پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں اور عمران خان کے تمام چاہنے والوں کے لیے میرا واضح اور حتمی مؤقف:
میں نے تقریباً چھ ماہ قبل سہیل آفریدی صاحب کے بطور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا انتخاب اور حلف برداری کے معاملے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ میری آئینی درخواست اب 14 ستمبر 2026 کو سماعت کے لیے مقرر ہے۔ چونکہ سہیل آفریدی صاحب نے 27 ستمبر کے ملک گیر احتجاج اور لانگ مارچ کی قیادت کرنے کا اعلان کیا ہے، اس لیے میں معزز عدالت سے مختصر التوا کی درخواست کر رہا ہوں۔
درخواست میں بنیادی وجوہات یہ بیان کی گئی ہیں:
1۔ میری آئینی درخواست مارچ کے اعلان سے تقریباً چھ ماہ پہلے دائر ہوئی تھی؛ تاہم اب ایسے غیر معمولی سیاسی حالات پیدا ہوچکے ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
2۔ میں سپریم کورٹ کا وکیل اور منتخب رکنِ قومی اسمبلی ہونے کی حیثیت سے اس امر کا خاص طور پر پابند ہوں کہ عدالتی کارروائی کو کسی سیاسی مقابلے میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور نہ ہی ایسا کوئی تاثر پیدا ہونے دیا جائے۔
3۔ اگر 27 ستمبر سے فوراً پہلے اس مقدمے کی سماعت ہوتی ہے اور کوئی نتیجہ خیز حکم صادر ہوتا ہے تو یہ غیرمطلوب تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ عدالتی کارروائی سہیل آفریدی صاحب کی مارچ میں شرکت یا قیادت کو متاثر، محدود یا نقصان پہنچانے کے لیے آگے بڑھائی گئی۔
4۔ میرے اور فریقِ مخالف کے مابین قانونی یا سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن میں نہیں چاہتا کہ مارچ کی کامیابی یا ناکامی کو میرے حاصل کردہ کسی عدالتی حکم سے منسوب کیا جائے۔
5۔ عدالتی کارروائی کو سیاسی سرگرمی کے اثرات اور تنازعات سے مکمل طور پر الگ رکھنا، عدالت کے وقار، غیرجانب داری اور منصفانہ نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے لیے ضروری ہے۔
6۔ اسی لیے میں 27 ستمبر سے پہلے نہ اپنی درخواست کی سماعت پر اصرار کروں گا اور نہ کسی عبوری یا فوری ریلیف کی استدعا کروں گا۔ میری گزارش صرف یہ ہے کہ مقدمہ 27 ستمبر کے بعد کسی مناسب تاریخ پر مقرر کردیا جائے۔
یہ درخواست میں 14 ستمبر کو معزز وفاقی آئینی عدالت کے روبرو پیش کروں گا۔ اسے منظور یا مسترد کرنا مکمل طور پر معزز عدالت کا اختیار ہے اور عدالت کا ہر حکم میرے لیے واجب الاحترام ہوگا۔
میں تحریکِ انصاف کے کارکنوں اور عمران خان کے چاہنے والوں پر واضح کردینا چاہتا ہوں کہ مارچ کی کامیابی یا ناکامی کے لیے کسی مرحلے پر یہ عذر پیش نہ کیا جائے کہ میری قانونی کارروائی 27 ستمبر کے مارچ میں کسی خلل یا رکاوٹ کا سبب بنی۔ اگر اس سیاسی سرگرمی سے عمران خان کو کوئی سیاسی فائدہ پہنچ سکتا ہے تو میں اپنے قانونی، ذاتی یا سیاسی اختلافات کی خاطر اسے داؤ پر نہیں لگاؤں گا۔
میں نے اس موقع پر اپنے مقدمے کی فوری سماعت پر اصرار نہ کرکے مارچ کے منتظمین کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا ہے۔ اب یہ مارچ کر پاتے ہیں یا نہیں کر پاتے، اس کی حقیقت قوم کے سامنے آجائے گی۔
یہی میرا واضح، دوٹوک اور حتمی مؤقف ہے؛ اسے ہی میرا مستند بیان سمجھا جائے۔
اورکیوں نہ ہوا کہ جب تو اپنےباغ میں گیاتوکہاہوتاجوچاہے اللہ ، ہمیں کچھ زورنہیں مگراللہ کی مدد کااگرتومجھے اپنے سےمال و اولادمیں کم دیکھتاتھا
سورہ الکھف آیت 39
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایمان بخیر زندگی
You may not be visible amidst the dazzling lights of diplomatic errands, you may have been forgotten by people you put in power, you may be suffering because of not achieving what you would have wanted but remember
YOU ARE IN OUR HEARTS, IN OUR PRAYERS, AND PART OF OUR SMALL STRUGGLES
We will speak for you, pray for you, and do whatever we can because YOU DID WHAT YOU COULD ALL YOUR LIFE!
