Today Jamaat Ahmadiyya Cardiff Chapter had the honour of holding a Tabligh Book stall. Around 400 leaflets about Promotion of Peace in the World were distributed by 3 Ansaars and 3 Khudams. Few discussions also took place.
True peace demands sacrifice.
Some think war brings peace—but real peace is a believer’s duty, not destruction’s excuse.
God’s law: greater things are saved by sacrificing the lesser.
#KhalifaOfPeace#Ahmadiyya#StopWW3#PeaceNotWar
"It is my grave fear that today’s geopolitical tensions could spiral out of control and ultimately lead to a nuclear war. Rather than learning from the horrors of the past, the world is once again engulfed in warfare and conflict."
- Hazrat Miza Masroor Ahmad (aba), Worldwide Head of the Ahmadiyya Muslim Community
🚨 BREAKING: TLP leader calls for violent takeover of Ahmadiyya mosques.
“If we won’t hand mosques to Sikhs or Hindus, how can we give them to Qadianis?”
He mocks the law—saying more police cases don’t matter.
This is blatant incitement and the state remains blind.
For over 15 years, the #CaliphofMessiah has issued warnings, especially in addresses to world parliaments, peace symposia, and letters to world leaders about the looming threat of #WW3 if sanity doesn't prevail soon enough. #STOPWW3
https://t.co/hm6AYtnXfQ
#Iran#Tehran#Israel
آپ لوگ !پارلیمنٹ کا قصیدہ بھی سُن لو جو قانون کو بہانہ اور علم الدین کی تلوار بنا کر استعمال کرتے ہیں دوسروں کے “تن سر سے جُدا “ کرنے کے لیے:
احمدیوں کو نان مسلم قرار دینے کا فیصلہ اکثر اس بنیاد پر درست قرار دیا جاتا ہے کہ یہ تو ‘پارلیمنٹ’ کا فیصلہ ہے۔ لیکن پارلیمنٹ کا ایک اور فیصلہ بھی ہے کہ اس پارلیمنٹ میں بیٹھ کر قانون سازی کون کرے گا؟ تو جو اس پارلیمنٹ میں بیٹھ کر دوسروں کے ایمان کے فیصلے کر رہے ہیں کیا خود قانونی طور پراہل ہیں پارلیمنٹ میں بیٹھنے کے ؟
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 62 اور 63 کہتا ہے کہ:
62 – اہلیت کے لیے ضروری ہے کہ:
•وہ صادق و امین ہو
•اچھے کردار کا حامل ہو
•اسلامی تعلیمات پر عمل کرتا ہو
•دیانت دار ہو، بڑے گناہوں سے اجتناب کرتا ہو
63 – نااہلی تب ہو گی اگر کوئی:
•جھوٹا ہو
•کرپٹ یا سزا یافتہ ہو
•زانی، شرابی، یا بددیانت ہو
•پاکستان یا اسلام کے خلاف بیان یا عمل کرے
اب ذرا ان ‘فیصلہ سازوں’ پر نظر ڈالیں:
•مولانا طاہر اشرفی — اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق رکن، شراب نوشی کے الزام میں پولیس رپورٹ میں باقاعدہ درج، اور میڈیا پر نشے کی حالت میں ویڈیوز وائرل ہوئیں۔
•علی امین گنڈا پور — تحریکِ انصاف کے وزیر، جلسے میں شہد کی بوتل میں مبینہ شراب لے جانے پر گرفتار ہوئے، کیس میڈیا پر چلا، اور ان کے بیانات خود تضاد سے بھرپور تھے۔
•نواز شریف — سپریم کورٹ سے صادق و امین نہ ہونے پر نااہل قرار دیے گئے۔
•یوسف رضا گیلانی — توہینِ عدالت پر سزا یافتہ، نااہل۔
