وہ دونوں جب ملیر کورٹ کی سیڑھیاں اتر رہے تھے تو ان کے چہروں پر عجیب سا سکون تھا۔ جیسے برسوں کی جنگ کے بعد کسی نے انہیں جینے کا حق دے دیا ہو۔
لڑکی کے ہاتھ میں عدالت کے کاغذات تھے، اور لڑکے کی آنکھوں میں ایک چھوٹا سا گھر۔ ایک ایسا گھر جہاں شام کو چائے ٹھنڈی ہو جایا کرے اور جھگڑے صرف اس بات پر ہوں کہ بچے کا نام کون رکھے گا۔
وہ دونوں محبت کرتے تھے بس اتنا ہی جرم تھا۔
شہر کراچی ہمیشہ کی طرح شور میں ڈوبا ہوا تھا۔ سڑکوں پر گاڑیاں تھیں، دھواں تھا، جلدی میں بھاگتے لوگ تھے، لیکن ان دونوں کے لیے وقت جیسے رک گیا تھا۔
لڑکی نے آہستہ سے کہا:
"اب کوئی ہمیں جدا نہیں کر سکے گا نا؟"
لڑکے نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔
"اب قانون بھی ہمارے ساتھ ہے۔"
مگر وہ شاید بھول گئے تھے کہ اس ملک میں قانون کتابوں میں رہتا ہے، اور فیصلے بندوقیں کرتی ہیں۔
گاڑی ابھی ملیر کورٹ سے کچھ ہی دور نکلی تھی کہ پیچھے سے آنے موٹر سائیکل سوار نے گاڑی کے ساتھ بائیک جوڑی۔
لڑکی نے چونک کر دیکھا۔ وہ چہرے جانے پہچانے تھے۔۔۔۔۔اپنے لوگ۔ وہ لوگ جنہوں نے بچپن میں اسے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تھا۔
پہلا فائر شاید لڑکے کو لگا۔
دوسرا لڑکی کے سینے میں اترا۔
اور پھر گولیوں کی آواز اتنی بڑھ گئی کہ محبت کی آخری چیخ بھی سنائی نہ دی۔
سڑک پر لوگ رکے،
کچھ نے ویڈیو بنائی،
کچھ نے کہا:
"غلط کیا ہوگا تبھی مارے گئے۔" اور شہر دوبارہ اپنی رفتار میں چلنے لگا۔
کل صبح کو خبر سوشل میڈیا پر زندہ رہی گی پھر کسی نئے اسکینڈل نے اسے دفن کر دینا ہے۔ لیکن آج رات کراچی کے آسمان پر ایک سوال بہت دیر تک منڈلاتا رہے گا:
آخر محبت سے اتنا خوف کیوں ہے؟
یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں قاتل غیرت مند کہلاتے ہیں اور محبت کرنے والے مجرم؟ جہاں ماں باپ اولاد کو پیدا تو کر سکتے ہیں مگر ان کی مرضی سے جینے کا حق نہیں دے سکتے۔ جہاں مسجدوں میں رحم کی باتیں ہوتی ہیں مگر گھروں میں نفرت پالی جاتی ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں انسان مرنے سے پہلے نہیں مرتا، وہ تب مر جاتا ہے جب اسے اپنی پسند سے جینے کی اجازت نہیں ملتی۔
یہ معاشرہ شاید واقعی ناقابلِ اصلاح ہے۔
کیونکہ یہاں مسئلہ قانون کا نہیں، ذہنوں کا ہے۔
اور جن ذہنوں میں محبت جرم بن جائے، وہاں قتل ہمیشہ عبادت سمجھا جاتا رہے گا۔
کیا آپ کو یاد ہےکہ مریم نواز نے شہباز شریف کو کیسے مشورے دیے تھے کہ، "انکل، عمران خان کا عوام کو دیا صحت کارڈ ختم کریں"
بعد میں فنڈز کی کمی کا بہانہ بنا کر اسے ختم کر دیا۔ اور عمران خان کی نفرت میں غریب سے دشمنی نکالی۔
اب اس کو اپنے نام سے لانچ کر دیں گے
عربی کا ایک مقولہ ہے !
