آپ سب کو فالو بیک ضرور ملے گا 💯% کپتان کا سپورٹر ہوں، بھروسہ تو بنتا ہے۔
فالو بیک کی عاجزانہ درخواست ہے۔ میری طرف سے آپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار۔ اللہ پاک آپ سب کو ہمیشہ سلامت اور خوش رکھے۔ آمین 🤲😇❤️💯🇵🇰✌️👍
ذرائع کے مطابق " عمران خان کی رہائی کے لئے پہلے خود عمران خان، پھر بشری بی بی پھر ان کی بہنوں اور اب سہیل آفریدی پر ، کچھ خفیہ دستاویزات پر دستخط کرنے کے لئے دباو ڈالا گیا"
یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سیاست دان سے ہار گئے ہیں
دہشت گردی خیبرپختونخوا پر مسلط کی گئی ہے۔ وفاق کی ناکام پالیسیز سے ہمیشہ خیبرپختونخواہ گولہ بارود اور آگ کے لپیٹ میں رہی ہے۔ ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں سے میرے صوبے کے معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں جس کو کولیٹرل ڈیمج کا نام دے دیا جاتا ہے اور ایک سوری سے بات ختم کردی جاتی ہے۔ پالیسی یہاں صرف عمران خان کی چلے گی۔ اُسی پالیسی میں ملک اور قوم کی بھلائی ہے۔
جنرل صاحب ! اگر اپنی کسی ماں بہن بیٹی کی شلوار اتار کر اسے بلوچی قمیض پہنا کر اسے بی ایل اے سے منسوب کرنے کی نوبت آگئی ہے تو یہی اتاری ہوئی شلوار خود پہن لیں۔ آپ سے نہیں ہوپائے گا۔
نوٹ ؛ یہ اللہ کی فوج کی حرکتیں ہیں۔ یہ مکہ کے محافظوں کی حرکتیں ہیں۔
شروع پروردگار کے نام سے جو مظلوم کا رب العزت (پالنے والا) ہے۔ جس نے اپنے بندے یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے آزاد فرمایا، وہ ضرور عمران خان کو آزادی دے گا🙏
نشا اتر رہا ہے ذراذرا
بکھر رہا ہوں ذرا ذرا
تھا مجھے بھی گمان بہت طاقت کا
گر رہا ہوں اب کھڑا کھڑا
لرز رہے ہیں پیر مٹی پر
دھنس رہا ہوں ذرا ذرا
فخر الرحمٰن
@Fakharrehman01
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
پاکستان تحریکِ انصاف کی حقیقی آزادی کی جدوجہد میں صرف 100 روپے عطیہ کر کے اپنا حصہ ڈالیں۔ آپ اپنے عطیات MCB بینک (اکاؤنٹ نمبر: 1208326601008525) یا جاز کیش ایپ کے Donations سیکشن کے ذریعے آسانی سے منتقل کر سکتے ہیں۔قاسم خان سوری
@QasimKhanSuri
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
تین برس گزر گئے میرے عمار کو، مگر 18 ستمبر کا وہ قیامت خیز دن آج بھی میرے سینے میں زندہ ہے—میں جیل میں قید تھا اور میرا معصوم عمار ظلم سہتے، مجھے پکارتے اور روتے روتے دنیا چھوڑ گیا؛ دنیا کی عدالت خاموش رہ سکتی ہے، مگر ��للہ سبحانہ وتعالیٰ کی عدالت میں نہ ظلم بھلایا جائے گا،
پاکستان کے طلباء Gen Z پر اس وقت سب سے بھاری ذمہ داری عائد ہے، ملک کے روشن مستقبل کا انحصار ان طلباء پر ہے
