مشہد۔ 1939 کی سردی۔
گلی اتنی تنگ تھی کہ دو آدمی ایک ساتھ نہیں گزر سکتے تھے۔
دیواروں پر مٹی تھی۔ چھت پر سوراخ تھے۔
اور ایک گھر میں ایک بچہ پیدا ہوا ۔
بچہ آیا تو رویا نہیں۔
آنکھیں کھول کر چھت کو دیکھتا رہا۔
جیسے پہلے سے جانتا ہو کہ اس نے یہاں نہیں رکنا۔
نام رکھا گیا علی۔
باپ مدرس تھا۔ جیب میں پیسے نہیں تھے۔
مگر گھر میں کتابیں دیواریں تھیں۔
بچہ سوال کرتا۔ ابا ہم غریب کیوں ہیں؟
باپ ہنس کر کہتا۔ بیٹا ہمارا پیٹ خالی ہے۔ دل نہیں۔ ہمارا دل حسین سے بھرا ہے۔
وہ جملہ اس کے کان میں نہیں گیا۔
وہ سینے میں جا کر چبھ گیا۔
اور وہیں رہ گیا۔ قبر تک۔
جوانی آئی تو مدرسے کی چٹائی پرانی ہو گئی۔
وہ اٹھا اور سڑک پر نکل گیا۔
شاہ کا زمانہ تھا۔ ایک لفظ بولنا گناہ تھا۔
اس نے بولا۔
پہلی بار پولیس آئی۔ ہتھکڑی پہنائی۔
دوسری بار کوڑے برسے۔ پیٹھ لہو لہان ہو گئی۔
تیسری بار بیرجند پھینک دیا گیا۔ ریت تھی۔ دھوپ تھی۔ تنہائی تھی۔
رات کو وہ ریت پر لیٹ جاتا۔
اوپر ستارے ہوتے۔
وہ ستاروں سے کہتا۔ دیکھو۔ میں اکیلا نہیں ہوں۔ حسین بھی میرے ساتھ ہے۔
اور رو دیتا۔ اس لیے نہیں کہ تکلیف تھی۔
اس لیے کہ امت سوئی ہوئی تھی۔
1981 کی گرمی تھی۔
27 جون۔ ہفتہ کا دن۔
تہران کی ابوذر مسجد بھری ہوئی تھی۔
وہ منبر پر تھا۔ جنگ سے واپس آیا تھا۔
جوانوں نے کاغذ پر سوال لکھے تھے۔
ایک نوجوان آگے بڑھا۔ میز پر ٹیپ ریکارڈر رکھا۔ کہا آغا ریکارڈ ہو جائے۔
ایک منٹ۔
صرف ایک منٹ۔
پھر سیٹی کی آواز آئی۔ اور دھماکہ۔
دھواں۔ چیخیں۔ خون۔
جب دھواں ہٹا تو وہ زمین پر تھا۔
دایاں بازو گوشت کے لوتھڑے کی طرح لٹک رہا تھا۔
شیشے دل میں گھس گئے تھے۔
اسے بہارلو ہسپتال لے گئے۔
ڈاکٹر نے جھک کر کہا۔ آغا معاف کرنا۔ یہ بازو اب کام نہیں کرے گا۔
وہ ہنسا۔ خون تھوکتے ہوئے ہنسا۔
بایاں ہاتھ اٹھایا اور کہا۔ ڈاکٹر۔ قلم ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ دل میں ہوتا ہے۔ میرا دل ابھی زندہ ہے۔
اسی سال وہ صدر بن گیا۔
1981 سے 1989 تک۔
ایران آگ میں تھا۔ عراق سامنے تھا۔
وہ صدارتی کرسی پر نہیں بیٹھا۔
وہ خندق میں بیٹھا۔
ایک 17 سالہ بچے کا سر اس کی گود میں تھا۔ سر کا آدھا حصہ نہیں تھا۔
بچہ پوچھ رہا تھا۔ آغا میں مر تو نہیں جاؤں گا؟
اس نے بچے کے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ اور کہا۔ نہیں بیٹا۔ تم زمین پر نہیں مرو گے۔ تم آسمان پر لکھے جاؤ گے۔
28 جون 1989۔
امام خمینی کا جنازہ تھا۔
لاکھوں تھے۔ مگر سب یتیم تھے۔
