کیوں یو اے ای اپنی خاموش جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ہار رہا ہے
🚨متحدہ عرب امارات نے اوپیک دنیا سے علیحدگی اختیار کی، جسے سیاسی حلقوں نے سعودی عرب کی پیٹھ میں “چھرا گھونپنے” کے مترادف قرار دیا۔
🚨لیکن UAE یہ نہ سمجھ سکا کہ جواب میزائلوں کی صورت میں نہیں آئے گا بلکہ اس سے بھی زیادہ خطرناک چیز کی صورت میں آئے گا!
جغرافیہ — ایک ایسا ہتھیار جس کا کوئی فوج مقابلہ نہیں کر سکتی۔
🚨جب یو اے ای نے اپنی کرنسی (درہم) کو بچانے کے لیے امریکہ سے “کرنسی سویپ” کی درخواست کی تو خاموشی چھا گئی۔
🚨امریکہ کبھی بھی سعودی عرب(جو پیٹروڈالر کا محافظ ہے)کو ایک لگژری خلیجی ملک کے لیے خطرے میں نہیں ڈالے گا۔ یوں پہلی سفارتی ناکامی ظاہر ہو گئی کہ امریکہ یو اے ای کا کوئی حقیقی اتحادی نہیں تھا۔
🚨فضائی حدود کی بندش — ہوا بازی کا بحران
سعودی عرب نے اچانک اماراتی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود “سیکیورٹی وجوہات” کی بنیاد پر بند کر دیں جس کے نتیجے میں دبئی سے لندن کا سفر 7 گھنٹے سے بڑھ کر 14 گھنٹے ہو گیا
اماراتی ایئرلائنز اپنی عالمی مسابقت کھو بیٹھیں دبئی ایک “تنہا جزیرے” میں بدل گیا اور لگژری ہوٹلز ویران محل بن گئے،
🚨خاموش زمینی محاصرہ
(نہ ٹینک، نہ جنگ صرف انتظامی رکاوٹیں)
البطحہ بارڈر کراسنگ “تکنیکی وجوہات” کی بنیاد پر بند کر دی گئی۔
🚨یو اے ای کی 70٪ خوراک زمینی راستے سے آتی ہے ایک ہفتے میں قیمتیں 400٪ بڑھ گئیں سپر مارکیٹوں میں راشن بندی شروع ہو گئی ،کیفے بند ہونے لگے، اور لگژری شہر میں بھوک کے آثار نمایاں ہو گئے
🚨درہم کا انہدام
(سرمایہ کار تیزی سے نکلنے لگے)
یو اے ای اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو ہفتے میں 20 ارب ڈالر کی رفتار سے خرچ کر رہا ہے تاکہ کرنسی کو سہارا دیا جا سکے۔
🚨ان کے سامنے دو راستے ہیں!
درہم کو آزاد چھوڑ دے اور عوام کی بچتیں تباہ ہو جائیں یا کیپٹل کنٹرول نافذ کرے اور بیرونی سرمایہ روک لے، جس سے تمام بین الاقوامی کمپنیاں دبئی چھوڑ کر ریاض چلی جائیں
دونوں صورتوں میں “دبئی معجزہ” ختم ہو جائے گا۔
🚨علاقائی تنہائی
تمام اتحادی ساتھ چھوڑ رہے ہیں ،مصر اور بحرین ریاض کے ساتھ کھڑے ہیں
اسرائیل UAE کو بچانے کی بجائے سعودی عرب سے مکمل تعلقات چاہتا ہے
🚨قطر، جس کا 2017 میں یو اے ای نے بائیکاٹ کیا تھا، اب سعودی عرب کے لیے اپنی فضائی حدود کھول دیتا ہے اور “متبادل دبئی کانفرنس” کی میزبانی کی تیاری شروع کردی ،یو اے ای سفارتی طور پر تنہا رہ گیاہے۔
🚨اندرونی تقسیم
30٪ اماراتی خاندانوں کے سعودی عرب سے تعلقات ہیں،شہری اپنی قومی وابستگی اور معاشی مفادات کے درمیان پھنس جاتے ہیں، 85 % غیر ملکی آبادی تیزی سے ملک چھوڑ رہی ہے
مصروف ہوائی اڈے ویران ہو رہے ہیں
🚨سرنڈر یا تباہی
45 دن کے محاصرے کے بعد ذخائر تقریباً ختم ہو جائیں گے، درہم گراوٹ کا شکار ہے۔ UAE ثالثی کے ذریعے پیغام بھیج رہا ہے:
“ہم ہر چیز کے لیے تیار ہیں۔”
🚨سعودی عرب کا سخت جواب!
