میں عمران خان کی ورکر و سپاہی ہوں اور عمران خان ہی کی وفا دار ہوں ۔ ہمیں عمران خان صاحب نے ہی پارٹی و پارلیمانی ڈسپلن کا پابند بنایا ہے ، میں نے نا ہی کوئی بریفنگ اٹینڈ کی ہے نا ہی کسی سے کوئی ملاقات کی ہے ، پارلیمانی پارٹی نے نام دیئے تھے لیکن میں ذاتی مصروفیات اور ترجیحات کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکی - یہ ایک academic ورک شاپ تھی، اور اس میں ماضی میں موجودہ پی ٹی آئی کی نوے فیصد پارلیمنٹیرینز ( صوبائی اسمبلی اور نیشنل اسمبلی کے ممبران اور سینیٹرز) شرکت کر چکے ہیں حتیٰ کہ پچھلے سال بھی ہمارے ممبران نے NDU ورکشاپ میں شرکت کی تھی اگر پیچھلے سال ہی روک دیا جاتا اور پالیسی واضح ہوتی تو کوئی بھی جانے کی گستاخی نا کرتا ۔ ہماری عمران خان تک رسائی نہیں ہے تا کہ ہمارا یہ موقف ان تک پہنچ سکے ۔ جلد یا بدیر جب بھی خان صاحب سے ملاقات ہوگی حقیقت ان تک پہنچ جائے گی۔
”تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی میں آج ختم کر رہا ہوں- پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے پاس مکمل اختیارات ہیں، وہ ایک نئی مختصر کمیٹی بنائیں جو سیاسی حکمت عملی وضع کرے اور اس پر عملدرآمد کروائے-
شاہد خٹک کو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کا پارلیمانی لیڈر نامزد کرتا ہوں۔
پاکستان بار کے انتخابات میں تحریک انصاف متحد ہو کر ان امیدواروں کی بھر پور حمایت کرے جنھیں سلمان اکرم راجہ اور حامد خان نامزد کریں۔ خیبر پختونخوا کے وکلأ، بارز اور ILF کے معاملات کا سہیل آفریدی خود جائزہ لیں اور بہتری کے لیے ضروری فیصلے خود کریں۔
زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اس کا موجودہ حال پریشان کن ہے۔ کسانوں کے حقوق پر جس طرح ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، اس پر انتہائی افسوس ہے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 2 of 2
عمران خان سے فیملی کی ملاقات تو ہوجائے مگر وہ اس ملاقات کو سیاست کیلیے استعمال کرتے ہیں اسلام آباد پر چڑھنے کی اور 26 نومبر جیسی کالز دیتے ہیں۔ عمران نیازی اس وقت عدالت سے 14 سال کیلئے سزا یافتہ شخص ہیں اور سیاست میں حصہ نہیں لے سکتے۔ سہیل آفریدی یہ رونق علیمہ خان کو خوش کرنے کے لئے لگا رہے ہیں۔
وہ تمام صحافی (مرد و زَن ) جو شاہزیب خانزادہ کے غم میں زمین پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر رو رہے تھے ۔۔ کیا وہ عمران خان کی بہنوں کی بےحُرمتی پر بھی کچھ کہیں گے یا نہیں ؟؟