کرنل اسفند یار کو میری ایک سابقہ کلاسفیلو ذاتی طور پر جانتی ہے۔ یے اسنے مجھے بھیجا میں اسی کے الفاظ لکھ رہاہوں
“جب میں خالد ایئر بیس پر بطور Flight Surgeon کام کر رہی تھی، وہ میرے کولیگ تھے اور FC کے ساتھ خدمات انجام دے رہے تھے۔ اُس وقت سے میں انہیں جانتی ہوں۔ بعد میں ان کے خاندان سے بھی ہمارے خاندانی تعلقات قائم ہوئے، اس لیے میں صرف کرنل اسفند یار ہی نہیں بلکہ ان کی پوری فیملی کو بھی اچھی طرح جانتی ہوں۔اور میں پورے یقین سے یہ کہہ سکتی ہوں کہ وہ ایک شریف النفس، انتہائی سادہ، مخلص اور down-to-earth انسان ہیں۔اسی لیے حالیہ واقعے پر خاموش رہنا میرے لیے ممکن نہیں۔میرا سوال اُن تمام لوگوں سے ہے جو سوشل میڈیا پر بغیر مکمل حقیقت جانے کسی کو مجرم قرار دے رہے ہیں:کیا طلبہ کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ کسی خاتون کو گھیر لیں، اُس پر استعفے کے لیے دباؤ ڈالیں، اُس کے راستے بند کریں اور اسے اپنے ہی ادارے میں محصور کر دیں؟ احتجاج آپ کا حق ہے۔ اختلاف آپ کا حق ہے۔ اپنی آواز بلند کرنا آپ کا حق ہے۔لیکن کسی انسان کو ہجوم کے ذریعے دباؤ میں لانا، راستے روکنا اور استعفے پر مجبور کرنا حق نہیں ہے۔یہ تعلیمی ادارہ ہے، عدالت نہیں۔طلبہ جج نہیں ہیں۔اور ہجوم کا فیصلہ انصاف نہیں ہوتا۔اگر ایک خاتون کو تحفظ درکار تھا اور پولیس اسے تحفظ فراہم نہیں کر رہی تھی، یونیورسٹی انتظامیہ صورتحال کو قابو نہیں کر پا رہی تھی، اور ریاستی ادارے مؤثر طور پر مداخلت نہیں کر رہے تھے، تو پھر اُس کے شوہر کا اپنی بیوی کے تحفظ کے لیے کھڑا ہونا اتنا بڑا جرم کیسے بن گیا؟کیا ایک شوہر اپنی بیوی کو بے یار و مددگار چھوڑ دے صرف اس خوف سے کہ بعد میں لوگ اسے قصوروار قرار دے دیں گے؟مجھے سب سے زیادہ افسوس اُس رویے پر ہے جس میں لوگوں نے تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی ایک شخص کو مجرم اور دوسرے فریق کو معصوم قرار دے دیا۔کیوں؟کیا ہم نے تمام شواہد دیکھ لیے؟کیا دونوں فریقوں کو برابر سنا گیا؟کیا غیر جانب دارانہ تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں؟اگر نہیں، تو پھر یہ فیصلہ کس بنیاد پر؟اور اگر واقعی طلبہ کو کسی خاص شخص نے مشتعل کیا، ان کے ذہنوں کو ایک مخصوص بیانیے کے ذریعے متاثر کیا اور انہیں ایک خاتون کے خلاف کھڑا کیا، تو اس پہلو کی تحقیقات بھی اتنی ہی ضروری ہیں جتنی کسی دوسرے الزام کی۔ایک طرفہ انصاف، انصاف نہیں ہوتا۔میں کسی غلط کام کا دفاع نہیں کر رہی۔ میں صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ فیصلہ شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے، ہجوم کے شور پر نہیں۔آج آپ بغیر تحقیق کسی ایک شخص کو مجرم بنا رہے ہیں۔ کل یہی ہجوم کسی اور کے خلاف کھڑا ہو سکتا ہے۔اگر ہم نے اداروں میں قانون، تحقیق اور due process کی جگہ ہجوم کا دباؤ قبول کر لیا، تو پھر ہمیں عدالتوں اور قانون کی ضرورت ہی کیا رہ جائے گی؟