•زرداری، رانا ثناء اللہ، فواد چوہدری — کرپشن، جھوٹ اور منشیات جیسے مقدمات میں ملوث۔
•پارلیمنٹ کی ویڈیوز موجود ہیں جہاں ضمیر خریدے گئے، لفافے بانٹے گئے، اور جعلی ڈگریوں والے لوگ قانون سازی کر رہے تھے۔
تو اب سوال یہ ہے: کیا ایسے بدکردار، جھوٹے، اور اخلاقی طور پر دیوالیہ لوگ یہ فیصلہ کریں گے کہ کون مسلمان ہے اور کون کافر؟
کیا شرابی، زانی، جھوٹے، کرپٹ اور بے ایمان لوگ صادق و امین کا معیار طے کریں گے؟ کیا یہی لوگ ایمان کا فیصلہ کریں گے؟
یہی وہ منافقت ہے جس کے خلاف آواز اٹھانا آج فرض بن چکا ہے۔
ایمان، اللہ اور بندے کا معاملہ ہے — نہ اسمبلی کا، نہ طاہر اشرفی کا، نہ گنڈا پور کا، نہ کسی اور گندے نظام کا۔
ایک اور سوال جو ہر باشعور انسان کو خود سے پوچھنا چاہیے:
کیا وہ لوگ، جنہوں نے 1974 میں احمدیوں کو نان مسلم قرار دیا، خود آئینی آرٹیکل 62 اور 63 پر پورے اُترتے تھے؟ کیا اُن کے اپنے کردار، قول و فعل، اور عمل واقعی اس قابل تھے کہ وہ کسی اور کے ایمان پر حتمی فیصلہ سنا سکیں؟
یاد رکھیں:
•اُس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو تھے — جنہیں بعد میں اپنے ہی بنائے گئے قانون کے تحت عدالتی قتل کا سامنا کرنا پڑا۔ اُن پر اقتدار کے لیے مذہبی شدت پسندی کو ہوا دینے کے سنگین الزامات تاریخ کا حصہ ہیں۔
•اُس وقت کی اسمبلی میں کئی ایسے اراکین شامل تھے جو ضیاءالحق جیسے فوجی آمروں کی گود میں جا بیٹھے — اپنے ہی جمہوری فیصلوں کو روندتے ہوئے۔
•کئی ممبران نے بعد میں تسلیم کیا کہ یہ فیصلہ سیاسی دباؤ اور مذہبی گروہوں کی بلیک میلنگ کے تحت ہوا، نہ کہ خالص دینی بنیاد پر۔
•کیا اُن میں سے کسی نے آج تک 62/63 کی رو سے اپنی دیانت، صداقت، اور سچائی کا ثبوت دیا؟
•پارلیمان کے قانون کے مطابق نہ وہ “صادق” تھے، نہ “امین”۔ نہ ان کا دامن کردار سے پاک تھا، نہ نیت۔
تو کیا اللہ کے دین کو سیاسی گٹھ جوڑ، دباؤ اور خوف کی بنیاد پر یرغمال بنانے والوں کو حق ہے کہ وہ یہ طے کریں کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں؟
ایمان نہ اسمبلی سے طے ہوتا ہے، نہ مولوی کے فتوے سے، نہ ووٹنگ سے۔ ایمان اللہ اور بندے کے درمیان ہے، اور اُس کا فیصلہ صرف اللہ کو زیب دیتا ہے۔
جنہوں نے دوسروں کو غیر مسلم قرار دیا، اگر اُن پر خود 62/63 کا اطلاق ہو، تو شاید اسمبلی میں کوئی بھی باقی نہ بچے۔
تحریر :سونیا خان خٹک
کراچی احمدی کا ناحق قتل:
ظلم، بے حسی اور مذہبی زوال کی داستان
(تحریر: محمد حسن الیاس)
کراچی میں ایک اور احمدی شہری کا ناحق قتل کوئی اتفاقی سانحہ نہیں۔ یہ اس مذہبی فکر کا برگ و بار ہے جو برسوں سے نفرت، تعصب اور تکفیر کی زمین میں پروان چڑھتا رہا ہے۔ یہ سانحہ محض ایک فرد پر زیادتی نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی اخلاقی زوال کی ایک لرزہ خیز داستان ہے۔
جب مذہبی اختلاف کو جان لینے کا جواز بنا لیا جائے، تو یہ محض قانون کی شکست نہیں رہتی، بلکہ پوری معاشرتی اخلاقیات کے انہدام کا باعث بن جاتی ہے۔ ہمارے وطن کی مٹی ظلم کی ایسی ہزاروں کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔
ان المیوں کی صف میں سب سے زیادہ دل خراش منظر ہمارے علما کی مجرمانہ خاموشی ہے۔ ظلم کی مذمت تو درکنار، بعض کے ہاں ظلم اب ایک ایسی بےحس روایت میں ڈھل چکا ہے جس پر نہ دل دہلتا ہے نہ ضمیر چونکتا ہے۔ کہیں قتلِ ناحق سے دستبرداری کو احسان سمجھا جاتا ہے، اور کہیں دینداری کی معراج مظلوموں کے خون سے ہاتھ رنگنے میں تلاش کی جاتی ہے۔
آج بھی جب احمدیوں کا تذکرہ ہوتا ہے، تو بعض علما کی زبانوں پر سب سے پہلے "غداری" کا فتویٰ آتا ہے۔ وہ مظلوم، جو جان بچانے کے لیے کسی بیرونی مدد کا سہارا لیتا ہے، "وطن فروش" کہلاتا ہے۔ اور جب کبھی ان کے حق میں انصاف یا ہمدردی کی بات کی جائے، تو اسے "قادیانی نوازی" کے طعنے میں لپیٹ کر دبا دیا جاتا ہے۔
کیسی عجیب منطق ہے کہ ظلم پر خاموشی دیانت کا معیار بن جاتی ہے، اور مظلوم کی حمایت غداری یا ارتداد سے تعبیر کی جاتی ہے۔ حالانکہ دین کا اولین تقاضا یہ ہے کہ حق کا علم ہر حال میں بلند رکھا جائے، خواہ مظلوم کسی بھی عقیدے یا جماعت سے تعلق رکھتا ہو۔ مظلوم، مظلوم ہوتا ہے؛ اس کی حمایت کسی عقیدے یا مسلکی شناخت کی محتاج نہیں۔ سچا ایمان تو یہ ہے کہ ہم حق کے ساتھ کھڑے ہوں، چاہے اس کے لیے ہمیں اپنے ہی قبیلے یا اپنے ہی تعصب کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا پڑے۔
جو قوم مظلوم کی حمایت کو طعنہ بنائے اور حق کی صدا پر الزامات کی بوچھاڑ کرے، وہ اپنی ہلاکت کی سند خود اپنے ہاتھ سے لکھتی ہے۔ ظلم کے خلاف غیرت وہاں ہی جاگتی ہے جہاں مظلوم ہماری پسند کا ہو؛ اور جہاں ظلم ہمارے ہاتھوں سے سرزد ہوتا ہے، وہاں ضمیر گھنی خاموشی میں دفن ہو جاتا ہے اور آنکھیں اندھے پن کی تاریکی میں کھو جاتی ہیں۔ دوسروں کے ظلم پر تو ہم اشکبار ہو جاتے ہیں، مگر اپنے ظلم پر سنگدل اور بےحس بن کر رہ جاتے ہیں۔
جو لوگ غزہ کے نہتے معصوموں پر ظلم دیکھ کر تڑپ اٹھتے ہیں، ان سے سوال ہے: کیا کبھی اپنے ہی وطن میں مذہبی تعصب کا شکار بےگناہوں کے لیے بھی دل بےچین ہوا ہے؟ کیا یہاں بھی معصوموں کے خون پر آنکھیں نم ہوتی ہیں؟ یا پھر ظلم پر خاموشی چھا جاتی ہے اور خوشی کے شادیانے بجائے جاتے ہیں؟
یہ دوہرا معیار درحقیقت ہمارے اجتماعی اخلاقی زوال کا سب سے نمایاں مظہر ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ باشعور مسلمان آگے بڑھیں، فتوٰی فیکٹریوں کے پیدا کردہ خوف کی زنجیروں کو توڑیں، اور ان مظلوموں سے شرمندہ ہو کر معافی مانگیں جنہیں محض عقیدے کے اختلاف کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ ہمیں انہیں برابر کا انسان اور مساوی شہری تسلیم کرنا چاہیے، اور انہیں یہ حق دینا چاہیے کہ وہ اپنے دین اور اپنے خدا کو اپنی سمجھ کے مطابق اپنائیں اور عبادت کریں۔
دین اور اخلاق کا کوئی اصول ہمیں یہ اجازت نہیں دیتا کہ کسی کو اپنے فہم کا قیدی بنائیں یا اختلاف پر ظلم کا جواز تراشیں۔
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں، روزِ قیامت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیشی ہوگی، تو شاید مرزا غلام احمد کو "مسیح موعود" کہلانے پر جواب دینا پڑے۔ لیکن ان کے ماننے والوں پر ظلم و جبر کے جواز گھڑنے والے علما، شرمندگی اور خفت کے ساتھ سر جھکائے کھڑے ہوں گے۔
