Top Tweets for #kuts
Close coordination among stakeholders is crucial to ensure the timely completion of the KUTS Rembus Depot, said State Transport Minister Dato Sri Lee Kim Shin during a site visit in Kota Samarahan.
https://t.co/bbJ0KrIv8F
#Sarawak #KUTS #Transport
🚍 Sarawak's Transport Minister inspects KUTS project progress. Contractors are on track for the 2025 Autonomous Rapid Transit launch.
https://t.co/HG0na9qani
#KUTS #Infrastructure #Transport #Sarawak #SarawakDaily #KuchingKing

@seenloner ایسے واقعات روز کا معمول ہیں کراچی شہر میں
وردی کی طاقت کا نشہ کچھ دن پہلے پولیس سے جھگڑا ہوا لین دین کا تنازعہ فاٸرنگ سے پولیس ایلکار زخمی کوٸ پوچھنے والا نہیں نا کسی کی روکنے کی ہمت یہ ملک یرغمال ہے
#KU #KUTS #Rangers
بکریوں کے لیے کچرا جلانے سے منع کیوں کیا ؟
جامعہ کراچی کے سینئر پروفیسر کو ونگ کمانڈر جامعہ کراچی کے گارڈ نے تشدد کرکے زخمی کردیا
#KU #KUTS #Rangers #Campus #ISI
#DGRangers
آج 15 جولائی 2025 جامعہ کراچی کیمپس اسٹاف ٹاؤن میں مقیم جامعہ کراچی کے سینیئر پروفیسر، پروفیسر ڈاکٹر آفاق احمد صدیقی جوکہ اسٹاف ٹاؤن کے مکان C89 میں مقیم ہیں ان کے سامنے والے مکان میں ناجائز طور پر رینجرز نے قبضہ کیا ہوا ہے مکان نمبر C81 میں آج کل جامعہ کراچی میں تعینات ونگ کے ونگ کمانڈر مقیم ہیں انہوں نے اپنے عملے کو ہدایت کی ہے کہ کیونکہ ان کی بکریوں کو مچھر کاٹتے ہیں لہذا اس سے بچاؤ کے لیے روانہ کچرا جلایا جائے تاکہ دھویں سے مچھر بھاگ جائیں۔
سامنے مکان میں مقیم پروفیسر ڈاکٹر آفاق احمد صدیقی نماز مغرب کے بعد گھر آئے تو دیکھا کہ آج پھر کچرا جلایا جارہا ہے انہوں نے وہاں موجود گارڈ کو کہا کہ بھائی اس کو نہ جلاؤ میں کل بھی اس دھویں کی وجہ سے نہیں سو سکا کیونکہ دھواں کمرے میں بھر جاتا ہے اور سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے۔ گارڈ جوکہ رینجرز اہلکار ہے اس نے کہا کہ تم کون ہوتے ہو ان سے بد تمیزی کی اور منہ پر زور دار ��ھپڑ رسید کردیا جس سے پروفیسر آفاق صدیقی کا چشمہ ٹوٹ گیا ان کی آنکھ میں خون بھی جم گیا ان کو دیکھ کر اہل محلہ جمع ہوئے بات یونیورسٹی انتظامیہ تک گئی ونگ کمانڈر آئے اور انہوں نے پروفیسر آفاق پر رینجرز اہلکار کے گریبان پر ھاتھ ڈالنے کا الزام عائد کردیا۔
جامعہ کراچی میں موجود ہر فرد یہ گواہی دے گا کہ پروفیسر آفاق صدیقی تو کبھی کسی سے اونچی آواز میں بھی بات نہیں کرتے کجا کہ کسی کے اور وہ بھی کسی مسلح اہلکار کے گریبان پر ھاتھ ڈالیں۔
مجھے افسوس ہے کہ اس جامعہ کراچی میں جس میں ایک پروفیسر اپنی پوری زندگی دیتا وہاں ایک عام مسلح اہلکار اس کو بے عزت کردے یہ دن یقیناً ایک پروفیسر کے لیے کرب ناک ہے ان کی روح پر جو زخم لگا ہے وہ شاید مندمل نہ ہوسکے۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ یہ تھپڑ صرف ایک پروفیسر کو نہیں بلکہ مجھ سمیت تمام اساتذہ کو مارا گیا ہے۔
