🚨🚨
بہت ہی نازک صورتحال جزوقتی صحافی عُمر چیمہ نے پہلے انکار کیا کہ میں نے تو کبھی کہا ہی نہیں ساتھی صحافی اعزاز سید نے پکڑ لیا کہ وہ ریکارڈ سے ثابت کرسکتے ہیں کہ عُمر چیمہ نے کہا ہے تو موصوف جزوقتی صحافی فرماتے ہیں میں نے وثوق سے نہیں کہا تھا۔۔ پھر کہتے دوسروں کو فیک نیوز ہیں!
پچھلے دنوں میں بھی یہی سوچ رہی تھی کہ قرآن کو سمجھے بغیر ایک مسلمان مرگیا تو وہ تو بہت گھاٹے میں رہا کیونکہ اسکو علم ہی نہیں کہ اللہ نے اس میں کیا کہا ہے اور اب ڈاکٹر صاحب کی یہ ویڈیو دیکھی ۔۔۔حق بات کی ہے انہوں نے۔ اللہ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاکرے، آمین
🇵🇰 Dr Uzma Khan, sister of jailed former PM Imran Khan, had her Lahore bedroom door kicked in by police during a late-night raid!!
Boot prints remain on the splintered wood. She and sisters Aleema and Noreen were detained 30 days under MPO ahead of PTI’s Sept 27 march.
@PTIofficial / Writer: Oliver
یہ میرا گھر ہے جس کو تباہ کر دیا گیا قصور یہ کہ وزیراعلی سہیل آفریدی کو گھر میں رہنے کے لیے جگہ کیوں دی ؟ میرے گھر کی کوئی چیز نہیں چھوڑی قیمتی چیزیں ساتھ لے گئے ہیں
میں کس سے سوال کروں ؟ کونسی عدالت مجھے انصاف دے گی کیا کوئی عدالت پوچھے گی ؟ یہ کس نےکیا ہے ایجنسیوں نے کیا ہے پولیس نے کیا ہے پنجاب حکومت نےکیاہے کس کیا ہے ؟
ہمارے خون پسینے کی کمائی سے بنا گھر آج تباہ کر دیا گیا۔ ہم کہاں رہیں کہاں جائیں؟ کوئی ہے مجھے انصاف دلوانے والا؟
اسحاق ڈار نے سارک کانفرنس کے نام پر 34 بلٹ پروف گاڑیاں کروڑوں روپے میں منگوائیں۔ کانفرنس نہ ہوئی تو نواز شریف نے مبینہ طور پر 20 سرکاری گاڑیاں ’’مالِ مفت، دلِ بے رحم‘‘ سمجھ کر اپنے پاس رکھ لیں اور کچھ خاندان کے افراد کو بھی دے دیں۔
یعنی عوام کے پیسے سے خریدی گئی گاڑیاں، عوام کے خزانے سے خرچ، اور فائدہ شریف خاندان کا؟ 2019 میں عمران خان کے دورِ حکومت میں نیب نے رائے ونڈ سے یہی گاڑیاں برآمد کیں۔
میں براہِ راست عاصم منیر سے سوال کرتا ہوں۔۔
کبھی تم صوبے بنا رہے ہو، کبھی صدر بن رہے ہو، کبھی مارشل لا لگا رہے ہو۔ عاصم منیر، تم ہو کون؟ تم نے پاکستان کو سمجھ کیا رکھا ہے؟ تم ایک عام چوکیدار ہو، تمہاری حیثیت عام شہری سے بھی کم ہے۔ تمہاری زمینیں، تمہارے بنگلے، کھربوں کی جائیدادیں کہاں سے آتی ہیں؟ ہم تمہیں امریکہ کے جرنیل کے برابر تنخواہ دینے کو تیار ہیں، لیکن تم جزیروں سے کم تو بات نہیں کرتے۔
صوبے بننے چاہئیں، لیکن عوام کی مرضی سے، تمہاری مرضی سے نہیں۔ میں قائداعظم کا بمبئی کا محل دیکھ رہا تھا، وہ یہاں زیارت میں پڑا تھا۔ قائداعظم نے وہ محل کیوں بنوایا؟ انہوں نے اپنی بیٹی کو نہیں دیا۔ وہ ایک مصروف ترین وکیل تھے۔ قائداعظم نے ہر چیز اپنی قوم کو دی۔
