ماہانہ 3روزے، فجر کے بعد نہ سونا، رات جلدی سونا صحت و روزی میں برکت کے پکے ضامن۔
ابوھریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے جانی دوست (نبی کریم ﷺ) نے 3چیزوں کی وصیت کی ہے کہ موت سے پہلے ان کو نہ چھوڑوں۔
1) ہر مہینہ میں 3دن روزے۔
2) چاشت کی نماز۔
3) اور وتر پڑھ کر سونا۔
بخاری،1178
@AaqaSAWWkiBaten Ameen SumAmeen Subhanallah Allah u Akbar Sallallahu Alaehe Wa Azwajihe Wa AhleBaitehe Wa Aalehe Wa Ashabihe Wasallam 💗💚❤️🌹💓💖💘🌺💕♥️💘💐🙏🙏🙏🙏🙏🙏
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو کبھی کوئی غم یا پریشانی پہنچے اور وہ کہے:
*اَللّٰهُمَّ! إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِك*َ
*نَاصِيَتِي بِيَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ*
*أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِك*َ
*أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ *
*أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي وَنُورَ صَدْرِي*
*وجَلَاءَ حُزْنِي وَذَهَابَ هَمِّي*
اے اللہ میں تیرا بندہ ہوں ، تیرے بندے کا بیٹا ،تیری بندی کا بیٹا ہوں،میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، میرے بارے میں تیرا فیصلہ نافذ ہونے والا ہے ،میرے بارے میں تیرا
فیصلہ انصاف پر مبنی ہے، میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے ساتھ سوال کرتا ہوں جو تو نے اپنے لئے رکھا ہے، یا جو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے، یا اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا اپنے پاس غیب میں اسے محفوظ رکھا ہے کہ تو قرآن کو
میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غم کو دور کرنے والا، اور میری پریشانی اور غم کو لے جانے والا بنا دے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی اور غم دور کر دے گا اور اس کی جگہ کشادگی عطا کر دے گا۔ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا ہم اسے یاد نہ کر لیں؟ آپ نے فرمایا:کیوں نہیں ۔جو شخص اسے سنے، اسے چاہیئے کہ اسے یاد کر لے۔
السلسلہ صحیحہ حدیث ٢٩٢٨
قَالَ رَسُولَ اللهِّ صلى اللّه عليه وسلم إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ، أُتِيَ بِذُنُوبِهِ كُلِّهَا، فَوُضِعَتْ عَلَى عَاتِقَيْهِ، فَكُلَّمَا رَكَعَ أَوْ سَجَدَ تَسَاقَطَتْ عَنْهُ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنده جب نماز كے لئے كھڑا ہوتا ہے تو اس كے تمام گناہ اس كے پاس لائے جاتے ہیں، اور اس كے كاندھوں پر ركھ دیئے جاتے ہیں۔ جب بھی وہ ركوع یا سجدہ كرتا ہے تو اس كے گناہ گر جاتے ہیں۔
(یعنی معاف کر دئے جاتے ہیں )
السلسلہ الصحیحہ-۵۷۵-صحیح