اس وقت یہ صورت حال ملک کی سب سے بڑی جامعہ کے سب سے بڑے عہدے پروفیسر کی ہے جوکہ ایک مسلح اہلکار کے ہاتھوں ذلیل ہورہا اور اس کے پیچھے ونگ کمانڈر سمیت پورا ادارہ قوم کے مفاد میں کھڑا ہے۔
یاد رکھیں کہ جن معاشروں میں استاد کی عزت نہ ہو وہ معاشرے تباہی سے نہیں بچ سکتے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ استاد کو بے توقیر کرنے والے ادارے بھی تاریخ میں کبھی نہ بچ پائے ہیں۔ آج پورے ملک میں جہاں کہیں بھی افواج پر حملے ہوتے ہیں ہم کی مذمت تو کرتے ہیں لیکن وجوہات تلاش نہیں کرتے، عام آدمی کو تو چھوڑیں، جب استادوں اور پروفیسر تک کو بے توقیر کیا جائے تو پھر کیا ہوتا ہے تاریخ کا مطالعہ کرلیں!!!
میں ڈی جی رینجرز سندھ، کور کمانڈر کراچی، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر س�� گذارش کرتی ہوں کہ اس واقعے کا نوٹس لیں ونگ کمانڈر کو اس گارڈ سمیت برطرف کریں، استاد کو عزت دیں ان کے پاس جاکر ادارے کی جانب سے معزرت کریں۔ اگر آپ یہ نہیں کرتے تو پھر یہ آگ جو ملک کے طول وعرض میں لگی ہے اس کی وجوہات بھی ختم نہیں ہونگی۔
میرے پاس ہتھیار نہیں لیکن قلم ہے اور یہ بات ہر طاقت ور کو معلوم ہونی چاھئے کہ قلم کا مقابلہ کوئی نہ کرسکا ہے اور نہ کرسکے گا۔
کوشش کریں کہ اہل علم و اہل قلم آپ کے خلاف قلم نہ اٹھائیں ورنہ آپ کی طاقت کا سورج بہت جلد غروب ہو جائے گا۔
بکریوں کے لیے کچرا جلانے سے منع کیوں کیا ؟
جامعہ کراچی کے سینئر پروفیسر کو ونگ کمانڈر جامعہ کراچی کے گارڈ نے تشدد کرکے زخمی کردیا
#KU #KUTS #Rangers #Campus #ISI
#DGRangers
آج 15 جولائی 2025 جامعہ کراچی کیمپس اسٹاف ٹاؤن میں مقیم ��امعہ کراچی کے سینیئر پروفیسر، پروفیسر ڈاکٹر آفاق احمد صدیقی جوکہ اسٹاف ٹاؤن کے مکان C89 میں مقیم ہیں ان کے سامنے والے مکان میں ناجائز طور پر رینجرز نے قبضہ کیا ہوا ہے مکان نمبر C81 میں آج کل جامعہ کراچی میں تعینات ونگ کے ونگ کمانڈر مقیم ہیں انہوں نے اپنے عملے کو ہدایت کی ہے کہ کیونکہ ان کی بکریوں کو مچھر کاٹتے ہیں لہذا اس سے بچاؤ کے لیے روانہ کچرا جلایا جائے تاکہ دھویں سے مچھر بھاگ جائیں۔
سامنے مکان میں مقیم پروفیسر ڈاکٹر آفاق احمد صدیقی نماز مغرب کے بعد گھر آئے تو دیکھا کہ آج پھر کچرا جلایا جارہا ہے انہوں نے وہاں موجود گارڈ کو کہا کہ بھائی اس کو نہ جلاؤ میں کل بھی اس ��ھویں کی وجہ سے نہیں سو سکا کیونکہ دھواں کمرے میں بھر جاتا ہے اور سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے۔ گارڈ جوکہ رینجرز اہلکار ہے اس نے کہا کہ تم کون ہوتے ہو ان سے بد تمیزی کی اور منہ پر زور دار تھپڑ رسید کردیا جس سے پروفیسر آفاق صدیقی کا چشمہ ٹوٹ گیا ان کی آنکھ میں خون بھی جم گیا ان کو دیکھ کر اہل محلہ جمع ہوئے بات یونیورسٹی انتظامیہ تک گئی ونگ کمانڈر آئے اور انہوں نے پروفیسر آفاق پر رینجرز اہلکار کے گریبان پر ھاتھ ڈالنے کا الزام عائد کردیا۔
جامعہ کراچی میں موجود ہر فرد یہ گواہی دے گا کہ پروفیسر آفاق صدیقی تو کبھی کسی سے اونچی آواز میں بھی بات نہیں کرتے کجا کہ کسی کے اور وہ ب��ی کسی مسلح اہلکار کے گریبان پر ھاتھ ڈالیں۔