بغیر شرط اوپیک میں واپسی
“اخلاقی نقصان” کا معاوضہ
فی پرواز 2 ملین ڈالر ٹرانزٹ فیس کے ساتھ فضائی راستوں کی بحالی
یو اے ای مجبوری میں یہ شرائط مان لیتا ہے، کیونکہ متبادل وجود کا خاتمہ ہے۔
🚨یہ کہانی سائنس فکشن نہیں بلکہ ایک منطقی تجزیہ ہے۔ آپ جدید ترین جہاز اور بلند ترین عمارتیں خرید سکتے ہیں، لیکن آپ “اسٹریٹیجک گہرائی” نہیں خرید سکتے۔
یو اے ای نے پیسے کی طاقت پر غرور کیا، اور جواب میں جغرافیہ کی سخت حقیقت سامنے آ گئی۔
فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کرنے کے بعد سپین میں پہلے فلسطینی سفیر کا استقبال
حق کے ساتھ کھڑا ہونے پر ہسپانوی حکومت اور قوم کا شکریہ
https://t.co/N3AW9uf6SV
وزیرخزانہ اورنگزیب بتائیں گے وہ کون سی اوپن مارکیٹ کا ادارہ ہے جو اپنے افسران کو چالیس کروڑ روپے سترہ ماہ بیک ڈیٹس سے اپنی تنخواہ بڑھانے کا اختیار دیتا ہے کیونکہ وہ ہر دفعہ فرماتے ہیں وہ مارکیٹ سے بندے لاتے ہیں اور وہاں یہی اصول لاگو ہے؟
اگر ایسے پرائیوٹ ادارے موجود ہیں جہاں ملازمین کا جب دل چاہے اپنی تنخواہ/مراعات خود ہی بڑھا لیں اور وہ بھی بیک ڈیٹس سے تو یہ افسران اتنے اچھے ادارے چھوڑ کر ایس ای سی پی میں ہی سرکاری ملازمت کرنے کیوں آتے ہیں ؟
مکمل پروگرام لنک
👇
https://t.co/ZGbstoD0Bo via @YouTube@NeoNewsUR@Financegovpk@StateBank_Pak@MIshaqDar50@BilalAKayani@AliPervaiz450@DrTariqFazal@JunaidAkbarMNA@BarristerGohar@sherafzalmarwat@CMShehbaz
جنہیں میرے کل والے ٹوئٹ سے اختلاف ہے جس میں کہا تھا رانا ثناء اللہ صاحب لمبی گیم کھیل رہے ہیں اور ان کے ذمے عمران خان پراجیکٹ ہے کہ خان کی آپ نے مسلسل تعریفیں کرنی ہیں۔تو یہ کلپ دیکھ لیں۔ ربعیہ کے ساتھ چند ماہ پرانا انٹرویو ہے۔
میرا ماننا ہے رانا ثناء اللہ کو “گڈ کاپ” کے طور پر یہی ٹاسک دی گئی ہے کہ عمران خان کو چک کے رکھنا ہے۔ انہیں آسمان سے نیچے نہیں آنے دینا۔ خان اور ان کے حامیوں کو پھوک بھرے رکھو۔ واہ واہ بلے بلے کیے رکھو کہ دیکھو آپ کا پہلوان کسی بہادری سے جیل کاٹ رہا ہے۔
خان تو خود مرضی سے جیل بیٹھا ہے ورنہ جب چاہے وہ باہر آ سکتا ہے۔ یوں عوام اور ورکرز کا دبائو بھی کم رہے گا کہ بھائی ہمارا خان تو خود جیل میں خوش ہے۔
یہ بھی پلان ہے کہ خان کی جیل کو romanticise کرتے رہنا ہے تاکہ خان اور خان کے ٹائیگرز خوش اور مطمئن رہیں کہ کپتان ڈٹ کے جیل میں خود کھڑا ہے کیونکہ حکومت ہو یا فوج انہیں عمران خان باہر سڑک پر آزاد نہیں بلکہ جیل کے اندر سوٹ کرتا ہے۔
