لائبہ نام ہے لڑکی کا اور انہوں نے کسی باہر کے ملک جانے کا خواب دیکھا لیکن ایجنٹ نے فراڈ کرے ان کے سب پیسے ہتھیا لیے اور اب انہوں نے دل برداشتہ ہو کر خود سوزی کی ہے۔
یہ جسم اذیتوں سے بھر پور ہیں، یہ روحیں اندر سے چھلنی ہیں لیکن انکی آنکھوں میں امیدیں وابستہ ہیں اور پھر اس سے بڑی ٹریجڈی کیا ہو گی جب کوئی آپکے اس دیکھے خواب کی سزا چند روپوں پر آپکو روند دے۔ بھلا اس سے بڑھ کر گھاٹے کا داؤ کیا ہو گاجہاں زندگی قیمت چکاتی ہے۔
"میں بحیثیت انسان اپنی ذات سے نفرت کرنے لگتا ہوں جب میں ان سب چیزوں کے بارے میں سوچتا ہوں جو ہمیں خوش رہنے کے لیے دوسرے لوگوں کی زندگیوں سے لینا(بسا اوقات لوٹنا چھیننا) پڑتی ہیں، اور یہ سب کچھ لوٹ لینے کے باوجود پھر بھی ہم خوش نہیں رہتے. "
فرانسیسی فلسفی
✍️البرٹ کاموس
"مجھے خدشہ ہے کہ جانور انسانوں کو اپنے جیسا ہی ایک جانور مان لیں گے، انسانی تقدس حقیقی خطرے سے دوچار ہے اگر جانور اپنی سمجھ بوجھ کھو دیتے ہیں؛
وہ انسان کو غالباً ایک بیہودہ جانور کہہ کر پکاریں گے، ایک ہنسنے والا جانور، رونے والا جانور اور ایک بدقسمت جانور."
✍️ولیہم فریڈرک نطشے
ایسا فلسفہ جو کسی کو افسردہ نہ کرے، کسی کو ناراض نہ کرے، وہ فلسفہ نہیں ہے۔ یہ جہالت کو نقصان پہنچانے کے لیے مفید ہے، جہالت کو شرمناک چیز میں بدلنے کے لیے۔"
✍️گیلس ڈیلیوز
کتاب: نطشے اور فلسفہ
ایک فلسفہ جو کسی کو ناراض نہیں کرتا فلسفہ نہیں ہے
فلسفہ جہالت کو شرمندہ کرنا ہے۔
(گلز ڈیلیوز کے میرے پسندیدہ الفاظ)
"فلسفہ ریاست یا کلیسیا کی خدمت نہیں کرتا، جن کے دیگر خدشات ہیں۔ یہ کسی قائم شدہ طاقت کی خدمت نہیں کرتا۔ فلسفے کا استعمال افسردہ کرنے کے لیے ہے۔
1)"انسان اپنے ذہن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ وہ دنیا میں غیر مسلح آتا ہے۔ اس کا دماغ ہی اس کا واحد ہتھیار ہے۔ جانور طاقت سے خوراک حاصل کرتے ہیں۔ انسان کے نہ پنجے ہیں، نہ نوکیلے دانت، نہ سینگ، نہ عضلات کی غیر معمولی طاقت۔ اسے اپنی خوراک اُگانی پڑتی ہے یا شکار کرنا پڑتا ہے۔ اُگانے
2)کے لیے اسے سوچ کے عمل کی ضرورت ہے۔ شکار کے لیے اسے ہتھیار چاہییں، اور ہتھیار بنانے کے لیے — سوچ کے عمل کی ضرورت ہے۔
اس سب سے سادہ ضرورت سے لے کر مذہب کے اعلیٰ ترین تصور تک، پہیے سے لے کر فلک بوس عمارت تک، ہم جو کچھ بھی ہیں اور ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے،
جنگل میں جانور ایک دوسرے کو چیرنے پھاڑنے پر وحشی کہلائے کیا بھوک مٹانا وحشی پن ہے
جبکہ تہذیب و تمدن میں پروان چڑھتے انسان نے چہرے داغ ڈالے اور جسم نوچ ڈالے
کیوں نا تہذیب انسانوں کے منہ پر مار دی جائے؟ کم سے کم دور سے آتا انسان دیکھ کر انسان شر سے بچنے کے لیےچھپ تو سکیں۔
2)اور جب وہ یہ تمام مراحل طے کر لے تو پھر بھی کوئی تیزاب گردی کرے اور اسکے وجود کو قبول نہ کرے تو پھر یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ عورت حق پر ہے کہ اس کے وجود کو کبھی بھی من و عن تسلیم نہیں کیا اسکے ساتھ ظلم و بربریت صدیوں سے جاری ہے اور سہتے سہتے زمین بوس ہو گئی ہے مگر جبر قائم ہے
1)یہ کتنا درد ناک ہے!
ڈاکٹر بننے کے لیے اس گھٹن زدہ معاشرے میں سانس لینا محال ہے۔ جہاں مردوں کی اجارہ داری ہے۔ ایک عورت کو سب سے بڑی جنگ اپنے گھر کے مردوں سے لڑنا ہوتی جہاں وہ مذہب کے غلاف اور غیرت کی چادریں اتارتے گزرتی
آپ لوگ اندازہ کر لیں کہ ایک انفرادی چوائس کا شور کتنا ہو رہا ہے ایک شخص کی مرضی پر 10 100 مرضیاں ایسے مسلط ہوتی ہیں کہ جب جب کوئی اپنے بارے سوچنے لگتا ہے تو 10 امید وار اور کھڑے ہو جاتے ہیں کہ پہلے میرے بارے میں سوچو۔
تم نے اس پر کچن اور غیرت کے ایسے ایسے بوجھ لادے پھر تم نے اسکو صنف نازک بنا کر معاشرے میں ڈیزائن کر کے بہت بڑی نا انصافی کی۔
حالانکہ تم اسکے لیے ماحول تو پیدا کر کے دیکھو، تم اسے موقع تو دو اور اس پر اعتماد کرو وہ تمہیں کہیں سے بھی کم تر نظر نہیں آئے گی۔
دو کہانیاں!
پنجاب کی عورت کا دکھ کہ وہ زیادہ سے زیادہ سماج کے روایتی اصولوں سے لڑ رہی ہو گی۔
دوسری طرف بلوچ عورت جس کے ہاتھ پر چوڑی کی بجائے ہتھکڑی، ماتھے پر بندیا کی بجائے گمشدہ پیاروں کی تھکن اور آنکھوں میں کاجل سے زیادہ انتظار ہے جو اسکی شناخت اور وجود پر سوال بن کر کھڑا ہے!