اگر 1992ء میں پورے ملک سے ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کے خلاف آوازاٹھائی جاتی توآج ملک میں حقوق مانگنے والی قوموں پر فوج کشی نہ کی جارہی ہوتی۔ الطاف حسین
#یوم_سیاہ_19_جون
یہ ایک المیہ ہےکہ جب 19جون 1992ء کو ایم کیوایم کے خلاف بدترین فوجی آپریشن شروع کیا گیا اور MQM کے کارکنوں، ہمدردوں اورپوری مہاجرقوم پر جس طرح سےمظالم ڈھ��ئےگئے، اگر اس وقت سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخواہ، آزادکشمیر، گلگت بلتستان سمیت پورے ملک سے MQM کے خلاف فوجی آپریشن کی مذمت کی جاتی، اس آپریشن کی بھرپور حمایت کرنےکے بجائے اس کےخلاف آوازاٹھائی جاتی توآج ملک بھر میں اپنے حقوق مانگنے والوں پر فوج کشی نہ کی جارہی ہوتی۔
پاکستان کی تاریخ میں 19جون نہ صرف ایک انتہائی اہم باب کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ انتہائی حساس ترین بھی ہے۔ 19جون 1992ء کو کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیوایم کے خلاف کئے جانے والے فوجی آپریشن کے دوران کی گئی زیادتیوں کی داستانیں سنیں تو سننے والوں کویقین نہیں آئے گا۔
19جون 1992ء سےقبل کراچی اورسندھ کے دیگرشہری علاقوں میں امن وامان کی صورتحال اس قدر مثالی تھی کہ کراچی اورسندھ میں کسی بھی علاقے میں ایک گھنٹے کے لئے بھی کسی قسم کاکرفیو نافذکرنےکی ضرورت پیش نہیں آئی تھی، علاقوں میں امن وسکون تھا،لوگ رات دیرگئے تک شادی بیاہ کی تقریبات میں آتے جاتے تھے، بازاروں میں رات دیرتک رونق ہوتی تھی،کاروباری سرگرمیاں عروج پر تھیں، لیکن فوج نے ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کافیصلہ کرلیا تھا لہٰذا سندھ میں فوج کشی کے لئے اندرون سندھ اغوابرائے تاوان کی وارداتیں کرنے والے ڈاکوؤں اوران کی سرپرستی کرنے والے پتھاریداروں، وڈیروں جاگیرداروں کے خلاف فوجی آپریشن کرنےکاا��لان کی گیا۔اس کےلئے 72بڑی مچھلیوں کی ایک فہرست بھی تیارکی گئی جو چوہدری نثار نے قومی اسمبلی میں پیش کی تھی۔اس فہرست میں بینظیر بھٹو کے کامدار، آصف زرداری، غلام مصطفےٰ جتوئی مرحوم اورکئی بڑے بڑے جاگیرداروں وڈیروں کے نام شامل تھے۔یہ عمل قوم کودھوکہ دینے کے لئے کیا گیا، کیونکہ فوجی آپریشن ڈاکوؤں اورانکی سرپرستی کرنے والے پتھاریداروں، وڈیروں اور جاگیرداروں کےخلاف نہیں کیا گیا بلکہ 19جون 1992ء کوایم کیوایم کے خلاف شروع کیا گیا،اس کے لئے آفاق احمد، عامرخان اور MQM کے وہ لوگ جنہیں تنظیمی نظم وضبط کی خلاف ورزی اور غیرقانونی حرکتیں کرنےپر تنظیم سے خارج کیا گیا تھا،انہیں فوج نے استعمال کیا،ان لوگوں کوفوج پہلے پنجاب لےگئی جہاں انہیں ٹریننگ دی گئی، کراچی لاکر فوجی چھاؤنی میں ٹھہرایا گیا اورپھر انہیں اسلحہ دیکر19جون 1992ء کو فوجی گاڑیوں میں سوار کراکے MQM کے دفاتراوررہنماؤں اورکارکنوں کے گھروں پر حملے کرائے گئے، دفتروں پر قبضے کرائے گئے،ایم کیوایم کے متعدد کارکنوں کو اغوا کرکے شہید کیا گیا اورانہیں حملوں، دہشت گردی، لوٹ مار، اغوا، تشدد ہر طرح کی کارروائیوں کا لائسنس دیاگیا۔