رانا صاحب کو داد دیں وہ دو سال سے عمران خان سے اپنے اوپر سترہ کلو گرام ہیروئن کے مقدمے کا بدلہ ان کو بانس پر چڑھا کر لے رہے ہیں۔ بعض دفعہ جو انتقام اور زخم آپ کسی کے جعلی ہمدرد بن کر لگا سکتے ہیں وہ تنقید یا دشمن بن کر بھی نہیں کرسکتے۔ دشمن کو واہ واہ بلے بلے کے وار سے مارنا بھی ایک باریک فن ہے جو ہر ایک کے پاس نہیں ہوتا۔
رانا صاحب دراصل اس تعریف کے لبادے میں عمران خان کی جیل کا دورانیہ بڑھا رہے ہیں کہ بھائی مان گئے خان صاحب بہت بہادر ہے اور جیل کاٹنا تو ان کے لیے مسلہ ہی نہیں۔ دیکھ لیں خان صاحب ہم بھی آپ کی بہادری کے قائل اور مداح ہیں لیکن آپ ہمیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی اچھے لگتے ہیں۔
ہمارا پیارا راج پوت رانا دراصل عمران خان سے اپنی قید کا بدلہ لے رہا ہے۔۔ خان کی جیل کا دورانیہ بڑھا رہا ہے۔ یہ تعریف میٹھی چھڑی کی مانند ہے۔۔ واہ واہ بلے بلے والا میٹھا میٹھا لیکن زہریلا انتقام جو رانا صاحب عمران خان سے چسکے لے لے کر لے رہے ہیں۔ 😎
@RabeeaSK
بنگلہ دیش بدل چکا ہے
جماعت اسلامی کا ڈھاکہ میں تاریخی اجتماع، لاکھوں لوگ سہروردی پاک میں امڈ آئے
سابق وزیراعظم حسینہ واجد کی جماعت اسلامی کو بنگلہ دیش سے ختم کرنے کی تمام سازشیں ناکام رہیں
ضروری اعلان 🚨
سعودی فتویٰ ہاؤس نے محمد بن سلمان کی درخواست کے برعکس مذاہب کے اتحاد کے بارے میں واضح موقف اختیار کیا اور اس کی دعوت دینے والوں کو کفر کا مرتکب قرار دیا۔
سعودی عرب کی مستقل فتویٰ کمیٹی نے “مذاہب کے اتحاد” اور “ابراہیمی ہاؤس” کے متعلق پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرتے ہوئے درج ذیل فتویٰ جاری کیا:
مستقل فتویٰ کمیٹی کا فتویٰ - فتویٰ نمبر 19402
“تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور درود و سلام ہو اُن پر جن کے بعد کوئی نبی نہیں، اور ان کے اہلِ بیت و صحابہ اور جو ان کے طریقے پر چلتے رہے قیامت تک۔ بعد ازاں…”
مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء نے ان سوالات اور میڈیا میں شائع مضامین کا جائزہ لیا جو مذاہب کے اتحاد (اسلام، یہودیت، اور عیسائیت) کے بارے میں پیش کیے گئے، جن میں یہ تجویز دی گئی کہ ایک ہی جگہ مسجد، چرچ، اور مندر بنائے جائیں یا قرآن، تورات، اور انجیل کو ایک ہی جلد میں شائع کیا جائے۔ اس مسئلے پر غور کے بعد کمیٹی نے درج ذیل فیصلہ کیا:
Fatwa no:19402
1. پہلا نقطہ:
اسلامی عقیدے کی بنیاد یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ کوئی اور دین حق نہیں ہے، اور یہ آخری دین ہے جو تمام سابقہ مذاہب اور شریعتوں کو منسوخ کر چکا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“بیشک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔”
2. دوسرا نقطہ:
