بلوچستان کی تاریخ کا سب سے بڑا دھرنا جس میں ہزاروں افراد شریک ہیں ، 30 شہید پولیس اہلکاروں کیلئے پچھلے ایک ہفتے سے انصاف کا مطالبہ کررہا ہے ، نام نہاد قومی میڈیا سے لیکر وفاقی و صوبائی حکومتوں تک کوئی ٹس سے مس نہیں ہورہا
انسانی حقوق کے چیمپئنز سے لیکر دانشوروں تک بھی سب ایسے چپ بیٹھے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہو
اس اجلاس میں شاید یہی غور ہوا ہوگا کہ پٹرول اور ڈیزل کی مزیدقیمتیں کیسے بڑھانی ہیں، تاکہ پٹرول مافیا کو مزید خوش کیا جاسکے۔
عوام کا اور کتنا تیل نکالنا ہے، ن لیگ کے باقی ماندہ ووٹ بینک اور نواز شریف کی جماعت کا خاتمہ کیسے کرنا ہے۔
یہ جنوری کی ویڈیو ہے جب یہ شہزادے افغان بارڈر پر ڈیوٹی دے رہے تھے جب یہ ڈیوٹی دے رہے تھے تب مولانا گرم کمبلوں میں سکون سے بیٹھے تھے
ایسے شہزادوں کی تنہواہیں گننے والوں کی ذہنیت پر لعنت بھیجنا ہی بنتی ہے
میم جب آپ اگلی دفعہ اسمبلی جائیں تو اسپیکر سے پوچھیے گا کہ رجب بٹ کو کس لیے ایوارڈ دیا ہے
اور مزید اپنی کسی سہیلی وزیر سے بھی پوچھیے گا کہ ان پر محکمہ جنگلی حیات کی طرف سے ایک کیس بنا تھا تو کس نے ان کو چھڑوایا ۔
قوم تو ہوئی ویلی نکمی
مگر سرکار میں بیٹھے لوگوں کی کیا مجبوری ہے ؟
اس وقت پورے ملک میں بجلی بحران کی وحہ یہ ہے کہ تقریبا پون صدی سے رائج بجلی کا تقسیم کاری کا نظام جدید سولر سسٹم کو اپنا حلیف سمجھتا ہے اور اس کے منصوبہ ساز اور پالیسی ساز سولر کی نئی ابھرتی حقیقت کو ماننے کو تیار نہیں ہیں، جب تک سورج چمکتا رہتا ہے تو یہ سولر نظام اپنی بجلی بناتا ہے، صارف استعمال کرتے ہیں اور یوں یہ حکومتی تقسیم کار کے نظام کو سلائے رکھتا ہے۔ جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے، یہ سارا سولر والا وزن بجلی کے قومی تقسیم کار کے نظام پر منتقل ہو جاتا ہے اور سولر خود سو جاتا ہے۔ اب قومی نظام پر وہ سارا بوجھ پڑ جاتا ہے جو دن میں نہیں پڑا ہوتا اور الحمد للہ پلاننگ کمیشن سے لے کر واپڈا ہاوس تک ایسے ذینی بانجھ بیٹھے ہوئے ہیں کہ وہ بجلی کے نظام کے اس روئیے کے ساتھ نہیں چل پا رہے۔ تو نتیجہ یہ ہے کہ جیسے ہی شام ہوتا ہے، ملک کا پورا نظام مختلف جگہوں پر ٹرپ کرنا شروع کردیتا ہے۔ تیل اور پانی سے بجلی بنانے والے نظام کو نئی حقیقتوں کا ادراک کرکے، فیصلہ سازوں کو نئی ضروریات کے مطابق تقسیم کاری کا نظام بنانا ہو گا ورنہ یہ پوری معیشت اور معاشرت کو لے کر بیٹھ جائے گا۔
آپ کا کیا خیال ہے؟
جی ٹی وی نے اپنے ڈرامے ضبط کی قسط نمبر 20 یوٹیوب سے ہٹادی ہے ۔ کیوں کہ 20 جون کو نشر کئے گئے اس ڈرامے کی قسط میں ایکٹرس سارہ اعجاز خان اسلامک اسٹڈیز کی کتاب کو پھینکتے ہوئے دکھائی جاتی ہے جس پر مسجد نبویﷺ کی تصویر بنی ہوئی تھی اور ظاہر ہے کہ اسلامک اسڈیز کے اندر بھی اللہ اور رسولﷺ کا ہی زکر ہوگا ۔
اب یہ ڈرامے میں نادانستہ غلطی تو نہیں ہوسکتی ۔ پھینکنا ہی تھا تو شیکسپئر کا کوئی ناول وغیرہ پھینکا جاسکتا تھا ۔لیکن جیو نیوز عادی جرائم پیشہ ہے ۔ پوری ڈھٹائی کیساتھ یہ اسلامی شعائر کو نشانہ بناتا آیا ہے ۔ اکثر صحافی صرف پروفیشنل کیئریر کی وجہ سے خاموش ہیں یا پھر اس کی حمایت کررہے ہیں
