ابھی چند ہفتے پہلے طالبان کی بدری فورس کے کمانڈر عبدالحمید خراسانی نے ٹی وی پر انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا کہ اگر امیر المومینین ہمیں اجازت دیں تو چوبیس گھنٹے کے اندر اندر ہم پشاور اور کوئٹہ فتح کر چکے ہونگے۔ پھر انہوں نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر 53 جگہ حملہ کیا۔ جواب میں پاکستان نہ صرف انکی تمام پوسٹیں فتح کرلیں بلکہ کئی کئی کلومیٹر افغانستان کے اندر گھس گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے جوابی حملے میں سب سے پہلے یہی عبدالحمید خراسانی ہلاک ہوا۔
اب طالبان کی فوجی عدالت کا ایک اور کمانڈر عبدالہادی ہمت کہہ رہا ہے کہ اگر ہمیں امیرالمومینین اجازت دیں تو ہم اگلی ہی رات کوئٹہ اور پشاور میں ہونگے۔
یہ بےشرم لوگ چین سے سفارشیں کروا رہے ہیں کہ ہمارے پہلے حملے میں پاکستان نے ہمارے جو علاقے فتح کیے وہ واپس کروائیں اور ہمیں اپنی سرزمین پر چیک پوسٹیں بنانے کی اجازت دیں۔ تو بھائی پہلے اپنے وہ علاقے فتح کرلو جن پر پاکستان نے چند ماہ پہلے قبضہ کیا تھا۔ اس کے بعد پشاور اور کوئٹہ فتح کرنا!
افغانستان ہمیشہ سے بڑی طاقتوں کی رکھیل یا کھیل کا میدان رہا ہے اور سوائے افریقہ کے دنیا کا کوئی ملک نہیں جس نے کبھی نہ کبھی افغانستان فتح نہ کیا ہو۔ البتہ یہ پہلی بار ہوا کہ جب انکو پاکستان جیسا غیرتمند پڑوسی ملا جس نے انکی روس اور پھر امریکہ کے خلاف مدد کی تو وہ فاتح فورسز کو افغانستان سے نکالنے میں کامیاب رہے۔ کرنل امام اور جنرل حمید گل سمیت کتنے ہی پاکستانی فوج کے افسر ہیں جنہوں نے ان وحشیوں کو لڑنے کی تربیت بھی دی اور ہمت بھی۔ آج انکو انڈیا نے ایک ہڈی کیا ڈال دی یہ انہی پر بھونکنا شروع ہوگئے جنہوں نے انکو پالا تھا۔
اپنے باپ پر حملے کا شوق ہے تو ضرور کریں۔ لیکن اس بار پہلے سے زیادہ مار پڑے گی یہ گارنٹی ہے۔
#Afghanistan
ان سے ملیں، یہ چوہدری اظہر صادق ہیں۔ نون لیگ نے آزاد کشمیر میں LA-1 ڈڈیال، ضلع میرپور سے انہیں ٹکٹ دیا ہے۔ یہ نون لیگ میں تھے، پھر 2016 میں پی ٹی آئی میں چلے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف ایک چور ہے، ان کا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ پاناما لیکس کے بعد چوروں کی حمایت کرے۔ عمران ایک عظیم لیڈر ہیں۔
یہ چند دن پہلے نون لیگ میں شامل ہوئے اور نون لیگ نے اپنے مشکل وقت کے متحرک کارکن راجہ شعیب عادل کو چھوڑ کر انہیں ٹکٹ دے دیا ہے۔
مزے کی بات یہ کہ یہ اس حلقے میں رہتے بھی نہیں ہیں۔
افغانستان نے کل کراچی میں رینجر پر حملہ کرنے کیلئے خودکش بمبار بھیجے تھے پاکستان نے رات کو JF-17 بمبار بھیج دیئے ان نمک حرامیوں کے ساتھ ایسا ہی کرنا بہتر ھے
پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اگر کسی نے ہمارے پانی پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ہم دوٹوک اعلان کر چکے ہیں کہ جو ہمارے پانی پر ہاتھ ڈالے گا، ہم وہ ہاتھ کاٹ دیں گے، ڈاکٹر مصدق ملک
مافیاجیت گیا، عالمی مارکیٹ میں خام تیل 68.65 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے پوری دنیا میں تیل سستا ہوگیا لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں مافیا راج کی وجہ سے تیل137 روپے مہنگا
آئیل مارکیٹنگ کمپنیوں اور پیٹرول پمپس مالکان کو اربوں کھربوں کا فائدہ پہنچایا گیا۔
عوام ان کی جوتی کی نوک پر
یہ دو ڈکیت آج گلشن اقبال سے ڈکیتی کر کے بھاگے ہیں ان کو مشہور کرنے میں ہمارا ساتھ دیں تاکہ یہ لوگ پولیس کو آسانی سے مل جائے پولیس کا پیٹرول ڈیزل اور وقت اور محنت کم
جب ماہرنگ بلوچ کی سزا غلط لگے،جب لگے کہ بی ایل اے تو حقوق کے لئے لڑ رھی ھے تو ان یتیم بچیوں کا خیال اپنے دماغ میں لائیے گا ،خداناخوستہ ان کی جگہ میری یا آپ کی بچیاں بچے بھی ھوسکتے تھے۔اس لئے فوجی جوان کے بارے میں بکواس کرنے والے ریاست کے خلاف ھوتے ھیں۔
خدا کی قسم ہم بلوچ ایسے نہیں ہیں، لیکن بی ایل اے کے کتوں نے ہماری پہچان ہماری روایات کو پامال کر رکھا ہے۔ کل تک مہمان نواز اور غیور کہلانے والا بلوچ آج مجرم بن گیا ہے۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ ہم ایسے تو نہ تھے کہ کوئی راستہ بھٹک جائے تو اسے گولی مار دیں۔ یہ کون لوگ ہیں، یہ جو بھی ہیں یہ بلوچ نہیں ہیں لیکن ہم یہ بات شاید ان ننھی بچیوں کو ساری زندگی نہ سمجھا پائیں 💔
حامد میر جیسے فتنوں کو اب انسانی حقوق یاد نہیں آئیں اب ان کی فیورٹ ماہرنگ اور بی ایل اے سے بلوچستان میں کچھ بھی محفوظ نہیں جب ریاست ان کو فکس کرے گی تو آپ بکا مچ جاے گی انسانی حقوق کی ۔
کراچی کی اس بےگناہ فیملی کوانصاف دیں،ان دہشت گردوں کوچن چن کرماریں
کچھ دیرقبل جوماں اپنےبچوں کےساتھ ہنستےکھیلتےویڈیوزبناتی رہی کچھ ہی لمحےبعدوہ لاش کےپاس بےیارومددگاربیٹھی تھی۔
ڈاکٹر ماہرنگ صاحبہ اور ان کے تمام ہم دردوں سے سوال ہے کیا اس بے بسی بے کسی کی مجسم خاتون کا قصور بتاسکتے ہیں اس کے معصوم نہتے شوہر کے قتل کی وجہ بتاسکتے ہیں اس کی معصوم بچیوں پر جو گزررہی ہے ان کی چیخوں کی تاب لاسکتے ہیں اب کیا انسانیت مرگئی ہے جن کو عورتوں کے حقوق یاد آتے ہیں اب یاد آرہے ہیں کیا کیا سمی دین صاحبہ اس خون ناحق پر کچھ کہینگی
مہرنگ بلوچ کی سزا پہ ٹسوے بہانے والے بغیرتو بی ایل اے کی سہولت کاری کرنے والے ملک دشمن ظالمو اس بچی کا کیا قصور تھا اللّٰہ تمہیں برباد کرے تمہاری نسلیں برباد کرے
نو محرم... رات تقریباً 9 بجے...
#قومی_زبان
سرجری کی ایمرجنسی میں ایک 13 سالہ بچی لائی گئی۔
چہرہ زرد..
سانسیں ٹوٹتی ہوئی...
آکسیجن صرف 38%...
اور نبض تقریباً 190...
