میں براہِ راست عاصم منیر سے سوال کرتا ہوں۔۔
کبھی تم صوبے بنا رہے ہو، کبھی صدر بن رہے ہو، کبھی مارشل لا لگا رہے ہو۔ عاصم منیر، تم ہو کون؟ تم نے پاکستان کو سمجھ کیا رکھا ہے؟ تم ایک عام چوکیدار ہو، تمہاری حیثیت عام شہری سے بھی کم ہے۔ تمہاری زمینیں، تمہارے بنگلے، کھربوں کی جائیدادیں کہاں سے آتی ہیں؟ ہم تمہیں امریکہ کے جرنیل کے برابر تنخواہ دینے کو تیار ہیں، لیکن تم جزیروں سے کم تو بات نہیں کرتے۔
صوبے بننے چاہئیں، لیکن عوام کی مرضی سے، تمہاری مرضی سے نہیں۔ میں قائداعظم کا بمبئی کا محل دیکھ رہا تھا، وہ یہاں زیارت میں پڑا تھا۔ قائداعظم نے وہ محل کیوں بنوایا؟ انہوں نے اپنی بیٹی کو نہیں دیا۔ وہ ایک مصروف ترین وکیل تھے۔ قائداعظم نے ہر چیز اپنی قوم کو دی۔
مشرف صاحب کا بیس پچیس ارب کا محل ہے، جس میں وہ ایک رات بھی نہیں رہ سکا۔ عاصم، تمہارا انجام بہت برا ہوگا، پتہ نہیں ہم ہوں گے یا نہیں۔ عوام اب ہر چیز جان چکی ہے۔ سہیل آفریدی کو کون جانتا تھا؟ اس نے اتنی عوام نکالی ہے۔
قوم عمران کو لیڈر مانتی ہے۔ وہ لاوارث نہیں ہے۔ تم کون ہو قوم کے لیڈر کا علاج روکنے والے؟ تم بتاؤ، آج تم ہو کون؟ تمہارے پاس صرف بندوق ہے۔
میں 70 سال سے سیاسی ورکر ہوں۔ تم میرا کیا کر سکتے ہو؟ مجھے 12 سال کی عمر میں آپ کے ایوب خان نے پہلی دفعہ 1964 میں جیل بھیجا۔ میں نے اسمبلی میں ضیاء الحق کو 1985ء میں کہا تھا:
اور یہی تمہیں کہتا ہوں
عاصم منیر، تمہیں بھی کہتا ہوں:
About turn quick march go back to your barracks and never come back again.
@QasimKhanSuri@KhanDijaAn Banda pouchye : Rupay jaib may ni aur humm musthqam hy !!! Pak ko day by day down kar rhy hy aur kehty hy humm mazboot hy !! Dhur
He is the very much loved father of my nephews, and a former brother-in-law who my family and I adored.
He is also a great and principled man, a source of hope for millions upon millions of people who are being badly let down by their corrupt leaders, and he is the victim of a terrible injustice. That is why.