مجھے افسوس ہے کہ اس جامعہ کراچی میں جس میں ایک پروفیسر اپنی پوری زندگی دیتا وہاں ایک عام مسلح اہلکار اس کو بے عزت کردے یہ دن یقیناً ایک پروفیسر کے لیے کرب ناک ہے ان کی روح پر جو زخم لگا ہے وہ شاید مندمل نہ ہوسکے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ تھپڑ صرف ایک پروفیسر کو نہیں بلکہ مجھ سمیت تمام اساتذہ کو مارا گیا ہے۔
اس وقت یہ صورت حال ملک کی سب سے بڑی جامعہ کے سب سے بڑے عہدے پروفیسر کی ہے جوکہ ایک مسلح اہلکار کے ہاتھوں ذلیل ہورہا اور اس کے پیچھے ونگ کمانڈر سمیت پورا ادارہ قوم کے مفاد میں کھڑا ہے۔
یاد رکھیں کہ جن معاشروں میں استاد کی ��زت نہ ہو وہ معاشرے تباہی سے نہیں بچ سکتے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ استاد کو بے توقیر کرنے والے ادارے بھی تاریخ میں کبھی نہ بچ پائے ہیں۔ آج پورے ملک میں جہاں کہیں بھی افواج پر حملے ہوتے ہیں ہم کی مذمت تو کرتے ہیں لیکن وجوہات تلاش نہیں کرتے، عام آدمی کو تو چھوڑیں، جب استادوں اور پروفیسر تک کو بے توقیر کیا جائے تو پھر کیا ہوتا ہے تاریخ کا مطالعہ کرلیں!!!
میں ڈی جی رینجرز سندھ، کور کمانڈر کراچی، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے گذارش کرتا ہوں کہ اس واقعے کا نوٹس لیں ونگ کمانڈر کو اس گارڈ سمیت برطرف کریں، استاد کو عزت دیں ان کے پاس جاکر ادارے کی جانب سے معزرت کریں۔ اگر آپ یہ نہیں کرتے تو پھر یہ آگ جو ملک کے طول وعرض میں لگی ہے اس کی وجوہات بھی ختم نہیں ہونگی۔
میرے پاس ہتھیار نہیں لیکن قلم ہے اور یہ بات ہر طاقت ور کو معلوم ہونی چاھئے کہ قلم کا مقابلہ کوئی نہ کرسکا ہے اور نہ کرسکے گا۔
کوشش کریں کہ اہل علم و اہل قلم آپ کے خلاف قلم نہ اٹھائیں ورنہ آپ کی طاقت کا سورج بہت جلد غروب ہو جائے گا۔
اسے ہے سطوتِ شمشیر پہ گھمنڈ بہت
اسے شکوہِ قلم کا نہیں ہے اندازہ
مِرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا
جو اپنے شہر کو محصور کر کے ناز کرے
مِرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا
جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے
مِرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا
جو اپنے گھر کی ہی چھت میں ش��اف ڈالتا ہے
مِرا قلم نہیں اس دزدِنیم شب کا رفیق
جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھ��لتا ہے
مِرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی
جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے
مِرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی
جو اپنے چہرے پہ دوہرا نقاب رکھتا ہے
مِرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
مِرا قلم تو عدالت مِرے ضمیر کی ہے
اسی لیے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کا، زبان تیر کی ہے
میں کٹ گروں یا سلامت رہوں، یقیں ہے مجھے
کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
مِرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا
ڈاکٹر اسامہ شفیق
مانچسٹر، برطانیہ
15 جولائی 2025
#KarachiUniversty

