جب آزادکشمیر کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد الیکشن کا بائیکاٹ کر کے سڑکوں پر ہے،جب ملک کی سب سےبڑی جماعت PTI الیکشن بائیکاٹ کر چکی ہےاور جب حکومتی اتحادی پیپلز پارٹی الیکشن کو دھاندلی زدہ کہہ کر مسترد کر چکی ہےتو پھر ایسا الیکشن کیوں اور کس لئیے،کیا ابھی 8 فروری2024 جیسے من پسند انتخابات سے پیٹ نہیں بھرا،ایسے الیکشن سے کب ملک و قوم کا کوئی بھلا ہوا،کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہےکہ آج وہ عمران خان دور سے بہتر حالات میں رہ رہا ہے،یقین کریں آج کے حالات کو دیکھ کر تو عمران خان کا دور غنیمت لگتا ہے۔۔
ملک اور قوم پر رحم کریں، اقتدار چھوڑ دیں اور دفع ہوجائیں،
محسن نقوی کی تقریر دراصل مکمل ناکامی،ٹوٹل فیلئیر، کا اعتراف ہے۔ یہ سسٹم فیل نہیں ہوا، بلکہ ہارے ہوئے_/ مسترد شدہ نااہل ترین اور کرپٹ حکمران ٹولہ فیل ہوا ہے۔ جب عوام کے مسترد کردہ اور انتخابات میں ہارنے والے لوگوں کو ایوانوں میں بٹھایا جائے گا، اور عوام کی دوتہائی اکثریت کی حمایت رکھنے والے رہنماؤں کو جیلوں میں ڈال دیا جائے گا، تو پھر نظام اسی طرح فیل ہوگا۔ کوئی بھی نظام عوام کے مسترد شدہ اور ہارے ہوئے لوگوں کے ذریعے کامیابی سے نہیں چل سکتا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان کو معاشی، سیاسی، قومی یکجہتی اور امن و امان کے حوالے سے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے۔ آج یہی مسترد شدہ، نااہل اور کرپٹ ٹولہ سسٹم کی ناکامی کا ذکر کر رہا ہے، حالانکہ انہی کی ناقص حکمرانی اور غلط پالیسیوں نے ملک کو اس بحران سے دوچار کیا ہے۔ اپنی تباہ کن ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے اس مسترد شدہ، نااہل اور کرپٹ ٹولے کو نئے انتظامی یونٹس بنانے یا اس قسم کے شوشے چھوڑنے کا کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز حاصل نہیں۔ ملک اور قوم پر رحم کریں، اقتدار چھوڑ دیں، اور اس ملک کو عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کے سپرد کر دیں تاکہ پاکستان کو بحرانوں سے نکال کر ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
بلاول بھٹو ایسی پریس کانفرنسوں کے ذریعے آزاد کشمیر کے عوام کو انتخابی سنڈے کا تیل بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہاں گرنے والی لاشوں پر بات کرتے انکی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔ دانشوارانہ بددیانتی نجانے کس کو کہتے ہیں۔ پڑوس میں لاش پڑی ہو تو الیکشن یا ولیمے کے ڈھول نہیں بجائے جاتے۔
پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان نے پچھلے چوبیس گھنٹوں میں تین پریس کانفرنسز کیں ،
سینیٹر مشتاق صاحب کو کشمیر جانے سے روکا گیا اور گرفتار کیا گیا ،
عام پاکستانیوں اور کشمیریوں کے ویڈیوز پیغامات آرہے ہیں،
بیرون ملک اوورسیز پاکستانی آواز بلند کررہے ہیں،
تین چار انسانی حقوق کی تنظیمات شور مچا رہی ہیں
سٹوڈنٹس نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے اسلام آباد میں پانچ بجے پرامن احتجاج کی کال دے رکھی ہے ،
لیکن ان سب کی میڈیا پر تو ایک لفظ کی کوریج نہیں جبکہ سوشل میڈیا بھی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ڈرامے کو کور کررہا ہے
ایسا الیکشن صرف ہمارا الیکشن کمیشن ہی کروا سکتا ہے کہ جس حلقے میں ووٹ ہی 200 پڑا ہو،
وہاں بظاہر "جتواۓ گئے" امیدوار کے ڈبے سے 12 ہزار ووٹ اور بظاہر "ہرواۓ گئے" امیدوار کے ڈبا سے 7 ہزار ووٹ نکل آئیں۔
پھر روتے ہیں کہ عوام ہماری عزت افزائی کیوں کرتی ہے؟
ہمارے ووٹ بینک پر ڈاکہ ڈالا گیا،یہ لوگ گولیاں چلا کر حکومت چلانا چاہتے ہیں،یہ لوگ ظلم و زیادتی کو جمہوریت اور تباہی کو امن کا نام دیتے ہیں،آنکھیں کھولیں،دیکھیں پاکستان کا کیا حال ہوچکا۔۔بلاول بھٹو
واہ سائیں واہ۔۔PTI کا مینڈیٹ چھین کر،PTI کی مخصوص نشتیں آپس میں بانٹ کر،PTI کو دیوار میں چنوا کر،چھبیسویں،ستائیسویں آئینی ترمیمیں لا کر،نیب،الیکشن ایکٹ،جلسہ جلوس قانون سازیاں اور پیکا ایکٹ جیسے شاہکار لا کر اور مخالفین پر سینکڑوں جھوٹے مقدمے بنوا کر جب بات خود پر آئی تو جمہوریت یاد آگئی اور پاکستان یاد آ گیا۔۔
واہ سائیں واہ۔۔
آزاد کشمیر سے بہت سی پریشان کن خبریں آرہی ہیں، دوسری جانب سیاسی لیڈرشپ کی تمام تر توجہ وہاں اگلی حکومت بنانے پر ہے، ایک دوسرے پر دھاندلی اور دیگر الزامات لگا رہے ہیں، آج آزاد کشمیر میں جو صورتحال ہے اس کی بڑی وجہ یہی اقتدار کی سیاست اور عوام /زمینی حقائق سے مکمل لاتعلقی ہے۔