@TTAP_OFFICIAL@hrw@UNGeneva@UN@amnesty@amnestysasia plzzzz take notice. Pakistan s OPPOSITION LEADER is claiming that prisoner Imran Khan is being physically tortured now additional to psychological torture.
This is even AGAINST GENEVA CONVENTION.
جو صحافی اس دور میں کسی بھی ٹی وی پر شو کرتے ہیں اور ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں کوئی خطرہ ہے یا وہ عوام کے ساتھ ہیں۔
سب سے بڑا فراڈ ہیں۔
اگر وہ ہلکا سا خطرہ بھی ہوتے تو کسی سکرین پر نہ ہوتے، یہ مخبر ہیں، ڈبل ایجنٹ اور منافق۔
کھلا کنجر ، منافق پنڈت سے کہیں بہتر ہوتا ہے۔
میرا یقین ہے۔ عمران خان کو دھمکیاں دی گئی ہیں، انہیں بلیک میل کیا جا رہا ہے، اور جیل میں ان پر جسمانی تشدد بھی کیا گیا ہے۔
اور شاید یہ اس لیے ڈر رہے ہیں کہ اگر ملاقات ہوئی تو وہ آدمی بتا دے گا۔ بتا دے،
مزید نہ بڑھیں۔ جو الجھاؤ آیا ہے، اس الجھاؤ کو آپ نہیں سلجھا سکتے۔ اس کو سچ اور صرف سچ
ہم آپ کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ عمران خان سے ہماری بات ہوگی۔ ہم نہ پریس کو بتائیں گے اور جو غلطیاں آپ سے ہوئی ہیں اس کا بھی ذکر نہیں کریں گے، لیکن آپ کے سامنے ہم کہیں گے۔
اور یہ بھی وعدہ ہے کہ اگر ہمیں پتہ چلا، ہماری عقل اور ہماری منطق یہ کہے کہ عمران غیر منطقی بات کر رہا ہے، تو ہم آپ کے سامنے بھی، اکیلے بھی اور لوگوں کے سامنے بھی عمران سے کہیں گے کہ یہ غلط کر رہے ہو۔
اور اگر وہ صحیح بات کر رہا ہے، پھر تو آپ کو کون کہے گا؟ ہم کہیں گے۔ ہم سارے پاکستان کو بتا دیں گے۔ اگر آپ نے اس الجھاؤ کو سلجھانا ہے، تو بسم اللہ، اعتماد کریں۔
بھائی! کل اخبار میں تھا یا کہاں تھا کہ عمران خان نے نتھیا گلی جانے سے انکار کر دیا۔۔۔
نتھیا گلی، گھوڑا گلی کونسی گلی تھی؟ وہاں جانے سے انکار کر دیا۔
یہی تو مذاکرات ہیں، آپ کیوں پش کر رہے ہیں؟ آئیں بسم اللہ کریں۔ غلطی ہوئی ہے، آئیں اس کو سلجھائیں۔ عمران خان کو ہم راضی کریں گے اگر کوئی خطرہ ہے۔"
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
میرا یقین ہے۔ عمران خان کو دھمکیاں دی گئی ہیں، انہیں بلیک میل کیا جا رہا ہے، اور جیل میں ان پر جسمانی تشدد بھی کیا گیا ہے
اور شاید یہ اس لیے ڈر رہے ہیں کہ اگر ملاقات ہوئی تو وہ آدمی بتا دے گا
محمود خان اچکزئی
یہ عمران خان کو قتل کرنا چاہتے ہیں کل ہی قاسم خان نے ماریو نوفال کے انٹرویو میں کہا تھا یہ عمران خان کو مرسی بنانا چاہتے ہیں
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت عمران خان کی زندگی کے بارے ہمیں شدید تشویش لاحق ہے No body Knows کہ انہوں نے عمران خان کے ساتھ کیا کر دیا ہے
تیریاں ریساں کون کرے
علی وزیر کے سامنے امیدوار کھڑا نہیں کیا کہ پشتون قوم پرستوں کو آئسولیٹ کرنے کی بجائے قومی دھارے میں لایا جائے۔ ثمر بلور کے ضمنی الیکشن میں امیدوار کھڑا نہیں کیا کہ اسکا شوہر دہشتگردی کا شکار ہوا ہے۔ اختر مینگل نے اعتراف کیا کہ عمران خان نے 400 لاپتہ بلوچ افراد بازیاب کروائے۔ گلالئی اسماعیل کے والد کو باہر جانے کے لیے مدد دی گلالئی کا شکریے والا ٹویٹ آج بھی بطور ثبوت موجود ہے۔
ہر جماعت نے عمران خان کے خلاف بار بار لانگ مارچ نکالے، کسی لانگ مارچ پر کریک ڈاون نہیں ہوا کہیں تشدد نہیں ہوا ، کبھی ورکرز کے گھر نہیں توڑے۔ نواز شریف نے بیمار ہونے کی ایکٹنگ کی تو ترس آگیا اور نواز شریف فیصل واڈا کے کتے کے خون کا سیمپل دے کر باہر چلا گیا۔ مطیع اللہ جان کو فوج نے اٹھایا تو فوری بازیاب کروایا۔
غلطیاں کمیاں کمزوریاں کوتاہیاں بھی رہیں لیکن ایسی مثالیں آپ کو پاکستان کی اسی سالہ تاریخ میں کہیں نہیں ملیں گی۔ المیہ یہ رہا کہ شاید ہی ان میں سے کوئی ایسا ہو جس نے بعد میں عمران خان کو ڈسا نہ ہو۔
🇵🇰 Imran Khan’s sons say Pakistan’s government wants their father DEAD... and he fears ending up like Egypt’s Mohamed Morsi
Three years of pressure never broke him into a deal that would end his political career, so the plan now, as Qasim Khan and Sulaiman Khan see it, is to make him vanish from public life, and they haven’t forgotten the bullets fired at him before he was ever jailed:
“It’s very clear they want him dead.”