اس حوالے سے عامر خان نے ایکسپریس نیوز چینل پر شاہ زیب خانزادہ کودیے گئے انٹرویو میں واضح الفاظ میں یہ اعتراف کیاکہ فوج اوراس کی ایجنسی آئی ایس آئی نے انہیں استعمال کیااوروہ اس آپریشن کاحصہ تھے اورانہیں ایم کیوایم کونقصان پہنچا کر خود اس خلاء کوپرکرنے کے لئے لایا گیا تھا۔ انہی لوگوں نے MQM کے رہنماؤں، سیکٹرانچارجز اور دیگر ذمہ داروں اورکارکنوں کے نام پتے فوج کوفراہم کئے تاکہ انہیں گرفتار کیا جاسکے۔
ہمیں انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخواہ، آزادکشمیر، گلگت بلتستان سمیت پورے ملک میں سیاسی ومذہبی جماعتوں اورعوام نے MQM کے خلاف اس ظالمانہ فوجی آپریشن کی بھرپورحمایت کی، اسے درست اورجائزقراردیا۔ فوج ایم کیو ایم کے کارکنوں کوسفاکی اور بیدردی سے قتل کرکے انہیں سرکاری ٹی وی پر دہشت گرد اورملک دشمن بناکرپیش کررہی تھی اورملک بھر کے عوام فوج کی جانب سے سرکاری ٹیلی وژن اور اخبارات میں پیش کی جانے والی جعلی جھوٹی کہانیوں پر یقین کرتے رہے اورMQM کوملک دشمن دہشت گرد جماعت کہتے رہے۔اگر اس وقت ایم کیوایم اور مہاجروں کے خلاف کئے جانے والےاس فوجی آپریشن کی بھرپور حمایت کرنے کے بجائے اس کے خلاف آواز اٹھائی جاتی تو آج پی ٹی آئی، بلوج یکجہتی کمیٹی، پشتون تحفظ موومنٹ اورکشمیرعوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے خلاف آپریشن نہ ہورہا ہوتا، آج بلوچستان، خیبرپختونخوا، قبائلی علاقوں، آزادکشمیر، گلگت بلتستان اور پورے ملک میں اپنے حقوق مانگنے والوں پر فوج کشی نہ ��ی جارہی ہوتی اورمظالم نہ ڈھائے جارہے ہوتے۔
1/2
اگر 1992ء میں پورے ملک سے ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کے خلاف آوازاٹھائی جاتی توآج ملک میں حقوق مانگنے والی قوموں پر فوج کشی نہ کی جارہی ہوتی۔ الطاف حسین
#یوم_سیاہ_19_جون
یہ ایک المیہ ہےکہ جب 19جون 1992ء کو ایم کیوایم کے خلاف بدترین فوجی آپریشن شروع کیا گیا اور MQM کے کارکنوں، ہمدردوں اورپوری مہاجرقوم پر جس طرح سےمظالم ڈھائےگئے، اگر اس وقت سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخواہ، آزادکشمیر، گلگت بلتستان سمیت پورے ملک سے MQM کے خلاف فوجی آپریشن کی مذمت کی جاتی، اس آپریشن کی بھرپور حمایت کرنےکے بجائے اس کےخلاف آوازاٹھائی جاتی توآج ملک بھر میں اپنے حقوق مانگنے والوں پر فوج کشی نہ کی جارہی ہوتی۔
پاکستان کی تاریخ میں 19جون نہ صرف ایک ��نتہائی اہم باب کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ انتہائی حساس ترین بھی ہے۔ 19جون 1992ء کو کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں ایم کیوایم کے خلاف کئے جانے والے فوجی آپریشن کے دوران کی گئی زیادتیوں کی داستانیں سنیں تو سننے والوں کویقین نہیں آئے گا۔
