اتنے کچھ کے بعد بھی وہ اپنے دم پہ واپس آرہا 👇
یہودی کارڈ ، عورت کارڈ ، مزہب کارڈ ، قومیت کارڈ , چوہدری سرور ، جہانگیر ترین ، علیم خان ، فیض حمید ، فرح گوگی ، ریحام خان ، شاہد آفریدی ، طیبہ گل ، عائشہ گلالئی ، مصطفیٰ کمال ، گلوکار جواد احمد ، ملک ریاض ، مفتی سعید ، خاور مانیکا ، فیاض الحسن چوہان ، محسن داوڑ ، اقرار الحسن ، محمود خان ، پرویز خٹک
…
، پریس کانفرنسز ، ، جبری پریس کانفرنسز ، توشہ
خانے ، آڈیو لیک ، وڈیو لیک ، کال لیک ، ممنوعہ فنڈنگ ، 14 پارٹیاں ، عدم اعتماد ، سیکنڑوں کیسیس، سیکنڑوں ایف آئی آرز ، قاتلانہ حملے , گھر پر حملے ، ذاتی حملے ، نکاح پر حملے ، درجنوں گرفتاریاں ، خاندانی گرفتاریاں ، سیاسی گرفتاریاں ، ملٹری کورٹس ، کینگرو کورٹس ، فائر وال
..
٫ ملاقاتوں پر پابندی ، تصویر پر پابندی ، سوشل میڈیا
پر پابندی ، الیکٹرونک میڈیا پر پابندی ، پرنٹ میڈیا پر پابندی ٫ خان کے نام پر پابندی ، الیکشن چھیننا ، بلا چھیننا ، مینڈیٹ پر قبضہ ، 25 مئی ، 9 مئی ، 26 نومبر ،
…
قتل عام ، اغواء گردی ، لاٹھی گردی ، گولی گردی ، پولیس گردی ، انڈہ گردی ، غنڈہ گردی ، امریکی دھمکیاں ، پھانسی کی دھمکیاں ، درجنوں ایکٹس، آئین میں تبدیلیاں ، قانون میں تبدیلیاں ، 26 ویں آئینی ترمیم ، 27 ویں آئینی ترمیم ، اور 90 فیصد میڈیا کی نام نہاد صحافیوں کے تجربے ملا کر سب خاک میں الحمدللہ میرا کپتان آج بھی مقبولیت کی بلندیوں کو چھو رہا ہے
کپتان جیل سے بیٹھ کر نظام الدین کو للکار رہا ہے ۔
قوم کو سنا رہا ہے ۔
حقیقی آزادی کا وہ پیغام جس کا خواب عمران احمد خان نیازی کروڑوں دلوں تک پہنچا چکا ہے۔
لکھ مؤرخ
نیازی نظام پھاڑ کے تاریخ رقم کرگیا۔
و تعز من تشاء
و تزل من تشاء
شہباز شریف کھڑے ہوکر پانی نکلاتے تھے وہ بہت خیال رکھتے تھے عوام کا، مجھے کھڑا نہیں ہونا پڑتا میں جب تک پانی نکلوا نہیں لیتی دو گھنٹے میں اس وقت تک نہیں چھوڑتی۔۔۔
سیلابی حالات کا مریم نواز کا زکر۔۔
جونہی سپریم کورٹ سے عمران خان کو علاج کے لیے الشفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ آیا، تو تجزیوں اور پسِ منظر امکانات کی ایک پوری لائن لگ گئی۔
پہلا امکان یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ یہ سب کچھ اٹھائیسویں ترمیم کے لیے حکومتی اتحاد پر دباؤ بڑھانے کی خاطر کیا جا رہا ہے۔ جیسے ہی ن لیگ اور پیپلز پارٹی مان جائیں گی، خان پھر اڈیالہ کی قیدِ تنہائی میں چلے جائیں گے۔
دوسرا امکان یہ بتایا جا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ چار سال بعد ن لیگ کی صلاحیت اور قابلیت سے مکمل طور پر مایوس ہو چکی ہے۔ دوسری طرف، ہر کوشش، سازش، ظلم اور جبر کے باوجود نہ تو عمران خان کو توڑا جا سکا ہے اور نہ ہی ان کی عوامی مقبولیت میں کمی لائی جا سکی ہے۔ لہٰذا، مہا دماغوں کو شاید وہ بات سمجھ آ گئی ہے جو ہم جیسے لوگ اپریل 2022 سے سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں – اور یہ خان کی واپسی کا آغاز ہے۔
تیسرا منظرنامہ پردوں کے پیچھے چلنے والے کھیل کے رازوں سے بزعمِ خویش آشنا کچھ لوگ کھینچ رہے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتِ حال کے پیچھے 1987 میں جونیجو اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد والی صورتحال اور 2007 کی وکلا تحریک جیسی کیفیت نظر آ رہی ہے، جب ادارے کے اندر سے ہی تبدیلی کی خواہش اٹھی تھی کہ کوئی شخصیت ادارے سے بالا نہیں، اور ادارے کے وقار کی بحالی کے لیے کسی شخصیت کی قربانی دینا ناگزیر قرار پا گیا تھا۔
