Pakistan just signed mutual defense pact with Saudi Arabia and Turkey. Pakistan's Interior Minister is now in Iran for Hormuz talk. This is called diplomacy - Who used to call it Dalali, are missing in action!
Yesterday, I gathered with residents at the Allama Iqbal Community Center’s Mela to commemorate Pakistan’s Independence Day and honor the contributions Pakistani New Yorkers have made to our city.
Today and everyday, we celebrate this community whose open arms, determination, and dreams for a better life have helped shape the city they call home.
بھارت اور چند مسلم مُمالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کے چند اعداد۔
سعودی اور بھارت
$41 ارب ڈالر
متحدہ امارات اور بھارت
$101 ارب ڈالر
قطر اور بھارت
$13.91 ارب ڈالر
کویت اور بھارت
$10.22 ارب ڈالر
تُرکی اور بھارت
$$6.87 ارب ڈالر
بحرین اور بھارت
$1.68 ارب ڈالر
ایران اور بھارت
$1.63 ارب ڈالر
یہ سب ممالک پاکستان کے دُشمن ہوۓ کہ ہمارے دشمن سے تجارت کررہے ہیں۔ آئیں مل کر سب ان تمام ممالک پر مُذمت سمیت ایک عدد تُف بھی بھیجیں۔
یا ہمت نہیں تو فرقہ واریت چھوڑ کر دُعا کریں کہ اللہ ایک دن ہمیں متحد کردے۔ آمین۔
آپ جسطرح اس کیس پر فوکس کر رہے ھیں اسکے نتائج سامنے آرہے ھیں ۔ cover up ثابت ھو رہا ھے اور حقائق سامنے آرہے ھیں۔ پورا سسٹم کمپرومائزڈ تھا۔ اب بھی پہرہ دینا ھو گا وگرنہ جسطرح پہلے مک مکا ھو تھا دوبارہ بھی ھو سکتا ھے۔ جن لوگوں نے cover up کیا ھے انکو کو بھی بے نقاب ھونا ھو گا۔
بڑے بڑے علماء اور اسکالرز کو چاہیے کہ وہ عاقب شہید کے والد کا انٹرویو کریں۔ جب وہ اپنے بیٹے کی میت لینے گئے تو انہیں پورے خاندان سمیت اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ وہاں ان کے کپڑے اتار کر ان پر تشدد کیا گیا اور ان کی ویڈیوز بنا کر دھرنے میں موجود لوگوں کو بھیجی گئیں۔
ایسے مظالم تو اسرائیل بھی فلسطین میں نہیں کر رہا جو یہاں ہو رہے ہیں۔ جس شخص کا بیٹا اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران شہید ہوا، اس کی میت تک خاندان کے حوالے نہیں کی گئی اور چار دن تک روکی رکھی گئی۔ جب وہ شدید زخمی تھا تو ایمبولینس کو آگے بڑھنے نہیں دیا گیا، جس کی وجہ سے اس نے ایمبولینس کے اندر ہی تڑپ کر دم توڑ دیا
راولاکوٹ کے پاس حویلی میں کن کترا کمیٹی کے اکھٹ سے تین گنا بڑا اجتماع نعرے لگا رہا ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے.
اور جناب الجزیرہ کہتا اس الیکشن میں عوام شریک نہیں...!
انتہائی افسوس ہے کہ اے آئی کا غلط استعمال کرتے ہوے میری جعلی تصویر اور جعلی آواز بناکر میری ایسی گفتگو سوشل میڈیا پر پھیلائی جارہی ہے جسکا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور بعض لوگ اس سے گمراہ ھوسکتے ھیں یہ سراسر جھوٹ اور دھوکہ ہے سائبرکرائم ایجنسیاں اسکا نوٹس لیں
ڈرنا نہیں، مورال ڈاؤن نہیں کرنا! میری وجہ سے پریشان مت ہو۔ ان دہشت گردوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دو۔ امن چاہیے تو انہیں کچل دو۔ جس کی قسمت میں زخم یا شہادت ہے، وہ مل ہی جاتی ہے۔
یہ الفاظ خیبر رائفلز کے کمانڈنٹ لیفٹیننٹ کرنل شاہد علی کے ہیں جو بارودی مواد کے دھماکے میں خون میں لت پت تھے،
تیراہ کی دشوار گزار علاقے میں فتنہ الخوارج کی سرکوبی کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری تھا۔ کرنل شاہد علی اپنے جوانوں کے ساتھ صفِ اول میں موجود تھے۔ پہاڑوں ایک شدید دھماکہ ہوا بارودی مواد کے اس حملے کی زد میں خود کمانڈنگ آفیسر آ گئے۔
جب گرد چھٹی تو جوان اپنے سالار کی طرف لپکے۔ کرنل شاہد علی کے جسم سے خون بہہ رہا تھا اور زخم گہرے تھے، مگر جب جوانوں نے ان کا ہاتھ تھامنا چاہا تو انہوں نے مسکرا کر سب کا ہاتھ پیچھے دھکیل دیا۔ اپنے ذاتی درد اور نکلتے ہوئے خون کو پسِ پشت ڈال کر انہوں نے گردن اٹھائی، اپنے دائیں بائیں موجود سہمے ہوئے سپاہیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور وہی تاریخی الفاظ ادا کیے جس نے فضا میں دوبارہ ایک نیا جوش اور ولولہ بھر دیا۔ زخمی سالار کی قیادت میں آپریشن روکنے کے بجائے مزید شدت کے ساتھ جاری رکھا گیا اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ناہس تاہس کر دیا گیا۔
یہ صرف ایک دن کی کہانی نہیں، بلکہ درہ خیبر اور تیراہ کے سنگلاخ پہاڑوں پر لکھی جانے والی اس شجاعت کا تسلسل ہے جہاں دو سال قبل خیبر رائفلز کے ہی سابق کمانڈنٹ کرنل حسن نے اپنی مٹی پر جان نثار کی تھی۔ کرنل حسن کی شہادت سے لے کر لیفٹیننٹ کرنل شاہد علی کے اس فولادی عزم تک، خیبر رائفلز کے افسران نے ثابت کیا ہے کہ وہ محض احکامات دینے والے افسر نہیں، بلکہ خون کی آخری بوند تک اپنے سپاہیوں کے ساتھ سینہ سپر رہنے والے سچے قائد ہیں۔
پاکستان زندہ باد
Exploring the breathtaking mountains of North Pakistan is a blessing, but leaving our trash behind is not! 🏔️✨ Enjoy the beauty, take memories, but leave only footprints. Keeping our beautiful Pakistan clean and green is our shared responsibility.
