عمران خان، وہ نام جو 1992 میں پاکستان کے ہر دل کی دھڑکن بن گیا تھا۔ وہ ہیرو جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور ہمیں وہ ورلڈ کپ جیت کر دیا جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ ان کی قیادت، ان کا جذبہ، اور ان کی محنت آج بھی ہماری یادوں میں تازہ ہے۔
لیکن آج... وہی چہرہ، وہی ہیرو، حکومت کے ڈر اور خوف کی وجہ سے چھپایا جا رہا ہے۔ ایک ایسا لیڈر جس نے ملک کی خاطر سب کچھ قربان کر دیا، اسے آج ایک قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے۔
کیا یہ انصاف ہے؟ کیا ہم اپنے ہیروز کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں؟
عظمٰی خان کی وارننگ 🚨
میں پھر سے کہتی ہوں یہ عمران خان کو قتل کرنا چاہتے ہیں، ہمیں نہیں پتہ جیل میں کیا ہو رہا ہے عمران خان کو ہمارے سامنے لایا جائے۔
بہنیں قوم کو بار بار خبردار کر رہی ہے کہ عمران خان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں
آج اڈیالہ کے باہر روڈ بلاک کر کے جگہ جگہ ناکے لگا کر پھر سے بہنوں کو روک کر افواہ پھیلائی ہوئی کہ ہم ملاقات کرواتے ہیں کسی ایک کی، نورین آپا نے چار بار جا کر پولیس والوں کو کہا کروائیں جی ملاقات۔
اور پھر پولیس والوں کی شکلیں بتا رہی تھیں کہ چراغوں میں روشنی نا رہی۔
میں امریکہ میں مقیم کئی پاکستانیوں کو جانتا ہوں، جنہوں نے ٹرمپ کو اس لیے ووٹ دیا، کہ وہ عمران خان کو رہا کرائیں گے۔ عمران خان تا حال ویڈ میں ہیں،
جو کچھ پاکستان میں ہو رہا ہے وہ فاشزم ہے، احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کی جاتی ہے۔ عام لوگوں کو دہشتگردی قوانین کا سامنا ہے، عمران خان کے بیٹوں کو ویزا بھی نہیں دیا گیا، مہدی حسن
اس پر آواز اٹھائیں 🚨
عمران خان کو ان کے blood test کے رپورٹ نہیں دئے جا رہے ہیں، کیا وجہ ہے کہ پمز ہسپتال کے رپورٹس کو چھپایا جا رہا ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو فوری شفا انٹرنیشنل منتقل کر دیا جائے وہ بھی فیملی اور ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں
#PAKWatch🇵🇰: The last time I spoke to Captain Pakistan was in April 2023.
I'm looking forward to speaking with my friend Imran Khan again. We have a lot of lost ground to make up.
FREE IMRAN KHAN.
انتہائی خوفناک صورتحال!!
مریم نانی نے دجالی میڈیا کو 1800 کروڑ روپے دیئے ہیں, صرف اپنا چہرہ دکھانے کے لیے!!
پاکستانیوں یہ آپکا پیسہ ہے, پنجاب کے لوگو یہ آپکا پیسہ ہے خدا کا خوف کرے باہر نکلو!!
کوٹ لکھپت جیل میں ڈاکٹر یاسمین راشد صاحبہ قید ہیں، آخر ان کا قصور کیا ہے؟ وہ ایک ڈاکٹر ہیں، لوگوں کی زندگیاں بچاتی رہی ہیں۔ آج وہ بیمار ہونے کے باوجود جیل میں ہیں، اس لیے خواتین کو ان کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔
شاہ محمود قریشی، اعجاز چوہدری اور دیگر رہنما بھی جیلوں میں ہیں، لیکن خاص طور پر خواتین قیدیوں کے معاملے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ اگر خواتین کی نمائندگی کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو پھر یہ سوال بھی اٹھنا چاہیے کہ سیاسی خواتین کارکنوں اور رہنماؤں کو جیلوں میں کیوں رکھا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا @SohailAfridiISF