امام جعفر صادق علیہ السلام
جو شخص گناہ بھی کرتا رہے اور توبہ بھی کرتا رہے اور پھر گناہ کرے تو یہ تمسخر اڑانے جیسا ہے۔ جب بندہ خالص توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کو دوست رکھتا ہے اور (اس کی) عیب پوشی کرتا ہے۔ دونوں فرشتوں نے جو بھی اعمال لکھے ہوتے ہیں اللہ اس کے اعضا کو اور زمین کے خطوں کو وحی کرتا ہے کہ اس کے گناہ چھپا لیں۔ پس وہ ایسی صورت میں اللہ سے ملاقات کرتا ہے کہ کوئی گناہ اس پر نہیں ہوتا۔ ہر درد کی ایک دوا ہے اور گناہوں کی دوا استغفار ہے۔
اصول کافی، کتاب ایمان و کفر
دس سال کے بچے سے پوچھا پتر کیا چائیے ۔ تب جواب ملا گندم لے دیں ۔ روٹی ہو نا تو ساتھ پانی سے ہی کھا کر گزارا کر لیتے ہیں ۔ سالن نہ بھی ہو تو خیر ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
یہ بچہ ہوٹل پر کام کرتا ہے ۔ یہان کیسے پہنچا ۔
باپ گجرات میں محبت مزدوری کرتا تھا وہیں زمیندار نے ایک عورت سے شادی کروا دی۔
دو بیٹے اور دو بیٹیان پیدا ہوئیں۔
ایک رات ماں ان چار بچون کو تنہا چھوڑ کر غائب ہو گئی۔ ڈھونