ناز و انداز سے کہتے ہیں کہ جینا ہوگا
زہر دیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پینا ہوگا
جب میں پیتا ہوں تو کہتے ہیں کہ مرتا بھی نہیں
جب میں مرتا ہوں تو کہتے ہیں کہ جینا ہوگا
#میاں_نواز_شریف
مُحسن نقوی والا ماتم ختم ہوگیا ہو تو دیکھ لیں جاکے کہ کروڈ آئل 88.74 ڈالرز فی بیرل ہوگیا ہے۔
اس پہ حکومت کو شرم دلائیں۔۔قصیدے پڑھنے سے کچھ نہیں ہونا۔
کم از کم احتجاج کرتے رہیں۔۔بے غیرتی کی چُپ یا چاپلوسی سے اپنا ضمیر بچائیں۔
بات ہورہی تھی۔۲۰۰۸ سے دو ہزار تیرہ کے دور حکومت کی۔۔
جس کا سیاق وسباق دیا پچھلے ٹوئٹ میں۔
ابھی تو الیکشن دوہزار آٹھ کا سیاق و سباق نہیں دیا
این آر او - NROکا ذکر نہیں کیا۔
جب میاں برداران کوالیکشن لڑنےہی نہیں دیاگیاتھا۔
تو بس اتنا کہنا ہے
اتنی نہ بڑھا پاکئ داماں کی حکایت
مُحسن نقوی کے بیان کے بعد بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ
اگر اسٹیبلشمنٹ کا شہباز شریف جیسے بندے سے بھی گزارہ نہیں ہے تو پھر بھلے کوئی فرشتہ بھی وزیر اعظم بنا لیں اُس سے بھی نہیں ہوگا۔
نوٹ: دُنیا ادھر کی اُدھر ہوجائے شہباز شریف اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرینگے۔
اعلان ختم ہوا۔
فائنلی پاکستان نے اپنے ڈرونز کو زیادہ ٹائم کے لیے ہوا لگوانا شروع کر دی ھے
پاکستان کے شاہپر ٹو (Shahpar-2) ڈرون نے بلوچستان کے علاقے نوشکی میں بھارتی حمایت یافتہ بی ایل اے (BLA) کے ایک بنکر کو تباہ کر دیا، جس بی ایل اے کے 8 کتے ہلاک ہو گئے۔
MADE IN INDIA, USED IN GAZA
A new Amnesty International report reveals India sent thousands of military shipments to Israel between Oct 2023 and Nov 2025, aiding war crimes in Gaza. Amnesty demands an immediate end to all arms transfers.
https://t.co/p42csTb5Ik
🚨🚨🚨🚨
شاہزیب خانزادہ کا بلاول زرداری کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ 🖐️🖐️
میں بغیر حلف کہہ سکتا ہوں کہ ’’میں کچھ عرصہ پہلے لاہور گیا تھا، لاہور اور کراچی میں زمین آسمان کا فرق آگیا ہے، بطور کراچی کے شہری مجھے افسوس ہورہا تھا''
#دھاندلی_ماسٹر_پی_پی_پی
راولاکوٹ جامعہ مسجد کے امام حافظ سعید کا وڈیو بیان منظر عام پر آ گیا۔ 27 جولائی کی رات بارہ بجے کالعدم کن کترا کمیٹی کے اسلحہ بردار غنڈے مسجد میں زبردستی گھسے اور امام کو مسجد سے باہر نکال دیا۔ اگلے پورے دن انہوں نے مسجد میں نماز نہیں پڑھنے دی۔
اس کے بعد اسی گروپ نے رینجرز اور پولیس کو اوپر بلااشتعال فائر شروع کر دیا۔
یقیناً اس بیان کو سن کر بھی چند نام نہاد تجزیہ کار پھر بھی ان کن کتروں کا رنڈی رونا روئیں گے کیونکہ انہیں حب کن کترا نہیں بلکہ بغز ریاست ہے۔
پاکستان کی عوام کا مطالبہ صرف ایک ہے کہ ان کن کتروں کو پکڑ کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے پھینکو
اچھا واقعی تبھی سندھ بٹا تھا چوتھی مرتبہ بلیک میل کرکے ہیں نا؟
تب قیامت نہیں آئ جب گھر کی سیٹ کے لئے مخالف امیدوار غائب کیے یا جب بلدیاتی انتخابات چوری کئے اور ہمیشہ “قومی مفاد” میں بلیک میلینگ سے 18 سال سے سندھ پہ قبضہ کرکے بیٹھے ہیں،وڈے انقلابی،جعلی جمہوری
وزیر داخلہ محسن نقوی نےنئےانتظامی یونٹس کےقیام کی بحث چھیڑ دی، نظام کی ناکامی کا اعتراف بھی کرلیا۔۔ مینڈیٹ چھینا گیا تو آپ کا تخت چھیننے آئیں گے، بلاول بھٹو کی دھمکی ۔ آزادکشمیر اسمبلی نےسچ اور مفاہمت کے کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور کرلی۔ تفصیلات دیکھئے
امیروں کو لوٹنے والا ۔۔ 26 ارب لوٹ لئے ۔۔
کوئی بتا بھی نہیں سکتا اس کا ڈسا ہوا ۔
یہ علی ورک ہے ۔ اس نے انوکھا آئیڈیا سوچا ۔ پنجاب کے بڑے افسران تک رسائی حاصل کی ۔ انہیں پرتگال کی شہریت اور وہاں پر پراپرٹی خرید کر ان کی بالائی آمدنی سرمایہ کاری کے نام پر محفوظ بنانے کا جھانسہ دیا ۔
بڑے بڑے افسران ۔۔ بلکہ بہت ہی بڑے افسران اپنے محفوظ مستقبل کے لئے اس کے اردگرد منڈلانے لگے ۔
کامونکی میں اس کی شادی ہوئی تو پنجاب کی بڑی سے بڑی بیوروکریسی وہاں کئی دن تک تقریبات میں بھنگڑے ڈالتی رہی ۔ اب لڑکے نے کمال دکھا دیا ۔ سب کو بتا رہا ہے کہ پرتگال والوں نے دھوکہ کر دیا ہے ۔ سب سرمایہ ڈوب گیا ہے ۔
اب بڑے بڑے افسران کسی کو بتا بھی نہیں سکتے کہ کس کی کتنی دولت تھی ۔
کیونکہ پھر یہ بھی بتانا پڑے گا کہ اتنی دولت آئی کہاں سے ہے ؟؟ یہ پہلی کہانی نہیں ایسے کئی چارلس سوبھراج ہوتے ہیں جو ایسے زرخیز آئیڈیا سوچتے ہیں ۔ بڑے بڑے لوگوں کو چونا لگا جاتے ہیں
چوروں کو پڑ گئے مور ایسے موقع پر ہی کہا جاتا ہے۔۔۔
منقول
کسی اور مُلک میں اس طرح وزیرِداخلہ آ کر سسٹم کی ناکامی کی بات کر کے جاتا تو ابتک اُسے فارغ کرنے نوٹیفیکیشن آ چکا ہوتا چونکہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے یہاں سب چلتا ہے یہاں عزت غیرت کا معیار ہی الگ ہے
بائی دا وے عوام کو سلام ہے جس نے اس کی ٹھیک ٹھاک چھیترول کر دی ہے 🙌🏻🙌🏻
جب آپ نے تین روپے کی بجلی دی تو یہ فساد کی وہ پہلی اینٹ تھی جو آپ نے خود رکھی ایکشن کمیٹی اتنی بڑی ٹرافی لے کر گئی اور عوام کو کہا ہمارے ساتھ آؤ ہم جو چاہیں لے سکتے،
اب یہ مذکرات ہو جائیں معاملہ حل بھی ہو جائے تو یہ کوئی اور ڈیمانڈ لے آئیں گے،
ہاتھوں کی لگائی گرہیں دانتوں سے کھولنی پڑتی ہیں..!