19جون 1992ء سےقبل کراچی اورسندھ کے دیگرشہری علاقوں میں امن وامان کی صورتحال اس قدر مثالی تھی کہ کراچی اورسندھ میں کسی بھی علاقے میں ایک گھنٹے کے لئے بھی کسی قسم کاکرفیو نافذکرنےکی ضرورت پیش نہیں آئی تھی، علاقوں میں امن وسکون تھا،لوگ رات دیرگئے تک شادی بیاہ کی تقریبات میں آتے جاتے تھے، بازاروں میں رات دیرتک رونق ہوتی تھی،کاروباری سرگرم��اں عروج پر تھیں، لیکن فوج نے ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کافیصلہ کرلیا تھا لہٰذا سندھ میں فوج کشی کے لئے اندرون سندھ اغوابرائے تاوان کی وارداتیں کرنے والے ڈاکوؤں اوران کی سرپرستی کرنے والے پتھاریداروں، وڈیروں جاگیرداروں کے خلاف فوجی آپریشن کرنےکااعلان کی گیا۔اس کےلئے 72بڑی مچھلیوں کی ایک فہرست بھی تیارکی گئی جو چوہدری نثار نے قومی اسمبلی میں پیش کی تھی۔اس فہرست میں بینظیر بھٹو کے کامدار، آصف زرداری، غلام مصطفےٰ جتوئی مرحوم اورکئی بڑے بڑے جاگیرداروں وڈیروں کے نام شامل تھے۔یہ عمل قوم کودھوکہ دینے کے لئے کیا گیا، کیونکہ فوجی آپریشن ڈاکوؤں اورانکی سرپرستی ک��نے والے پتھاریداروں، وڈیروں اور جاگیرداروں کےخلاف نہیں کیا گیا بلکہ 19جون 1992ء کوایم کیوایم کے خلاف شروع کیا گیا،اس کے لئے آفاق احمد، عامرخان اور MQM کے وہ لوگ جنہیں تنظیمی نظم وضبط کی خلاف ورزی اور غیرقانونی حرکتیں کرنےپر تنظیم سے خارج کیا گیا تھا،انہیں فوج نے استعمال کیا،ان لوگوں کوفوج پہلے پنجاب لےگئی جہاں انہیں ٹریننگ دی گئی، کراچی لاکر فوجی چھاؤنی میں ٹھہرایا گیا اورپھر انہیں اسلحہ دیکر19جون 1992ء کو فوجی گاڑیوں میں سوار کراکے MQM کے دفاتراوررہنماؤں اورکارکنوں کے گھروں پر حملے کرائے گئے، دفتروں پر قبضے کرائے گئے،ایم کیوایم کے متعدد کارکنوں کو اغوا کرکے شہید ک��ا گیا اورانہیں حملوں، دہشت گردی، لوٹ مار، اغوا، تشدد ہر طرح کی کارروائیوں کا لائسنس دیاگیا۔اس حوالے سے عامر خان نے ایکسپریس نیوز چینل پر شاہ زیب خانزادہ کودیے گئے انٹرویو میں واضح الفاظ میں یہ اعتراف کیاکہ فوج اوراس کی ایجنسی آئی ایس آئی نے انہیں استعمال کیااوروہ اس آپریشن کاحصہ تھے اورانہیں ایم کیوایم کونقصان پہنچا کر خود اس خلاء کوپرکرنے کے لئے لایا گیا تھا۔ انہی لوگوں نے MQM کے رہنماؤں، سیکٹرانچارجز اور دیگر ذمہ داروں اورکارکنوں کے نام پتے فوج کوفراہم کئے تاکہ انہیں گرفتار کیا جاسکے۔
ہمیں انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت سندھ، پنجاب، بلوچست��ن، خیبرپختونخواہ، آزادکشمیر، گلگت بلتستان سمیت پورے ملک میں سیاسی ومذہبی جماعتوں اورعوام نے MQM کے خلاف اس ظالمانہ فوجی آپریشن کی بھرپورحمایت کی، اسے درست اورجائزقراردیا۔ فوج ایم کیو ایم کے کارکنوں کوسفاکی اور بیدردی سے قتل کرکے انہیں سرکاری ٹی وی پر دہشت گرد اورملک دشمن بناکرپیش کررہی تھی اورملک بھر کے عوام فوج کی جانب سے سرکاری ٹیلی وژن اور اخبارات میں پیش کی جانے والی جعلی جھوٹی کہانیوں پر یقین کرتے رہے اورMQM کوملک دشمن دہشت گرد جماعت کہتے رہے۔اگر اس وقت ایم کیوایم اور مہاجروں کے خلاف کئے جانے والےاس فوجی آپریشن کی بھرپور حمایت کرنے کے بجائے اس کے خلاف آواز اٹھائی جاتی تو آج پی ٹی آئی، بلوج یکجہتی کمیٹی، پشتون تحفظ موومنٹ اورکشمیرعوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے خلاف آپریشن نہ ہورہا ہوتا، آج بلوچستان، خیبرپختونخوا، قبائلی علاقوں، آزادکشمیر، گلگت بلتستان اور پورے ملک میں اپنے حقوق مانگنے والوں پر فوج کشی نہ کی جارہی ہوتی اورمظالم نہ ڈھائے جارہے ہوتے۔
