اس وقت مولانا کابیان ہندوستانی میڈیا کی زینت بن چکا ہے جس میں دھرتی ماں پر جان نچھاور کرنے والے شہدا کا تمسخر اڑایا جارہا ہے اور اب تک مولانا نے اپنے بیان پر رجوع نہیں کیا جس پر مورخ یہ لکھ چھوڑے گا کہ تہمت ��گا کے ماں پہ جو دشمن سے داد لے
ایسے سخن فروش مولانا کو مر جانا چاہیے
کیونکہ ہمارے شہدا ہماری ریڈ لائن ہیں اور ان کی تضحیک کرنے والا چاہے کوئی بھی ہو بخشا نہیں جائے گا
کیس از ڈسمسڈ
کیا مولانا اسعد محمود کی والدہ اپنے بیٹے کیلئے یہ الفاظ استعمال کرسکتی ہیں جس کی جیب میں نیلا پاسپورٹ ہے اور بینک میں کتنا بیلنس ہے پتہ نہیں اور بلٹ پروف امپورٹڈ گاڑیوں میں سفر کرنے اور محلوں میں رہنے والا اسعد محمود اور اسکا باپ شہادت کا رتبہ کیا جانیں
جواد نقوی کا حضرت امیر معاویہؓ کے بارے میں حالیہ بیان ایک بار پھر اس کے نام نہاد اعتدال کا حقیقی چہرہ سامنے لے آیا۔ جب اہلِ سنت کے مقدسات کی علانیہ توقیر کا انکار کیا جائے تو پھر بین المسالک احترام، رواداری اور “پیغامِ پاکستان” کے دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔
ہمارے نزدیک صحابۂ کرامؓ کی تکریم ایمان کا حصہ ہے۔ کسی صحابیؓ کی شان میں گستا��ی یا ان کے احترام کا انکار ناقابلِ قبول ہے
#حضرت_امیر_معاویہؓ #صحابہ_کرامؓ #توقیر_صحابہ #اہل_سنت #بین_المسالک_احترام #رواداری #پیغام_پاکستان #حرمت_صحابہ #جواد_نقوی #گستاخی_نامنظور #ایمان_کا_حصہ #احترام_صحابہ #مقدسات_اسلام #UnityOfUmmah
ایک اہم سوال
جواد نقوی
آخر قانون اور ریاستی اداروں کی گرفت سے باہر کیوں؟
کبھی صحابۂ کرامؓ کی تنقیص
کبھی ریاستی بیانیے کے خلاف اشتعال انگیزی
اور کبھی جتھوں کے ذریعے تصادم کی فضا پیدا کرنا
ایسے اشتعال انگیز بیانات و اقدامات کے باوجود اس کے خلاف قانونی کارروائی کیوں نہیں کیجاتی
صحابہ و اھل بیت کو مقابل لانے کی ضرورت نہیں جب ہم صحابہ کہتے ہیں تو اس میں اھل بیت شامل ہیں
اہل سنت کا اجماع ہے کہ اصحاب رسول میں سب سے افضل سیدنا ابو بکر ہیں اینکر نے کافی کھینچا تانی کی ہے کہ اپنی مرضی کا موقف ہمارے منہ میں ڈال سکے لیکن موقف وہی ہے جو اللہ کا اور رسول اللہ کا ہے
یہ دو ٹکے کا باندر بتا رہا ہے ک�� کون تکریم کے قابل ہے یا کون نہیں۔
جن صحابہ کے بارے میں قرآن میں اللہ فرماتا ہے کہ میں ان سے راضی وہ مجھ سے راضی۔۔۔۔۔ جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ
"اگر تم کسی کو صحابہ کرام پر عیب جوئی کرتے اور ان کے مرتبے کو گھٹاتے ہوئے دیکھو تو سمجھ لو کہ وہ زندیق (ملحد) ہے، کیونکہ قرآن و حدیث سب صحابہ ہی کے ذریعے ہم تک پہنچے ہیں۔ ان پر الزام لگانا گویا قرآن و حدیث کو باطل قرار دینا ہے۔
سنن ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ
"میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو! انہیں میرے بعد (تنقید اور ایذاء کا) نشانہ نہ بناؤ۔ پس جس نے ان سے محبت کی، تو اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی، اور جس نے ان سے بغض رکھا، تو اس نے میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا۔ اور جس نے انہیں اذیت پہنچائی، اس نے مجھے اذیت پہنچائی، اور جس نے مجھے اذیت پہنچائی، اس نے اللہ کو اذیت پہنچائی، اور جس نے اللہ کو اذیت پہنچائی، تو اللہ عنقریب اسے پکڑ لے گا۔"
#ایف_آئی_آر درج کی جائے ان دونوں پر
