گڈ گورننس صرف اچھی پالیسیوں، فائلوں، بیوروکریسی یا نظام کا نام نہیں، بلکہ اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ نظام چلا��ے والے لوگ اپنے عہدوں کے اہل بھی ہوں۔
اگر ایک صوبے کا وزیرِ تعلیم طالب علم کی گفتگو تک نہ سمجھ سکے اور ترجمے کا محتاج ہو، تو یہ صرف ایک فرد کی کمزوری نہیں بلکہ گورننس، میرٹ اور سیاسی تقرریوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
وزارتیں سیاسی انعام نہیں بلکہ عوامی امانت ہوتی ہیں۔ تعلیم، صحت اور دیگر اہم شعبوں میں ایسے افراد تعینات ہونے چاہییں جن کے پاس متعلقہ شعبے کی سمجھ، صلاحیت اور فیصلہ سازی کی اہلیت ہو۔ بصورتِ دیگر بیڈ گورننس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔
عیسی خیل میں گھر سے کھیلنے کے لیئے نکلنے والے 4 بچے قریبی گھر میں کھڑی کار سے مردہ حالت میں پائے گئے۔ پولیس کے مطابق بچے کھیلتے کھیلتے کار میں سوار ہوگئے اور کار کے دروازے آٹو میٹک طریقہ سے بند ہوگئے۔ چاروں بچے دم گُھٹنے سے جاں بحق ہوگئے۔
اسے کہتے ہیں منہ انگلیاں سر دھڑ سب کچھ کڑاہی میں~یہ بجلی گھر بجلی پیدا کریں یا نہ کریں انہیں اربوں کی ادائیگی ہوتی ہے۔ان کا آڈٹ نہیں ہوسکتا۔اب انکشاف ہوا ہے ان کو چار سالوں میں 7000 ارب روپے کی کیپسٹی چارجز کی مدد میں ادائیگی ہوئی ہے اس پر کوئی انکم ٹیکس نہیں لیا جاتا۔ بلکہ کسی کمائی پر ٹیکس نہیں ہے۔😳
سب بھاری ٹیکس، چارجز، لیوی، بلز، عوام نے دینے ہیں۔۔ یہ کون لوگ ہیں اور کہاں سے آئے ہیں جنہیں اتنا کچھ دیا جارہا ہے۔۔
پانچ سال میں بجلی پیدا کئے بغیر آئی پی پیز کو 7,275 ارب روپے کے ادائیگی۔ پرائیویٹ بجلی گھروں کو 13 ہزار 397 ارب روپے ادا کیے گئے جبکہ 6 ہزار 121 ارب روپے کی بجلی وصول کی گئی۔ 7 ہزار ارب سے زائد کی رقم صارفین سے وصول کر کے بجلی گھروں کو اس لیے ادا کی گئی کہ انہوں نے بجلی پیدا ہی نہیں کی۔
روزنامہ دنیا میں ذیشان یوسفزئی @Zeeshan_usafzii کی خبر
🚨محمد عمیر کا پیغام🚨
براہِ کرم میرے 17 ماہ کے معصوم بیٹے محمد صالح بن عمیر کے انصاف کے لیے اپنی آواز بلند کریں
18 جولائی کو صبح تقریباً 5:00 بجے ہم اپنے 17 ماہ کے بیٹے کو سول ہسپتال مری لے گئے کیونکہ اسے الٹی اور اسہال کی شکایت تھی۔
ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے نہ اس کا بخار چیک کیا اور نہ ہی اس کی دیگر اہم علامات (Vital Signs) کا معائنہ کیا۔ اس کے بجائے اس نے پرچی پر پانچ انجیکشن لکھ دیے۔
یہ پانچوں انجیکشن پانچ منٹ سے بھی ��م وقت میں لگا دیے گئے۔ حتیٰ کہ رنگر لیکٹیٹ (Ringer Lactate)، جو عام طور پر ڈرِپ کے ذریعے دیا جاتا ہے، اسے بھی ڈرِپ لگانے کے بجائے براہِ راست ا��جیکٹ کر دیا گیا۔ میں نے مرد نرس سے پوچھا:
“کیا رنگر لیکٹیٹ ڈرِپ کے ذریعے نہیں دینا چاہیے؟”
اس نے جواب دیا:
“ اب ہو گیا ہے۔”
اور باقی انجیکشن لگاتا رہا۔
اس کے فوراً بعد ڈاکٹر نے ہمیں بچے کو گھر لے جانے کے لیے کہہ دیا۔
اس کے بعد ہم اسے قریبی سی ایم ایچ مری (CMH Murree) لے گئے۔
وہاں عملے نے پہلے دیے گئے علاج کا جائزہ لینے کے بعد شدید تشویش کا اظہار کیا اور ہمیں دوبارہ سول ہسپتال جانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ فوری طور پر بچے کو داخل نہیں کر سکتے، اور اگر تقریباً 10 گھنٹے بعد اس کی حالت سنبھل جائے تو دوبارہ لے آئیں۔