قرآن مجید اللہ کی آخری کتاب ہے اور اس نے تورات، زبور، انجیل اور دیگر کتب کو منسوخ کر دیا ہے۔
3. تیسرا نقطہ:
تورات اور انجیل کے منسوخ ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں تحریف بھی کی گئی ہے، جیسا کہ قرآن کی آیات میں ذکر ہے۔
4. چوتھا نقطہ:
حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
5. پانچواں نقطہ:
جو کوئی اسلام قبول نہ کرے، خواہ وہ یہودی، عیسائی یا کوئی اور ہو، وہ کافر ہے اور اللہ کا دشمن ہے، اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو وہ جہنم کا مستحق ہے۔
6. چھٹا نقطہ:
مذاہب کے اتحاد کی دعوت ایک فتنہ انگیز اور مکارانہ سازش ہے جس کا مقصد اسلام کو کمزور کرنا اور مسلمانوں کو مرتد کرنا ہے۔
7. ساتواں نقطہ:
اس دعوت کا ایک اثر یہ ہوگا کہ اسلام اور کفر کے درمیان فرق ختم ہو جائے گا اور مسلمانوں کا کفار کے ساتھ بیزاری کا رویہ ختم ہو جائے گا، جس سے جہاد اور اللہ کا کلمہ بلند کرنے کی جدوجہد بھی ختم ہو جائے گی۔
8. آٹھواں نقطہ:
اگر کوئی مسلمان اس دعوت کو فروغ دے تو وہ دینِ اسلام سے مرتد ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ دعوت اسلام کے اصولوں کے منافی ہے۔
9. نواں نقطہ:
• مسلمان کے لیے اس دعوت کی حمایت کرنا، اس کے سیمینارز میں شرکت کرنا یا اس کے خیالات کو پھیلانا جائز نہیں۔
• قرآن، تورات اور انجیل کو ایک ہی جلد میں شائع کرنا یا مسجد، چرچ اور مندر کو ایک جگہ بنانا ناجائز ہے، کیونکہ یہ اسلام کی برتری کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔
مستقل فتویٰ کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء
“اللہ اس فیصلے کو کمیٹی کے لیے اجر کا ذریعہ بنائے، آمین۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔”
اس پیغام کو آگے بڑھائیں اور آپ کو ان لوگوں میں شمار کیا جائے گا جو اس گمراہ کن نظریے کے سب سے پہلے انکار اور رد کرنے والے ہیں، اور بطور داعی، معلم، طالب علم اور اجر کے متلاشی اس پیغام کا حصہ بنیں ۔۔
@hamzashafqaat Hang till death publicly to such criminal elements, revealing not only their but also whole family's identity - laws should be amended accordingly
یہ قائداعظم انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد ہے ہمارے بھائی کا کل بائے پاس ہوا ہے لیکن یہاں مدد کرنے والا کوئی نہیں۔ ہم لوٹ گئے ہیں سب کچھ بیچ دیا۔
یہاں صرف معشوقی اور kissing کے علاوہ ان کا کوئی کام نہیں۔ چھ کیس صرف میں نے پکڑے، یہاں پر زنا خانہ بنا ہوا ہے
ایک شہری پھٹ پڑا 💔
🔴 ڈونلڈ ٹرمپ:
