سانحہ زیارت پر وہ دھرنا ابھی بھی جاری ہے جس کی سارے الیکٹرانک میڈیا پر خبر چلا دی گئی تھی کہ وزیر اعلی سرفراز بگٹی نے تسلیاں دیکر اور وعدے کر کے دھرنا ختم کروا دیا ہے۔
یہ جھوٹ بھی وہ بولتے ہیں جو اسی وقت پکڑا جائے۔
@jazzpk
کیا بدمعاشی ہے کہ یہ خود ہی ایک پیکج لگا دیا ہے اور اب، جب میں اب LEECH سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہا ہوں تو یہ ان سبسکرائب نہیں ہو رہا۔۔۔۔؟؟
@pta#telecom companies are looting #Pakistani right under ur nose and with your protection.
#telecomFraud
جس کے سر پر نیلے پاسپورٹ والا کھانچہ لگایا اگر اس کیلئے بھی کچھ کر لیتے تو شاید معاف کر د��تے
یہ بلیو پاسپورٹ تو چھوڑیں ایک بلیو ��ک پر بھی بک جانے والے لوگ تھے
ٹھیک ایک ہفتے بعد کسی کو نہ اسحاق ڈار یاد ہوگا نہ اسکا نواسہ اور نہ ہی غیرملکی متاثرہ خاتون.
وہ عمران خان ہی تھا جو ایک جینوئین ایشو کو لے کر کہرام برپا کر دیتا تھا. کبھی پریس کانفرنس تو کبھی جلسہ تو کبھی انٹرویو ہرجگہ آگ لگا دیتا تھا.
اب تو ہر طرف اس ناجائز حکومت کے اسکینڈل بکھرے پڑے ہیں لیکن اپوزیشن ستو پی کے سوئی پڑی ہے.
@GepcoTeam3@Gepcocrc1
گجرات فیضان مدینہ فیڈر میں رات کو تقریب��ً 7 مرتبہ بجلی بند کی گئی، کبھی 1 گھنٹا، کبھی آدھ گھنٹا اور کچھ منٹ کے لیے ۔۔ اوپر سے گرمی الگ
رات کو جاگ جاگ کر بندے آپکو سلامی ہی پیش کرنی ہوتی ہے۔ ا
#loadshedding #gujranwala #gujrat #pakistán
ویسے ہے تو یہ زبردست کام اگر بھارتی انتہا پسندوں نے اسکو ٹکنے دیا تو ۔۔۔
تامل ناڈو کے وزیر اعلیٰ بھارتی اداکار وجے کا دبنگ اعلان میرے صوبہ میں جس کی ہاں بھی بیٹی پیدا ہوگی وہ کسی بھی مذہب سے ہو وہ اپنا رجسٹریشن کروائے اس کی بچی کو سونے کی انگوٹھی فوراً ملے گی اور اس کے نام پر ایک اکاؤنٹ کھولے گا جس میں ہماری سرکار ہر ماہ رقم ٹرانسفر کرئے گی جب بچی اٹھارہ سال کی ہو جائے گی تو اس کو اس فنڈ سے پندرہ لاکھ روپے ملیں گے تا کہ وہ کسی پر بھی بوجھ نہ ہو اور اپنا مستقبل خود طے کرسکے
9 سالہ منتہی کا قاتل پولیس حراست میں مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا گیا
اگر آپ اس پر خوش ہیں تو آپ سے بڑا کوئی احمق نہیں۔ یہ انصاف سے مذاق ہے۔
ملزم کو سزا ضرور ملنی چاہیئے لیکن اگر یہی کچھ کرنا ہے تو ہم ہزارہا عدالتوں اور لاکھوں ججز کا خرچ کیوں برداشت کر رہے ہیں۔ چار جلاد اور چند سو گولیاں کافی ہیں۔
یہی وہ لاقانونیت ہے جس کی وجہ سے اس ملک میں الیکشن لوٹ لئے جاتے ہیں
جائز حکومتیں الٹ دی جاتی ہیں۔ ایک ایک شخص کو ایک ہی دن پانچ پانچ مختلف شہروں کے مقدمات میں نہ صرف ملوث کیا جاتا ہے بلکہ سزا بھی سنا دی جاتی ہے