شادی اُس آدمی سے کرو جو بارش میں تمہارے ساتھ رقص کرے ، نا کہ اُس کے ساتھ جو بارش ہوتے ہی کہے؛ کپڑے تار پر ( سے اُتارنا ) نا بھول جانا♥️
یہ ہیں کمانے کے 15 بے رحم سچ — اگر ہضم ہو جائیں تو زندگی بدل جائے
پیسہ دعا سے نہیں آتا، ڈیزائن سے آتا ہے۔
اور دنیا آپ کو اس لیے نہیں دیتی کہ آپ تھک گئے ہیں… بلکہ اس لیے دیتی ہے کہ آپ نے اس کے لیے کتنی “ویلیو” پیدا کی ہے۔
اگر واقعی کمانا چاہتے ہیں، تو جذبات نہیں… یہ اصول سمجھیں:
1۔ محنت نہیں، ویلیو بکتی ہے
دنیا کو آپ کی تھکن سے کوئی ہمدردی نہیں۔ مزدور بھی ٹوٹتا ہے، مگر امیر نہیں بنتا۔
پیسہ وہاں جاتا ہے جہاں کمی ہو… جہاں نایابی ہو… وہاں قیمت بنتی ہے۔
2۔ وقت بیچو گے تو قید میں رہو گے
تنخواہ ایک خوبصورت جیل ہے۔
اصل کھیل تب شروع ہوتا ہے جب آپ کا سسٹم آپ کے بغیر بھی کمائے۔
3۔ گمنام رہ کر کوئی نہیں جیتتا
اگر لوگ آپ کو نہیں جانتے… تو وہ آپ سے نہیں خریدیں گے۔
آواز اٹھائیں، خود کو دکھائیں… کیونکہ جو نظر آتا ہے، وہی بکتا ہے۔
4۔ درد سب سے بڑا بزنس ہے
لوگ خوشی خریدنے میں سوچتے ہیں…
لیکن درد سے بچنے کے لیے سب کچھ دے دیتے ہیں۔
درد ڈھونڈیں… حل بیچیں… پیسہ خود آئے گا۔
5۔ ایک آمدنی = ایک خطرہ
ایک دروازہ بند ہوا تو کھیل ختم۔
کم از کم تین راستے رکھیں… تاکہ ایک سوکھے تو دوسرا بہتا رہے۔
6۔ شرم اور پیسہ ایک ساتھ نہیں رہتے
بیچنے میں شرم؟
پیسے مانگنے میں ہچکچاہٹ؟
تو پھر غربت کا انتخاب آپ نے خود کیا ہے۔
7۔ ڈگری نہیں، ہنر کماتا ہے
کاغذ ہر کسی کے پاس ہے…
اصل طاقت وہ مہارت ہے جو ہر کسی کے پاس نہیں۔
8۔ پیسہ تیز لوگوں کو پسند کرتا ہے
سست آدمی کے آئیڈیاز… دوسروں کے بزنس بن جاتے ہیں۔
پرفیکٹ کا انتظار نہ کریں… شروع کریں، سیکھیں، آگے بڑھیں۔
9۔ آئیڈیا نہیں، عمل بادشاہ ہے
سوچ سب کے پاس ہے…
ہمت چند کے پاس ہے… اور پیسہ انہی کے پاس جاتا ہے۔
10۔ پیسہ لوگوں کی جیب میں ہے
آپ کا کام ہے اسے وہاں سے نکالنا… عزت کے ساتھ، ویلیو دے کر۔
قائل کرنا سیکھیں… یہی اصل ہنر ہے۔
11۔ بچت نہیں، آمدنی بڑھائیں
چائے چھوڑ کر کوئی امیر نہیں بنتا۔
اصل کھیل زیادہ کمانا ہے، کم خرچ کرنا نہیں۔
12۔ مفت کام = اپنی توہین
اگر آپ کو اپنی ویلیو کا اندازہ نہیں…
تو دنیا بھی آپ کو مفت ہی استعمال کرے گی۔
13۔ اکیلا آدمی امیر نہیں بنتا
بڑی کمائی کے لیے لیوریج چاہیے —
لوگ، پیسہ، یا ٹیکنالوجی… ورنہ آپ صرف خود کو ہی بیچتے رہیں گے۔
14۔ مسئلے = مواقع
جہاں لوگ شکایت کرتے ہیں…
وہیں پیسہ پڑا ہوتا ہے۔
نظر بدلیں، قسمت بدل جائے گی۔
15۔ نیٹ ورک ہی اصل دولت ہے
