جیو شہزادہ
فیاض حسن چوہان نے تو یوتھیوں اور مودیوں کو رگڑ کر رکھ دیا
ہر طرف پاکستان کی تعریف ہو رہی ہے لیکن تین نایاب اور گٹر قسم کی نسل ہیں جن میں یوتھئے مودی اور اسرائیل سخت تکلیف میں ہیں
چوہان صاحب اپ نے آج ان کی بینڈ بجا کر حق ادا کر دیا شاباش
اسحاق ڈار صاحب نے آج مصر کے وزیرِ خارجہ کے استقبال کے دوران چوٹ لگنے کے باوجود پورا دن پین کلرز لے کر انتہائی اہمیت کی حامل تمام میٹنگز الحمدللہ احسن طریقے سے مکمل کیں۔ تقریباً 9 بجے آفیشل سٹیٹمنٹ کی ریکارڈنگ اور پاکستان کے لئے ایک بڑے دن کے بہترین اختتام کے بعد فیملی کے اصرار پر ان کا طبی معائنہ کروایا گیا۔ ان کے x-rays الحمدللہ مجموعی طور پر ٹھیک ہیں۔ کندھے میں ایک ہئیر لائین فریکچر ہے۔ اگلے چند روز ان کی درد کو دوائیوں اور دیگر احتیاطی اقدامات کے ذریعے مینج کیا جائے گا انشاءاللہ۔ آپ سب کے پیغامات، دعاؤں اور نیک تمناؤں کا شکریہ۔ 🇵🇰♥️
اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ عمرِ خضر عطا فرمائے۔ حاسدین کے حسد سے اور دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے اور یوں ہی وطنِ عزیز کی بے لوث خدمت کرنے کی توفیق دئیے رکھے۔۔۔ آمین ثم آمین۔ 🤲🏻♥️ #IshaqDar
انا للہ و انا الیہ راجعون
والدہ محترمہ اپنے رب کے حضور پیش ہو گئیں۔ ان کی نماز جنازہ آج جمعرات کو پاکپتن شریف میں نماز عصر کے وقت، بابا فرید مسعود الدین گنج شکر کے مزار سے ملحقہ مسجد میں ادا کی جائے گی اور قرآن خوانی او پی ایف ہاوسنگ سوسائٹی فیز ون بی بلاک لاہور کی جامعہ مسجد میں بعد از نماز جمعہ کی جائے گی۔
احباب سے دعائے مغفرت کی درخواست ہے۔
میں تو حیران ہوں عمران خان پر اس نے کتنے عام سے ورکر کو اپنا وزیر اعلیٰ بنا دیا ، سہیل آفریدی ایم فل کا طالب علم ہے ، اس کا گھر پونے چھ مرلے کا ہےاور اس کے بینک اکاؤنٹ میں پانچ لاکھ روپے ہیں ،ایثار رانا
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی عدالت میں مقدمہ زیر سماعت تھا کہ عمران خان کے بنی گالہ کے تین سو کنال پرمشتمل محل کی تعمیر کیلئے پیسا کہاں سے آیا؟ اس سماعت کے دوران دو وکلاء کے دو جملے ملاحظہ فرمائیں
----------------
+++
پاک سعودی معاہدے کا اصل ہیرو!!