ایک سپرنٹینڈنٹ جیل سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے احکامات ماننے سے انکار کر دیتا ہے اور کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
ایک کمشنر سرعام جرم کا اعتراف کرتا ہے مگر اس کے شریک جرم اسے غائب کر دیتے ہیں
پاکستان لاقانونیت کا شاہکار اسی وجہ سے ہے کہ ہم نے سلیکٹڈ انصاف قبول کر لیا ہے
جن لوگوں نے ایسے نام نہاد مقابلوں میں ماورائے عدالت قتل کئے صرف انہیں نہیں بلکہ ان کی پشت پناہی کرنے والے افسران اور حکومت کو بھی اس کٹہرے میں کھڑا کرنا ضروری ہے جہاں کوئی منشی نہیں "جج" بیٹھا ہو ۔
سنا ہے جنگل کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے
آپ کو میری بات بری لگے گی۔ لگنی چاہیے۔ جذبات کا تقاضا ہے۔ کسی بھی کم سن بچی سے زیادتی اور اسکے قتل کے ملزم کو یا کسی بھی گھناونے جرم میں گرفتار شخص کو پولیس مقابلے میں پار مت کیجیے۔ اس کا عدالتوں میں ٹرائل کیجیے۔ ڈی این اے ، فنگر پرنٹس ، سیمنز اور وغیرہ وغیرہ کو قانون شہادت کا حصہ بنائیے۔ تفتیش کے نظام میں جدت لائیے۔ کرپشن، رشوت کو ختم کیجیے۔
پھر اس معاشرے کی سوچ کو بدلیے۔ یہاں تعلیم عام کیجیے۔ منشیات کا خاتمہ کیجیے۔ گندی فلموں پر سخت پابندی عائد کیجیے۔ یا علماء کی بات تسلیم کرلیجیے اور شادی و نکاح کو آسان کیجیے، یا پھر لبرل طبقات کی مان لیجیے اور یہاں غیر نصابی تفریحی سہولیات آنے دیجیے انہیں پھلنے پھولنے دیجیے تاکہ معاشرے کی جنسی فرسٹریشن کم ہو۔
نکاح آسان تب ہوگا جب معاشرے میں معاشی استحکام ہوگا۔ اٹھارہ بیس سال کے لڑکے کا نکاح اور کامیاب ازدواجی زندگی تبھی ممکن ہوگی جب اسکے پاس روزگار ہوگا۔ اپنا گھر ہوگا۔ معاشی تحفظ ہوگا۔ تعلیم و علاج کی سہولتیں میسر ہوں گی۔ پھر کہتے ہیں یہ ہر چیز کو فوج سے نتھی کردیتا ہے۔ فوج اس ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ فوج کا بٹھایا ہویا چوروں کا ٹولہ پاکستان پر دہائیوں سے مسلط ہے۔ اسکو واپس بیرکوں میں واپس بھیجیے۔ اس ملک میں سزا و جزا کا نظام قائم کیجیے۔ کسی جرنیل کی رکھیل نہیں آزاد عدالتوں کا قیام ممکن بنائیے۔ وہ عدالتیں جن پر عوام کا اعتماد ہو۔
اور یہ کیجیے ، بنائیے ، ہوجائیے آسمان سے نہیں اترنے والا۔ ہاتھ پاؤں ہلائیے۔ ورنہ یوں دنیا کا بدترین معاشرہ بن کر رہتے چلے جائیے۔
ایک آدمی انجیکشن لگوا کر گھر آیا
کچھ منٹوں میں ان کا ناک، کان اور منہ سوج گیا۔
نه نه! یه کوئی سائیڈ ایفیکٹ نہیں تھا ،
اس نے صرف یه بیوی کو بتایا تها که انجیکشن والی نرس بہت اچھی اور خوبصورت تھی۔
14 سو سال سے بھی پہلے کے قبیلے
