🚨🚨
Immediately after @OfficialDGISPR hours long press conference, @SAMAATV launched transmission for “reset of governance system”. Important to note Samaa TV is owned by @abdul_aleemkhan, chairman Istehkaam e #Pakistan party and federal minister for communication and highways!
بلوچ سردار اور ایلیٹ کاروبار کے نام پر ہم سے اسمگلنگ کے پرمٹ مانگتے ہیں کہ ہم نے ڈیزل لانا ہے، منشیات لانی ہیں اگر تم یہ روکو گے تو میں دہشتگردی کرواؤں گا،کوئی پیسہ نہیں ملے گا پیسہ صرف بلوچستان کے عوام کے پاس جائے گا
ملعون سینٹر مشتاق دجال نےکل کہاکہ مجھےراولاکوٹ میں شھید کوٹلی کےکامران الیاس کی ماں نےکال کی ہےکہ میرےبیٹےکاجنازہ تم پڑھاو۔
جبکہ اگلے دن شھید کامران الیاس کا ویڈیو بیان ایا کہ میں زندہ ہوں۔ آپ اس منافق کی ملک دشمنی افواج دشمنی کا اندازہ لگائیں۔
اتنی بڑی بڑی باتیں کرنے کی ہمت تو کبھی کسی منتخب نمائندے کو بھی نہیں ہوئی, حتیٰ کہ وزیراعظم کو بھی نہیں-
کہاں سے آتی ہے یہ طاقت, یہ ہمّت, یہ حوصلہ؟
سسٹم ری سیٹ کرنے کی بات تو کبھی قائد محترم نے بھی نہیں کی....!!!
یہ نقوی بھائی کرنے کیا جا رہے ہیں؟
علیم خان صاحب کے پاس self respect نامی کوئ چیز ھے تو اس بیان کے ساتھ استعفیٰ دیں اور حکومت مخالف بینچوں پہ بیٹھنے کا اعلان کریں ۔ حوصلہ کریں ۔ صرف بیان نہ دیں ۔ راوی کنارے لوگ جنکو چونا لگا ھے وہ پچھلے سال سے رو رہے ھیں ۔ اسمبلی کا اجلاس آنے والا ھے۔ دیکھتے ھیں صرف بھڑکیں ھیں یا کوئ استعفی دے کر کشمیری بھائیوں کے ساتھ راوی کنارے رہنے والے متاثرین کے ساتھ بھی محبت اور یک جہتی کا اظہار کریں ۔ سیاست کبھی کبھی کوئ شرم کوئ حیا بھی مانگ لیتی ھے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے جس طرح ٹی وی کیمروں کے سامنے وزیراعظم شہباز شریف کی چار سالہ کارگردگی کا پوسٹ مارٹم کیا،اس سے 1998 میں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کی نیول اسٹاف کالج لاہور میں کی گئی تقریر یاد آگئی جب انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ سول ملٹری تنازعات پر نیشنل سیکورٹی کونسل کی تجویز دی تھی۔بارہ گھنٹے میں نواز شریف نے جنرل کرامت کا استحفی لے لیا تھا۔
شہباز شریف خود گورنس میں اپنی ناکامی کا اعتراف کر کے چھوڑ دیں یا وزیر کو کہیں وہ چھوڑ دے۔لیکن لگتا ہے دونوں قابل احترام صاحبان اپنی اپنی اسی تنخواہ پر ہی کام کرتے رہیں گے۔ 😊