براء بن مالك بن النضر الانصاری رض ... ایک جانباز صحابی (تھریڈ)
۔۔۔۔
براء بن مالک، انس بن مالک رض مشہور صحابی کے علاتی بھائی ہیں، ماں کا نام سمحاء تھا، بعض لوگوں نے ان کو انس رض کا حقیقی بھائی قراردیا ہے، بڑے بہادر اور نڈر مجاہد تھے۔ غزوہ بدر کے سوا ہر غزوہ میں شریک ہوئے۔👇
1/17
کچھ کوفہ کے بارے میں
کوفہ والوں کی وفا پہ انگلیاں اٹھتی رہیں مگر
یہ کسی نے بھی نہ سوچا کہ جب یزید ابن معاویہ نے جبر ظلم اور طاقت سے ہر قیمت پر حسین ابن علی۴ سے اپنی بیعت لینے کا حکم دیا تو مکہ اور مدینہ کے کتنے صحابہ کرام ۔ ان کی اولادوں اور مسلمانوں نے اس مشکل وقت میں
وہ ڈٹے تو نہیں تھے، یزید کے پاس جانا چاہتے تھے انہیں پہنچنے نہیں دیا گیا۔ کبھی کربلا کا واقعی خود بھی پڑھ لینا چاہیے، ذاکروں پر اندھا اعتماد اچھی بات نہیں ہے۔
@paradiseJaneeta سب کچھ ہی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے، مجھے مطالعہ کا شوق تھا لیکن جتنے پیسوں کا پہلے ایک انسائیکلوپیڈیا آ جاتا تھا اتنے میں تین چار سو صفحات کی کتاب آتی ہے اب۔
مودودی صاحب کا رابطہ کیسے ہوا تھا سیدنا حسین رض سےان کا اصل موقف جاننے کے لیے؟
بالفرض اگر ایسا ہی کہا تھا تو یہ تو سیدھا سیدھا 'سرنڈر' ہے۔ پھر وہ حق کے لیے جان دینے کی کہانیاں کیا ہوئیں؟
یہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت حسین ؓ نے کہا تھا کہ مجھے یزید کے پاس لے جاؤ، میں اس کے ہاتھ پر بیعت کر لوں گا تو یہ درست نہیں۔ بلکہ انھوں نے کہا تھا کہ مجھے یزید کے پاس جانے دو اور پھر اس سے فیصلہ کرنے دو، خواہ وہ میرے قتل ہی کا فیصلہ کر دے۔
سید مودودیؒ
والٹیئر جب بستر مرگ پر تھا تو پادری اس کےسرہانے کھڑا ہوکر انجیل مقدس سےمختلف دعائیں پڑھنے لگا اور تلقین کرنے لگاکہ وہ شیطان مردود پر لعنت بھیجے۔ جب اس نےتواتر سے یہ تلقین کی تو والٹیئر نے آنکھیں کھولیں اور بولا:
”اے نیک پادری! یہ موقع نئے دشمن بنانے کا نہیں۔“
عرفان جاوید،دروازے