صبح تقریباً 10:00 بجے ہم دوبارہ اپنے بیٹے کو سول ہسپتال مری کے ماہرِ اطفال کے پاس لے گئے اور ان سے التجا کی کہ ہمارے بچے کو داخل کر لیں کیونکہ اس کی حالت مسلسل بگڑ رہی تھی۔ ہم نے انہیں یہ بھی بتایا کہ پانچوں انجیکشن صرف پانچ منٹ کے اندر لگا دیے گئے تھے۔
ان کا جواب تھا:
“بی بی، یہ گورنمنٹ ہسپتال ہے۔ یہاں یہی ہوتا ہے۔ آپ کیا کہتی ہیں ہم اسے ایڈمٹ کر لیں؟ ایسا نہیں ہوتا۔”
بچے کو داخل کرنے کے بجائے انہوں نے ایک اور انجیکشن (Onset) لکھ دیا۔ نرس نے اس انجیکشن کا تقریباً آدھا حصہ لگایا۔ اس وقت تک ہمارے بیٹے کا جسم کانپ رہا تھا، اس کے ہاتھ اور پاؤں نیلے پڑ چکے تھے، لیکن کسی نے بھی اس کی حالت پر توجہ نہ دی، اور ہمیں دوبارہ گھر بھیج دیا گیا۔
گھر جاتے ہوئے اس کا بخار 105°F تک پہنچ گیا۔ ہم فوراً اسے ایک دوسرے ہسپتال لے گئے، جہاں اسے فوری طور پر داخل کر لیا گیا۔ ڈاکٹرز کی ہر ممکن کوشش کے باوجود ہمارا 17 ماہ کا معصوم بیٹا اسی دن شام تقریباً 5:00 بجے انتقال کر گیا۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سول ہسپتال مری میں ��مارے بیٹے کو دیے گئے علاج کی منصفانہ، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔ ہم جواب چاہتے ہیں، ذمہ داروں کا احتساب چاہتے ہیں، اور انصاف چاہتے ہیں تاکہ آئندہ کسی اور خاندان کو اس ناقابلِ تصور سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ایک معصوم کی جان سول ہسپتال مری میں ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث چلی گئی۔ ایک معصوم جان کا اس طرح ضائع ہو جانا ناقابلِ برداشت سانحہ ہے، اور اس معاملے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کا قانون کے مطابق احتساب انتہائی ضروری ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل کسی اور معصوم کی جان بھی اسی غفلت کی نذر ہو سکتی ہے۔
میں اپنے تمام میڈیا فیلوز، صحافی دوستوں، سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اور انصاف پسند لوگوں سے مؤدبانہ گزارش کرتی ہوں کہ براہِ کرم اس معاملے پر آواز اٹھائیں، اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں، اور ہماری آواز متعلقہ حکام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں۔
براہِ کرم ہماری آواز بنیں۔ ایک معصوم جان واپس نہیں آ سکتی، لیکن انصاف ضرور ہونا چاہیے۔
#JusticeForMuhammadSualehBinUmair #JusticeForSualeh #MedicalNegligence #CivilHospitalMurree #VoiceForJustice #THQHospitalMurree
Maryam Nawaz Sharif Raja Osama Sarwar Punjab Healthcare Commission - PHC PML-N Punjab
@MaryamNSharif
@GovtofPunjabPK
بھارت میں ڈیم بھرتا ہے۔ وہ سپل وے کھول دیتے ہیں اور یہاں خبر چلائی جاتی ھے کہ بھارت نے آبی جارحیت کر دی۔ بھائی جب ڈیم بھر گیا ہے تو وہ کیا ڈیم تڑوا کر تباھی کروا لیں؟ سپل کھولنے کیلئیے ہوتے ہیں انہوں نے کھول دئیے آپ بتائیے آپ نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ کوئی ڈیم بنایا ہے کہ جب فالتو پانی آئے تو ڈیم بھر جائے؟ کوئی سیلابی نہریں بنائی ہیں؟ کیا آپ کا کام صرف عیاشی اور سیر سپاٹے کے لیے جہاز خریدنا ھے اور بیرون ملک بینک بھرنا ھے یا پھر دریائ زمین ��ر سوسائٹیاں بنانا رہ گیا ہے؟
کراچی الرٹ
نیا ناظم آباد سے ڈھائی سالہ بچہ اذان گزشتہ رات مبینہ طور پر اغوا ہو گیا،
اہلِ خانہ کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک موٹرسائیکل سوار شخص بچے کو علاقے سے باہر لے جاتا دکھائی دیتا ہے،
واقعے سے پولیس کو آگاہ کر دیا گیا ہے، تاہم تاحال بچہ بازیاب نہیں ہو سکا۔ اہلِ خانہ نے شہریوں سے بچے کی تلاش میں تعاون کی اپیل کی ہے۔
ضلع صوابی کے رہنے والے ریسکیو 1122 کے میڈیکل ٹیکنیشن کامران خان جب اپنے گاؤں جا رہے تھے، تو انہوں نے راستے میں ایک نہر کے پاس دل دہلا دینے والا منظر دیکھا۔ ایک تین سال کا معصوم بچہ نہر میں ڈوب گیا تھا اور اس کے گھر والے اسے مرا ہوا سمجھ کر رو رہے تھے۔
ایسے میں کامران نے فوراً اپنی ڈیوٹی کا فرض نبھایا اور بچے کو مصنوعی سانس (سی پی آر) دینا شروع کر دی۔ کچھ ہی دیر کی کوشش کے بعد بچے کی سانسیں واپس آ گئیں اور اس کی جان بچ گئی
اسلام آباد کے دیہی علاقے اٹھال کے رہائشی نے اپنی اہلیہ کے عشق میں ایک ایسا محل تعمیر کیا ہے جو ہے تو تاج محل جیسا، مگر نام ان کی اہلیہ کے نام پر ’ثوبیہ محل‘ رکھا گیا ہے۔ قریباً سو کنال کے رقبے پر پھیلے اس محل میں مقبرے اور میوزیم کے علاوہ اور کیا کچھ ہے؟
💥یہ نلتر جھیل میں ڈوبنے والے بچےکی ویڈیو ہے
جب یقین ہو چلا تھا کہ بچہ ڈوب کر جاں بحق ہو چکاھے
گھر والوں نے رونا دھونا شروع کر دیا
ایسے پنجاب کی ایک سیّاح لیڈی ڈاکٹر اور انکے شوہر نے اس بچے کو طبی امداد بہم پہنچا کر جان بچائی
یہ ایک معجزہ ہواھے
یہ جواڑا خراج تحسین کا حق دارھے
بھارت کی 41 سال پہلے کروائی گئی ریاستی دہشت گردی کا گواہ مل گیا!
بھارت نے خالصتانی سکھوں کو بدنام کرنے کیلئے 23 جون 1985 میں ائر انڈیا فلائٹ اے آئی 182 کنشکا بم دھماکا کروا کر 329 کینیڈین شہریوں کا خون کروایا!
راء کے سربراہ گریش سکسینا، جو اُس وقت وزیر اعظم راجیو گاندھی کی کانگریس حکومت کو براہِ راست رپورٹ کرتے تھے، نے بھارتی حکومت کے کہنے پر 1985 کے کنشکا بم دھماکے کی منصوبہ بندی کی بھارتی قونصل خانے کے اہلکاروں نے زبردستی ایئر انڈیا فلائٹ 182 کو بناء بم چیکنگ روانہ ہونے پر مجبور کیا
بم سونگھنے والے کتے کے ہینڈلر نے گواہی دی کہ
"اگر مجھے مونٹریال ایئرپورٹ پر ایئر انڈیا فلائٹ اے آئی 182 کی بم چیکنگ کرنے کی اجازت دی جاتی تو 329 کینیڈین جانیں بچائی جا سکتی تھیں"
گزشتہ 41 ��رس سے دنیا کو بھارت بتاتا رہا کہ ایئر انڈیا فلائٹ 182 پر حملہ خالصتان کے شدت پسندوں نے تلویندر سنگھ کی قیادت میں کیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی سفارتکار سریندر ملک، برج موہن لال، اور دویندر اہلووالیہ جنہیں کینیڈا سے نکالا گیا وہ راء چیف سکسینہ کی ہدایات پر، وزیر اعظم راجیو گاندھی کے براہِ راست احکامات کے تحت خفیہ کارروائیاں کر رہے تھے
آج بھی مودی حکومت سفارتکاروں اور قونصل خانوں کو راء کے انٹیلیجنس آپریٹو کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کینیڈا امریکہ آسٹریلیا میں ٹارگٹ کلنگ اور پرتشدد ہندوتوا نیٹ ورکس چلا رہی