1/2
بابائےمہاجر قوم الطاف حسین بھائی کو میری اور میرے اہلِ خانہ کی جانب سے فادرز ڈے کی مبارکباد۔
آپ نے تمام تر مشکلات، مصائب اور کٹھنائیوں کے باوجود ایک سایہ دار درخت کی مانند مہاجر قوم کی جانب بڑھنے والی ہر آندھی اور طوفان کا تنہا مقابلہ کیااور مہاجر قوم کو ہمیشہ محفوظ رکھا۔
آپ نے مہاجر قوم ک�� نظریہ دیا،فکر دی، سوچ دی، شعور دیا آپ نے مہاجر قوم کی انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا۔
آپ کو میری اور میرے اہل خانہ کی جانب سے فادرز ڈے کی بہت مبارکباد اس دعا کیساتھ اللہ پاک آپ کو ہمیشہ شاد و آباد رکھے آپ کوعمر صحت و تندرستی عطا فرمائے اور ہم سب کو آپ کا وفادار اور ثابت قدم رکھے، آپ کی بتائی ہوئی منزل پر آپ کی سربراہی میں لے کر جائے۔آمین
@AltafHussain_90
@AwazEhaq90
@OfficialMQM
19جون 1992ء
پنجاب میں جرائم پیشہ حقیقی دہشت گردوں کوپالنےاورفوجی اسٹیبلشمنٹ کےساتھ ملکر ایم کیوایم پرشب خون مارنےوالا
فوجی جرنیلوں کی بے بی اورن لیگ کےسربراہ
نواز شریف
نہ دوست”نواز “
نہ”شریف “دشمن
روزمحشر نواز شریف کوبھی
#یوم_سیاہ_19_جون کےتمام شہیدوں کے لہو کا حساب دینا ہوگا
@kashifzaidi90 "تیرے نام پہ کٹی میری ساری عمر
واہ ری قسمت میرے نکاح میں کوئی اور ھے"
پردہ ہمارے نام سے ے اٹھا
آنکھ لڑائی لوگوں نے
کاشف بھائی دونوں صاحبان کچھ ایسا ہی سوچ رہے ہونگے
ہم نے جن کے نام پہ امیدوں کے چراغ جلائے،
وہی آندھی کے ساتھ مل کر انہیں بجھانے لگے۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری صاحب اور وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف صاحب آپ صبح و شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریفوں کے پُل باندھتے رہے اورعوام کو یہ باور کراتے رہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بہت زیادہ مضبوط ہوچکے ہیں۔
مگر ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کس طرح نریندر مودی یعنی بھارت کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات کر رہے ہیں اور بھارت کی حمایت کا اظہار کر رہے ہیں۔
عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ دعوے، وہ دوستی اور وہ یقین دہانیاں کہاں گئیں جن کا مسلسل ذکر کیا جاتا رہا؟
@AltafHussain_90@AwazEhaq90@OfficialMQM@AAliZardari@CMShehbaz@NawazSharifMNS@BBhuttoZardari@OfficialDGISPR
⬇️⬇️⬇️⬇️⬇️
ظلم وجبر کانشانہ بننےوالے
مجبور وبےبس اوربےکس ومحکوم عوام میں
شعوری بیداری کیلئے جدوجہد کرنے والے
بےلوث وبےغرض افراد
نایاب بھی ہیں ،کمیاب بھی ہیں
ایسے عظیم انسانوں کی قدر ناشناسی کرنے والی قوموں کا مقدر ذلت،رسوائی اور غلامی کےسوا کچھ نہیں ہوتا
#الطاف_حسین_بھائی_شکریہ