حافظ صاحب اور شھباز شریف کے سعودی عرب سے دفاعی معاہدے کی اصل کہانی کھل کر سامنے آ گئی
ترکی میں موجود ایک سعودی
شاہی فیملی کے صحافی نے بھانڈہ پھوڑ دیا
ذرائع کے مطابق صحافی نے بتایا کہ پاک سعودی معاہدہ ایک دو دن کی کاوش نہیں۔
اس پر 4 مہینے سے بات چل رہی تھی۔
اور معاہدہ مسلسل ڈیڈ لاک کا شکار تھا۔
سعودی ولی عہد کو اس دوران پاکستان سے مسلسل کالز کرکہ معاہدے پر دستخط کرنے کی خواہش ظاہر کی گئ۔
لیکن شہزادے کی ایک ہی شرط تھی کہ پاکستان میں حکومتیں بدلتے دیر نہیں لگتی۔
اور ہماری خفیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں عمران خان کے سپورٹرز کی تعداد 22 کروڑ سے متجاوز ہے۔
اور جس حساب سے ایشیا میں انقلاب آرہے ہیں اس لحاظ سے ہمیں امید ہے کہ جلد ہی پی ٹی آئی کے نڈر اور بےخوف ورکر اپنے لیڈر کی خاطر انقلاب کےلئے آذانیں دینے نکل پڑیں گے۔
تب معاہدہ ٹوٹنے کا غالب امکان ہے۔
لہذا ہمیں عمران خان کے گارنٹی اس معاہدے پر ہر صورت چاہئے۔
جبکہ دوسری طرف شہزادے کو یہ بھی ڈر تھا کہ عمران خان بدلے میں اپنی رہائ کی شرط رکھیں گے۔ جسے موجودہ حکومت تسلیم نہیں کرےگی۔ اس صورت بھی معاہدہ خراب ہوسکتا ہے۔
آخر کار شہزادے نے پاکستان میں اپنے سفیر کو اڈیالہ بھیجا۔
جہاں سفیر نے ڈائرکٹ عمران خان سے شہزادے کی بات کروائ گئ۔
عمران خان کو معاہدے کے الفاظ وٹس ایپ کئے گئے۔
جنہیں پڑھ کر عمران خان نے کہا۔
میری قوم کے لئے یہ ایک سعادت ہے کہ ہم حرمین کی حفاظت کے لئے جان لڑا دیں۔
میں اس معاہدے کی غیر مشروط حمایت کرتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ حکومت میں آکر اس معاہدے کو مزید مضبوط کروں گا۔ذرائع کے مطابق کال کٹنے کے بعد شہزادے نے ایک آہ بھری اور کہا۔
ما ہذا الرجل۔
یا لیت ما باع الساعہ۔۔
کیا ہی زبردست آدمی ہے۔ کاش کے گھڑی نہ بیچتا
اسکی رہائی کیلئے کوئی قانونی آپشن تھے ہی نہیں کیونکہ ایک سزا یافتہ قیدی کو چھوڑا نہیں جا سکتا- انکے وکلاء نے کبھی کسی ایک بھی مقدمے کو ٹیکنیکل بنیادوں پر لڑنے کی کوششیں نہیں کیں کیونکہ کسی بھی مقدمے میں کوئی ٹیکنیکل گراؤنڈز تھیں ہی نہیں- انہوں نے سوائے التوا مانگنے, بیماری کے سرٹیفکیٹس دینے, تیاری کا کہہ کر مہلت مانگنے, ججز پر عدم اعتماد کرنے, عدالتوں میں سیاسی تقریریں کرنے, سوشل میڈیا پر شور مچانے, ٹی وی مباحثوں میں کیسز کو توڑ مروڑ کر بیان کرنے اور پریس کانفرنسز میں جھوٹ بولنے کے اور کچھ نہیں کیا- نیازی کو سب سے زیادہ نقصان حامد خان, سلمان اکرم راجہ, چودھری فیصل اور پنجوتھا نے پہنچایا-
نیازی کی طرف سے سیاسی آپشنز کا کبھی درست استعمال نہیں کیا گیا- نظریں صرف ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی طرف مرکوز رکھیں لیکن وہاں سے کبھی گھاس نہیں ڈالی گئی اور ہمیشہ سیاسی مصالحت کا مشوره ملتا رہا لیکن فتنے کی انا ہمیشہ آڑے آتی رہی-
سفارتی آپشنز کو حَتّی المَقْدُور استعمال کیا- امریکن لابسٹ فرمائیں ہائر کیں اور چند کانگریس مین خریدے لیکن وہ بھی ایک یا دو بیانات یا ٹویٹس کر کے خاموش ہو گئے- IMF کو پاکستان مخالف خطوط لکھے لیکن دال نہیں گلی- اقوام متحدہ کی انسانی حقوق تنظیم کو بھی خط لکھا- انہوں نے جواب تک دینا مناسب نہیں سمجھا- یوں نیازی فتنہ سفارتی محاظ پر بھی شکست کھا گیا-
احتجاجی آپشنز کو بارہا آزمایا گیا- عوام موبلائز نہیں ہوۓ کیونکہ ہر دفعہ جلسوں, جلوسوں اور ریلیوں کی اسٹریٹجی کنفیوژن کا شکار رہی-