اختلاف کریں، سوال کریں، احتجاج کریں لیکن کسی انسان کی تذلیل، محاصرے اور دباؤ کو انصاف کا نام نہ دیں۔میں کرنل اسفند یار اور ان کی پوری فیملی کے ساتھ دلی ہمدردی رکھتی ہوں، اور جس انسان کو میں ذاتی طور پر جانتی ہوں اُس کے بارے میں بغیر مکمل حقائق سامنے آئے فیصلہ صادر ہوتے دیکھنا میرے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔سچ سامنے آنا چاہیے مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ہر فریق کو سنا جانا چاہیے۔ اور فیصلہ صرف شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔کیونکہ انصاف وہ نہیں جو سب سے بلند آواز والا ہجوم مانگے۔انصاف وہ ہے جو حقائق ثابت کریں۔”
یے ایک غیر سیاسی ڈاکٹر کے الفاظ ہیں جو ایک کامنر ہے لیکن یے سوال تو پہلے دن سے اٹھائے جانے چاہیے جدون خان افگانڈوستانی خنزیر اور اسکا طلبہ کا بدمعاش گروپ تو پکا یوتھڑ ہے لیکن سب سے بڑا سوال وہ کنجر پولیس والے کیوں نہیں کچھ کر سکے وہ کیوں وہاں ان بدمعاش کنجروں کو سپورٹ کر رہے تھے اس واقعے کا سب فورینزک ہونا چاہیے اور اسکے پیچھے کنجر پی ٹی آئی ہی نکلے گی اسی لیے کہتا ہوں پی ٹی آئی اور یوتھیے اس ملک کے لیے کینسر بن چکے ہیں
پروفیسر اقبال عظیم کی لکھی ہوئی نعتِ رسولِ مقبول ﷺ ❤️
مدینے کا سفر ہے اور میں نمدیدہ نمدیدہ
جبیں افسردہ افسردہ، قدم لغزیدہ لغزیدہ
چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانبِ طیبہ
نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ
کسی کے ہاتھ نے مجھ کو سہارا دے دیا ورنہ
کہاں میں اور کہاں یہ راستے پیچیدہ پیچیدہ
غلامانِ محمّدﷺ دُور سے پہچانے جاتے ہیں
دلِ گرویدہ گرویدہ، سرِ شوریدہ شوریدہ
کہاں میں اور کہاں اُس روضۂِ اقدس کا نظارہ
نظر اُس سمت اٹھتی ہے مگر دُزدیدہ دُزدیدہ
بصارت کھو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے
مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ
وہی اقبال جس کو ناز تھا کل خوش مزاجی پر
فراقِ طیبہ میں رہتا ہے اب رنجیدہ رنجیدہ
پروفیسر سید اقبال عظیم
جدون نامی جس بےغیرت نے یہ سارا فساد کیا اسکا تعلق بنوں سے ہے۔ اسکا سوشل میڈیا اکاؤنٹ دیکھا گیا تو پاکستان سے نفرت اور افغانیت کی پرچار سے بھرا ہوا ہے یعنی یہ اپنے آپ میں پورا منظور پشتن ہے۔ آپ اندازہ کریں کہ یہ خنزیر طلباء کو کیا پڑھاتا ہوگا؟
لیکن سب سے بڑھ کر اس نے طلباء کا ایک گروپ بنا رکھا تھا جن کو یہ تیار پرچے دے کر یا یوں سمجھیں کہ بغیر امتحان کے پاس کرتا تھا اور ان میں چند لڑکیاں خاص طور پر شامل تھیں جن کے بارے میں دیگر طلباء کہہ رہے ہیں ان کے ساتھ جدون کے ناجائز تعلقات ہیں۔ اس گینگ کا لیڈر اس نے وزیرستان کے اس واسکٹ والے لڑکے کو بنا رکھا ہے جو کرنل اسفند یار پر حملے میں پیش پیش تھا۔
