🚨BREAKING 🇵🇰:
Once again, 6 civilians have been killed and 16 others #injured as a result of #Pakistani security forces opening fire on the public.
Since the imposition of #Governor’s Rule, Khyber Pakhtunkhwa has turned into a blood-soaked battleground for the #Pashtun people.
میں اس پاکستان کا انتہائی وفادار اور پنجابی لوگوں سے پیار کرنے والے تھا لیکن اب ہمیں سمجھ آگئی ہیں کہ اس پاکستان زندہ باد اور پنجابی بھائی آصل پشتونوں کا دشمن ھے ! ہمارا وسائل نظام تو پنجابی مداخلت کے وجہ سے تباہ ہوگیاہے ھے.
اب صرف ہم اپنے پشتونوں کو قائل لڑنا ہوگا
آخر پشتون کب تک خاموش رہیں گے؟
میں حیران ہوں کہ آخر وہ کون سا ظلم ہے جو پشتونوں نے نہیں سہا، کون سی قربانی ہے جو اس قوم نے نہیں دی، اور کون سا دکھ ہے جس سے اس سرزمین کے لوگوں کو گزرنا نہیں پڑا؟ اس کے باوجود ہم کب تک خاموش بیٹھے رہیں گے؟ کب تک ایک دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے کے بجائے یہ سوچتے رہیں گے کہ میرا گھر تو محفوظ ہے، کسی دوسرے کا گھر اجڑ رہا ہے تو مجھے کیا؟
ٹارگٹ کلنگ، ڈرون حملے، توپوں کی گولہ باری، بم دھماکے، جبری بے دخلی اور مسلسل خوف کے ماحول نے پشتون معاشرے کو شدید متاثر کیا ہے۔ استاد ہو یا ڈاکٹر، انجینئر ہو یا کاروباری شخص، طالب علم ہو یا مزدور، کوئی بھی محض اپنی پیشہ ورانہ حیثیت کی وجہ سے محفوظ ہونے کی ضمانت نہیں رکھتا۔ جب کسی انسان کو اس کی شناخت اور علاقے کی وجہ سے خطرات کا سامنا ہو تو یہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
اگر ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو عبادت گاہوں، قرآنِ کریم، علمائے کرام اور بے گناہ شہریوں کے تحفظ کا سوال بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ اگر گھروں سے بے دخلی، خواتین کی بے حرمتی، بچوں کی ہلاکتوں اور بزرگوں کی بے بسی کی خبریں سامنے آتی ہیں تو ہمیں ان مصائب پر آواز اٹھانی چاہیے۔ معصوم بچوں کی جانیں ضائع ہونے کی خبریں تو ہر حساس دل کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہیں۔
آخر ہم کس دن کا انتظار کر رہے ہیں؟
کیا ہم تب جاگیں گے جب ہر گھر کا کوئی اپنا اس ظلم کی زد میں آ چکا ہوگا؟ کیا ہم تب متحد ہوں گے جب ہمارے پاس کھونے کے لیے کچھ باقی نہیں بچے گا؟ یا ہم آج ہی یہ فیصلہ کریں گے کہ کسی ایک پشتون کا دکھ پوری قوم کا دکھ ہے، کسی ایک خاندان کی تباہی ہم سب کے لیے باعثِ تشویش ہے، اور کسی ایک بے گناہ کا خون انصاف کا تقاضا کرتا ہے؟
پشتونوں کو آج باہمی اختلافات، سیاسی تقسیم، علاقائی تعصبات اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے حقوق، جان، عزت، ثقافت، زبان اور مستقبل کے تحفظ کے لیے ایک مشترکہ، پُرامن اور واضح لائحۂ عمل اختیار کرنا ہوگا۔
ہمیں اپنے اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کی بات سننی ہوگی، مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، سچائی کو سامنے لانا ہوگا اور آئینی و قانونی طریقوں سے انصاف کا مطالبہ کرنا ہوگا۔ ہماری طاقت ہماری تعداد سے زیادہ ہمارے اتحاد، شعور، نظم و ضبط اور اصولی مؤقف میں ہے۔
اے پشتونو! ایک دوسرے کے درد کو پہچانو، ایک دوسرے کا سہارا بنو، اور اپنے مستقبل کے لیے متحد ہو جاؤ۔
ہمیں نفرت نہیں، انصاف چاہیے؛ انتقام نہیں، جواب دہی چاہیے؛ بے بسی نہیں، شعور چاہیے؛ اور انتشار نہیں، اتحاد چاہیے۔
کیونکہ جب تک ہم ایک دوسرے کے دکھ سے لاتعلق رہیں گے، ہماری آواز بٹی رہے گی۔ لیکن جب ہم انصاف، امن، انسانی وقار اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے متحد ہوں گے تو ہماری اجتماعی آواز کو نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔
پشتونوں کا اتحاد، شعور اور پُرامن جدوجہد ہی ایک محفوظ اور باوقار مستقبل کی بنیاد بن سکتی ہے۔
یہ جو دہشتگردی ہے۔ اسکے پیچھے وردی ہے کا نعرہ سراسر بکواس اور لغویات پر مبنی ہے، حقائق یہ ہیں کہ دہشتگردی کے پیچھے وردی نہیں ہے بلکہ وردی کے پیچھے دہشتگردی ہے!