آپ وہی بنتے ہیں جن کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔
صحیح لوگوں کے ساتھ بیٹھیں… دماغ خود بڑا ہو جائے گا۔
آخر میں ایک سیدھی بات:
پیسہ مشکل نہیں… واضح ہے۔
لیکن شرط یہ ہے کہ آپ جذبات سے نکل کر اصولوں پر کھیلنا شروع کریں۔
اگر ہمت ہے… تو آج سے کھیل بدل دیں۔
2022 - 2026 میں ضروری اشیاء کی قیمتوں کا تقابل دیکھیں اس کے ساتھ آمدنی میں کمی کا تقابل کریں تو ہر احساس رکھنے والا شخص اس نتیجے پر پہنچے گا کہ مڈل کلاس کا بھرکس نکل گیا ہے، لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی زندگی کیسے گزاریں اور روزمرہ کے اخراجات کیسے پورے کریں؟
لیکن یقین کریں انہیں پھر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا 🖐️
آج تک عمران خان نے کبھی کسی اینکر کو یہ نہیں کہا کہ اس کلپ کو کاٹیں۔ یہ کلپ پروگرام میں نہیں چلنا چاہئے۔
نہ کبھی عمران خان نے کسی اینکر کو پروگرام سے پہلے سوال پوچھے
ان لوگوں کو توشہ خانہ کے اصول توڑ کر گاڑياں لینے کا پتا ہے لیکن غلط الزام عمران خان پر۔
_*🚨ٹرمپ: میں نے 8 جنگیں ختم کیں۔*_
_*ڈیموکریٹ نمائندہ: "یہ جھوٹ ہے، یہ جھوٹ ہے۔"*_
_*ٹرمپ: بیمار لوگ😂*_میں نہ ہوتا تو پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف انڈیا کے ہاتھوں مارا جاتا
*ٹرمپ نے نیا کٹا کھول دیا**
بھائی واہ۔ مریم نواز چھا گئیں۔ گوجرانوالہ میں پچھلے ڈیڑھ سال سے قائم لنگر جو کوئی اور چلا رہا تھا، اس پر "اپنے" نام کی تختی لگا کر اسے "وزیر اعلٰی رمضان دسترخوان" بنا ڈالا
حکومت کی یہ حرکت دیکھ کر اصل ڈونر جو یہ لنگر چلا رہا ہے، اس نےبھانڈا پھوڑ دیا۔ 😂🤦
عوام کے لئیے غیر ملکی ائیرلائنز موجود ہیں جبکہ ملک کو اپنی جاگیر سمجھنے والے مسلط ٹولے کو زاتی جہاز کی اشد ضرورت ہے۔ اب چچا بوٹ پہن کر اور پنجاب دی ماں اپنے زاتی طیارے پر فوٹو شوٹس کیا کریں گے۔
کہانی بس اتنی سی !
@IrshadBhatti336
پنجاب اتنی ترقی کر چکا ہے کہ مریم نواز رمضان بازار میں لگے کیمراز میں دیکھ کر کسی بھی خریدار کو کال کر لیتی ہے اور اس سے قیمتوں کا پوچھ لیتی ہے۔
یہ ٹیکنالوجی تو ابھی امریکہ اور یورپ کے پاس بھی نہیں کہ انہیں کیمرے میں دیکھ کر کسی کا فون نمبر پتا چل جائے۔
"عمران خان کا یہ مطالبہ ہمیں قبول نہیں تھا کہ 9 مئی اور 26 نومبر کی انکوائری کی جاۓ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس (تب عمر عطاء بنديال تھے) جوڈیشل کمیشن کی سربراہی کریں
اس مطالبےکا تو مطلب تھا کہ وہ ہماری جگہ آ جاتے اور ہم سب (جیل) چلے جائیں"
رانا ثناءاللّه