Oh yours!
As they say, when the argument runs dry, the slander begins.
None of your accusations has ever been proven in a court of law; they come straight from the military’s propaganda manual.
But let’s come back to what you carefully dodged: Why have you never uttered a word against the daylight robbery of Pakistan’s mandate, in Punjab, Sindh, and the Federation?
Why does your outrage only appear when it concerns an elected KPK government but disappear when unelected thieves run the rest of the country?
Your problem isn’t with corruption. It’s with Imran Khan and whoever supports him.
Because your career thrives on attacking him and protecting the very establishment that feeds your “neo-liberal” posturing.
So spare us the moral sermons, you pseudo-intelect-chawal.
Criticism built on jealousy and selective blindness isn’t journalism, it’s service to power.
یہ آپ کے مطالعہ کی کمی ہے یا آپ ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ آپ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ تحریک کے لوگوں کو حقیقت کے قریب رکھیں نا کہ انہیں امید دلا کر بار بار مایوس کرنا۔
ڈاکٹر شہباز گل اپنا ویلاگ شروع کرنے سے پہلے ہر روز بتاتے ہیں کہ فیلڈمارشل کی دوسری ریٹائرمنٹ میں کتنے دن رہ گئے ہیں۔ پہلی ریٹائرمنٹ موجودہ ٹرم شروع ہونے سے تین دن پہلے ہوئی تھی۔
مجھے اس کاؤنٹ ڈاؤن سے بڑی اچھی فیلنگ آ رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے ڈاکٹر صاحب کو کچھ ایسا پتہ ہے جو ابھی ہمیں نہيں پتہ۔ ان کے پاس پکیاں خبراں لگدیاں ہیں۔
گنڈاپور کا جانا بھی نیک شگون ہے۔ گنڈاپور جب تک رہتا نہ کوئی ریٹائر ہوتا نہ کوئی رہا ہوتا۔
اب سوچیں اگر نومبر کے شروع میں وزیراعلی سہیل آفریدی نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کر لیا اور کئی لاکھ لوگوں کے ساتھ اسلام آباد آگئے تو ریٹائرمنٹ تو ہوجائے گی۔ ریٹائرمنٹ ہوگی تو خان کی رہائی ہو گی۔
کچھ بات بنتی ہوئی نظر آرہی ہے۔
چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:
“پاکستانی عوام نے سمبڑیال انتخابات میں ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ ظلم کے ذریعے ان کا نظریہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ عوام کا فیصلہ وہی ہے جو 8 فروری کو انھوں نے سنایا تھا۔ اس الیکشن میں بھی بے شرمی سے دھاندلی کر کے عوامی مینڈیٹ کو پیروں تلے روندا گیا۔
8 فروری کی انتخابات کی چوری میں قاضی فائز عیسیٰ، سکندر سلطان راجہ اور جنگل کا بادشاہ پوری طرح شامل تھے۔ انھوں نے اس وقت تک انتخابات ملتوی کروائے جب تک تحریک انصاف کو اپنی دانست میں کرش نہیں کر دیا گیا لیکن 8 فروری کو عوام خاموش انقلاب لے آئی۔
آٹھ فروری ایک بہت بڑا انقلاب تھا۔ جنھوں نے 8 فروری کا دو تہائی مینڈیٹ چرا لیا وہ ہمیں ضمنی انتخاب کیسے جیتنے دیتے؟ کیونکہ ان کو یہی ڈر ہے کہ میں جیل سے باہر نہ آ جاؤں۔لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حیثیت اب سیاسی لاشوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ ان کو اپنے اصل ٹھکانے لندن واپس چلے جانا چاہیئے۔
تحریک انصاف کو کرش کرنا “لندن پلان” کا حصہ تھا جو نواز شریف نے جنگل کے بادشاہ، قاضی فائز عیسیٰ اور سکندر سلطان راجہ کے ساتھ مل کر بنایا تھا۔
لندن پلان کے تحت ہی نو مئی بھی کروایا گیا۔ جس کا مقصد تحریک انصاف کو توڑنا اور ختم کرنا تھا۔ اسی لیے جنھوں نے پریس کانفرنس کر دی وہ آزاد ہیں جبکہ نظریے پر کھڑے رہنے والے آج بھی ناحق قید میں ہیں۔
اگر 9 مئی تحریک انصاف کی سازش تھا تو سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہو جاتا لیکن سی سی ٹی وی چرا ��ر سب سے بڑا جرم کیا گیا اور پھر ایک دم سے ۱۰ ہزار ورکرز کو گرفتار کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ ایک فالس فلیگ تھا، جس کی آڑ میں تحریک انصاف کو کرش کیا گیا۔
