفتگو
Crime Control Department - CCD Punjab