𝐒𝐒𝐀 𝐎𝐧 𝐂𝐨𝐦𝐦𝐮𝐧𝐢𝐭𝐲 𝐄𝐧𝐠𝐚𝐠𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭 (𝐍𝐨𝐫𝐭𝐡𝐞𝐚𝐬𝐭) 𝐑𝐞𝐜𝐞𝐢𝐯𝐞𝐬 𝐑𝐞𝐩𝐮𝐛𝐥𝐢𝐜 𝐨𝐟 𝐍𝐢𝐠𝐞́𝐫 𝐍𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐘𝐨𝐮𝐭𝐡 𝐇𝐨𝐧𝐨𝐮𝐫 𝐀𝐰𝐚𝐫𝐝 (𝐁𝐫𝐨𝐧𝐳𝐞) 𝐟𝐫𝐨𝐦 𝐀𝐥𝐡𝐚𝐣𝐢 𝐒𝐚𝐥𝐥𝐢𝐦 𝐈𝐬𝐬𝐚𝐤𝐚 𝐨𝐟 𝐍𝐢𝐚𝐦𝐞𝐲, 𝐍𝐢𝐠𝐞́𝐫.
In a cross-border ceremony that reflects the growing recognition of youth leadership in West Africa, Hon. Abdulhamid Yahaya Abba, the Senior Special Assistant to the President on Community Engagement North-East, has been conferred with the Republic of Nigér National Youth Honour Award (Bronze). The award was formally presented by Alhaji Sallim Issaka, a distinguished figure from Niamey, Nigér, on behalf of youth stakeholders and institutions in the Republic of Nigér.
This distinguished accolade is a tribute to Hon. Abdulhamid’s unwavering dedication to youth development, regional integration, and inclusivity. Over the years, he has stood out as a bridge-builder and advocate for community-led change, empowering young people across Northeast and fostering transnational collaborations that uplift communities and deepen democratic values.
The award does not merely celebrate past achievements—it signals the emergence of a new generation of African leaders who are passionate, proactive, and purpose-driven. Hon. Abdulhamid’s work in promoting peace, grassroots engagement, and youth inclusion has earned him a reputation beyond borders, positioning him as a trusted voice for regional youth in national and international development circles.
In his acceptance remarks, Hon. Abdulhamid expressed heartfelt appreciation to the Republic of Nigér for the honor. He noted that the award is a shared victory for every young African striving for dignity, progress, and representation. He pledged to continue leveraging his office and influence to amplify the voices of young people, build sustainable partnerships, and advance a united vision of prosperity and peace for the Sahel region. As Nigeria and Nigér continue strengthening their diplomatic ties, this honour reflects the rising influence of youth diplomacy and the importance of bold, visionary leadership in shaping west African future.
Abdulmajeed Zakariyya Muhammad.
Special Assistant On Media and Communications.
OSSAP On Community Engagement (Northeast)
31st July, 2025.
Happy Birthday, Mr. President.
Today, I celebrate not just a leader, but a rare statesman and father figure. Your Excellency, your life embodies resilience, courage and an unshakable commitment to national progress. You have consistently stood as a pillar of vision and strength, shaping a future many once thought unattainable.
I remain profoundly grateful for the honour and trust you bestowed upon me, to serve under your leadership as Senior Special Assistant on Community Engagement (Northeast). That opportunity is more than a role—it is a call to purpose, one i uphold with loyalty and pride.
In your jovial self, you once called me your friend, “abokina”—a simple yet powerful moment that reflects your humility and deep connection with the people.
As you mark this day, I pray for renewed strength, divine wisdom, and enduring legacy. May your years ahead bring greater triumphs and lasting impact.
Happy Birthday, Daddy.