*بکریوں کے لیے کچرا جلانے سے منع کیوں کیا ؟*
*جامعہ کراچی کے سینئر پروفیسر کو ونگ کمانڈر جامعہ کراچی کے گارڈ نے تشدد کرکے زخمی کردیا*
#KU #KUTS #Rangers #Campus #ISI
#DGRangers
آج 15 جولائی 2025 جامعہ کراچی کیمپس اسٹاف ٹاؤن میں مقیم جامعہ کراچی کے سینیئر پروفیسر، پروفیسر ڈاکٹر آفاق احمد صدیقی جوکہ اسٹاف ٹاؤن کے مکان C89 میں مقیم ہیں ان کے سامنے والے مکان میں ناجائز طور پر رینجرز نے قبضہ کیا ہوا ہے مکان نمبر C81 میں آج کل جامعہ کراچی میں تعینات ونگ کے ونگ کمانڈر مقیم ہیں انہوں نے اپنے عملے کو ہدایت کی ہے کہ کیونکہ ان کی بکریوں کو مچھر کاٹتے ہیں لہذا اس سے بچاؤ کے لیے روانہ کچرا جلایا جائے تاکہ دھویں سے مچھر بھاگ جائیں۔
سامنے مکان میں مقیم پروفیسر ڈاکٹر آفاق احمد صدیقی نماز مغرب کے بعد گھر آئے تو دیکھا کہ آج پھر کچرا جلایا جارہا ہے انہوں نے وہاں موجود گارڈ کو کہا کہ بھائی اس کو نہ جلاؤ میں کل بھی اس دھویں کی وجہ سے نہیں سو سکا کیونکہ دھواں کمرے میں بھر جاتا ہے اور سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے۔ گارڈ جوکہ رینجرز اہلکار ہے اس نے کہا کہ تم کون ہوتے ہو ان سے بد تمیزی کی اور منہ پر زور دار تھپڑ رسید کردیا جس سے پروفیسر آفاق صدیقی کا چشمہ ٹوٹ گیا ان کی آنکھ میں خون بھی جم گیا ان کو دیکھ کر اہل محلہ جمع ہوئے بات یونیورسٹی انتظامیہ تک گئی ونگ کمانڈر آئے اور انہوں نے پروفیسر آفاق پر رینجرز اہلکار کے گریبان پر ھ��تھ ڈالنے کا الزام عائد کردیا۔
جامعہ کراچی میں موجود ہر فرد یہ گواہی دے گا کہ پروفیسر آفاق صدیقی تو کبھی کسی سے اونچی آواز میں بھی بات نہیں کرتے کجا کہ کسی کے اور وہ بھی کسی مسلح اہلکار کے گریبان پر ھاتھ ڈالیں۔
مجھے افسوس ہے کہ اس جامعہ کراچی میں جس میں ایک پروفیسر اپنی پوری زندگی دیتا وہاں ایک عام مسلح اہلکار اس کو بے عزت کردے یہ دن یقیناً ایک پروفیسر کے لیے کرب ناک ہے ان کی روح پر جو زخم لگا ہے وہ شاید مندمل نہ ہوسکے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ تھپڑ صرف ایک پروفیسر کو نہیں بلکہ مجھ سمیت تمام اساتذہ کو مارا گیا ہے۔
اس وقت یہ صورت حال ملک کی سب سے بڑی جامعہ کے سب سے بڑے عہدے پروفیسر کی ہے جوکہ ایک مسلح اہلکار کے ہاتھوں ذلیل ہورہا اور اس کے پیچھے ونگ کمانڈر سمیت پورا ادارہ قوم کے مفاد میں کھڑا ہے۔
یاد رکھیں کہ جن معاشروں میں استاد کی عزت نہ ہو وہ معاشرے تباہی سے نہیں بچ سکتے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ استاد کو بے توقیر کرنے والے ادارے بھی تاریخ میں کبھی نہ بچ پائے ہیں۔ آج پورے ملک میں جہاں کہیں بھی افواج پر حملے ہوتے ہیں ہم کی مذمت تو کرتے ہیں لیکن وجوہات تلاش نہیں کرتے، عام آدمی کو تو چھوڑیں، جب استادوں اور پروفیسر تک کو بے توقیر کیا جائے تو پھر کیا ہوتا ہے تاریخ کا مطالعہ کرلیں!!!
میں ڈی جی رینجرز سندھ، کور کمانڈر کراچی، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے گذارش کرتا ہوں کہ اس واقعے کا نوٹس لیں ونگ کمانڈر کو اس گارڈ سمیت برطرف کریں، استاد کو عزت دیں ان کے پاس جاکر ادارے کی جانب سے معزرت کریں۔ اگر آپ یہ نہیں کرتے تو پھر یہ آگ جو ملک کے طول وعرض میں لگی ہے اس کی وجوہات بھی ختم نہیں ہونگی۔
میرے پاس ہتھیار نہیں لیکن قلم ہے اور یہ بات ہر طاقت ور کو معلوم ہونی چاھئے کہ قلم کا مقابلہ کوئی نہ کرسکا ہے اور نہ کرسکے گا۔
کوشش کریں کہ اہل علم و اہل قلم آپ کے خلاف قلم نہ اٹھائیں ورنہ آپ کی طاقت کا سورج بہت جلد غروب ہو جائے گا۔
اسے ہے سطوتِ شمشیر پہ گھمنڈ بہت
اسے شکوہِ قلم کا نہیں ہے اندازہ
مِرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا
جو اپنے شہر کو محصور کر کے ناز کرے
مِرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا
جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے
مِرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا
جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے
مِرا قلم نہیں اس دزدِنیم شب کا رفیق
جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے
مِرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی
جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے
مِرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی
جو اپنے چہرے پہ دوہرا نقاب رکھتا ہے
مِرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
مِرا قلم تو عدالت مِرے ضمیر کی ہے
اسی لیے تو جو لکھا تپاکِ جاں سے لکھا
جبھی تو لوچ کماں کا، زبان تیر کی ہے
میں کٹ گروں یا سلامت رہوں، یقیں ہے مجھے
��ہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا
تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم
مِرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا
ڈاکٹر اسامہ شفیق
مانچسٹر، برطانیہ
15 جولائی 2025
#NSTnation The plant, and its accompanying refuelling stations, will support the operations of KUTS's three main Automated Rapid Transit (ART) lines - Kuching, Samarahan and Santubong.
#Sarawak #HydrogenEnergy #RembusHydrogenHub #GreenTransport #SustainableEnergy #KUTS #PublicTransport #Decarbonisation #CleanEnergy #ART #Kuching #Samarahan #Santubong #RenewableEnergy #HydrogenFuel
https://t.co/VYvuHIdd4y
Moving farther out in the Solar System, our big telescope gets a good view of Uranus and its moons! #KUTS


