In Afghanistan, the Taliban’s daily oppression of women continues, yet no one dares to speak out against it. Fear and repression have silenced the people, while women’s rights continue to be violated. 😰😭
#Video📲| 👨🏫 In Hyderabad, India, a school teacher was accused of inappropriate behavior with students, prompting action by authorities. 🚨🇮🇳
A viral video sparked concern among parents, leading to action against the teacher. ⚠️
Incidents of child abuse occur daily in Maulana Fazlur Rehman’s madrassas, while some of the teachers teaching children there are Afghan Taliban.😱🤬
#طالبانی_بدعنوان_فضلو
🔺آج پمز میں ہونے والے افسوس ناک واقع نے ثابت کر دیا کہ
👈ہمارا بیوروکریٹک نظام اقرباپروری، کرپشن اور ذاتی مفادات کی وجہ سے غیر مؤثر ہو چکا ہے۔
👈پاکستان کو فوری طور پر ایسے چھوٹے، مالی اور انتظامی طور پر خودمختار یونٹس کی ضرورت ہے جو سیاست اور نعروں کے بجائے بہتر حکمرانی، عوامی خدمت اور جوابدہی پر توجہ دیں۔
👈اسلام آباد کے حجم کو چھوٹے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے مسئلے سے جوڑنا دراصل دو مختلف چیزوں کا موازنہ کرنا ہے۔ اسلام آباد کی انتظامیہ مالی اور انتظامی طور پر خودمختار نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے ماتحت ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی بنیادی توجہ پالیسی، قومی سلامتی، خارجہ امور، معیشت اور دیگر بڑے قومی معاملات پر ہونی چاہیے۔
🔺آج کا یہ المناک واقعہ دراصل اس بات کی مزید تصدیق کرتا ہے کہ بڑھتی ہوئی اور غیر مؤثر بیوروکریسی کے حامل پاکستان کو ایسے چھوٹے انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے جہاں بیوروکریٹس عوام کے لیے قابلِ رسائی اور جوابدہ ہوں، نہ کہ دور بیٹھے سیاسی آقاؤں کے سامنے جوابدہ ہوں۔
🔺اسوقت پاکستان کو ایسے انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے
👈جہاں فیصلے مقامی سطح پر ان لوگوں کی مشاورت اور نگرانی میں ہوں جن پر ان فیصلوں کا براہِ راست اثر پڑتا ہے۔
👈جہاں مقامی سیاسی قیادت عوام میں سے ابھرے اور عوام کے سامنے جوابدہ ہو۔
👈جہاں سیاست محض بے معنی نعروں، بیان بازی اور صوبائیت کا نام نہ ہو بلکہ کارکردگی اور گورننس کا دوسرا نام ہو۔
👈جہاں حکمران دور دراز صوبائی دارالحکومتوں، پیچیدہ پالیسیوں اور اختیارات کے پردے کے پیچھے چھپ نہ سکیں۔
👈جہاں ہر المناک واقعہ صرف ایک اور افسوسناک باب بن کر ختم نہ ہو بلکہ ہمارے لیے اصلاح اور بہتری کا سبق بنے۔
👈جہاں ہماری سب سے بڑی طاقت ہماری آبادی، نوجوان نسل اور انسانی وسائل ہوں۔
👈 جہاں ہم نوجوانوں کو شخصیات، شخصیت پرستی اور ہیرو وورشپ کے ساتھ نہ جوڑیں، بلکہ کارکردگی، صلاحیت، میرٹ اور اچھی حکمرانی کو کامیابی کا معیار بنائیں۔
🔺اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بار بار وہی ناکام طریقہ دہرانے کے بجائے چھوٹے، جوابدہ، مالی و انتظامی طور پر بااختیار اور مؤثر انتظامی یونٹس کی طرف بڑھیں۔
🔺یہ تبدیلی کسی سیاسی یا بیوروکریٹک اشرافیہ کی طوالتِ اقتدار کے لیے نہیں، بلکہ عوام کی آسانی، بہتر حکمرانی اور پاکستان کے مستقبل کے لیے ہونی چاہیے۔
‼️یہ سارا گند پی ٹی آئی کی ناقص گورننس اور سیاسی مفادات کا نتیجہ ہے۔
بنوں میں ’’امن کمیٹی‘‘ کے نام پر مبینہ طور پر بعض پولیس اہلکاروں کا سیاسی و قوم پرستانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونا، سکیورٹی فورسز کے خلاف بیانیہ بنانا اور قانون سے ہٹ کر سرگرمیاں کرنا انتہائی تشویشناک ہے۔
مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ 30 اپریل 2025 کی پرانی ویڈیو کو حالیہ واقعے سے جوڑ کر سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کیا گیا۔
اگر صوبائی حکومت اپنی ہی پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے نہیں روک سکتی تو یہ خیبر پختونخوا میں گورننس، قانون کی حکمرانی اور ریاستی رٹ پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
پولیس کا کام دہشت گردی کا مقابلہ کرنا اور عوام کا تحفظ ہے، سیاسی بیانیے بنانا نہیں۔
یہ ڈاکٹر جدون خان کی ٹائم لائن سے لیے گئے تین اسکرین شاٹس ہیں۔ ایک میں یہ اپنے نام کے ساتھ افغانستان کا جھنڈا لگا کر محبت کے گیت گا رہا ہے، دوسری جانب بھارت کی تعریف میں رطب اللسان ہے اور تیسری جانب پی ٹی آئی کی ہمدردی میں گھل رہا ہے۔ لیکن اس کی پوری ٹائم لائن پر آپ کو نہ پاکستان کا جھنڈا ملے گا، نہ پاکستان کی تعریف میں کوئی لفظ، جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس کی جڑیں کہاں کی ہیں۔
بنیادی طور پر اس کا تعلق بنوں، خیبر پختونخوا سے ہے، لیکن سب جانتے ہیں کہ بنوں میں سب سے زیادہ غیر قانونی افغان باشندے موجود ہیں، جنہوں نے غیر قانونی طریقے سے پاکستان کے شناختی کارڈ بنا رکھے ہیں۔ یہ بھی انہی میں سے ایک ہے۔
اس نے ڈاکٹر آئینہ کا بیک گراؤنڈ جاننے کے بعد انہیں باقاعدہ ٹارگٹ کرکے ہراساں کیا، اور چند دن قبل اسلام آباد یونیورسٹی سرحد کیمپس میں ہونے والا فائرنگ کا واقعہ بھی پوری پلاننگ کے تحت کیا گیا۔ ڈاکٹر آئینہ کو اس حد تک زچ کیا گیا کہ وہ اپنے ہسبینڈ کو بلائیں، اس کے بعد لڑکے تیار تھے جنہوں نے ان پر حملہ کیا اور کرنل صاحب کی بھی ذدوکوب کرنے کی کوشش کی۔ کیمرے بھی تیار تھے اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ سارا پروپیگنڈا سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا، جس میں پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا ونگ شامل تھا، اور ساتھ ہی بھارتی اکاؤنٹس بھی سرگرم ہوگئے۔
اگر اب بھی کسی کو سمجھ نہ آئے کہ یہ لوگ ہمارے ملک اور ہمارے اداروں کی جڑوں کو کیسے کھوکھلا کر رہے ہیں تو اپنی عقل پر ماتم کیجیے۔ اداروں پر یہ اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ملک میں موجود غیر قانونی افراد کو نکالا جائے۔ یہ عناصر دیمک کی طرح ہمارے ملک کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔
اس ڈاکٹر جدون نے بھی افغانوں کی اجارہ داری سرحد کیمپس میں قائم کی ہوئی ہے، جہاں افغان طالب علم، جو پشتونوں کے بھیس میں ہیں، انہیں بغیر امتحان دیے ہی پاس کیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستانی طلبہ کا مستقبل برباد کیا جا رہا ہے۔ یہ غیر محسوس طریقے سے ان کی ملک کے خلاف ذہن سازی بھی کر رہا ہے۔ اور یہ سب کچھ اس کی اپنی ٹائم لائن سے سامنے عیاں ہے۔
#brøndby
@PTIofficial The press briefing by Imran Khan’s sons should not be turned into a campaign for political sympathy; the law does not operate on emotional slogans.
🇵🇰 Field Marshal Syed Asim Munir, a globally recognized military leader and Pakistan’s first CDF. 🌍💪
A key figure in international diplomacy and a respected voice on the world stage. 🇵🇰🤝✨
Following the tragic incident on August 24, the Pakistan Army took immediate and impartial action by taking the officer involved into custody.
This reflects the Army’s strong and transparent system of self-accountability,showing that the law applies equally to everyone. 🇵🇰🫡⚖️