@nobodybut1948 ٹیسلا کو پڑھنے سے پہلے خود کو تیار کرنا پڑتا ہے
ایک ایسی ان دیکھی دنیا میں جانے کے لئے جسکی بنیاد ایمان پر ہوتی۔ایمان جو توازن پر قائم ہوتا۔۔
اس طرح یہ مشاہدہ کی دنیا بن جاتی۔
ایک الگ طرح کےسود و زیاں کا جہاں۔
ایک ایسی دنیا جسے لوگ پاگلوں اور وقت کے ضیاع والی باتوں سے تشبیہہ دیتے
آج اک دکاندار نے 20- نمبر کا شیشہ عینک میں ڈالا ہوا دکھایا۔
پب جی کھیل کھیل کر لڑکے کی نظر کمزور ہوئی۔شادی ہو رہی تو عینک بنوائی۔۔اور کہہ رہا کہ لڑکی کے گھر والوں کو پتا چل جانا کہ اتنا نمبر ہے تو کیا مین لینز نا ڈلوا لوں۔
منفی 20 نمبر۔اندازہ کرو۔جوانی میں۔اور وجہ صرف موبائل🤬
@nobodybut1948 ماڈرن سائنس بیچاری۔۔یہ تو اپنی آج کی بات سے کل مکر جاتی۔۔یہ ماڈرن سائنس جاہلوں کی غلط سمت میں ماری جانے والی ٹامک ٹوئیوں سے زیادہ کچھ نہی۔
ماڈرن سائنس کو اگر کس نےاصل رنگ میں پہچانے کی کوشش کی تو وہ صرف نیکولس ٹیسلا تھا۔
یا کچھ غیر معروف لوگ
باقی تو سب لالچی چور ہیں
@nobodybut1948 انسان کیلئے صحتمندانہ سرگرمی صرف طاقت کو اپنے کنٹرول میں رکھنا ہی ہوتی
ہمارے وقت میں ہمارے بڑوں کا رعب اور ڈر ہماری طاقت میں ایک توازن بنا کر ہمیں اس پل سے پار کروا دیتا تھا جسکے بعد میچورٹی ہمارےاپنےہاتھ میں آ جاتی تھی
کچی عمر کی عقل اپنے زعم میں صرف خود کو ڈبونے کا کام کرتی ہے
@pakistanipeeeps نہ صرف ٹوٹا بلکہ ائک دفعہ تو گھن کا ٹیسٹ بھی آ رہا تھا۔۔کوئی ہوچھنے والا ہی نہی۔۔مینیجر کو بلا کر کھلائے پر مان نہی رہا تھا۔میں نے کہا تو ساری زندگی منہ نی ویکھیا ہونا جھونے دا۔۔تینوں بھانویں سواہ کھوا دو۔۔۔😀
@nobodybut1948 یہ ایڈیکشن ہوتی۔۔دماغ ایک بہت کامپلیکس مشین ہے۔ ایک دفعہ اس کی تار الٹ لگ جائے تو اسے نکالنا اور واپس توازن میں ڈالنا بہت ہمت کا کام ہے۔۔اسی کو عرف عام میں مردانگی کہتے۔
عادت کی زنجیر پہلے اتنی بارہک ہوتی ہے کہ نظر نہی آتی اور جب نظر آئے تب تک اتنی مضبوط ہو جاتی کہ ٹوٹتی نہی