اب تو کوئی شک نہیں رہا ہے کہ جیو اور جنگ گروپ نادانستہ نہیں بلکہ جان بوجھ کر شعائر اسلام کو نشانہ بنارہے ہیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد ( پہاڑ ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا۔
(سنن ابی داؤد، ۴۶۵۸)
@digitalchirrya إِنَّا ِلِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون, بہت افسوس ہوا- الله والدہ مرحومہ کی کامل مغفرت فرمائیں, انہیں جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں اور آپ سمیت تمام سوگواران کو صبر عطا فرمائیں- آمین
تم پیپلز پارٹی سے بلیک میل ہوتے ہو۔
تم شوگر ملز مالکان سے بلیک میل ہوتے ہو۔
تم آئل کمپنیوں سے بھی بلیک میل ہوتے ہو۔
تم اس ملک کی ہر اشرافیہ سے بلیک میل ہوتے ہو۔
چاچو یہ ہمارے ہاتھ ہیں 🙏 خدا کا نام لو گھر جاؤ اور ہماری جان چھوڑو کیونکہ تم سے نہ ہو پائے گا 😡😡
@CMShehbaz@NawazSharifMNS
آئل سستا ہونے سے کمپنیوں کو 104 ارب
کا نقصان کمپنیوں نے وزیرِ پیٹرولیم کو خط لکھ کر یہ سب تو بتا دیا
مگر یہ نہیں بتایا پیٹرول مہنگا کر کے ہم نے کمائی کتنی کی
دوغلے منافقو۔۔۔۔؟؟
وضعه طبيعيّ، وهو وضع كلّ عاقلٍ رزين، أخلص وأجهد نفسه وأرهقها في التعامل مع معتوهَيْن طائشين (الحرس الثوريّ وترامب)، هذه الملامح ملامح مقهور متألّم متحسّر، وعادة أصحاب هذا الشعور نبلاء…
الله يعينه، فالصبر على التعامل مع مثل هذه الفئات يغتال الإنسان.
آج اطالوی وزیراعظم کے سیاسی مخالفین ایک پیج پر ہیں اور آج وہ لوگ بھی جورجا میلونی کے ساتھ ہیں جنہوں نے گزشتہ انتخابات میں اپنا ووٹ میلونی کے خلاف دیا اور آج وہ عام شہری بھی میلونی کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں جو میلونی کے ناقدین تھے جبکہ دوسری جانب جب بھی پاکستان پر بیرونی حملہ ہوا عمران نیازی کی جماعت باجماعت ہوکر پاکستان کے خلاف کھڑی ہوئی جب ایران نے میزائل حملہ کیا تو یوتھیوں نے ایران کو جی ایچ کیو پر میزائل مارنے کا مشورہ دیا جب ہندوستان نے حملہ کیا تو علیمہ باجی سمیت پوری جماعت ہندوستان کے ساتھ کھڑی ہوئی اور جب افغانستان نے حملہ کیا تو قوم یوتھ افغانیوں کے حق میں کھڑی ہوگئی اور اب ایکشن کمیٹی کے ہندوستانی غنڈے پاکستانی ریاست پر حملہ کرکے کشمیر کو ہندوستانی قبضہ میں دھکیلنا چاہتے ہیں تو پوری قوم یوتھ ایکشن کمیٹی کے ساتھ کھڑی ہے
سلام ہے اطالوی عوام پر جو آج اپنی وزیراعظم کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ لعنت ہے عمران خان اور اسکی جماعت پر جو ہر موقع پر پاکستان کے خلاف کھڑے ہوئے
اگر پاکستان کے 50 بڑے اینکرز کالمسٹ اور وی بلاگرز اپنے پچھلے 10 سال قبل کے اثاثہ جات اور اج کے اثاثہ جات کا اعلان کر دیں تو یہ بھی پاکستان کے سماجی ڈھانچے میں ایک بہت بڑی بنیادی تبدیلی کی وجہ بن سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