میری ترک صدر ایردوان سے بہت اچھی دوستی ہے، میں انہیں پسند کرتا ہوں اور وہ بھی مجھے پسند کرتے ہیں، جس سے میڈیا پاگل ہو جاتا ہے۔
ہم نے بہت کچھ برداشت کیا مگر کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔
میں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے کہا: اگر تمہیں ترکیے سے کوئی مسئلہ ہے تو میں اسے حل کر سکتا ہوں۔ میری ایردوان سے بہت اچھی understanding ہے۔
میں نے صدر ایردوان سے کہا: "آپ نے وہ کام کیا جو پچھلے 2 ہزار سال میں کوئی نہیں کر سکا — آپ نے شام پر قبضہ کر لیا۔"
وہ بہت سمجھدار اور ہوشیار لیڈر ہے۔ اس نے جو کیا وہ کسی سے نہ ہو سکا، اس کی تعریف بنتی ہے۔
(نیتن یاہو سے) اگر تم ترکیے کے ساتھ معقول رویہ رکھو، تو میں تمہارا مسئلہ حل کر سکتا ہوں۔
اختر مینگل نے ماہ رانگ باز بلوچ کے لئے احتجاج کا اعلان کیا کہ ہمارے خواتین کوگرفتار کرکے بے عزتی کی گئی
👈یہ بھی ایک بلوچ عزت دار خاتون ہے جو سردار اختر مینگل کے ظلم و بربریت کا شکار ہوچکی ہے۔اس وقت اختر منگل کی غیرت کہاں چلی گئی تھی جب یہ خاتون مجبور ہوکر میڈیا کے سامنے آگئی
سعودی حُکومت کی طرف سے جاری کیا گیا آرٹیفیشل انٹیلیجنس ٹیکنالوجی کی مدد سے پہلی بار مسجد نبوی اور اُمہاتُ کے حُجروں کی تھری ڈی اینیمیشن ۔۔ یہ ایسا ھی ھے جیسا چودہ سو سال پہلے تھا ۔۔ کس قدر غُربت میں گُذارہ کرتے تھے حُضور پاک محمد صلى الله عليه واله وسلم ایمان تازہ کریں..
بائیڈن انتظامیہ کے ہر دل عزیر یوکرائن کے صدر کو امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ تلخ حقائق بتاتے ہوئے!! سابق امریکی صدر کو بھی بہت کچھ کہہ گئے۔ خیال رہے یہ وہی یوکرائن کے صدر ہیں جن کو یورپ سمیت تمام مغربی ممالک ایک ہیرو کے طور پر پروجیکٹ کرتے آئے ہیں! غیر معمولی صورتحال!
مین نے قسم کھائی ہے اب سچ عوام کو بتاؤنگا چاہیں یہ مجھے پارٹی سے نکالیں یا ملک سے ۔۔
👈روف حسن پانچ کروڑ ڈھکار چکا ہے ۔ رؤف حسن پارٹی کے اندر ایک مقبر تھا۔
👈 رؤف حسن کے ہندوستان اور اسرائیل سے رابطے ہیں
👈شیر افضل مروت کے بیان نے پی ٹی آئی کے اندر آگ لگا لی۔
میں نے آپ سے کہا تھا کہ چار پانچ MPAs کو تو مین ایسے ہی ریزائن کروا دوں گا : ثاقب نثار
آپکی پوری بات ہم کررہےہیں، ڈونٹ وری‘، جسٹس اعجازالاحسن کا PTI وکلا سے مکالمہ 2022
ایسی عدلیہ کو تو PTI مس ضرور کرتی ہوگی :1
افغانستان کی 5000 سالہ تاریخ کی حقیقت کیا ہے؟ 🚨🚨
وقت آ گیا ہے کہ تلخ تاریخی حقائق لکھے جائیں جو کہ افغانیوں کو بہت چبھیں گے لیکن قوم پرستوں کو سچ بتانا ضروری ہے تاکہ جہالت نا پھیلائیں۔
میں یہاں صرف 2500 سالوں کی تاریخ لکھ رہا ہوں کہ افغانی "جنگجو" پچھلے 2500 سال کس کس کے غلام رہے!