27 ستمبر کو ملک کے مستقبل کی خاطر Gen Z کو فرنٹ سے لیڈ کرنا ہو گا، یونیورسٹیوں، کالجوں کے نوجوان طلباء کو فرنٹ سے لیڈ کرنا پڑے گا
راحیل شریف جب اڈیالہ پہنچے تو ان کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔ کیونکہ انہیں امید تھی کہ ان کی یہ آمد ملک میں استحکام کا رستہ ہموار کرے گی۔ لیکن جیسے ہی وہ اس تاریک بیرک میں داخل ہوئے تو انکے چہرے پر زردیاں پھر گئیں۔ عمران خان کے سیل کے باہر لگا چھوٹا سا زرد بلب دیکھ کر انکی آنکھوں پر ایک سایہ سا ٹھہر گیا۔ ملک کا سابق وزیراعظم ، سب سے بڑا ہیرو اور یہ حالت۔ عمران خان کو جیسے کوئی پرواہ ہی نہیں تھی۔ گفتگو شروع ہوئی۔ راحیل شریف نے معذرت خواہانہ رویہ اپنایا تو عمران خان نے بات کاٹ دی کہ اسکی کوئی ضرورت نہیں۔ بہرحال جب طویل گفتگو کے بعد معاملات طے ہوئے تو عمران خان اور راحیل شریف نے جن نکات پر ایگری کیا وہ یہ تھے کہ سب سے پہلے فوج میں سے عمران خان کے ناپسندیدہ لوگ اہم عہدوں سے ہٹائے جائیں گے۔ اسکے بعد کوٹ لکھپت کے قیدیوں کو رہائی ملے گی۔ پھر عمران خان کو ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔ پھر کچھ وقت کے کول ڈاون پیریڈ کے بعد عمران خان اور فوج کے کچھ اچھے جرنیل مل کر ملک کے لیے ایک نئے عمرانی معاہدے پر دستخط کریں گے اور پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگیں گے۔
جی ہاں ناظرین ، مندرجہ بالا کہانیوں کا سیزن شروع ہوچکا ہے۔ عادی مجرم آپ کو بعینہ یہی والا شہد چٹائیں گے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو نواز شریف نے نوٹیفکیشن روک دیا، مریم اور حافظ میں اختلافات ہوگئے ، کٹھ پتلی حکومت فوج کو بلیک میل کررہی ہے ، زرداری نئے صوبے بنانے کے لیے لندن چلا گیا ہے اور عمران خان کو ترکی اور سعودی عرب نے ہسپتال لیجانے کا کہاہے جیسی شرلیاں چھوڑتے ہیں۔ ان فلموں پر یقین کرنے سے گریز کریں۔ جوگئے ہیں وہ اپنی مدت سے زیادہ وقت لگا کر گئے ہیں۔ جو آئیں گے وہ پچھلوں سے زیادہ ذلیل ثابت ہونے کی قسمیں کھا کر آئیں گے۔ پرہیز ، پرہیز ، پرہیز ۔
پنجاب پر مسلط گھٹیا جعلی حکومت اس بچی کا گھر اس لیے توڑ رہی ہے کیونکہ اس نے خیبر پختونخوا سے آئے مہمانوں کو ناشتہ کرانے کا جرم کیا ہے۔ پنجاب کی عوام غیرتمند ہے بہادر ہے اور نڈر ہے۔ جب یہ ہمارے لیے ناشتہ لا رہے تھے تو راستے میں پولیس نے ناشتہ بھی ضبط کر ک�� خود کھا لیا تھا۔ فیصلہ ساز، منصوبہ ساز ایک دفعہ پھر سوچ لے کہ ملک کو تقسیم کرنا ان کے فائدے میں ہے یا نقصان میں ؟
ہر وہ بندہ جو پاکستان کے ساتھ مخلص ہے وہ بھی ایسے اقدامات اور رویے پر ضرور اپنے گریبان میں دیکھ کر سوچیں کہ یہ مافیا ہمیں کس طرف لے کر جا رہا ہے ؟ ان کی خاموشی ایسے ظالموں کو مزید تقویت دے رہی ہے یا نہیں؟ آپ کی تھوڑی سے مزاحمت رویوں میں تبدیلی لا سکتی ہے۔