چوتھا طبقہ اس صورتحال کو نومبر 2026 کے امریکی انتخابات سے جوڑ رہا ہے، جن میں صدر ٹرمپ پاکستانی نژاد ووٹوں کے حصول کے لیے ان سے کیے گئے وعدے کو نومبر سے پہلے پورا کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ کوئی راز نہیں کہ ہمارا موجودہ ریاستی ڈھانچہ ٹرمپ صاحب کو 'نو' کہنے کی ہمت اور جرات نہیں رکھتا۔
پانچواں تجزیہ جو میری نظر سے گزرا، وہ یہ ہے کہ پاکستان کی اصل تخلیق کار ایم آئی سکس، جو 1909 میں بنائی گئی تھی، آج بھی پاکستانی معاملات میں اتنا ہی مداخلت رکھتی ہے جتنا کہ 1951 میں رکھتی تھی، جب ہماری آرمی کا چیف آف آرمی اسٹاف برطانوی گورا ہوا کرتا تھا۔ ایوب خان کے آرمی چیف بننے سے صرف چہرے بدلے، مگر نظام اور پالیسی پر ایم آئی سکس کا اثر اب بھی قائم و دائم ہے۔ سو ایم آئی سکس نے پیغام بھجوایا ہے کہ "بہت ہو گیا" – آپریشن ریجیم چینج وہ توقعات پوری کرنے میں ناکام رہا ہے، لہٰذا اب معاملات کو بہتر کیا جائے۔
امکانات پانچ ہیں، مگر یہ سب ایک بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ کامران صرف ایک ہی شخص ہے اور اس کا نام عمران خان ہے۔ اقتدار سے ہٹا دیا گیا، ہر ممکن کردار کشی کی گئی، قریبی ساتھیوں کو توڑ دیا گیا، آڈیو لیکس، ہیلی کاپٹر، کعبہ والی گھڑی، عدت میں نکاح جیسے مقدمات چلائے گئے، قاتلانہ حملہ ہوا، 9 مئی رچایا گیا اور بالآخر جیل کی کال کوٹھڑی میں بند کر دیا گیا – جسے تین سال گزر چکے ہیں۔ مگر اس مردِ آہن نے جھکنے سے انکار کر دیا اور اپنے اصولوں پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔
پانچوں امکانات میں رحم کی بھیک عمران خان نہیں مانگ رہے، بلکہ مقامی یا عالمی فیصلہ ساز اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ عمران خان مسئلہ نہیں، بلکہ مسئلے کا حل ہیں۔ عمران خان ہر صورت میں کامیاب ہیں اور کامران ہیں۔ چاہے وہ اڈیالہ جیل سے ہسپتال لائے ہی نہ جائیں، یا ہسپتال سے دوبارہ جیل بھیج دیے جائیں، یا ہسپتال سے براستہ بنی گالہ وہ دوبارہ ایوانِ صدر یا وزیرِ اعظم پہنچ جائیں – تاریخ ان کی غیرمصالحانہ عزیمت کو ایک شاندار مثال کے طور پر ہی یاد رکھے گی۔
عمران خان کی الشفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقلی
پانچ امکان۔۔ ایک کامران
رحیق احمد عباسی
"نواز شریف، جھوٹ بولنا بند کرو۔ تم رو کر اور ترلے کر کے پاکستان سے فرار ہوئے تھے۔
تم روتے ہوئے کنگ عبدالله کے پاس گئے کہ مجھے بچا لو۔ پھر دس سالہ معاہدہ کر کے بھاگ گئے۔ تمہیں کسی نے جلاوطن نہیں کیا" -
جنرل مشرف میاں صاحب کی دلیری کا قصہ سناتے ہوئے۔ 😂🤣
دنیا کی چوتھی معیشت ،5 کھرب ڈالر کی اکانومی تیسرا بڑا دفاع کا بجٹ 92 ارب ڈالر اور چوتیا آرمی چیف 20 ارب کے جہاز بی ایم ڈبلیو کی جگہ سوزوکی. گاڑی میں 😂
در فٹے منہ
سیکھ پڑوسیوں سے کچھ
جہاز تو ابھی آیا ہے اسے Maintenance کی کیا ضرورت پڑ گئی، ایک ہزار گھنٹے بعد Maintenance ہوتی ہے۔ اگر Maintenance کی گئی ہے تو اس کی کوئی انوائسز دکھا دیں۔ پرانا جہاز اس لیے خریدا گیا کیونکہ اس میں کمشن زیادہ ملتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی
🚨🚨کیا ایران ایٹم بنانے کے قریب تھا کہ اس پر امریکا نے حملہ کیا ؟
نہیں ! ایران ایٹم بم بنانے کے بالکل قریب نہیں تھا
امریکی حکومت میں استعفی دینے والے امریکی اہلکار جوئے کینٹ کا انٹرویو
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ
ناسا نے خلا سے مریخ کی تصاویر شیئر کیں۔
اگر کوئی عمر بھر اللہ کے سامنے اس کی لامحدود اور عظیم الشان عظمت کے سامنے سجدہ میں رہے تب بھی ناکافی ہے۔