عالیہ حمزہ ملک کی ناحق گرفتاری کو آج 88 دن مکمل ہو گئے ہیں۔ 88 دن گزرنے کے بھی بعد بھی انکے حوصلے، عزم اور اپنے مؤقف پر استقامت میں کوئی کمی نہیں آئی۔
انصاف کے منتظر یہ دن اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ حق اور سچ کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔
#ReleaseAliyaHamza
کشمیر کے لیے اپنی انا کا بت توڑنا ہوگا۔
اپنی قوم کے لوگوں کے جائز مطالبات تسلیم کرنا شکست نہیں بلکہ عالی ظرفی اور سیاسی بصیرت ہے۔
اپنے حقوق کے لیے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلنا غداری نہیں، یہ عوامی احساسات کا اظہار ہے۔
یہ وہی لوگ ہیں جو برسوں سے "کشمیر بنے گا پاکستان" کا نعرہ لگاتے آئے ہیں، اس لیے مسائل کا حل جبر نہیں بلکہ مذاکرات، افہام و تفہیم اور اعتماد کی فضا قائم کرنے میں ہے۔
میں کشمیری عوام کے پُرامن مظاہرین پر ہونے والے ریاستی تشدد کی شدید مذمت کرتی ہوں اور ان کی اپنے حقوق، وقار اور انصاف کے لیے جاری جدوجہد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) پر عائد کی گئی پابندی محض ایک تنظیم پر پابندی نہیں، بلکہ یہ اظہارِ رائے، سیاسی آزادی اور پاکستان میں آباد محکوم قوموں کے بنیادی حقوق کی جدوجہد کے خلاف ریاست کے مسلسل جابرانہ رویّے کی عکاسی کرتی ہے۔ جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کا جواب پابندیوں، گرفتاریوں اور تشدد سے نہیں بلکہ مکالمے، انصاف اور سیاسی عمل کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ افسوس کہ پاکستان میں عوامی تحریکوں اور جمہوری مطالبات کا جواب اکثر طاقت، جبر اور قدغنوں کی صورت میں دیا گیا ہے۔
آج اس قید خانے کی خاموشی میں میرا دل سب سے پہلے کشمیر کے ان مظاہرین، زخمیوں، سوگوار خاندانوں اور انصاف کا مطالبہ کرنے والے عوام کے ساتھ دھڑکتا ہے جو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے اور جنہیں جبر، تشدد اور طاقت کا سامنا کرنا پڑا۔ بلوچستان سے کشمیر تک فاصلے ہزاروں کلومیٹر کے سہی، مگر دکھ ایک جیسے ہیں، زخم ایک جیسے ہیں اور انصاف کی خواہش بھی ایک جیسی ہے۔ میں کشمیری عوام کی استقامت، حوصلے اور جدوجہد کو سلام پیش کرتی ہوں۔
جیل کی یہ دیواریں بلند ضرور ہیں، مگر اتنی بلند نہیں کہ وہ قوموں کے دکھ، ماؤں کی آہیں اور انصاف کی پکار کو اپنے اندر قید کر سکیں۔ سلاخوں کے پیچھے بیٹھ کر بھی میں بلوچستان، پختونخواہ، سندھ، گلگت بلتستان اور کشمیر سے اٹھنے والی ان آوازوں کو سن سکتی ہوں جو اپنے بنیادی حقوق، عزت، شناخت اور انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ریاستی جبر کا ایک پرانا طریقۂ کار ہے۔ پہلے عوام کی آواز کو نظر انداز کیا جاتا ہے، پھر اسے بدنام کیا جاتا ہے، اس کے بعد اس پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، اور آخرکار طاقت کے ذریعے اسے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پُرامن تحریک کو جس ریاستی جبر کا سامنا ہے، وہ اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں محکوم قوموں کی سیاسی جدوجہد کو بارہا طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔ آج کشمیر میں رونما ہونے والے واقعات بھی اسی جابرانہ سوچ اور پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔
طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ پابندیاں، گرفتاریاں اور تشدد قوموں کی یادداشت کو مٹا سکتے ہیں۔ لیکن ظلم کبھی استحکام پیدا نہیں کرتا۔ ظلم صرف زخم پیدا کرتا ہے، اور زخم ایک دن سوال بن جاتے ہیں۔ جب یہی سوال پورے معاشرے کے سوال بن جائیں تو پھر کوئی دیوار، کوئی جیل اور کوئی پابندی ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔
بلوچستان میں جب مائیں اپنے جبری لاپتہ پیاروں کی تصاویر اٹھائے سڑکوں پر نکلیں تو انہیں خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کو، جن کی گمشدگیوں کے بارے میں وہ انصاف مانگ رہی تھیں، دہشت گرد قرار دے کر ان کے درد کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی۔ پختونخواہ میں جب عوام نے اپنے حقوق کی بات کی تو ان کی آواز کو دبانے اور بدنام کرنے کی کوشش ہوئی۔ آج کشمیر میں بھی عوامی مطالبات کا جواب طاقت سے دیا جا رہا ہے۔ مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ظلم وقتی طور پر خوف پیدا کر سکتا ہے، خاموشی نہیں۔
عوام جب اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو انہیں دشمن سمجھ لیا جاتا ہے۔ سیاسی مطالبات کا جواب مکالمے کے بجائے طاقت سے دیا جاتا ہے۔ احتجاج کو جرم اور مزاحمت کو دہشت گردی قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ سچائی کو قید کیا جا سکتا ہے، اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔
میں ان تمام خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی ہوں جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے، جو خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں، یا جو انصاف کے انتظار میں دروازوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ چاہے وہ بلوچستان کی مائیں ہوں، پختونخواہ کے خاندان ہوں، سندھ اور گلگت بلتستان کے کارکن ہوں یا کشمیر کے مظاہرین، ان کا درد ایک دوسرے سے مختلف نہیں۔
ہماری جدوجہد نفرت کے لیے نہیں بلکہ انصاف، انسانی وقار، برابری اور قومی حقوق کے لیے ہے۔ ہم اس دن کا خواب دیکھتے ہیں جب کسی ماں کو اپنے لاپتہ بیٹے کی تصویر اٹھا کر سڑکوں پر نہ نکلنا پڑے، جب کسی طالب علم کو اپنے سیاسی نظریات کی قیمت آزادی سے محرومی کی صورت میں نہ چکانی پڑے، جب کسی انسان کو اپنی شناخت اور اپنے حقوق کے مطالبے کی پاداش میں قتل، قید یا لاپتہ نہ کیا جائے، اور جب عوامی مطالبات کا جواب گولی، پابندی اور جبر نہیں بلکہ انصاف، مکالمہ اور جمہوری عمل ہو۔
اگر سچ بولنا جرم ہے تو تاریخ کے ہر باوقار انسان نے یہ جرم کیا ہے۔ اور اگر انصاف کا مطالبہ بغاوت ہے تو یہ بغاوت انسان کے ضمیر سے جنم لیتی ہے، کسی سازش سے نہیں۔
I call upon leaders of the free world to stand with #Afghanwomen at this hour of need… your duty to humanity demands action for the rights of common women.. @EUCouncil@EUPakistan@UN
ان لوگوں کو کوئی ٹوٹی کھمبا اور پائپ کا لالچ دے کے نہیں بلایا گیا بلکہ یہ خود اتنا شعور رکھتے ہیں کہ اپنے حق کی خاطر جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلے ہیں ۔✌️✌️
کشمیر کی غیور عوام کی جرات، دلیری، غیرت اور اپنے حقِ خود ارادیت کی خاطر ڈٹ جانا ہمیشہ سے تاریخ قائم کرتا آیا ہے اور کرتا رہے گا، انشاءﷲ۔
کشمیر زندہ باد۔ 👑
جب سانحہ ڈی چوک ہوا تو 6 گھنٹوں میں ڈی چوک خالی کروا لیا گیا،
جب سانحہ مریدکے ہوا تو مریدکے کو 7 گھنٹوں میں خالی کروا لیا گیا،
لیکن قربان جاؤں کشمیریوں پر کہ وہ راولا کوٹ میں 4 دنوں سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ اور ابھی تک مزاحمت کر رہے ہیں۔
راولاکوٹ کے مناظر۔
حکومتی بربریت اور طاقت کے بدترین اور شرمناک مظاہروں کے باوجود مظاہرین پرامن اور بغیر اشتعال اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو