@JimmyVirkk ہمارے علماء کیوں خاموش ہیں ؟ ایاک نعبد و ایاک نستعین پر کامل یقین رکھنے والے کو قید میں ڈال کر آپ کیا توقع رکھ سکتے ہیں ؟ اب پاکستانیوں کے شعور کی تربیت منجم زائچہ بنانے والے اور ماورائ قوتوں پر یقین رکھنے والے ہی کریں گے ۔
جنگ بھی فیلڈمارشل نے لڑنی ہے، امن معاہدہ بھی فیلڈ مارشل نے کرنا ہے،خارجہ امور بھی اس نے دیکھنے ہیں، سرمایہ کاروں سے بھی اس نے ملنا ہے، پاپولیشن کنٹرول بھی اس نے کرنا ہے، سڑک بھی اس نے بنوانی ہے۔ تو یہ فارم سینتالیس کی لاشوں کو صرف پروٹوکول کے لئے رکھا ہوا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو ڈیڑھ سال تک جیل میں رہے۔ آخری دس ماہ تک انہیں موت کی کوٹھڑی میں رکھا گیا، جس طرح اب عمران خان کو رکھا ہوا ہے۔
بھٹو کو ذہنی اور جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔ قید تنہائی میں ڈالا گیا۔ آخر میں بھٹو وہاں تعینات افسر کو کہتے تھے ضیاء کو کہو just finish it now اب برداشت نہيں ہوتا۔
بھٹو ہی نہيں کوئی بھی انسان ایسا جسمانی اور ذہنی ٹارچر برداشت نہيں کرسکتا۔ سب یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ظالموں اب ختم کرو۔
عمران خان تین سالوں سے زیادہ عرصے سے اس طرح کی صورتحال میں قید ہے۔ 9 ماہ سے بدترین ذہنی اور جسمانی ٹارچر سہہ رہا ہے۔ بہنوں کو کہا کہ انہوں نے ظلم کی انتہا کر دی ہے۔ چیزیں برداشت سے باہر ہو رہی ہیں۔
عمران خان کو اللہ نے ایمان دیا ہے۔ ایک مضبوط جسم اور ذہن دیا ہے۔ ان تینوں کی وجہ سے وہ بھٹو سے دوگنا عرصہ تک سروائو کر گیا۔ لیکن انسان کا جسم اور ذہن دونوں کا ایک breaking point ہوتا ہے یہاں پر پہنچ کر وہ ٹوٹنا شروع کر دیتا ہے۔ جسم جواب دے جاتا ہے۔ ذہن ساتھ چھوڑنے لگتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ظالموں کا تو حساب ہوگیا ہی کہ انہوں نے ایک بےگناہ انسان پر فرعون بن کر یہ ظلم کیوں کیا؟ کیا پاکستان کے 25 کروڑ عوام سے سوال نہيں ہوگا کہ انہوں نے اس ظلم کو روکنے کے لئے کیا کیا؟
ذرا سوچیں آپ کے نامہ اعمال میں کیا ہے جو پیش کریں گے؟
اگر اسی خاموشی اور بےحسی پر پکڑے گئے تو کیا کریں گے؟
یا آپ کو آخرت اور روز جزا اور سزا پر یقین نہيں ہے؟
صورتحال میں نیا ٹوئسٹ : دل کے ڈاکٹر نے عمران خان کو یکم اگست کو جیل میں چیک کرنے کے بعد ایک رپورٹ مرتب کی تھی جس کے پلان 'بی' میں ان کی 'سٹی کورونری انجیو گرافی' کرانا تجویز کیا گیا تھا پھر20 اور 21 اگست کو عمران خان پمز لایا بھی گیا اب اس ٹیسٹ کا کیا ہوا اس بارے کچھ معلوم نہیں ۔۔۔ !
