مولوی صاحب نے حق ادا کردیا!!
مریدکے سے پہلے 26 نومبر کو سانحہِ ڈی چوک ہؤا تو سارے خاموش تھے, کاش اسوقت سب لوگ ایک ہوجاتے, تو سانحہِ مریدکے نا ہوتا, سانحہِ راولاکوٹ نا ہوتا!!
خاموش تماشائی مت بنے, آج آپکے ہمسائے کے ساتھ تو کل آپکے ساتھ ظلم ہوگا!!
بلوچستان میں فوج نے پرامن احتجاج کرتی ہوئی خواتین اور بچوں پر سیدھی گولیاں چلا دی
اتنا ظلم تو کبھی تاتاریوں نے بھی نہیں کیا تھا ظالمو، اس قدر بربریت کہ خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخش رہے؟
#StopExtraJudicialMurders
پنجاب حکومت کی ایک متوازی پولیس فورس (CCD) کی تشکیل کے بعد اپریل 2025 سے پنجاب میں 1100 سے زائد لوگ پولیس مقابلے کے نام پر ماورائے عدالت قتل کر دیئے گئے ان مقابلوں کی اصلیت اسی بات سے ظاہر ہے کہ ان مقابلوں میں صرف دو پولیس والے ہلاک ہوئے
اس ہر آواز اٹھائیں ورنہ اگلا شکار آپ بھی ہو سکتے ہیں
جہاں پٹواریوں نے دس ارب کے جہاز کا ، اسحاق ڈار کی اولاد کا ، جعلی الیکشن مینڈیٹ کا ، ووٹ کو عزت دو کے فضلے کا بوجھ اپنے سروں پر ڈھویا وہاں یوتھیوں نے مراعات لینے پر پختونخواہ اسمبلی کو اڑا کر رکھ دیا۔
فرق صرف غیرت کا ہے !
شریف خاندان اور انکو لانیوالے عمران خان دشمنی میں اسقدر اندھے ہوچکے ہیں کہ ضلع میانوالی کی عوام سے DHQ ہسپتال تک چھین لیا۔مریض روڈ پر رکھ کر لواحقین کا احتجاج۔
مریم نواز کی ضلع میانوالی دشمنی اپنی انتہاء کو پہنچ چکی ہے۔ ضلع میانوالی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جو 400 بیڈ پر مشتمل تھا اس کو بند کر دیا گیا
200 بیڈ کے چلڈرن ہسپتال کو بند کر کے DHQ بنا دیا گیا
پورے ہسپتال کے اندر پنکھے بند ہیں اور آج تو پورے ہسپتال کا پانی بھی بند ہوچکا ہے۔
جب ہوا آپ کے خلاف چل رہی ہو تو پھر چاہے کوئی کتنا ہی بڑا نام آپ کے ساتھ کھڑا ہو جائے، آپ کے حق میں بات کرے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بلکہ اُلٹا وہ بھی زیرو ہو جاتا ہے۔
سہیل آفریدی کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اس وقت ہوا، یعنی عوامی رائے، اس کے خلاف ہے۔ وہ چاہے ثمینہ پاشہ اور صدیق جان کی جگہ اپنے حق میں اینکیڈو، بابا کوڈا یا نیمسس جیسے بڑے ناموں سے مہم چلوالے، تب بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اصل بات ہوا کی ہے، یعنی عوامی رائے اور عوامی تاثر کی۔ اس وقت اس کے بارے میں عوامی رائے انتہائی منفی ہے اور عوام تھو تھو کر رہے ہیں۔ یہی حقیقت اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن شاید یہ سمجھے گا نہیں کیونکہ سالا کُرسی کا نشہ ہی کچھ ایسا ہے بندے کا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔
شوکَت نواز میر کی گرفتاری صرف ایک شخص کی گرفتاری نہیں، بلکہ حق، انصاف اور عوامی آواز کو دبانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ ظلم اور جبر کی تاریخ گواہ ہے کہ نہ قیدیں نظریات کو روک سکتی ہیں، نہ ہتھکڑیاں آزادی کی خواہش کو ختم کر سکتی ہیں۔
