سب بھائیوں بہنوں سے گزارش ہے کہ سواں ڈیم کے اوپر لازمی آواز اٹھائیں اور ریسرچ کریں! 🎓🔍
یہ ایسا ڈیم ہے جو کالاباغ ڈیم سے 10 گنا بڑا اور تر��یلا سے 8 گنا بڑا ڈیم ہوگا، جس سے پورے پاکستان کو صرف 1 روپیہ یونٹ بجلی بھی ملے گی اور بھارت اگر پانی روکے بھی تو پاکستان کی فصلوں پر فرق نہیں پڑے گا
سوال: سواں ڈیم کہاں تعمیر ہوگا؟
سواں ڈیم پنجاب کے ضلع چکوال کے علاقے تلہ گنگ، ڈھوک پٹھان کے قریب تعمیر کیا جائے گا۔ یہ مقام جغرافیائی طور پر مثالی اور قدرتی ذخیرۂ آب کے لیے بہترین ہے۔
سوال: سواں ڈیم کی گنجائش کتنی ہو گی؟
سواں ڈیم کی وسعت حیران کن ہو گی، یہ تربیلا سے آٹھ گنا اور کالا باغ سے دس گنا بڑا ہو گا، جو پاکستان کے آبی ذخائر میں انقلابی اضافہ کرے گا۔
سوال: اس میں پانی کہاں سے آئے گا؟
ایک لنک کینال بنائی جائے جو تربیلہ کے رائیٹ سائیڈ سے پانی اٹھائے گی اور ہرو دریا کو کنکٹ کرتی ہوئی سواں میں پانی گرائے گی ۔مطلب پانی انڈس سے آئے گا جب گلیشئر تیزی سے پگھل رہے ہونگے۔ سواں ڈیم میں پانی خاص حکمتِ عملی کے ��حت اُس وقت چھوڑا جائے گا جب پاکستان کے دریا سیلابی کیفیت میں ہوں گے۔ اس سے نہ صرف نچلی آبادیوں کو بچایا جا سکے گا بلکہ قیمتی پانی ذخیرہ بھی ہو گا۔
سوال: ڈیلٹا کو اس ڈیم سے کیا فائدہ پہنچے گا؟
سواں ڈیم کی تعمیر سے تربیلا ڈیم کا نظام رن آف ریور (Run-of-River) میں تبدیل ہو جائے گا، جس سے سلٹ نکال کر براہِ راست ڈیلٹا تک پہنچائی جا سکے گی
یہ ہیں جماعت الدعوۃ اہل حدیث کے عالم "مولانا امیر حمزہ"۔ یہ "فاختہ" کے قلمی نام سے "روزنامہ دنیا" میں کالم لکھتے ہیں۔ کل انہوں نے واقعہ کربلا کے حوالے سے ایک کالم لکھا اور آج ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چل رہی ہے۔۔۔۔
مولانا نے اپنے وھابی علما کے پریشر سے کالم سے رجوع کر لیاہے
۔۔۔
کالم ملاحظہ فرمائیں
آج کا کالم
فاختہ
امیر حمزہ
"AHC" (space) message & send to 7575
feedback: [email protected]
تاریخ اشاعت 2025-07-04 الیکٹرانک کاپی
راہِ حق
اللہ تعالیٰ ہی نے یہ جہان بنایا اور اس جہان میں اک شاہکار بنایا۔ اس شاہکار کو 'انسان‘ کے نام سے یاد فرمایا۔ سینے میں دل رکھا تو سر میں دماغ بنایا۔ اسے عزت ووقار سے یوں سجایا کہ اقتدار کی مسند پر اسے براجمان فرمایا۔ اس چوراہے سے دو راستے نکال دیے۔ ایک راستہ انسانیت کی خدمت کا‘ جس میں پیار ہی پیار ہے اور دوسرا راستہ ظلم کا‘ جس میں خون ہی خون ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ انسانوں ک�� درمیان خون کے فوارے پھوٹ نکلے۔ پرنالوں سے خون آبشار بن کر گرا۔ ندیاں بہہ گئیں اور خون کے دریا رواں دواں ہوئے تو اقتدار ک�� ظالمانہ راستے سے ہوئے۔
ختم المرسلینﷺ کا زمانہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کیلئے حضورﷺ کو رحمت ہی رحمت اور مجسم رحمت بنا کر بھیجا۔ حضورﷺ نے اپنے اقتدار کو ''نبوت ورحمت‘‘ کا نام دیا۔ اللہ کی مشیت کچھ اس طرح سامنے آئی کہ حضورﷺ نے 23سال جو تربیت فرمائی تھی‘ اپنے بعد اقتدار کی مسند کو اس تربیت کے حوالے کر دیا۔ چھوٹے موٹے اختلاف سے قطع نظر‘ یہ تربیت اپنا کام دکھلا گئی؛ چنانچہ اہلِ مدینہ کی مشاورت سے جانشینِ مصطفی منتخب ہوتے چلے گئے۔ حضرت عثمان غنیؓ کی شہادت کے بعد یہ مسند حضرت علی المرتضیٰؓ کو ملی۔