If Islamabad wants to put those fears to rest, the fastest way is opening that cell to his family and independent doctors.
@Kasim_Khan_1999
🇵🇰 Imran Khan’s sons haven’t spoken to their father in over six months... and now all three of his sisters are behind bars too
It used to be one phone call every three months, and now there’s nothing, with nobody laying eyes on him in two months.
Qasim Khan and Sulaiman Khan say even a Supreme Court order for a private hospital only got him a trip to a government one and straight back to his cell:
“Pakistan are now going against Supreme Court orders to keep him in isolation.”
If a former prime minister’s sisters can land in a cell, nobody in Pakistan is out of reach.
@Kasim_Khan_1999
🇵🇰🇬🇧 Imran Khan’s sons haven’t seen their father in nearly four years, and Pakistan still won’t give them visas
The suggestion from Islamabad was to skip the visa and fly in on Pakistani ID cards, which Qasim Khan and Sulaiman Khan read as a trap to arrest them and squeeze their father, especially after cousins who never touched politics were picked up and had their homes raided:
“So imagine how desperate they would be to get us over there to arrest us on Pakistan identity cards.”
If the case against Imran Khan is that strong, why is his own family being kept away from the door?
@Kasim_Khan_1999
🇵🇰 EXCLUSIVE: IMRAN KHAN'S SONS SAY THE PAKISTANI GOVERNMENT IS TRYING TO KILL THEIR FATHER!
I spoke again with Qasim and Sulaiman Khan, and this conversation was the most heartbreaking.
Not only is their father, the former Prime Minister of Pakistan, still in solitary confinement, but his three courageous sisters, Aleema, Uzma and Noreen, have now also been arrested
And when @PTIofficial supporters hit the streets, many were arrested, beaten, and even killed!
Imran Khan’s sons say they haven't spoken to their father in over 6 months, nobody has seen him for 2 months, and they're increasingly worried about his deteriorating health.
I asked them the hardest question of all: Do they still believe they’ll ever see their father again?
Qasim admitted, he has very little hope, but they will never stop fighting
I told them both I wouldn't give up hope.
And I meant it.
@Kasim_Khan_1999
@SHABAZGIL دونوں خان سے ملنے مہینوں بعد جاتے تھے ۔ دونوں کبھی اپنی پوری کابینہ کو لے کر اڈیالہ نہیں گئے ۔ دونوں کروڑ کمانڈر کو بلانے کی بجائے اسکے پاس جاتے تھے
جہاں ٹکے ٹکے کی نوکریوں اور زمینی خداؤں کی خوشنودی کے لیے ضمیر فروشی ایک عام چلن بن گیا ہے، خیبر پختونخواہ پولیس میں آج بھی ایسے بہادر اور غیرت مند سپوت موجود ہیں جو اپنی حمیت اور روایات کو اپنی زندگی پر مقدم رکھتے ہیں۔ عمران الدین سے نہ کبھی کوئ رابطہ رہا نہ کوئ وابستگی تھی۔ پہلی دفعہ ان کا ذکر سوشل میڈیا پر سُنا جہاں ناصرف انہوں نے میرے گھر کی خواتین کے ساتھ دست درازی سے انکار کیا بلکہ مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں اعتراف کیا کہ میرے رشتہ داروں کے گھر چھاپے کے احکامات آئ ایس آئ کے کرنل کی جانب سے دیے گئے تھے۔ دوسری دفعہ ان کا تذکرہ، دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہونے کی خبر میں پڑھا۔ متعدد بار ٹارگٹ اور ہر دوسرے دہشت گردی کے واقعے میں اس کی موجودگی کی خبر پڑھنے کو ملی تو کسی کو پیغام بھجوایا کہ جب واضح ہوگیا کہ اس فرض شناس افسر کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ اس رات کے سٹینڈ اور پھر روایات کا پاس رکھنے پر ملنے والی عزت و مقبولیت پر باقی افسران کو پیغام دینے اور میری وجہ سے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تو مجھے اس کی بڑی فکر ہے کیونکہ یہ اتفاق تو نہیں ہوسکتا کہ ہر خبر اس پر حملے سے شروع اور جہاں اس کی موجودگی ہو ادھر ہی دہشت گردی کے واقعات اور مقابلہ ہو، چاہے وہ ہنگو ہو کوہاٹ ہو یا کرک۔