پاکستان کو ہم کسی صورت تقسیم نہیں ہونے دینگے۔ پاکستان ہمارا ہے اور ہم سب ایک تھے، ایک ہیں اور ایک ہی رہینگے۔
میرا نام ستارہ سلیم ہے۔ میں RHC راولپنڈی میں ایک نرس ہوں۔ میرا کام لوگوں کی خدمت کرنا ہے۔ رات 2 بجے سرکاری ہسپتال کے میل وارڈ میں ایمرجنسی وارڈ میں ڈیوٹی پر تھی۔
میں فی میل وارڈ میں مدد کرنے کے لیئے ایک مریض کو ڈرپ لگانے گئی تو وہاں رش بہت زیادہ تھا۔ ہسپتال کے رولز کے مطابق میں نے اٹینڈنٹس سے مہذب انداز میں کہا کہ "پلیز رش کم کریں یہاں زیادہ لوگ الاؤ نہیں ہیں "۔
بس یہی بات ان کو ناگوار گزری۔ مجھ پر حملہ کیا گیا۔ مجھے مارا گیا۔ مجھے گھسیٹ کر دوسرے وارڈ میں لے جایا گیا۔ وہاں میری عزت پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
گارڈز کھڑے تماشا دیکھتے رہے۔ کوئی مدد کو نہ آیا۔
میں نے خود کو بچانے کے لیے 15 پر 3-4 بار کال کی۔ پولیس گھنٹوں بعد آئی۔ اور آ کر بھی کہا "یہ فی میل کا کیس ہے، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ایپلیکیشن لکھ کر لائیں"۔
صبح تک ہسپتال کی انتظامیہ کا کوئی سینئر بندہ نہیں آیا۔ جب میرے کولیگز نے احتجاج کیا تب جا کر FIR درج ہوئی۔ لیکن وہ FIR بھی میرے بیان کے بغیر، میری مرضی کے بغیر لکھی گئی۔
اس کے بعد 6 گھنٹے تک مجھے ایک کمرے میں بند رکھا گیا۔ میرا فون لے لیا گیا۔ مجھے کہا گیا "کیس دبا دو، ورنہ تمہاری عزت چلی جائے گی"۔
آج ہاسٹل میں بھی مجھے دھمکیاں مل رہی ہیں۔
سوال یہ ہے: کیا ایک نرس کی جان، عزت کی کوئی قیمت نہیں؟
کیا ہسپتال جیسی جگہ پر بھی ہم محفوظ نہیں؟
کیا پولیس اور انتظامیہ کا کام صرف کاغذی کاروائی کرنا ہے؟
ہم دن رات عوام کی خدمت کرتے ہیں۔ کیا ہمیں یہ صلہ ملے ��ا؟
میں وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کرتی ہوں کہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ مجھے اور میرے جیسے تمام ہیلتھ ورکرز کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ مجھے انصاف چاہیے۔
خاموشی ظلم کی حمایت ہے۔
براہ کرم اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ میری آواز حکام بالا تک پہنچے۔
#JusticeForSitaraSaleem
پنجاب میں ظلم اور ریاستی جبر تمام حدیں پار کر چکا ہے!
اب گھروں کی چار دیواری بلکل بھی محفوظ نہیں رہی۔ ماؤں، بہنوں اور بزرگوں کو دھکے دے کر گھروں سے نکالا جا رہا ہے، جیسے شہری نہیں بلکہ کسی قابض نظام کے محکوم ہوں۔
مبشر مقصود اعوان کی والدہ کے ساتھ پولیس کا یہ سلوک اسی بے لگام جبر اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی ایک اور شرمناک مثال ہے۔ یہی طاقت کے نشے میں چور جابرانہ نظام کی اصل تصویر ہے۔
#فیصلہ_عوامی_طاقت_سے_ہوگا
#مزاحمت_بڑھاؤ_خان_چھڑاؤ