1۔ سال 600 سے 400 قبل مسیح: اشمیند سلطنت
ان دو سو سالوں میں افغانستان پر ایرانی اشمیند سلطنت کی حکومت رہی۔
2۔ سال 330 قبل مسیح: سکندر اعظم
سکندر اعظم نے یونان سے آکر پورے افغانستان پر قبضہ کیا
3۔ سال 400 سے 300 قبل مسیح : سیلوسی سلطنت
اس عرصہ کے دوران یونانیوں کا افغانستان پر قبضہ رہا
4۔ سال 300 سے 200 قبل مسیح : موریہ سلطنت
یہ سو سال افغانستان پر ہندوستان کی موریہ سلطنت کا قبضہ رہا
5۔ سال 200 قبل مسیح : گریکو بیکٹرین سلطنت
یہ سو سال افغانستان پر واپس یونانیوں کا قبضہ رہا
6۔ سال 100 قبل مسیح: کوشان سلطنت
وسطی ایشیا سے آنے والی کوشان سلطنت نے افغانستان پر قبضہ کیا
7۔ سال 300 سے 700 صدی: سسانید سلطنت
افغانستان پر ایرانی سسانید سلطنت کا 300 سال قبضہ رہا
8۔ سال 400 سے 600 - ہیفالی سلطنت
یہ وسطی ایشیا کے قبائلی لوگ تھے جو سسانید سلطنت کے دوران افغانستان پر قابض ہوتے رہے
9۔ سال 700 سے 800 - عرب خلافت
اس پر ہم کچھ نہیں کہتے کیونکہ اسلام آیا تھا اور افغانستان عرب خلافت کا حصہ رہا
10۔ 1300 سے 1400 - منگول سلطنت
منگولوں نے 13 ویں صدی میں افغانستان پر قبضہ کر لیا جو کہ سو سال بلخ اور حیرات رہا
11۔ سال 1400 سے 1500 - تیموری سلطنت
یہ سو سال افغانستان پر تیموری سلطنت حکمران رہی، وہ بھی منگول تھے۔
12۔ سال 1600 سے 1800 - سفاوید سلطنت
یہ دو سو سال افغانستان پر ایران کا قبضہ رہا
13۔ سال 1600 سے 1800 - مغل سلطنت
مغل بادشاہ وسطی ایشیا سے آئے اور افغانستان کا بڑا حصہ سفاوید کے ساتھ انکے قبضہ میں رہا
14۔ سال 1839 سے 1842 - انگریز سلطنت
اس عرصہ کے دوران انگریزوں نے 25 فیصد افغانستان پر قبضہ کرکے کٹھ پتلی حکومت قائم کی
15۔ سال 1878 سے 1880 - انگریز سلطنت
اس دفعہ انگریزوں نے افغانستان کی خارجہ پالیسی پر کنٹرول سنبھال لیا
16۔ سال 1979 سے 1989 - روسی سلطنت
روسیوں نے دس سال حکمرانی کی لیکن اس دفعہ پاکستان نے انکو بچایا
17۔ سال 2001 سے 2020 - امریکہ
امریکہ نے افغانستان پر 20 سال قبضہ جمائے رکھا، جس میں دوبارہ پاکستان نے انکے طالبان کو پناہ دی اور بچائے رکھا، جس سے یہ نکلے۔
یہ افغانستان کی صرف 2500 سالہ تاریخ ہے۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں رہنے والوں پر بار بار بیرونی طاقتوں نے قبضہ نہیں کیا، بالکل ہم پر بھی انگریزوں نے 200 سال حکمرانی کی لیکن ہم افغانیوں کی طرح بڑھکیں نہیں مارتے۔
انکو مطالعہ پاکستان کا احسان ماننا چاہئے جو انکو جنگجو قوم اور سلطنتوں کا قبرستان بول کر عزت دیتی رہی لیکن انہوں نے یہ بات دماغ پر واقعی چڑھا لی ہے۔
آخر میں ایک بات،
"اگر اسلام نا ہوتا تو افغانستان ہی نا ہوتا"
انکی اپنی کوئی شناخت اسلام سے پہلے موجود ہی نہیں تھی۔
@KlasraRauf اس عباسی نامی صحافی کے بے تکے تجزیوں سے بہتر ہے بندہ کوئی اور کام کر لے اس کا پروگرام یا تجزیوں پہ وقت ضائع ہی نہ کرے، بے تکی لاجک اور تعصب سے بھرپور!