میرے پاکستانیو سچ جان کر جیئو 🙎
نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ (The Hague) میں منعقدہ ایک کانفرنس کے دوران، پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) کے رہنما منظور پشتین نے ایک تقریر کی، جس میں انہوں نے پاکستانی ریاست کی جانب سے پشتون عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے ٹھوس شواہد اور حقائق پیش کیے۔ ان کی تقریر کے فوراً بعد، پاکستانی سفارت کار آصف درانی اور نیدرلینڈز میں پاکستان کے سفیر نے اعتراضات اٹھانے اور کارروائی میں خلل ڈالنے کی کوشش کی، اور پھر کانفرنس سے واک آؤٹ کر گئے۔ ان کے اس رویے پر وہاں موجود مختلف ممالک کے نمائندوں نے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔
یہاں ایک اہم نکتے کی وضاحت ضروری ہے۔
وقت کی کمی اور دیگر مقررین کو بھی کانفرنس سے خطاب کا موقع فراہم کرنے کی ضرورت کے پیشِ نظر، منظور پشتین ان مظالم کے تمام حقائق اور تفصیلات مکمل طور پر بیان نہیں کر سکے۔ دنیا نے جو کچھ سنا، وہ ایک بہت بڑی اور انتہائی تشویشناک حقیقت کا محض ایک چھوٹا سا حصہ تھا۔
ان مظالم کے بارے میں مزید ٹھوس شواہد اور حقائق پہلے ہی دنیا کے سامنے لائے جا چکے ہیں، اور مزید تفصیلات بھی پیش کی جاتی رہیں گی۔ عالمی برادری کو اب اس حقیقت سے مزید چشم پوشی نہیں کرنی چاہیے۔ اس کے بجائے، اسے ان حقائق کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، پشتون عوام کی تکالیف کو تسلیم کرنا چاہیے، اور ان ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے جن کا سامنا وہ مسلسل کر رہے ہیں۔
آئیے اب منظور پشتین کی تقریر کے اہم حصے سنتے ہیں۔
د تحریکِ انصاف پښتنو کارکنانو ته د ډاکټر سید عالم محسود پیغام
ستاسو په غم کې شریک یم. د تحریکِ انصاف پښتانه کارکنان ډېر ځورول شوي دي. دعا کوم او هیله لرم چې دوی له دې تجربې څخه دا حقیقت هم درک کړي چې “دا پاکستان د دوی ملک نه دې او دا پوځ هم د دوی پوځ نه دی”
“پاکستان تو انگریز نے پنجاب کے سرمایہ دار اور جاگیردار اور فوج کے لئیے بنایا تھا۔”
باچا خان بابا
اللہ میری تقصیر معاف فرماۓ، مجھ پہ ایسا زمانہِ جاہلیت بھی گزرا ہے جب میں خان عبدالغفار خان کو غلط سمجھتا تھا۔ لیکن اللہ کا کرم ہے کہ مرنے سے پہلے میں نے اپنی اصلاح کر لی۔
@MoeedNj I don’t know when but at some point Pashtuns have to resort to armed resistance I don’t see any other way of dealing with the Punjabi establishment; the sooner, the better.
@MoeedNj Indian army was 2-3 km away from the old highway connecting Hyderabad and Karachi in 1971. According to locals the Pakistani army disappeared and the Indians had literally free run.