@ImranKhanPTI #imrankhan #ImranKhanHealthEmemrgency
Imran Khan has been kept in solitary confinement for six months under brutal conditions, while Bushra Bibi is being held the same way. Their freedom is being deliberately blocked by the Chief Justice of the Islamabad High Court, who refuses to fix their bail hearings.
Imran Khan has made it clear that the judiciary is no longer independent, it is acting like a tool of the government. Judges assigned to his cases are not delivering justice; they are ensuring hearings never happen. The reality is simple: the moment this case is heard, its weak and baseless nature will be exposed, and bail will become unavoidable. That is exactly why it is being stalled. Imran Khan and Bushra Bibi continued imprisonment is due to Judge Dogar, who is openly facilitating a government that came to power by stealing Imran Khan’s mandate.
Through Salman Safdar, Imran Khan has sent a message, his wife is being pushed to the edge by prolonged isolation. He has said he can endure this ظلم himself, but she is being broken to force him into submission. The pressure is deliberate, calculated, and inhumane. He said clearly “no deal, no surrender! It is liberty or death.”
معاملات اتنے خراب ہیں کہ گیس بجلی کے بل اور دال روٹی کے چکر میں عوام پس گئے ہیں اور عوام کی امنگوں کے خلاف نااہل لوگوں کی وجہ سے کسان ہر فصل میں مار ہی کھا رہا ہے وہاں اپنی ناہلی چھپانے اور لوگوں کی توجہ اور طرف کرنے کے لئے بسنت جیسا تفریحی ثقافتی کھیل #LeadershipWakeUpNow
فواد ڈبو ، اور شیر افضل مروت کو دوبارہ سے میدان میں اتار دیا گیا ہے
لہذا ان سے محتاط رہیں
ان کو کوریج دینے کی بالکل ضرورت نہیں۔۔
@Gillani100@TeamS0K#LeadershipWakeUpNow
جس شخص نے پوری قوم کی آنکھوں کا آپریشن کیا آج اس کی اپنی آنکھ خراب ہوئی تو PTI سوئی پڑی ہے اور اس کی بہنیں در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں..
@Gillani100@TeamS0K#LeadershipWakeUpNow
عمر١ن خان آج حقیقت ہے کہ وہ ذوالفقار بھٹو سے بڑا لیڈر بن چکا ہے،اس ملک میں جس شخص کے ڈر سے آپ نے قانون بدلہ اپنے آپ نے آئین بدلہ اس شخص کا نام ہے عمران احمد خان نیازی ، ریاست علی آزاد
@Gillani100@TeamS0K#LeadershipWakeUpNow
in connection with the Al-Qadir Trust, which he owns alongside his wife, Bushra Bibi.Attempts to arrest Khan led to 2023 Pakistani protests by his supporters throughout the country.
@Gillani100@TeamS0K#LeadershipWakeUpNow
His first arrest came a day after the Armed Forces media wing, the Inter-Services Public Relations (ISPR) had responded negatively to Khan's accusations of a high-ranking Inter-Services Intelligence (ISI) being involved
@TeamS0K@Gillani100#LeadershipWakeUpNow
in an assassination attempt on his life the previous year.The Islamabad High Court ruled that Khan's arrest was legal.
@Gillani100@TeamS0K#LeadershipWakeUpNow
However, the Supreme Court of Pakistan deemed the arrest unlawful due to the manner it was carried out, and mandated Khan's release.
@Gillani100#LeadershipWakeUpNow