یونیورسٹی اس افغانی کی حرکتوں سے تنگ آگئی تو اسکی جگہ ڈاکٹر آئینہ کو لے آئی۔ اس نے چیزیں ٹھیک کرنی شروع کیں تو جدون نے اس کے دفتر جاکر اس کو دھمکایا اور یہ بھی کہا کہ میں تمہیں تھپڑ مار دونگا۔ جس پر اس نے 15 کو کال کی۔ پولیس آئی تو اس نے باقاعدہ معافی مانگی اور اس واقعے کی رپورٹ 21 اگست کو درج ہوئی جو سوشل میڈیا پر سرکولیٹ ہورہی ہے۔ یونیورسٹی نے جدون کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا تو اس نے اپنے گینگ کو تیار کیا جس کی وٹس ایپ چیٹ لیک ہوچکی ہے۔ اگلی صبح جدون کے ساتھ وہ گینگ خاص کر وہ بدمعاش لڑکیاں ڈاکٹر آئینہ کا راستہ روک کر کھڑی ہوگئیں۔ اسکی بھی ویڈیو آچکی ہے۔ پھر بھی وہ کسی طرح اندر چلی گئیں تو اس گینگ نے گیٹ بند کر دیا اور اس سے بدتمیزی شروع کر دی۔ جس کے بعد گینگ لیڈر وزیرستانی لڑکے نے ڈاکٹر آئینہ کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیا۔ وہ چیخنے لگی اور اس نے پہلی بار اپنے شوہر کو فون کیا جو فون سن کر اسی طرح بھاگ کر آگیا۔
آتے ہی اس نے اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑا اور ان بدمعاش طلباء کے نرغے سے نکالنے لگا جس کی ویڈیو وائرل ہے۔ انہوں نے اسکو گھیر لیا۔ پولیس کھڑی تماشا دیکھ رہی تھی۔ اس نے انکو دھکے دے کر راستہ بنانے کی کوشش کی تو اس وزیرستانی غنڈے نے کہا کہ "ہم نے جیسے تم لوگوں کی وزیرستان میں ۔۔ ماری ہے یہاں بھی مارینگے۔" جس پر کرنل اسفند یار نے اسکو چھڑی ماری۔ اس کے بعد سب نے ملکر اس فوجی افسر پر اکھٹا دھاوا بولا۔ پولیس والے انکو روکنے کے بجائے کرنل اسفند کو ہی پکڑنے لگے۔ ڈاکٹر آئینہ کو ان لڑکوں نے زمین پر گرا دیا۔ جس پر کرنل اسفندیار نے پستول نکال کر سیدھا کیا تاکہ وہ لڑکے ڈر کر پیچھے ہٹیں۔ جب وہ پیچھے ہوئے تو ہوائی فائر کر کے ڈاکٹر آئینہ کا ہاتھ پکڑ کر ان کے نرغے سے نکال کر لے گیا۔
یہ ہے سارا واقعہ اور اسکی تصدیق میں یونیورسٹی طلباء کے بیانات، ویڈیوز اور چیٹس بھی آچکی ہیں۔ اس کے بعد بھی اس افغانی جدون کو نشان عبرت نہیں بنایا گیا یا کرنل اسفند کو سزا دی گئی تو ریاست اور قومی سلامتی کا ضامن سب سے بڑا ادارہ مذاق بن کر رہ جائیگا۔ 9 مئی کرنے والوں کو سزائیں نہ دینے کے خوفناک نتائج آرہے ہیں۔ سزا ہی معاشروں کی اصلاح کرتی ہے۔ جو کچھ جدون اور اس کے گینگ نے کیا یہ اگر ایران میں ہوا ہوتا تو اب تک انکی لاشیں کرینوں سے لٹک رہی ہوتیں۔ کاش ہم اس معاملے میں ایران سبق سیکھیں۔
ہم عام پاکستانی کرنل اسفند یار خان صاحب کے ساتھ شانہ بشانہ ڈٹ کر کھڑے ہیں
شاباش شاباش کرنل اسفند یار خان صاحب شاباش
آپ کے اس عمل سے عام پاکستانیوں کا دل خوش ہو گیا
شاباش شاباش
نعت رسولِ مقبول ﷺ از مولانا جامیؒ
گل از رخت آموختہ نازک بدنی را
بلبل زتو آموختہ شیریں سخنی را
ہر کس کہ لبِ لعل ترا دیدہ بہ دل گفت
حقا کہ چہ خوش کندہ عقیقِ یمنی را
خیاطِ ازل دوختہ بر قامتِ زیبا
در قد توایں جامۂ سروِ چمنی را