مشرف صاحب کا بیس پچیس ارب کا محل ہے، جس میں وہ ایک رات بھی نہیں رہ سکا۔ عاصم، تمہارا انجام بہت برا ہوگا، پتہ نہیں ہم ہوں گے یا نہیں۔ عوام اب ہر چیز جان چکی ہے۔ سہیل آفریدی کو کون جانتا تھا؟ اس نے اتنی عوام نکالی ہے۔
قوم عمران کو لیڈر مانتی ہے۔ وہ لاوارث نہیں ہے۔ تم کون ہو قوم کے لیڈر کا علاج روکنے والے؟ تم بتاؤ، آج تم ہو کون؟ تمہارے پاس صرف بندوق ہے۔
میں 70 سال سے سیاسی ورکر ہوں۔ تم میرا کیا کر سکتے ہو؟ مجھے 12 سال کی عمر میں آپ کے ایوب خان نے پہلی دفعہ 1964 میں جیل بھیجا۔ میں نے اسمبلی میں ضیاء الحق کو 1985ء میں کہا تھا:
اور یہی تمہیں کہتا ہوں
عاصم منیر، تمہیں بھی کہتا ہوں:
About turn quick march go back to your barracks and never come back again.
اِن جرنیلوں کو ایک ہی بات صابر شاکر نے، ارشد شریف شہید نے اور عمران ریاض نے سمجھائی تھی، کہ یہ مختلف آدمی ہے اس سے پنگا مت لینا، ملک چل رہا ہے اسے چلنے دو، لے لیا پنگا اب بھگتو،
قوم کو ایک بات پر عمران خان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے، کہ اس نے سارا کچھ قوم کو سمجھا دیا ہے، عمران ریاض
📛⛔🚨افغانستان کے صوبہ ہرات میں افغان طالبان کے ہاتھوں 30 سالہ عبدالقدیر پہلوانزادہ کو سرِعام قتل کر دیا گیا۔ آزاد افغان میڈیا کے مطابق عبدالقدیر ایک ویلڈر تھا۔ یہ کسی عدالتی فیصلے کے تحت دی جانے والی سزا نہیں بلکہ ایک بحث، اختلاف اور اقتدار کے غرور سے پیدا ہونے والا قتل ہے۔
عبدالقدیر کا واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ گزشتہ برسوں میں ہرات کے مختلف علاقوں میں چیک پوسٹوں، معمولی جھگڑوں اور پابندیوں سے متعلق معاملات پر کئی شہری قتل کیے جا چکے ہیں۔ ان واقعات کی غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات سامنے نہیں آتیں، لواحقین کو خاموش رہنے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کئی مرتبہ قاتل سزا سے محفوظ رہتے ہیں۔
یہ وہی نظام ہے جہاں انسانی زندگی کی عزت اور قدر پامال ہو جاتی ہے۔ عدالت کا کوئی کردار نہیں، ثبوت کی ضرورت نہیں اور دفاع کا حق بھی نہیں — صرف بندوق، اشتعال اور طاقت فیصلہ کرتی ہے۔ کسی عام انسان کو گولی مار کر پھر خاموشی اختیار کرنا انصاف نہیں، کھلا ظلم ہے۔
افغانستان میں آج بھی عام لوگ اس خوف کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں کہ کوئی بات، کوئی نگاہ یا کسی معاملے پر اختلاف ان کے لیے موت کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسی وحشیانہ روش ہر معاشرے کے لیے تباہ کن اور قابلِ مذمت ہے۔
#Herat #Afghanistan #HumanRights #Taliban #افغانستان