کوئی بھی کپتان کے اس روشن اور مسکراتے چہرے کو جتنا چاہے توڑے، مسخ کرے یا بے عزت کرنے کی کوشش کرے،
لیکن یہ بات ہمیشہ یاد رکھے کہ یہ چہرہ اب پاکستانیوں کے سینوں میں بس چکا ہے۔
اسے دل سے نکالنا اب کسی کے بس کی بات نہیں۔
#ReleaseImranKhan
عمران خان، وہ نام جو 1992 میں پاکستان کے ہر دل کی دھڑکن بن گیا تھا۔ وہ ہیرو جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور ہمیں وہ ورلڈ کپ جیت کر دیا جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ ان کی قیادت، ان کا جذبہ، اور ان کی محنت آج بھی ہماری یادوں میں تازہ ہے۔
لیکن آج... وہی چہرہ، وہی ہیرو، حکومت کے ڈر اور خوف کی وجہ سے چھپایا جا رہا ہے۔ ایک ایسا لیڈر جس نے ملک کی خاطر سب کچھ قربان کر دیا، اسے آج ایک قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے۔
کیا یہ انصاف ہے؟ کیا ہم اپنے ہیروز کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں؟
The moment that defined Pakistan’s sporting history, led by the man who would later lead the nation.
Imran Ahmed Khan Niazi, a champion on the field and Pakistan's legitimate Prime Minister, inspired generations with one unwavering belief: never stop fighting.
اج اپ سب لوگوں کے ٹائم لائن پر یہ تصویر نظر انی چاہیے جن کو خان صاحب کی کامیابیوں سے ۔۔۔ان کے چہرے سے تکلیف ہے۔۔ ان کو ان کی اوقات دکھائیں
#FreeImranKhan
اج 92 ورلڈ کپ فائنل میچ دوبارہ وائرل ہے 🔥
کیوںکہ کل آمریکی اوورسیز پڑھے لکھے جاہل ڈاکٹروں نے عاصم منیر کو خوش کرنے کے لیے عمران خان کے چہرے کو Blur کیا تھا! @APPNA
بیشرم تنخواہ دار ڈاکٹر تمھاری ہمت کیسے ہوئی!!