I'm a geek, I can talk to machines better than to humans. Also a science lover. Physics is my passion.
Researcher & Entrepreneur @ Artificial Intelligence
Maulana Khanzeb didn’t carry a gun , he carried a voice. You didn’t debate him ,you shot him in the chest.
You fear peace because it exposes your war.
This is cold-blooded execution.
This is genocide.
Shattered bodies. Grieving families. This is not security; this is state terrorism. When the cry of a mother is drowned out by the roar of gunships and flying drones, the state has ceased to govern - it only occupies. Peace cannot be built on ruins. When homes are turned to ashes and rubble, and memories into graves, the state does not protect - it erases.
#stoppashtungenocide
شمالی وزیرستان میر علی کی یہ فوٹیج دیکھ کر مجھے خدیجہ بی بی یاد آگئی جس سے میری ملاقات بکا خیل کے مقام پر اس وقت ہوئی جب ضرب عضب کے شروع ہونے کے بعد میں شمالی وزیرستان سے آنے والے آئی ڈی پیز کی کوریج کر رہی تھی کہ سڑک پر چادر میں لپٹی ایک خاتون گائے کی رسی ہاتھ پکڑے وزیرستان سے بنوں کی طرف جانے والی روڈ پر جاتی نظر آئی ۔میں نے اس کے پاس جا کر اُس سے پوچھا کہ کہاں سے آرہی ہیں اپ اور باقی گھر والے کہاں ہیں تو اُس نے بتایا کہ میں میر علی سے آرہی ہوں اور باقی گھر والے ٹرک پر بنوں چلے گئے لیکن ٹرک میں جگہ نہیں تھی تو میں اپنی گائے کو پیدل لے کر جا رہی ہوں ۔میں نے حیران ہو کر پوچھا گائے کے لئے آپ میر علی سے پیدل بنوں جا رہی ہیں تو اس نے کہا کہ جب یہ پیدا ہو ئی تو اس وقت سے اب تک میں نے اسے اپنے بچوں کی طرح پالا اب بمباری میں مرنے کے لئے اسے کیسے چھوڑ دیتی ۔۔
(آئی ڈی پیز پر ایک پریزنٹیشن میں میں نے اسکی وڈیو استعمال کی تھی اس میں ایک تصویر آج بھی میرے پاس محفوظ ہے)
نوٹ : اس ملک کی اصل کہانیاں کچھ اور ہیں لیکن بدقسمتی سے میڈیا کو ایک طرف لگایا ہوا ہے
دھشت گردی کے نام پر لڑی جانے والی جنگ منفعت کے لحاظ سے پورے ریاست کی جبکہ خسارہ کے حوالے سے صرف پشتون بیلٹ کی ہے۔
سوات باجوڑ وزیرستان اور چمن تک پشتونوں کے بازار اور گھر بار ملیامیٹ ہوئے جبکہ 33 بیلین ڈالر کوئی اور ڈکار گیا ۔
آج بھی بدامنی کے 90 فیصد واقعات پشتون بیلٹ میں ہیں ۔
پاکستانی مولوی دنیا کے بدترین قسم کے بیمار ذہنیت والے لوگ ہیں۔ ان کا ایجنڈا معاشرے کو پیچھے لے جانا ہے۔ ملک بھر میں درجنوں مذہبی گروہ ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلا رہے ہیں۔ یہ ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک مولویوں کو مسجد اور مدرسے کے اندر بند نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان میں انسان نا جانے ایک وقت میں کتنی چیزوں سے لڑ
رہا ہوتا ہے ، دکھ، ماضی، فیوچر ، گھر ، ماں باپ تعلیم،
سوسائٹی ، ڈوبتا ہوا ملک ، دھوکہ فراڈ، جھوٹ سچ ، ثواب گناه،
حلال حرام اور پتا نہیں کیا ! 💔
میں نے کھانے کی میز پر خواتین کی اس سے زیادہ تذلیل کبھی نہیں دیکھی جب خواتین اپنا چہرہ ڈھانپ کر کھانا کھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ دیوانگی کی انتہا ہے۔ چہرہ ڈھانپنے کا مطلب اپنی شناخت کھو دینا ہے۔ کسی نامعلوم وجہ سے پاکستانی خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد میں اپنی شناخت کھو رہی ہے۔
اس رفتار سے اور اس حد تک تو دو سو سالوں میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور تاجِ برطانیہ نے ہندوستان کو نہیں لوٹا تھا، جتنا کہ پاکستان کی افواج نے پچھلے پچھتر سالوں میں محکوم اقوام کے وسائل کو لوٹا اور عوام و معیشت کو مقروض بنایا۔
ہماری مادری دھرتیوں کو جنگوں کے لئے استعمال کیا، فوجی اڈے دئے، اور ماوں کے جوان بیٹوں کو جنگ کے ایندھن میں جھونک دیا۔ ملٹری آپریشنز، ٹارگٹ کلنگ، عقوبت خانوں اور حراستی مراکز میں قتل، جبری گمشدگیوں، فرقہ پرستی، جلوسوں اور جنازوں پر حملوں کے ذریعے قتلِ عام کیا۔
اس سے میری مراد ہرگز یہ نہیں کہ نو آبادیاتی نظام بہتر تھا۔ اس سے مراد ہے کہ فوج نے اپنے اقتصادی اور جُغرافیائی مفادات کے لئے نو آیادتی نظام کو تسلسل میں از حد زیادہ گہرا کیا ہے، اور فیرنگی سے کم وحشی، ظالم اور استحصالی نہیں ہے۔