بنو قریش: خانہ کعبہ کے ارد گرد مکہ کا سب سے طاقتور اور معزز قبیلہ "قریش" آباد دکھایا گیا ہے۔
یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آبائی قبیلہ تھا۔
بنو ہاشم: خانہ کعبہ کے بالکل قریب بنو ہاشم کی نشاندہی کی گئی ہے، جو قریش کی ہی ایک معزز ترین شاخ ہے اور اسی خاندان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق تھا۔
۲. مدینہ منورہ اور اس کے قریبی مقامات (بالائی حصہ)
تصویر کے اوپری حصے میں م��ینہ منورہ (یثرب) کا سرسبز و شاداب علاقہ اور نخلستان دکھائے گئے ہیں۔
مسجد نبوی: مدینہ کے مرکز میں سبز گنبد کے ساتھ مسجد نبوی کی عمارت دکھائی گئی ہے، جو ہجرتِ مدینہ کے بعد مسلمانوں کا مرکز بنی۔
جبلِ احد (احد پہاڑ): مدینہ منورہ کے پس منظر میں تاریخی پہاڑ "جبل احد" نظر آ رہا ہے، جہاں غزوہ احد کی مشہور جنگ لڑی گئی تھی۔
بنو اوس اور بنو خزرج: مدینہ منورہ کے دائیں اور بائیں طرف ان دو بڑے قبائل کے نام درج ہیں۔ یہ مدینہ کے مقامی انصار قبائل تھے جنہوں نے ہجرت کے بعد مسلمانوں کی دل کھول کر مدد کی تھی۔
۳. مکہ اور مدینہ کے درمیانی مقامات اور وادیاں
مکہ سے مدینہ جانے والے تجارتی او�� ہجرت کے راستے پر درج ذیل مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے:
وادی فاطمہ: نقشے کے درمیان میں ایک سرسبز نخلستان اور پانی کا چشمہ نظر آ رہا ہے جسے "وادی فاطمہ" لکھا گیا ہے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مشہور اور زرخیز وادی ہے۔
طائف: مکہ کے پہاڑی سلسلے کے ساتھ دائیں جانب "طائف" کا علاقہ دکھایا گیا ہے، جو اپنی سرد آب و ہوا اور باغات کے لیے مشہور تھا۔
۴. دیگر تاریخی قبائل (درمیانی اور صحرائی علاقے)
مکہ اور مدینہ کے ارد گرد کے وسیع صحرائی علاقوں میں عرب کے دیگر مشہور قبائل آباد تھے جن کے نام تصویر میں درج ہیں:
بنو تمیم: یہ نجد اور حجاز کے درمیانی علاقوں کا ایک بہت بڑا اور جنگجو قبیلہ تھا۔
بنو کنانہ: قریش کا قریبی قبیلہ جو مکہ کے نواح میں آباد تھا۔
بنو بکر: یہ بھی حجاز کے ارد گرد آباد ایک مشہور عرب قبیلہ تھا۔
بنو اسد: مکہ اور مدینہ کے درمیانی صحرائی راستوں پر آباد ایک قبیلہ۔
بنو تک: نقشے کے دائیں جانب دور صحرا میں اس قبیلے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
خلاصہ: یہ تصویر عہدِ رسالت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حجاز کا ایک جامع جغرافیائی خاکہ پیش کرتی ہے، جس سے مکہ اور مدینہ کی دوری، ان کے درمیان موجود وادیوں، تجارتی راستوں (جہاں اونٹوں کے قافلے نظر آ رہے ہیں) اور وہاں آباد مختلف قبائل کی جغرافیائی پوزیشن کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔
تحریر: علی چوہدری