مجلس خبرگان نے اعلان کیا۔
پرچم اس زخمی کے ہاتھ میں۔
وہ پرچم نہیں تھا۔ وہ نیزہ تھا۔
اور وہ 36 سال اس نیزے پر کھڑا رہا۔
نہ سویا۔ نہ جھکا۔ نہ بکا۔
دنیا نے کہا یہ گر جائے گا۔
وہ کہتا رہا۔ حسین والے گرتے نہیں ہیں۔
پابندیاں آئیں۔ جیسے زنجیریں۔
اس نے زنجیروں کو توڑ کر یونیورسٹی بنا دی۔
کہا روٹی کم ہے تو کیا ہوا۔ دماغ تو ہے۔
1989 میں 70 فیصد لوگ پڑھ سکتے تھے۔
وہ چلا گیا۔ 94 فیصد کر گیا۔
لڑکیاں گھروں سے نکلیں۔ لیب میں گئیں۔
نینو ٹیکنالوجی میں ایران دنیا کا چوتھا ملک بن گیا۔
سٹیم سیل میں دسواں۔
2009 میں "امید" نامی سیٹلائٹ خود بنایا۔ خود چھوڑا۔
15واں ملک تھا وہ۔
فیکٹریوں کے سائرن بجے۔
ڈرون بنے۔ میزائل بنے۔
اس نے کہا۔ جو قوم اپنی تلوار خود نہیں بناتی۔ وہ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلاتی ہے۔
مگر رات کو جب سب سو جاتے۔
وہ اکیلا جاگتا۔
اور روتا۔ کیوں؟
کیونکہ امت ٹوٹی ہوئی تھی۔
شیعہ سنی کے نام پر گالیاں۔
منبر سے خون۔
اس نے ایک کہا۔ بس۔
مقدسات اہلسنت کا احترام واجب ہے۔
جو تفرقہ ڈالے استعمار کا آلہ کار ہے ۔
پھر ہاتھ اٹھا کر کہا۔
ہمارا قبلہ ایک ہے۔ مکہ۔
ہمارا دشمن ایک ہے۔ تل ابیب۔ واشنگٹن۔
شیعہ سنی بھائی ہیں ۔
قلم اٹھایا۔
"انسان دو سو پچاس سالہ" لکھی۔
کہا علی سے خمینی تک ایک ہی خون ہے۔ بس نام بدلتے ہیں۔
"فلسطین" لکھی۔
کہا قدس پتھر کا ٹکڑا نہیں ہے۔ قدس امت کا دل ہے۔
دل نکالو گے تو لاش اٹھانا پڑے گی۔
پھر وہ صبح آئی۔
28 فروری 2026۔
رمضان تھا۔ وہ روزے سے تھا۔
تہران کے ایک گھر میں۔
مصلہ بچھا تھا۔ قرآن کھلا تھا۔
انگلی سورہ یاسین پر تھی۔
اچانک آسمان پھٹا۔
دیوار موم کی طرح پگھل گئی۔
چھت گر گئی۔
وہ گرے۔
خون قرآن کے صفحوں پر گرا۔
اور وہ مسکرائے۔ آخری سانس میں مسکرائے۔
بیٹی بشرا بھی تھی۔
باپ کے ساتھ کھڑی تھی۔ باپ کے ساتھ گر گئی۔
داماد مصباح الہدیٰ بھی تھا۔
گھر کا سہارا۔ وہ بھی مٹی ہو گیا۔
نواسی زہرا۔ 14 ماہ عمر ۔
وہ ملبے کے نیچے دب گئی۔
ہاتھ میں گڑیا تھی۔
سانس نہیں تھی۔
ایک میزائل۔
ایک خاندان۔
شہادت سے 3 دن پہلے اس نے خطبہ دیا تھا۔
لرزتی آواز میں کہا تھا۔
مجھ جیسا۔ یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔
یا حسین کی طرح جیو۔ یا حسین کی طرح مرو۔
اور وہ حسین ع سے وعدہ وفا کر گیا۔
تابوت پر عمامہ پڑا ہے ۔
کیونکہ یہ لکڑی نہیں ہے۔
یہ آگ ہے۔
تہران بند ہے۔
مشہد بند ہے۔
کروڑوں لوگ ہیں۔ ہر ہاتھ میں تصویر۔ ہر آنکھ میں آنسو نہیں۔ خون ہے۔