ریحان طارق کی پوڈکاسٹ میں انتشاری ، فسادی اور اشتعال انگیز مقرر جواد نقوی ملعون نے سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں گستاخانہ اور توہین آمیز گفتگو کر کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے ہیں۔ محرم الحرام، جو حرمت، صبر کا مہینہ ہے، ۔
جواد نقوی نے اپنے تازہ پروگرام میں ایک مرتبہ پھر اپنا معتدل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے زہر اگلتے ہوئے کہتا ہے ہم امیر معاویہ کو تکریم کے قابل نہیں سمجھتے یہ سب سے معتدل بنا پھرتا ہے باقیوں کے حالات کیا ہوں گے کہاں پیغام پاکستان کے اصول و ضوابط؟ کیا اس دستاویز میں یہ اصول و ضوابط طے نہیں چکے کہ آپ کسی کے مقدسات کے بارے میں توہین اور نف��ت انگیز جملے نہیں بولیں گے؟ یا تو شیعہ اعلانیہ طور پر اس معاھدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کریں
اعلانیہ مقدسات اہل سنت کی تکریم کا انکار؟؟ کہاں سرکاری درباری چاپلوس گ س تا خوں کے سہولت کار جعلی ملا؟؟ہمارے نزدیک جو کسی صحابی کی تکریم کا منکر ہے وہ عزت و احترام کا ہر حق خود کھو دیتا ہے
جواد نقوی نامی مجوسی کل رات ایک اینکر کے ساتھ بیٹھا تھا
اینکر نے سوال کیا کہ آپ لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی تکریم کیوں نہیں کرتے۔؟
مجوسی جواب دیتا ہے کہ جو تکریم کے قابل نہیں اسکی تکریم نہیں کرتے۔
کون ہیں معاویہؓ
سیدنا معاویہؓ صحابی رسول ہیں نبی کریمﷺ کے برادر نسبتی ہیں آپ کی ہمشیرہ ام المومنین ام حبیبہ بنت سفیان رضی اللہ عنھا کی شادی نبی کریمﷺ سے ہوئی تھی۔
سیدنا معاویہؓ سے 161 احادیث مروی ہیں۔
سیدنا معاویہؓ کاتب وحی تھے( الإصابة/تاریخ ابن کثیر)
نبی کریمﷺ نے فرمایا
أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ الْبَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوأ
ترجمہ : میری امت کا پہلا لشکر جو سمندر میں جہاد کرے گا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔
جزیرہ قبرص کے لئے پہلا لشکر جو شام سے روانہ ہوا اسکی کمانڈر سیدنا معاویہؓ نے کی۔
حوالے(صحیح بُخاری/البدایہ/تاریخ طبری)
عبداللہ بن عباسؓ سے پوچھا گیا سیدنا معاویہؓ نے ایک وتر پڑھا آپ اس پہ کیا کہیں انہوں کہا بے شک معاویہؓ فقیۂ ہیں(صحیح بُخاری)
ہمارے نزدیک تو کسی صحابی رسول کی شان میں کوئی ایک حدیث بھی نا ہو پھر بھی ہمارے لئے قابل احترام ہیں کیوں کے صحابی رسول ہیں۔
لیکن یہاں مجوسیت کی گندگی اور کبر سے تو جلیل القدر صحابی محفوظ نہیں۔
ہم نا تو کسی سے زبردستی فضائل بیان کروانا چاہتے ہیں نا ہی کسی کو ایسا کرنا چاہیے۔
لیکن اگر کوئی بدبخت کالے منہ والا صحابی رسول کے بارے میں بکواس کرے گا تو اسکو روکا جاے گا ٹوکا جاے گا۔
کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے کہ جہاں چیف جسٹس ��ی گستاخی پہ سزا ہو جاتی ہے۔۔وزیر اعلی کے بارے میں نازیبا الفاظ بولنے والے کو گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
آرمی چیف یا وزیر اعظم کے بارے میں غلط زبان استعمال کرنے والا بھی مجرم ہے۔
لیکن کُھلے عام ایک زندیق مجوسی کالے منہ والا، صحابی رسول کی گستاخی کرتا ہے اُسے نا تو کوئی گرفتار کرتا ہے نا ہی کوئی مقدمہ درج ہوتا ہے۔
ایک بات بالکل کلئیر کردینا چاہتے ہیں کہ اس ملک میں ہر بریلوی دیوبندی اہلحدیث اصحاب رسول کی عزت و تکریم پہ اکٹھا ہے۔
مجبور نا کریں علما کو احتجاج کرنے پہ اور اس مجوسی کو گرفتار کریں۔
تمام مکاتب فکر کے علما نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے اور مطالبہ کیا ہے گرفتاری کا۔
