کبھی کبھی تو دل چاہتا ہے ہر چیز سے آزاد ہوجاؤں لوگوں سے پکے تعلقات سے جھوٹے رشتوں سے کھوکھلے سہاروں سے ادھوری خواہشات سے ٹوٹے خوابوں سے بکھری حسرتوں سے اور یہاں تک کہ دھیمی پڑتی سانسوں سے بھی آزاد ہوجانا چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں جس جس پہ میرا ہونا بوجھ ہے ان پہ عکس بھی نہ پڑنے دوں