حضور کریمﷺ محض چھ برس کے تھے جب آپ کی والدہ حضرت آمنہ کا انتقال ہوا تھا۔ آپﷺ اپنے دادا کی تربیت وپرورش میں رہے اور حضرت علی المرتضیٰؓ کی والدہ اور آپﷺ کی چچی حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا آپﷺ کا خیال رکھا کرتی تھیں۔ آٹھ سال کی عمر میں آپﷺ حضرت فاطمہؓ زوجہ ابو طالب کے گھر ہی میں پرورش پانے لگ گئے۔ حضرت علی المرتضیٰؓ نے جونہی ہوش سنبھالا تو حضورﷺ کے پاس پرورش اور تربیت پانے لگے۔ حضورﷺ کو نبوت ملی تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد جس نے سب سے پہلے کلمہ پڑھا وہ حضرت علی المرتضیٰؓ ہیں۔ حضورﷺ نے ہجرت کی تو اپنے بستر پر حضرت علی المرتضیٰؓ کو سلایا۔ مدینہ میں حضورﷺ سرکارِ مدینہ بن گئے۔ اس زمانے میں جس قدر جنگیں ہوئیں‘ ان میں مجموعی طور پر سب سے بڑھ کر جو تلوار چلی اور جس نے اسلام کے قدم مضبوط کیے وہ حیدرِ کرارؓ کی تلوار ہے۔ حضورﷺ کی تربیت کا شاہکار دیکھنا ہو تو بہت نظر آئیں گے مگر اقتدار کی گلی میں زاہد نظر آئے گا تو دل کہے گ�� علی علی۔ دماغ بھی سوچے گا علی علی اور زبان بھی نعرے لگائے گی علی علی۔ جی ہاں! علی کا لفظی معنی بلندی ہے‘ سرفرازی ہے۔ اس نامِ علی کی یاری اپنے معنی کے ساتھ پختہ دکھائی دے گی‘ پتھر پر لکیر نظر آئے گی۔
حضرت عثمان غنیؓ کے گھر کا محاصرہ تھا۔ حضرت علی المرتضیٰؓ نے سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو بھیجا کہ جائو ا��ر اپنے چچا جان کے دروازے پر تلواریں لے کر کھڑے ہو جائو۔ جنت کے سرداران وہاں پاسبان بن کر کھڑے تھے۔ بلوائی پیچھے سے گھر کی دیوار پھلانگ کر آئے اور حضرت عثمان غنیؓ کو شہید کر دیا۔ اب حضرت علی المرتضیٰؓ کو خلافت سنبھالنے کا کہا گیا۔ مرحب اور ابن عبدود کے غرور کو خاک میں ملانے والا اقتدار کے میدان کا ایسا زاہد تھا کہ انکار کر دیا۔ ترلے منتیں کر کے اہلِ مدینہ نے منایا۔ جب وہ خلیفہ گئے تو شام کے گورنر نے قصاصِ عثمانؓ کا مطالبہ کر دیا۔ اللہ اللہ! یہ دن بھی آنے تھے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ سے عدل کا مطالبہ کیا جا رہا تھا‘ وہ بھی اس طرح کہ مقابلہ کریں گے۔ اور پھر اہلِ اسلام کے در��یان تلوار‘ تلوار اور تلوار۔ پھر ایک دن یہ تلوار حضرت علی المرتضیٰؓ کو بھی شہید کر گئی۔ اہلِ کوفہ نے حضرت علیؓ کے بعد حضرت حسنؓ کو امیر المومنین بنا لیا مگر چھ ماہ بعد ہی سیدنا حسنؓ نے اپنے نانا کے دین کی خاطر صلح کر لی۔ لوگو! ساری کوشش اقتدار کے حصول کیلئے ہوتی ہے‘ اقتدار ہو تو اسے کون چھوڑتا ہے؟ حضرت حسنؓ کے پاس اسلامی ریاست کا 80 فی��د کے قریب رقبہ تھا اور شام کی حکومت کے پاس شاید 20فیصد سے بھی کم۔ مگر کیا کہنے حضرت حسنؓ کے زہد اور تقویٰ کے کہ اُمت کے اتحاد کی خاطر خلافت کو چھوڑا اور گوشہ نشین ہو کر بیٹھ گئے۔ لوگو! حضورﷺ کی پاک زبان سے جنت کی سرداری کی نوید ملے تو شاہِ فردوس کا کردار پھر ایسا ہی ہونا تھا کہ اقتدار کی گلی میں ان کے ہاتھوں سے ظلم ناممکن ہے! ناممکن۔ آہ! جنت کے اس شاہ کو بھی شہید کر دیا گیا۔ طیبہ کی زمین پر اب بے حد حَسین‘ نام جس کا حُسینؓ تھا‘ وہ اکیلا رہ گیا۔
جس دن لوگوں نے قرآن پاک کو ترجمہ کے ساتھ پڑھنا شروع کردیا ۔۔۔
اس دن کے بعد غوث کی نیاز ، خواجہ کا لنگر ، داتا کے عرس میلے ، مزارات پر قوالی اور دھمال سب کچھ ختم ہوجائے گا ۔ 🙂💯
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :
جس نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سے محبت کی ، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا ۔
(ابن ماجہ : 143)
خواہش ہے کہ پاکستان میں جب بھی کسی سڑک کا ٹھیکہ دیا جائے، تو اس کے دونوں اطراف درخت لگانا اور ان کی ایک سال تک دیکھ بھال بھی اسی ٹھیکے کا حصہ ہو۔ ایک سال کے بعد عموماً درخت اتنے مضبوط ہو جاتے ہیں کہ وہ بارش کے پانی پر گزارا کر سکتے ہیں۔
آپ دوستوں کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