سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی بہن کو حکومتِ پنجاب کی جانب سے گرفتار کرکے 3 ایم پی او کے تحت تیس روز کے لیے جیل بھیجنا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت اقدام ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش ہے بلکہ اس نام نہاد حکومت کی بڑھتی ہوئی بوکھلاہٹ اور عوامی پرامن سیاسی جدوجہد سے خوف کی عکاسی کرتا ہے۔
فارم 47 کے ذریعے مسلط کی گئی یہ رجیم عوام کے آئینی، جمہوری اور پرامن احتجاج سے اس قدر خوفزدہ ہے کہ سیاسی کارکنوں اور مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے گرفتاریوں اور ریاستی طاقت کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ لیکن جبر، گرفتاریوں اور ��وچھے ہتھکنڈوں سے عوام کے سیاسی شعور اور حقِ اظہار کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
27 ستمبر کا پرامن احتجاج عوام کی پرامن سیاسی جدوجہد کا حصہ ہے۔ اسے سوائے عمران خان کے کوئی نہیں روک سکتا۔ پرامن سیاسی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کی یہ کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوگی، کیونکہ عوام اپنے آئینی، جمہوری اور بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کا حق رکھتے ہیں۔
حکومتِ پنجاب کے اس غیر آئینی، غیر انسانی اور قابلِ مذمت اقدام کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ یہ اقدام اس امر کا ایک اور ثبوت ہے کہ فارم 47 کے ذریعے مسلط کیا گیا نظام عوامی حمایت اور پرامن سیاسی جدوجہد کے سامنے خود کو غیر محفوظ سمجھتا ہے۔ ایسے ہتھکنڈ�� عوام کے عزم کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط کریں گے، اور پرامن جمہوری جدوجہد اس جبر، ظلم اور ناانصافی کے خاتمے تک جاری رہے گی۔