در عشقِ تو دندان شکست است بہ الفت
تو جامہ رسانید اویسِ قرنی را
ازجامیِ بے چارا رسانید سلامے
بر درگہِ دربارِ رسولِ مدنی را
کرنل اسفندیار ولی صاحب کی جانب سے مشتعل ہجوم سے اپنی اہلیہ کو بچانے کے لیے بروقت تیز ترین اور غیرت مندانہ اقدام کو پوری قوم سراہ رہی ہے ،،
کرنل صاحب آپ قوم کا فخر ہیں 🫡🇵🇰
🚨 ہم فوج کی اعلیٰ قیادت سے اپیل کرتے ہیں۔۔
کہ لیفٹیننٹ کرنل صاحب کے ساتھ کسی بھی کارروائی کرنے سے پہلے سوچا جائے، کہ جب ایئرفورس کا ایک افسر اپنے قوم کی ماں بیٹی کی عزت محفوظ رکھنے کیلئے اپنی جان قربان کر سکتا ہے۔۔
ایک افسر صاف نیت کیساتھ اگر وردی میں اپنی ڈیوٹی سے یا ڈیوٹی پر جاتے ہوئے یونیورسٹی پہنچ کر اوباش یوتھئیے سٹوڈنٹس سے اپنی آبرو کو بچانا چاہتا تھا۔۔
تو اسفند صاحب کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے ان انتشاریوں یوتھیوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی ہونی چاہئے۔۔
جو ملک میں جگہ جگہ فساد و انتشار پیدا کرنے میں مصروف عمل ہیں۔۔
کسی بھی طرح کی کاروائی کرنے سے پہلے اس بات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ اس کے نتیجے میں انتشاریوں کو شہہ ملے گی۔۔
اور انکے حوصلے اور زیادہ بلند ہوجائیں گے۔۔
اگر کرنل صاحب کی نیت میں کھوٹ ہوتا تو وہ فوجی دستہ ساتھ لیکر جاتے اور اس کے نتیجے میں اگر کچھ ہوجاتا تو پھر کیا ہوتا۔۔
اس وقت پوری محب وطن قوم کرنل صاحب کے اس جراتمندانہ عمل پر خوش ہے اور انکے ساتھ ہے۔۔
اپنی افواجِ کی عزت و ناموس کی خاطر،
کارروائی ہونی چاہئے لیکن انتشاریوں اور وہاں کی حکومت اور انتظامیہ کے خلاف۔۔۔؟
اگر کرنل کی جگہ میاں شہباز شریف سہیل آفریدی مراد علی شاہ یا پنجاب کا کوئی وزیر ہوتا تو کیا تب بھی طلبا کے خلاف کاروائی کرنے میں اتنا وقت لگتا؟؟
کیوں ریاست خود ریاستی محافظوں کی دشمن بن چکی ہے کیوں ریاستی اہلکاروں کو تحفظ نہیں دے رہی کیوں؟
ایک فوجی افسر اپنی اہلیہ کی عزت اور حفاظت کے لیے چند غنڈوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو جاتا ہے—یہی ہے غیرت، حوصلہ اور فرض کی اصل مثال
اپ کس کے ساتھ ہیں اپشن تصویر میں موجود ہیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اچھی طرح وضو کرنا نصف ایمان ہے۔ الحمد للہ کہنا میزان (ترازو) کو بھر دیتا ہے۔ سبحان اللہ اور اللہ اکبر کہنا آسمان و زمین کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، زکاۃ (ایمان کی) دلیل ہے، صبر روشنی ہے اور قرآن مجید حجت ہے تیرے حق میں یا تیرے خلاف۔ (نسائی، ۲۴۳۹)
رسول الله ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی مسلمان جو ایک درخت کا پودا لگائے یا کھیتی میں بیج بوئے، پھر اس میں سے پرندے یا انسان یا جانور جو بھی کھاتے ہیں وہ اُس لگانے والے کی طرف سے صدقہ ہے. بخاری 2320 (بخاری 6012؛ مسلم 3969،3973؛ ترمذی 1382؛ احمد 13030، 13422، 13589، 15271؛ دارمی2652)