جواباً بتایا گیا کہ ڈی ایس پی عمران الدین سے ہم نے بھی کئی مرتبہ بات کی اسے بھی سمجھ ہے لیکن کہتا ہے کہ کرنے دو ان کو جو کرنا ہے۔ میرے لیے کسی سے بات نہیں کرنی میں مقابلہ کروں گا۔ میں نہیں چاہتا کوئی یہ سمجھے میں ان حملوں سے خوف زدہ ہوگیا ہوں۔
آج بالاخر فارم سنتالیس کے کٹھ پتلی وزیر اعظم نے اقبالِ جرم کیا کہ دہشت گردوں کو واپس لانے کی پالیسی غلط تھی لیکن یہ نہیں بتایا کہ عمران خان نے اس پالیسی کو ابسولٹلی ناٹ کہا تھا اور رجیم چینج کے بعد پہلی ہی سیکورٹی کمیٹی کی میٹنگ میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے یہ پالیسی سامنے رکھی تو بغیر بحث کے منظوری کرا لی گئ۔ اگلے ہفتے افغانستان وفد بھیجا گیا، جولائی ۲۰۲۲ کے آخری ہفتے پہلی تشکیل ہوئی، دو دفعہ ہم نے نکالا لیکن ہمارے سروں کی قیمت جاری کر کے جرنیلوں اور ان کی کٹھ پتلیوں نے یہ مقتل گاہ سجا دی۔ دہشت گردی کی آڑ میں جنہوں نے پختونخواہ پر قبضہ کیا وہ میڈ اپ دہشت گردی لانے والے ہیں۔ آج ڈی ایس پی عمران الدین کی شہادت کی خبر سُن کر فخر بھی ہوا اور افسوس بھی۔ عاصم منیر کی اس مسلط کردہ میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن اور کتنے گھرانے، کتنے بہادر سپوت بنیں گے اور کتنے بے گناہ ان کی ہوس کی قیمت چکائیں گے، اللہ بہتر جانتا ہے۔
تحریک انصاف کو اسمبلیاں چھوڑ دینی چاہییں !!
سب سے پہلے تو یہ کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کسی قسم کی قانون سازی نہیں روک سکتی کسی بل کسی ترمیم کو نہیں بلاک کرسکتی۔ پھر دوسری بات یہ کہ جنید اکبر انکشاف کرچکے کہ ان اسمبلیوں میں محسن نقوی ، فارم سینتالیس اور دہشتگردی جیسے مسائل پر بولنے کی اجازت نہیں۔ یعنی یہاں آواز اٹھانا بھی ناممکن ہے۔ پھر یہ نشستیں مولانا نسیم علی شاہ اور جنید اکبر کا اغواء نہیں روک پائیں۔
پھر تحریک انصاف کی ان اسمبلیوں میں موجودگی کی وجہ سے فوج اس جعلی جمہوری سیٹ اپ کو دنیا کے سامنے حقیقی جمہوریت بنا کر پیش کررہی ہے۔پھر عمران خان کئی مرتبہ ماضی میں اسمبلیوں سے استعفے دے چکے قبل از وقت اسمبلیاں تحلیل کرچکے۔ یعنی یہ کوئی نئی روایت بھی نہیں۔ اب بھی جب عمران خان سے ملاقاتیں بحال ہوں گی عمران خان پہلا حکم ان اسمبلیوں سے علیحدگی کا دیں گے یہ بات تحریک انصاف کے ایک ایک رکن اسمبلی کو اچھی طرح معلوم ہے۔
تحریک انصاف اسمبلیاں چھوڑے گی تو یہ پورا نظام ننگا ہوگا اس جعلی جمہوریت کے کپڑے اتر جائیں گے۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی فوج کو مجبوری ختم ہوگی یہ مکمل یئیں یئیں پارٹیاں رہ جائیں گی۔ پھر یہ آئینی ترامیم روکیں یا نہ روکیں ان کا مسئلہ۔ یہ تحریک ایک عوامی تحریک بننے کی راہ پر چل سکے گی۔ ان اسمبلیوں میں موجودگی کے باوجود اگر عمران خان گیارہ ماہ سے قید تنہائی میں ہے تو پھر یہاں بیٹھے رہنا عمران خان سے بھی غداری ہے۔
بجائے اس نظام کو ٹیک دیتے رہنے کی اسکی بیساکھیاں کھینچنی ہیں۔
خان صاحب کی مہینوں سے کوئ خیر خبر نہیں. ان پہ پہلے ہی اتنا تشدد ہو رہا تھا. بشریٰ عمران سے بھی دو مہینوں سے ملاقاتیں بند ہیں. ان کی صحت بھی بہت خراب تھی. اب ان کا بھی کوئی پتہ نہیں.
اور ایسے میں جب کے پارٹی کا فوکس صرف خان صاحب ہونا چاہیئے، ایک بدتمیز عورت کو کرنل انکل نے پھر چابی دے کر لانچ کر دیا کہ چلو اپنا کام کرو، لوگوں کو distract کرو، تمہیں اسی لیے پالا ہوا ہے.
﴿ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ﴾