یاد رکھو، کشمیر کا ہر بچہ، ہر نوجوان، ہر باہمت انسان شوکت نواز میر ہے۔ تم آخر کس کس کو گرفتار کرو گے؟ کس کس کی آواز دباؤ گے؟ حق کی صدا دیواروں اور زنجیروں سے نہیں رکتی۔
ریاستی دہشت گردی بند کرو۔ اختلافِ رائے کو جرم بنانا اور حق کی آواز کو طاقت کے زور پر خاموش کرنا انصاف نہیں، کمزوری کی علامت ہے۔
قفس میں قید پرندوں سے یہ کہنا اے صیاد،
پرواز کا حوصلہ زنجیروں سے نہیں مرتا۔
زیارت میں سیاح نہیں آسکتا ،
چمن میں کوئی کاروبار نہیں کرسکتا ،
ہرنائی میں کوئی کوئلہ نکال نہیں سکتا ،
قلعہ سیف اللہ میں کوئی اپنی زمین پر ملکیت کا دعوی نہیں کرسکتا ،
پشین میں اپنی ہی سرزمین دن دیہاڑے دوسروں کو الاٹ ہوگی،
تفتان باڈر سے کنٹینر کوئٹہ کے طرف نہیں آسکتا اگر آیا تو آگ لگایا جائے گا ،
کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر سفر نہیں کرسکتے ہوں ،
کوئٹہ پنجاب قومی شاہراہ راڑہ شم ، رکنی کے مقام پر رات کو سفر نہیں کر سکتے ہوں ،
کوئٹہ سندھ قومی شاہراہ بولان ، ڈھاڈر کے مقام پر سفر نہیں کرسکتے ہوں ،
گوادر ، پنجگور ، تربت ، آوارن اُس کا تو کوئی سوچ نہیں سکتا،
اور فوج اور انٹیلیجنس ایجنسیاں ہماری "لمبڑ ون" ہیں۔
او یدی دیو، ایہہ کی مذاق اے؟
سن 1947 میں امیرالدین قدوائی نے پاکستان کا قومی پرچم ڈیزائن کیا اور 2019 میں ان کے بےقصور پوتے نے 20 ماہ NAB ٹارچر سیل میں کاٹے۔
1906 کو نواب محسن الملک نے مسلم لیگ کی بنیاد رکھی اور 1960 میں ان کے نواسے حسن ناصر کو جنرل ایوب خان نے اذیتیں دے کر مار دیا۔
1921 میں حسرت موہانی مسلم لیگ کے 13ویں صدر بنے اور 1995 کو ان کے پوتے کو دہشتگرد قرار دے کر مار دیا گیا۔
1964 مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو غدار قرار دے دیا گیا۔ ان پر تہمتیں لگائی گئی ۔ بیحرمتی کی گئی ۔
1949 میں احمد چھاگلہ نے قومی ترانے کی دھن مرتب کی اور 1979 میں ان کو اور ان کے سارے خاندان کو ضیاء دور میں پاکستان چھوڑنا پڑا۔
1949 میں بیگم رعنا لیاقت علی نے ویمن نیشنل گارڈز کی بنیاد رکھی اور 1951 میں ان کو طوائف اور غدار کہا گیا۔
1940 میں فضل حق نے قرارداد پاکستان پیش کی اور وہ 1954 میں غدار قرار پائے۔
1947 میں کے-ایچ خورشید نے الحاق کشمیر کے لئے جدوجہد کی، 1965 میں ان کو سڑک پر گھسیٹا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا۔
1947 کو لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم منتخب ہوئے اور 1951 کو وہ بے دردی سے قتل ہوئے۔ ان کی انکوائری رپورٹ حادثے میں جلادی گئی۔
1947 کو قیام پاکستان کے بعد خواجہ ناظم الدین لیگ کے پہلے صدر بنے اور 1964 میں وہ بھی غدار قرار پائے۔
1947 کو سردار ابراھیم نے کشمیر کی الحاق پاکستان کی مہم چلائی 2009 میں ان کے بیٹے غدار قرار پائے۔
1943 میں جی ایم سید نے قرارداد لاھور سندھ اسمبلی میں پیش کی، 1948 میں وہ بھی غدار قرار پائے۔
1940 میں بیگم سلمی تصدق نے پاکستان اور مسلم لیگ کے لئےمہم چلائی 1960 میں صدر ایوب خان نے ان کو کرپٹ قرار دے کر نااہل کر دیا۔