اور اس سارے عرصے میں جس صبر، ضبط اور عدمِ تشدد کی پالیسی احمدی جماعت نے اپنائے رکھی ہے، اور جس استقامت سے اپنے نوجوانوں کو صبر اور برداشت کی تعلیم دی ہے، وہ اپنی جگہ داد و تحسین کی مستحق ہے۔
آرزو ہے کہ اللہ ہماری قوم، بالخصوص مذہبی طبقات کو یہ شعور عطا فرمائے کہ ظلم، جبر اور تعصب پر مبنی ہر اقدام کا ایک دن ربِ ذوالجلال کے حضور حساب ہونا ہے۔ وہ ہمیں سچائی اور انصاف کے ساتھ کھڑے ہونے کی توفیق دے، اور ہمارے دلوں کو نفرت، تعصب اور ظلم کی ہر شکل سے پاک کر دے۔
آمین۔
Minarets Demolished, Worship Places Attacked: Pakistan’s Escalating Genocidal Intimidation and Religious Apartheid Against Ahmadiyya Muslims | International Human Rights Committee https://t.co/Ak5N8VF7bc
This is a clear and direct call for GENOCIDE.
TLP Deputy Leader Pir Zaheer has issued chilling threats against the Ahmadiyya Muslim community:
•A 10 million rupee bounty to kill anyone who allows Ahmadis to preach.
•Calls to crush their heads, destroy their mosques, and “uproot” the community entirely.
•He brands Ahmadis as targets of a holy war, invoking violence like the Battle of Yamama.
This is not just hate speech — it is incitement to mass murder. This is textbook genocide.
TLP is a terrorist group operating openly in Pakistan. The world must act NOW to:
•BAN TLP
•Prosecute its leadership for inciting genocide
•Protect the Ahmadiyya Muslim community before it’s too late
Silence is complicity. Action is overdue.
@amnesty@hrw@UNHumanRights@StateDept@IHumanRightsC@EURightsAgency@CoEHumanRights@CommissionerHR@AmnestyEU@EU_Commission
#StopAhmadiGenocide #BanTLP #AhmadiLivesMatter #HumanRights #ReligiousFreedom
We offer Jumma prayers freely in our Ahmadi mosque in the US—our minaret stands tall, the Kalimah is inscribed, and no one stops us from calling ourselves Muslims. Yet, in Pakistan, our Ahmadi brothers & sisters face persecution for the same acts of worship. The irony is heartbreaking—a "non-Islamic" country upholds religious freedom, while our own homeland crushes it. My heart bleeds for Ahmadis in Pakistan.
There is no end to Ahmadis suffering. The Ahmadiyya Community continues to suffer with no accountability of the culprits. These incidents are defaming the name of our beloved Pakistan. The government must put an end to the hate speech and violence against the Community.
کسی کو پتہ ہے کہ بظاہر اسلامی ملک لیکن منافق اور مشرکین اور منکرین اسلام عوام اور قانون دانوں نے۔ جمعہ کی نماز پڑھنے کے جرم میں چھبیس بندوں کے خلاف ایف آئی آر کاٹ کے جیل بھیج دیا کہ ضمانت بھی نہ ہوسکے
اور اسی دوران اکوڑہ کی مسجد میں بھی بم دھماکہ ہؤا۔ اور چار لوگ مارے گئے۔
تو بتائیں کیا یہ مسلم ملک ہے۔ یا آخری زمانے کے مکہ جیسی وہ بستی جہاں مشرکین نماز اور مساجد سے روکتے تھے
@highlight