پاکستان میں عدلیہ مکمل طور پر مفلوج ہے۔ قاضی فائز اور سکندر سلطان کے جانے کا وقت آیا تو چھبیسویں ترمیم کر کے کئی نئے فائز عیسیٰ پیدا کر دیے گئے۔ سکندر سلطان راجہ مدت ختم ہو جانے کے باوجود آج تک صرف دھاندلی کی سہولت کاری کے لیے بیٹھا ہوا ہے۔ اس ملک میں انصاف ناپید ہو چکا ہے۔ اب ہم سے مخصوص نشستیں بھی چھبیسویں ترمیم والی عدالتوں کے ذریعے چھیننے کی کوشش میں ہیں۔
ہم اس حکومت سے کیا بات کریں جو خود دو NROs کی پیداوار ہے۔ اس حکومت میں بیٹھی کٹھ پتلیوں نے پہلے مشرف اور پھر باجوہ سے NRO لیا اور اپنی چوریاں معاف کروائیں۔ شہباز شریف “لیلے” کی طرح اسٹیبلشمنٹ کی رسی سے لٹکا ہوا ہے، دور جاتا ہے تو اسے آکسیجن کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ یہ حکمران اور چھبیسویں ترمیم والے جج کسی کو کیا ہی انصاف دے سکتے ہیں؟
دنیا میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ جو فراڈ کرے وہی اپیل سنے؟ میرے خلاف 4 جھوٹے فیصلے کروائے گئے جو اسلام آباد ہائی کورٹ آنے پر اڑ گئے، اس کے بعد سرکاری ججوں کا انتظار کیا گیا اور ��یری اپیل تب لگائی گئی جب سرکاری جج آ گئے۔
میرے تمام انسانی حقوق معطل ہیں۔ میں 2 سال سے قید میں ہوں جبکہ میری اہلیہ کو 14 ماہ سے قید میں رکھا گیا ہے۔ عدلیہ انسانی حقوق کا دفاع نہیں کرتی کیونکہ وہ سب ایک کرنل سے ڈرتے ہیں۔ میں یہ سب ظلم صرف قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں اور کسی صورت ڈیل نہیں کروں گا۔
یہ بات کہ کوئی ڈاکٹر امریکا سے آئے ہیں سب افواہ ہے۔ جب ان پر دباؤ آتا ہے یہ مجھ سے بات چیت کا آغاز کر دیتے ہیں اور جب دباؤ ختم ہو جائے تو پھر سختی بڑھا دیتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے سیل میں رہتے ہوئے انسان کیا کر سکتا ہے سوائے کتابیں پڑھنے کے مگر اڈیالہ جیل میں تعینات کرنل کو میری ک��ابوں سے بھی مسئلہ ہے۔
میرا اسٹیبلشمنٹ کو پیغام ہے کہ آپ کو تحریک انصاف کی ضرورت ہے مجھے آپ کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اصل طاقت اسی کے پاس ہوتی ہے جس کے ساتھ عوام ہو۔ عوام کی اصل نمائندہ جماعت تحریک انصاف ہی عوام میں فوج کا تاثر بحال کر سکتی ہے۔
تین وجوہات کی وجہ سے اس وقت قوم کو ا��حاد کی شدید ضرورت ہے:
۱- مودی اس وقت زخمی ہے اور پاکستان پر ایک مرتبہ پھر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ بھارت کی معیشت ہم سے کافی مضبوط ہے اور 700 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں، ہمیں بھی معاشی لحاظ سے مضبوط ہونا ہو گا تاکہ بھارت کا مقابلہ کر سکیں-
۲- خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز دہشتگردی کے واقعات بڑھ رہے میں جس میں معصوم لوگ شہید ہو رہے ہیں۔
۳- معیشت مکمل طور پر تباہ حال ہے اور سرمایہ دار اور نوجوان مسلسل بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں-
جس ملک میں انصاف نہ ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ سرمایہ کاری کے لیے کوئی بھی کلیہ آزما لیں عوام کی منشاء کی حکومت جب تک قائم نہیں ہو گی یہ بس ایک خواب ہی رہے گا۔”
2/2
My brother Imran Khan has been illegally imprisoned for nearly 2 years now. He is deprived of his two fundamental (and legal) demands. His books and weekly phone calls with his sons.
The courts are helpless. Despite several court orders, the jail authorities pay no need to the judges.
Imran’s access to his party members has been blocked for past 5 months.
The lists for lawyers, party members and family are submitted to jail authorities, as per orders of the Chief Justice of Islamabad High Court and his 3 member bench. The jail authorities seem to be under no obligation to comply with court orders.
Gradually they have isolated the former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan from all the people whom he asks to meet.
We can rightly assume that whoever is allowed to enter Adiala Jail is with approval of those who control the prison?
I would like to request party members to show solidarity with Imran Khan.
1) Anyone who is NOT on the list Imran Khan has approved, should not go to Adiala Jail.