We recently received a boost in our commitment towards service and management excellence, when we were honoured with the Penarafan Audit Terbaik SEDC 2022 award, at the SEDC Integrity Day 2023.
#ARTSarawak #KUTS #HydrogenMobility #ZeroEmission

Recently, Sarawak Metro had the pleasure of meeting our counterparts in Hong Kong together with senior officers from Sarawakian ministries and agencies.
We would like to thank MTR for the opportunity to connect and learn during this visit.
#TransitOrientedDevelopment #KUTS

TAHUKAH ANDA: ART tok kelak akan bergerak di laluan nya dirik pun, atas laluan “at-grade” (atas jeraya) atau pun “elevated” (laluan bertingkat).
Ada laluan khas = stress pun kurang sebab ART akan bergerak ngekot jadual!
#ARTSarawak #KUTS #HydrogenMobility
Although our Engineering Run will take place next month, the prototype ART will make a public appearance from time to time.
This was the case yesterday as it calibrated its Virtual Guidance System (VGS) to prepare for the Engineering Run.
#KUTS #HydrogenMobility #ZeroEmission

交通通告
为了进行智轨列车(ART)样车的工程测试,位于古晋奕斯默斯(Kuching Isthmus)区内数道路将在8月23日至10月31日期间暂时关闭与改道。测试期间,请小心行驶,并遵守所有交通管理指示,以确保安全。
#智轨列车样车工程测试 #KUTS

The prototype Autonomous Rapid Transit (ART) Hydrogen Vehicle (H2V) is fully assembled and about ready for its Engineering Run.
Earlier today, the Honourable Dato Sri Lee Kim Shin, Minister for Transport Sarawak, was on hand to inspect the ART at Senari Port.
#ARTSarawak #KUTS

#NSTnation The prototype Autonomous Rapid Transit (#ART) vehicle for the #Kuching Urban Transportation System (#KUTS) project is expected to arrive here next month, said Sarawak Transport Minister Datuk Seri Lee Kim Shin
https://t.co/7ecYhREn6x
Most Popular Users

Elon Musk 
@elonmusk
240.9M followers

Barack Obama 
@barackobama
119.2M followers

Donald J. Trump 
@realdonaldtrump
111.8M followers

Cristiano Ronaldo 
@cristiano
111.4M followers

Narendra Modi 
@narendramodi
107M followers

Rihanna 
@rihanna
97.9M followers

NASA 
@nasa
92.2M followers

Justin Bieber 
@justinbieber
91.1M followers

KATY PERRY 
@katyperry
88.1M followers

Taylor Swift 
@taylorswift13
82M followers

Lady Gaga 
@ladygaga
73.5M followers

Virat Kohli 
@imvkohli
70.6M followers

Kim Kardashian 
@kimkardashian
70M followers

YouTube 
@youtube
68.7M followers

Bill Gates 
@billgates
64.1M followers

Neymar Jr 
@neymarjr
63.4M followers

The Ellen Show
@theellenshow
62.4M followers

CNN 
@cnn
61.9M followers

Selena Gomez 
@selenagomez
61.2M followers

X 
@x
60.8M followers

