1946 میں میاں افتخارالدین نےمسلم گارڈز کے لئے اپنا آبائی گھر مختص کیا 1960 کو جنرل ایوب خان نےان کو کرپٹ قرار دے دیا۔
1946 میں حسین سہروردی شہید نے مسلم گارڈز کے لئے تربیت سنٹر بنایا تھا 1960 کو غدار قرار پائے۔
1945 میں والئی قلات احمد یار خان نے قائداعظم کو سونے اور چاندی میں تول دیا تھا 2006 میں ان کے پوتے کو اپنی جان بچانے کے لئے اپنا ملک چھوڑنا پڑا۔
1933 میں چودھری رحمت علی نے پاکستان کا نام رکھا 1951 میں ان کا سب کچھ ضبط کرکے ان کو جلاوطن کر دیا گیا۔
مجھے بتایا گیا کہ جی ایم سید غدار ہے مگر جب شعور نے آنکھیں کھولیں تو معلوم ہوا کہ 1943 میں جی ایم سید نے قرارداد لاہور سندھ اسمبلی میں پیش کی، اور پاس کروائی یہ الگ بات ہے کہ موقع پرست لوگوں کی وجہ سے 1948 میں وہ بھی غدار قرار پائے۔
کہتے تھے مجیب الرحمان غدار تھا
تاریخ پڑھی تو پتہ چلا ڈھاکہ سے لیکر کلکتہ تک جو شخص قیام پاکستان اور مسلم لیگ کے لئے سائیکل پر چندہ اکٹھا کرتا تھا اس کا نام تھا شیخ مجیب الرحمان!
1947 میں شیخ مجیب الرحمن نے مسلم سٹوڈنٹ لیگ کی بنیاد رکھی 1971 میں انکو غدار قرار دیا گیا۔
جمہوریت کا حامی فاطمہ جناح کا کارکن تھا۔ الیکشن جیت کے اسے فوج اور بھٹو نے حکومت نہ بنانے دی۔ احتجاج پر اسے قید کیا اور بنگالیوں کا قتل عام کیا۔ مجیب آخری وقت تک علیحدگی نہیں چاہتا تھا مگر بنگالی طلبہ اور عوام نے ظالم کی غلامی سے انکار کر دیا۔
مجھے پڑھایا گیا حسین شہید سہروردی غدار تھا ، تاریخ میں لکھا ھے موجودہ پاکستان سے بڑے صوبے متحدہ بنگال کی وزارت اعلی کو چھوڑ کر اسمبلی سے قیام پاکستان کا بل منظور کرانے والا شخص تھا حسین شہید سہروردی!
میں نے سنا سندھو دیش کا نعرہ لگانے والا جی ایم سید غدار تھا ۔ تاریخ کہتی ھے 1946 میں سندھ اسمبلی میں قرارداد پاکستان پیش اور منظور کروانے والا شخص تھا جی ایم سید!
مجھے کہا گیا اکبر بگٹی غدار تھا
بلوچستان کی مٹی گواہ ھے 12 سال کی عمر میں بلوچستان کے جرگے سے پاکستان کے حق میں فیصلہ کروانے والا شخص
نوابزادہ محمد اکبر خان بگٹی تھا۔ انکی کوششوں سے ہی بلوچستان پاکستان میں شامل ہوا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہمارے قومی ہیرو تھے مگر 2004 میں ایک ڈکٹیٹر نے بہترین قومی مفاد میں اس قومی ہیرو سے قومی نشریاتی چینل پر معافی منگوائی. وہ اخر عمر تک اپنے گھر میں نظر بند رہے۔ اور آخر کار پاکستان کا محسن منوں مٹی تلے جا سویا۔
نواب آف بہاولپور جن کو قائداعظم ؒ نے محسنِ پاکستان کا لقب دیا. انکے بیٹے مامون الرشید عباسی کے ساتھ ریاست نے وہ ظلم کیا کہ مخملی بستروں پر سونے والوں کو مظفر گڑھ جیل میں رکھ کے کوڑے مارے گئے۔
اب عمران خان کو بھی راستے سے ہٹانے کے لیے ملک کے مقتدرہ اور اشرافیہ نے میڈیا کے ساتھ مل کر ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا۔سنایا کچھ جاتا ہے اور حقیقت کچھ اور ہوتی ہے؟
عوام اب باشعور ہو چکی ہے اور جانتی ہے کہ مملکت پاکستان کے اصل غدار کون ہیں۔