البتہ اب آج 22 اگست کی وزیراعظم آفس کی جاری پریس ریلیز پڑھ لیں جس میں پمز میں 'سٹی کورونری انجیو گرافی' کی سہولت فعال نا ہونے کا وزیراعظم نے نوٹس لیا ہے انکوائری کمیٹی بھی قائم کر دی
تو اس کیا مطلب لیا جائے کہ پمز میں تمام سہولیات موجود نہیں ہیں ؟؟؟ جس کا دعویٰ حکومت کرتی آئی ہے
یہ اتنا ضروری سوال نہیں کہ عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کیوں نہیں لے کر گئے ضروری سوال یہ ہے کہ عمران خان کے زاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو پمز کیوں نہیں لے کر گئے، کس چیز کی رازداری ہے ؟
عزم مصمم کا راز (عمران خان سے ایک میٹنگ کی کہانی )
عمران خان صاحب کی گرفتاری سے پانچ ماہ قبل مارچ 2023 میں مجھے ایک زووم میٹنگ میں ان سے براہ راست بات کرنے کا موقع ملا. جس میں نے یہ پوچھا کہ مجھے کوئی نسخہ بتائیں کہ جب میں ستر سال کو پہنچوں تو اتنا ہی مظبوط اور مقصد پر ڈٹے رہنے والا ہوں اور تھکوں نہ -
اس پر انہوں نے جو جواب دیا وہ میں یہاں لگا رہا ہوں - بلاشبہ ان کے الفاظ میں جو عزم اور ان کی مستقل مزاجی تھی انہوں نے ان سالوں میں اپنے عمل سے ثابت کی -
(میں نے ان کو عمران بھائی کہ کر بلایا تھا اور میں آج تک حیران ہوں کہ میں نے خان صاحب کیوں نہیں کہا تھا - پر ان کو دیکھ کر سگے بڑے بھائی والی فیلنگ ہی آئ تھی ' سو کہ دیا )
------------------------------------------------------
@MoeedNj@ImranRiazKhan@agentjay2009@ARYSabirShakir@SabeeKazmi786@soulful7867
اور بحثیت ڈاکٹر میرا ایک سوال ہے جو اب تک کسی نے نہی اٹھایا -
یہ کیسے ممکن ہوا کہ شفا ہسپتال کے ڈاکٹر پمز میں جا کر مریض کا معائنہ کرسکیں ؟
ہر ڈاکٹر کی مخصوص ہسپتال میں کریڈنشلنگ (credentialing) ہوتی ہے - ایسا نہی ہوتا کہ پمز والا ڈاکٹر شفا میں جا کر مریض دیکھ آے - یہ کوئی دھوبی والا کام نہی کہ ایک دکان پر بجلی گئی تو وہ کپڑے اٹھا کر ساتھ والی دکان میں لے جاکر استری کردے
صرف یہ ایک نکتہ ہی اس پورے ڈاکٹروں کے بورڈ اور پمز میں اس پورے چیک اپ کو متنازع کرنے کیلئے کافی ہے -
———————————————
@siasatpk@agentjay2009@MoeedNj@ImranRiazKhan
جو شخص خود غیر اسلامی استثنی کی ڈھال لے کر بیٹھا ہو، جو خوف کے مارے سارا دن بلٹ پروف جیکٹ میں گھومتا ہو، اور جس نے اپنے خوف اور عدمِ تحفظ کے باعث فوج جیسے ادارے کو پنجاب پولیس سے بھی بدتر بنا دیا ہو، ایسا بزدل اور ناکارہ شخص ایک بہادر انسان کو آزاد کرنے کا خطرہ آخر کیسے مول لے سکتا ہے
The problem is that the Pakistani society is so rotten that people don't even understand basic principles, ignoring them or disregarding them comes much later.
There is not a single person close to power who would say, "We won't treat IK as a friend, we will treat him like an enemy -- but according to accepted ways of treating your enemy".
Right now Imran Khan's treatment follows neither precedent nor law. It is uniquely cruel in Pakistani politics. It is so cruel that the precedents being set here will impact Pakistani politics for decades. It is now the standard.
And none of the people at the top who have forgotten that the wheel turns as a universal law seem to understand this.
محمد حنیف کی کتاب پھٹتے آموں کا کیس بڑا دلچسپ ناول ہے۔ اگر نہیں پڑھی تو لازمی پڑھیں میں ساری کہانی سنا کر آپ کا مزہ خراب نہیں کرنا چاہتا لیکن اس کا کلائمیکس سین یہ ہے کہ موت چاروں طرف سے جنرل ضیاءالحق کو گھیر لیتی ہے۔ جیسے وہ شاہ رخ خان اوم شانتی اوم میں کہتا ہے کہ اتنی شدت سے میں نے تمہیں پانے کی کوشش کی ہے، کہ ہر ذرے نے مجھے تم سے ملانے کی سازش کی ہے تو کلائمیکس سین میں ہر ذرہ جنرل صاحب کو پانے کے لیے بیتاب ہوتا ہے۔ کہانی کا کوئی ایسا کردار رہ نہیں جاتا تو جنرل صاحب کی موت کا سبب نہیں بنتا۔
آجکل کے حالات میں بھی محمد حنیف کی کتاب ایبسٹریکٹ پیرائے میں اسی صورتحال کی منظر کشی کرتی ہے۔ کوئی ایک پہلو کوئی ایک شعبہ ایسا رہ نہیں گیا جسے اس قابض ٹولے نے تباہ نہیں کیا۔ کسان الگ برباد ، معیشت کی تباہی الگ ، بجلی کے بلوں کا بوجھ ، پٹرول گیس کی قیمتیں ، افغانستان سے تجارت بند ، کشمیر اور بلوچستان میں حالات سخت خراب ، امن و امان کی صورتحال یہ کہ پاکستان دہشتگردی کا شکار دنیا کا بدترین ملک ، امارات سے تعلقات تباہ کرلیے ہیں۔ اگرچہ محمد حنیف کے ناول کے برعکس ہر کوئی فیلڈ مارشل صاحب کو مارنے کی کوشش تو نہیں کررہا لیکن اس ملک کا ہر ایک طبقہ ان سے جان چھڑانے کی دعائیں ضرور کررہا ہے۔۔