#CleanGreenPakistan #VisitPakistan #ResponsibleTourism
سوات میں پولیس اسٹیشن کے احاطے میں ہونے والے خـودکـش دھـمـاکے کے بعد ایک پولیس اہلکار فتنہ الخوارج کو للکارتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ اگر ہمت ہے تو میدان میں آ کر مقابلہ کرو.
جب فورسز کا جذبہ ایسے جوان ہو تو پھر فتنہ الخوارج ہو یا فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد ہوں.. ان کا آخری ٹھکانہ جہنم کی آگ ہی ہو گی.
آپ سب نے یوتھی بھائیوں کو وہیل چئیر والا ڈرامہ کرتے دیکھا ہوگا جس میں پولیس والے دیکھ کر انکا لیڈر چلنا شروع کردیتا ہے۔
آئیں راولاکوٹ میں لاشوں کو پولیس دیکھ کر چلتے ہوئے دیکھیں۔
ڈرامہ باز قوم پرست، صرف اے آئی سے عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔
را کی خبر پر کچھ سوال اور میرے جواب
کچھ لوگ سوال اٹھا رہے تھے کہ آٹھ مہینے انڈر کور کے بعد خبر کرنے پر پتہ چلا کہ صرف 103000 روپے لیے۔ را کیا اتنے کم پیسوں پر خریدتی ہے؟
سب سے پہلی بات ۔میں یہ پیسے بکنے کے لیے نہیں ثبوتوں کے لیے لے رہا تھا۔ ثبوت 1000 کی رسید کا ہو یا 103000 کا میرے لیے یہ معنی رکھتا ہے۔نہ کہ یہ کہ اتنے کم پیسے کیوں لیے۔
جو لوگ یہ سوال اٹھا رہے انکو شاید یہ معلوم نہیں کہ سنی سنائی اور تحقیقاتی صحافت میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ آپ کسی سے کوئی بات سن کر خبر نہیں کرتے ۔ تحقیقاتی صحافت ہو یا evenذمہ دارانہ صحافت جو اہمیت ڈاکیومنٹری ثبوت کی ہے وہ سنی سنائی بات کی نہیں۔ تو میرے لیے یہ اہمیت نہیں کہ را کتنے پیسے دینے کی آفر کررہی تھی۔ میرے لیے اہم یہ تھا کہ میں ان سے کوئی فنانشل ٹرانزکشن کیسے نکلواؤں تاکہ میرے پاس خبر کے لیے کوئی مالی ثبوت آجائے۔
اس مالی ثبوت کے لیے مجھے آٹھ مہینے کام کرنا پڑا۔ وہ پیسے کرپٹو کے ذریعے بھیجنا چاہتے تھا تاکہ ٹریس نہ ہو اور میری یہ کوشش تھی انکے فنانشل ٹرانزکشنز کے جتنے طریقے ہیں وہ جان سکوں اس لیے کرپٹو کے علاوہ ایزی پیسہ کے ذریعے تقاضہ کرکے بھی پیسے منگوائے۔
تو بطور صحافی مجھے اس بات سے غرض نہیں کہ 103000 کم پیسے ہیں ۔ میرے لیے کامیابی بطور صحافی یہ ہے کہ میں نے اپنی خبر کے لیے مالی ثبوت اکٹھے کیے۔ اور ان ٹرانزکشنز کے ثبوت آپ ان دو تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں۔
فخر درانی نے کل سٹوری کی تھی کہ راء پاکستان کے خلاف پاکستانی اخباروں خصوصاً انگریزی اخباروں میں پاکستان مخالف کالم لکھوانے کے ستر ہزار فی کالم دے رہی،
آج انہوں نے اپنے شو میں اعزاز سید کے ہمراہ سارے قصے کو کھول دیا کہ کیسے پی ٹی آئی کے بیانیے کی آڑ لے کر راء پاکستان میں صحافیوں کو ہائر کرتی پھر ان کے ویزے لگوا کہ ان کو یوکے لے جاتی،
فخر درانی نے جب فوج کے خلاف آرٹیکل لکھنے پر آنے والے خطرات کا کہا تو انہوں نے کہا جناب فکر نا کریں ہم آپ کو پاکستان سے اک ہفتے میں نکال کر یوکے لے جائیں گے،
اب سمجھ آ رہی کہ عمران ریاض کیسے گدھے پر بیٹھ کر یوکے پہنچ گیا...!!