2) All critical decisions for KP Govt should be put on hold until
Imran Khan is released.
We must not normalise his imprisonment. We demand FREEDOM FOR IMRAN KHAN.
What a prime example of intellectual dishonesty!
Who rig te election of Feb8? PTI?
Who suffered after 9 May attack?
Mendling 2 different events to create a narrative thats suits you!
I’m saddened by your expectations from PTI. It had been an extremist party long before May 9 attack and February 8 election. We fail to acknowledge this because they’re among us.
Chief Minister of Punjab whose capital Lahore is being ranked as top most polluted city in the world has gone to Switzerland allegedly by a PAF plane & whose capital is the cleanest city globally. She left her citizens at the mercy of bureaucracy. Isn’t cruel?
آپ کی صحافت کیا عمران پے آ کے ختم شد ہوتی ہے۔
آپ کو آئین اور قانون سے کھلواڑ ہوتا دیکھ کر بھی ضمیر ملامت نہیں کرتا؟
آپ سے بہتر تو طوائف ہے جو جسم تو بیچتی ہے مگر اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرتی۔
@GFarooqi
میں پاکستان کا شہری پاکستان کا مالک ہوں
میں عہد کرتا ہوں کہ میں ہر اس شخص یا ادارہ خواہ اندرونی یا بیرونی جو اس ملک کے خلاف کام کرے گا یا اس کے قانون کو توڑے گا،اس کے خلاف۔۔۔اپنی پوری قوت استعمال کرونگا- ---کیونکہ میں پاکستان کا شہری اس کا مالک اس کی بقا کا حتمی ضامن ہوں
جب کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کے آئے تو خوب تصدیق کر لیا کرو۔ القرآن
اس آڈیو میں صاف سنا جا سکتا ہے عمران خان کو کسی بات میں 30 تیس کا ذکر کرتے ہوئے نا کہ 23 کا۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے مُجھ سے ایک بہت ہی ایکسکلوسو آڈیو شیئر کی ہے
عمران خان کو ارشد شریف کے قتل سے پہلے پتہ تھا کہ پاکستان میں کُچھ بڑا ہونے والا ہے جس کی بنیاد پر وہ لانگ مارچ اور تحریک شروع کرینگے، اس آڈیو میں عمران خان صاف طور پر اتوار 23 اکتوبر کا کہہ رہا ہے
@FaisalVawdaPTI
Many thanks to “The Accountant” @Theaccoutant1 for this generous, perhaps undue tribute, and all those who have kindly commented! I am glad and humbled that so many educated & intelligent people, who are living all across the world, think that I have helped them to understand political dynamics better! Your kind appreciation is my reward!
Meanwhile, a military controlled ATC Court, in Islamabad, has taken away my Pakistani citizenship, by cancelling my Passport, my National ID Card and has ordered confiscation of all my properties. In school, we used to read, one has to pay price for speaking the truth! Now I understand what it means! Truth is not a material physical object, but a reality we perceive through our five or six senses! Combining all together, we understand “Truth” through our mind, our consciousness! I am trying to speak my truth! I don’t control a Govt, I command no army! I can’t impose my beliefs & arguments! I merely offer my analysis on what is happening and may happen because of unwise actions! Anyone, anywhere, can present a superior argument & tear my reasoning! And Govts run huge propaganda machines!
Yet, to suppress my voice, stupid illogical cases have been made against me. And govt IT teams work overtime to reduce reach & visibility of my YouTube videos, and disrupt its algorithms. It’s happening for more than a year.
Court cases (Terrorism, Mutiny & Absconding etc) against me are only an extension of this strategy to force me to stop offering political analysis! While the whole premise is ridiculous! What makes it all the more funny is that ATC court, of Mr. Sipra, had the intellectual dishonesty, of categorising me as “Absconder” - Why? Everyone knows - including the Prosecution File - against me that I left Pakistan, on 25 Oct, 2022, two days after Arshad Sharif’s murder (clearly linked with actions of Pakistani state agencies) and given the circumstances around me, I had reason to believe that my life & liberty were at grave risk. Later an international Agency, that maintains world wide surveillance capacities also informed me of threats to my life - clearly pointing the finger towards Pakistani govt.
Now the stupid non sensical FIR against me was made in June 2023, when I was living & doing my daily Vlogs, from Washington - only to shut my mouth.
Timeline of these facts can be easily checked, in few minutes, on Google.
Judges are supposed to be men with a conscience! One wonders if there are no men & women of conscience around Mr. Sipra to remind him that he was supposed to be a Judge and not a mere hammer in the hands of military officers?
Imran Khan: “All that's left for them now is to murder me – but I'm not afraid to die”
Former Prime Minister Imran Khan writes exclusively for The Telegraph @Telegraph from the prison.
https://t.co/LcY4AU5AOm