اور انتقام کی صدا بلند ہے
ایران دنیا سے کہہ رہا ہے۔
سنو۔ تم نے ایک کو مارا۔
اس کا خون گلی میں بہہ گیا۔
وہ خون پاکستان کی سرحد پار کر گیا۔
عراق کے صحراؤں میں اتر گیا۔
یمن کے پہاڑوں میں گونج گیا۔ لبنان کے گھروں میں اتر گیا۔
ہر گھر میں وہ خون ہے۔
ہر سینے میں وہ آگ ہے۔
ہم کہتے ہیں۔ فکر کی قبر نہیں ہوتی۔
4 جولائی سے 9 جولائی۔ تین دن۔
دنیا دیکھے گی۔
مشہد کے امام رضا کے روضے میں مٹی ملے گی۔
مگر اس سے پہلے تاریخ لکھی جائے گی۔
کہ ایک آدمی تھا۔ مٹی سے آیا۔ جیل میں پلا۔ زخم سے سیکھا۔
قرآن پڑھتے ہوئے شہید ہوا۔
اور امر ہو گیا......
🔴 چینی میڈیا نے امریکہ کے 250ویں یومِ آزادی کے موقع پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا:
"موم بتیاں بجھانا، ممالک کو دھماکوں سے اڑا دینا۔"
"امریکہ نے اپنی تقریباً 250 سالہ تاریخ میں مجموعی طور پر 20 سال سے بھی کم عرصہ جنگ کے بغیر گزارا ہے۔"
@RShahzaddk سیاستدان خود ہی قصوروار ہیں اس ملک کے لئے اگر اخلاص ہوتا ان میں تو فیلڈ مارشل یہاں نہ ہوتے پاکستانی اس بات پر ہی شکر ادا کریں کے چلو کوئی تو ہے جو ان معاملات کو احسن انداز میں سنبھال رہا ہے چاہے فیلڈمارشل ہی سہی امریکہ اور اسرائیل نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی اس خطے کو تباہ کرنے میں
@khan_hizb49485@RShahzaddk Wesy aik bat h itny hangami halat mein 25 karor logon k paas aik bh QABILE e slahiyat party ya leader NHi hy ..
To kya is be simat 25 karor rewarr ko easy hi chor Dena chahye q k field marshall ko siyasat me itnii space NH DENI chahye. Wah
⚡️ SON DAKİKA | HAN YUNUS’TA YENİ KATLİAM
İşgalci siyonist İsrail, Gazze Şeridi’nin güneyinde, Han Yunus’un doğusunda yerinden edilmiş aileleri hedef aldı.
İlk bilgilere göre saldırıda 15 Filistinli şehit oldu.
Çadırları, evleri, yolları, hastaneleri, çocukların uykusunu ve annelerin duasını hedef alan bu vahşet; artık savaş değil, dünyanın gözü önünde sürdürülen açık bir insanlık suçudur.
Gazze yalnız bırakıldıkça katliam büyüyor.
Suskunluk, bombaların gölgesinde tarafsızlık değil; zulme verilmiş sessiz bir onaydır.
Gazze için konuş.
Han Yunus için ses ver.
Katliama sessiz kalma.
#Gaza #KhanYounis #Gazze #FreePalestine #StopTheGenocide