پوری ایمرجنسی میں ایک لمحے کے لیے بھگدڑ مچ گئی۔
بعد میں معلوم ہوا کہ ایک بھاری ریڑھی اس کے سینے کے اوپر سے گزر گئی تھی۔ دونوں پھیپھڑے بری طرح زخمی تھے۔
مگر اس وقت کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ حادثہ کیسے ہوا؟
ہم سب کے ذہن میں صرف ایک ہی سوال تھا...
کیا یہ بچی واپس سانس لے سکے گی؟
میں نے اس کے والد اور سفید داڑھی والے دادا کو بتایا کہ حالات بہت نازک ہیں۔
دادا نے میری طرف دیکھا...
پھر بچی کی طرف...
اور ان کی آنکھوں سے خاموشی سے آنسو بہنے لگے۔
اس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ دنیا کا سب سے بھاری وزن شاید ایک بے بس بزرگ کی آنکھ کا آنسو ہوتا ہے۔
پھر وقت جیسے دوڑنے لگا۔
کوئی آکسیجن سنبھال رہا تھا...
کوئی آلات تیار کر رہا تھا...
کوئی خون کا بندوبست کرنے بھاگ رہا تھا...
کوئی آئی سی یو میں بیڈ ڈھونڈ رہا تھا...
بچی کو آپریشن تھیٹر لے جاتے ہوئے اپنے سینئر رجسٹرار کو راہداری میں بیڈ کے ساتھ بھاگتے ہوئے دیکھا۔
اور نو محرم کی چھٹی کے باوجود، ہماری درخواست پر ہمارے اسسٹنٹ پروفیسر بچی کی خیریت دریافت کرنے کے لیے آپریشن تھیٹر آئے۔
آپریشن تھیٹر میں سینے میں دونوں طرف ٹیوب ڈالی گئی۔
تقریباً ایک لیٹر خون باہر نکلا، جو پھیپھڑوں کو دبا کر اس کی سانسیں چھین رہا تھا۔
اور پھر...
مانیٹر پر ایک عدد بدلا، آکسیجن بہتر ہوتی گئی۔۔
38... 52... 71... 86... پھر 92%۔
نبض بھی آہستہ آہستہ 190 سے واپس زندگی کی طرف لوٹنے لگی۔
اس لمحے پورے آپریشن تھیٹر میں کسی نے تالیاں نہیں بجائیں...
صرف سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا...
اور دل ہی دل میں کہا:
الحمدللہ...
آج جب وہی بچی آئی سی یو میں مسکراتی ہوئی ملی، تو اسے شاید یاد بھی نہیں تھا کہ ایک دن پہلے کتنے لوگ اس کی ایک ایک سانس کے لیے لڑ رہے تھے۔
شاید یہی ڈاکٹر کی اصل کمائی ہے۔
نہ شہرت...
نہ دولت...
بلکہ ایک باپ کی دعا...
ایک دادا کی نم آنکھیں...
اور ایک بچی کی لوٹتی ہوئی مسکراہٹ۔
میرا یقین ہے...
جس دن ڈاکٹر کے دل سے انسانیت ختم ہو جائے، اسی دن اس کی ڈگری صرف ایک کاغذ رہ جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر مریض کو شفا دے، اور ہمیں ہمیشہ کسی کی زندگی میں آسانی کا ذریعہ بنائے۔
کیونکہ بعض اوقات... ایک جان بچانا، پورے خاندان کو دوبارہ زندہ کر دینے کے برابر ہوتا ہے۔
ڈاکٹر ابو بکر بھٹہ
کپڑے شوہر کے خون سے رنگے ہوۓ، دل و دماغ میں ایک ہی بات چل رہی ہوگی کہ آخر ہمارا قصور کیا تھا؟
کراچی سے آئی اس فیملی پر بلوچستان کے علاقے دشت میں قیامت برپا کی گئی
خدارا بلوچستان جب بھی آئیں بلوچستان میں رہنے والے کسی عزیز یا رشتے دار کے ساتھ آئیں،
اب یہاں وہ حالات نہیں کہ کوئ سیاح یا غیر مقامی افراد اکیلا سفر کرسکے۔۔۔
جیو نیوز پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکے نشر کرنا ناجائز اور حرام ہیں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق دستوری طور پر اور پیمرا قوانین کے مطابق بھی یہ درست نہیں