آخر میں مذہبی ٹچ والا آپشن رہ گیا تھا, مشن نور کے نام سے یہ شوق بھی پورا کر لیا گیا اور ایک انتہائی مضحکہ خیز سوشل میڈیا مہم پیدا ہونے سے پہلے ہی انتقال فرما گئی-
إِنَّا ِلِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون
نیازی کی نہ صرف سیاسی زندگی کا انتقال ہو چکا ہے بلکہ اسکی بقیہ سماجی زندگی بھی جیل میں ہی گزرے گی- وجہ صرف یہ کہ الله نے اس احمق کو ڈیلیور کرنے کا ایک سنہری موقع عطا فرمایا تھا لیکن یہ شخص وطن کیلئے اپنی یوٹیلٹی/منفعت ثابت ہی نہیں کر سکا-
اس شخص نے حزب مخالف کو جھوٹے مقدموں کے ذریعے تباہ کرنے پر مکمّل توجہ مرکوز رکھی- ذاتی انا اور اکڑ میں اضافے کے ساتھ بڑے بڑے بول بولتا رہا- اپنے پارٹی اراکین کی مالی بے ضابطگیوں کا احتساب کرنے سے قاصر رہا- آٹا, چینی اور دواؤں کے سکینڈلز کی انکوائری رپورٹس کبھی پبلک نہیں کیں- سی پیک کا کام منجمد کروایا اور پاکستانی عوام کو چائنا سے متنفر کرنے کی بھرپور کوششیں کرتا رہا- چونکہ فیض حمید ڈاکو موجودہ نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کر کے اس فتنے کو تاحیات ملک کا سربراہ بنانے کا لالی پاپ دے چکا تھا لہٰذا اس فتنے نے خود کو دائمی طور پر کسی قسم کے احتساب سے بالاتر سمجھتے ہوۓ کھلی چوریاں کیں اور ڈاکے مارے- سفارتی محاذوں پر چین, امریکہ اور سعودی عرب کو بیک وقت ناراض کر کے انہیں بتا دیا کہ میں ایک فضول ترین سربراہ ہوں- اسنے بدتمیزی, بدکلامی, بدتہذیبی اور غیر شائستہ انداز اپنا کر ایک پوری نسل کو بدتمیز بنا دیا-
خیر یہ سب بھی معاف کیا جا سکتا تھا لیکن اس فتنے کے معاملات عملاً انسانی دسترس سے باہر ہو چکے ہیں کیونکہ اسکے اصل جرائم مقامات مقدسہ کی توہین, شعائر اسلام کی تضحیک اور ریاست مدینہ جیسے خیال سے عوام کیساتھ دھوکہ دہی ہیں- ان جرائم کیلئے نہ حزب مخالف ذمہ دار ہے اور نہ اسٹیبلشمنٹ- یہ اسکا اپنا کیا دھرا ہے جو اسکے سامنے آ رہا ہے-
محترم الیکشن پہلی دفع نہیں چھینا گیا آر ٹی ایس بیٹھا کر بھی چھینا گیا تھا اور ناجائز حکومت قائم کی گئی تھی سیاست دانوں اور بچوں پہ مقدمات قائم کیے گئے عدالتوں سے آئین کی تشریح اپنی پسند کی کروائی گئی اور معافی مانگنے پر بھی نہ ملتی تھی تب بھی کسی نے پاکستان مخالف نعرہ نہ لگایا
@atifthepoet جب الیکشن چھین لیا گیا، ناجائز حکومت بنائی گئی، آئین کی دھجیاں اودھیڑی گئیں، پرامن احتجاج کرنے والوں کو گولی ماری گئی،سیاستدانوں بمعہ اہل خانہ پر مقدمات قائم کیے گئے اور صرف معافی مانگنا آزادی کی ضمانت ہو تو قوم کیا کرے؟؟؟ استاد محترم رہنمائی فرمائیں۔ 2/2
اور ناظرین شاہزیب حقائق شواہد سے ثابت کررہا ہے کہ علیمہ باجی نے امریکہ میں جائیداد خریدی اور پھر وہ جائیداد 2017 تک کے اثاثوں میں ظاہر نہیں کی گئی
پھر ثاقب ناسور سے ملی بھگت کر کے زکوت چوری کا مال جرمانہ دے کر قانونی بنایا گیا
عمران دی باجی چور ہے
انجنیئر محمد علی مرزا روایتی مذہبی و فرقہ وارانہ عقائد کو قرآن و حدیث کی روشنی میں دلیل کے ساتھ چیلنج کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ وہ ان سوچوں پر بھی سوال اٹھاتے رہے ہیں جن کے بارے میں بات کرنا مشکل تصور کیا جاتا ہے۔ ان کی فکر سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے مگر ان کو بلاوجہ بظاہر چند مذہبی عناصر کے دباؤ پر گرفتار کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