رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"قرآنِ پاک میں ارشاد ہے: اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا (یعنی اللہ کسی بھی انسان کو ایسے غم میں مبتلا نہیں کرتا جسے برداشت کرنے کی اس میں طاقت نہ ہو)۔"
کتاب: المستدرک | حدیث نمبر: 2855
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے قرآنِ مجید کے اس عظیم اصول کی طرف رہنمائی فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ان کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری یا آزمائش نہیں ڈالتا، یعنی ہر تکلیف، آزمائش اور غم کے ساتھ برداشت کی قوت بھی عطا کی جاتی ہے، جیسے ایک استاد اپنے شاگرد کو اسی درجے کا سوال دیتا ہے جسے وہ حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندے کی استطاعت سے بڑھ کر اسے آزمائش میں نہیں ڈالتا، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مشکل حالات میں مایوس ہونے کے بجائے صبر اور توکل اختیار کرنا چاہیے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص بیماری، مالی تنگی یا کسی اور آزمائش میں مبتلا ہو تو اسے یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ نے اسے اس امتحان کو برداشت کرنے کی صلاحیت بھی دی ہے، یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر آزمائش کے پیچھے حکمت ہے اور اللہ کی رحمت بندے کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتی۔