حکومت اگر قانون اور آئین کے مطابق گستاخ صحابی کو گرفتار نہیں کرتی تو پھر واضع ہے کہ حکومت ایک مخصوص گروہ کو خود چھوٹ دے رہی ہے کہ بھونکو جو مرضی۔
اور ایسا نہیں ہونے دینگے ان شا اللہ۔
ان خاتون کا نام نازنین حبیب ہے جو آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی میں سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ ہیں۔ یہ اوپن میرٹ پر نہ آ سکیں اس لئے انہوں نے مہاجرین کشمیر مقیم پاکستان کے مخصوص کوٹے پر یہ سیٹ حاصل کی۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ نازنین حبیب کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی والے شوکت نواز کی بہن ہیں۔ وہی شوکت نواز جو اس وقت مہاجرین کشمیر مقیم پاکستان کی 12 نشستیں ختم کروانا چاہتا ہے۔
کیا شوکت نواز ان مہاجرین کشمیر مقیم پاکستان کی 12 نشستیں ختم کروانے سے پہلے اپنی بہن نازنین حبیب سے مستعفی ہونے کا کہے گو جو خود انہی مہاجرین کشمیر مقیم پاکستان کے مخصوص کوٹے پر پروفیسر بنی ہیں؟
جب فون کمپنیوں کے گھر چھیننے والے بل پر شور ہوا تو راتب خور ایکٹو ہوئے اور کہا لوگوں نے بل ہی نہی پڑھا مگر جب شاہزیب خانزادہ نے آسان الفاظ میں وزیر صاحبہ کو سمجھایا اس سے عام بندے کا گھر زبردستی لے رہے تو وزیر صاحبہ مان گئیں کہ غلطی ہوئی ہے 🤦🏽🤦🏽
آپکو تنقید کرنے اور اپنی راۓ دینے کا پورا اختیار ھے ، لیکن ایک تعلیم یافتہ شخص کو بالخصوص ایک قانون دان کو بغیر جانے بوجھے کسی کو مکروہ یا مافیا یا گند کہنے کا حق حا��ل نہیں ، یہ ھماری ذاتی راۓ ھے جس سے اختلاف ھر کسی کا جمہوری حق ھے ، ھم نے کبھی کسی مخالف کے بارے میں ایسی زبان استعمال نہیں کی ، آپکو مسلم لیگ ن سے شکایات ھیں ، ضرور کریں ، از راہ کرم abuse نہ کریں ،
رہ گىئ چھُپی ھوئ سوچ کا بہتان تو ھم نے کبھی کسی کی چھُپی ھوئ سوچ کی ترجمانی نہیں کی ،
بھائ صاحب ! ھمارے پاس چھپانے کیلئے کچھ نہیں ھے ، سب جانتے ھیں کہ ھمیں ھماری قیادت سمیت کوئ بھی شخص ھماری منشا کیخلاف بولنے پر مجبور نہیں کرسکتا ، اپنے موقف کی قیمت ھمیشہ ادا کی ھی ، اب بھی کر رھے ھیں ، زور ِ بیان کے دوران الفاظ کا چناؤ کسی کی تذلیل یا الزام تراشی نہیں ھونا چاھئیے ،امید ھے آپ ھماری اپیل کا برا نہیں منائیں گے 🙏Admin
میں ذاتی طور پر چھوٹے صوبوں کی تجویز کا حامی ھوں ، میرا ضاتی موقف ھے کہ صرف پنجاب کی تقسیم قبول نہیں ، سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جاۓ ،
سبھی صوبے بڑے ھیں ، بارہ کروڑ کا ھو یا چھ کروڑ کا، کسی کی آبادی زیادہ ھے کسی کا رقبہ ۔۔!!
ھر بڑے صوبے میں چھوٹے صوبوں کا مطا��بہ موجود ھے ،
عام آدمی کو اپنے مسائل کے حل کیلئے لاھور ، کراچی ، کوئٹہ یا پشاور آنیکی ضرورت نہیں ھونی چاھئیے ،
نئے صوبوں کے قیام کیلئے متعلقہ صوبائ اسمبلی کا کردار اگر تبدیل بھی کرنا ھے تو اسے ختم نہیں ھونا چاھئیے ، اس سے نىئ پیچیدگیاں جنم لے سکتی ھیں ، پہلے ھی بہت سی دراڑیں موجود ھیں ، ھمیں انھیں پاٹنا ھے ۔۔۔
"ملک کے رکھوالے 28 مئی والے"
28 مئی کا دن پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع کے آغاز کا مظہر ہے۔ ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے جہاں بیرونی خطرات کا سدِباب کیا گیا وہاں داخلی سطح پر نیشنل ایکشن پلان کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف سخت اور واضح ا��دامات اٹھائے گئے تاکہ ملکی بقا کو ہمیشہ کے لیے م��فوظ بنایا جا سکے۔