نبی کریمﷺ کی صبح کے وقت میں برکت کی دعا - - اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا - - اے اللہ ! میری امت کے لئے ان کی صبحوں (کے وقت) میں برکت ڈال دے۔ {سنن ابی داؤد ۔ ۲۶۰۶}
حضرت عمر ؓ نے عرض کیا: اے الله کے رسول! ہم کون سا مال حاصل (کرنے کی کوشش) کریں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: "تمہیں چاہیئے کہ (1) شکر کرنے والا دل حاصل کرو، اور (2) ذکر کرنے والی زبان، اور (3) ایسی مؤمنہ بیوی جو آخرت کے معاملات میں مرد کی مدد کرے." ماجہ 1856
ایک صحابیہ عورت، جن کا نام اسماء بنتِ سکن انصاریہؓ تھا، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ انہیں «خَطِيبَةُ النِّسَاءِ» (عورتوں کی ترجمان/خطیبہ) کہا جاتا تھا۔
انہوں نے عرض کیا:
"یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام مردوں اور عورتوں کی طرف مبعوث فرمایا ہے۔ ہم آپ پر اور آپ کے معبود پر ایمان لائے ہیں۔ ہم عورتیں گھروں تک محدود ہیں، آپ کے گھروں کی نگہبان، آپ کی اولاد کو سنبھالنے والی اور آپ کے بچوں کی پرورش کرنے والی ہیں۔
جبکہ آپ مردوں کو ہم پر یہ فضیلت حاصل ہے کہ آپ جمعہ اور جماعت میں شریک ہوتے ہیں، جنازوں میں حاضر ہوتے ہیں، مریضوں کی عیادت کرتے ہیں، بار بار حج ادا کرتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔
اور جب آپ میں سے کوئی شخص حج، عمرہ یا جہاد کے لیے نکلتا ہے تو ہم آپ کے گھروں میں بیٹھ کر آپ کے مال کی حفاظت کرتی ہیں، آپ کی اولاد کی پرورش کرتی ہیں اور آپ کے لیے کپڑے سیتی اور بُنتی ہیں۔ تو کیا ہم بھی ان نیکیوں اور اجر میں آپ کے ساتھ شریک ہو سکتی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائے ہیں؟"
رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہؓ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
"کیا تم نے کبھی کسی عورت کو اپنے دین کے بارے میں اس عورت سے زیادہ اچھا سوال کرتے ہوئے دیکھا ہے؟"
صحابہؓ نے عرض کیا:
"یا رسول اللہ! ہمیں گمان بھی نہ تھا کہ کوئی عورت اس طرح کا سوال کرے گی۔"
پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"اے اسماء! میری بات اچھی طرح سمجھ لو اور جو عورتیں تمہارے پیچھے ہیں، انہیں بھی بتا دو: عورت کا اپنے شوہر کے ساتھ حسنِ معاشرت اختیار کرنا، اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنا اور اس کی پسند و خواہشات کا خیال رکھنا، ان تمام اعمال کے برابر ہے۔"
یہ سن کر وہ عورت واپس روانہ ہوئیں، اس حال میں کہ اللہ اکبر اور لا إله إلا الله کہتی جاتی تھیں اور بار بار یہ الفاظ دہراتی تھیں:
"یہ سب کے برابر ہے! یہ سب کے برابر ہے!"
عبدالرحمن بن جابر اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے اکثر لوگ جو اللہ کی کتاب کے فیصلے اوراس کی تقدیر کے بعد فوت ہونگے وہ نظر لگنے سے ہونگے
السلسلہ صحیحہ ٣٢٣٨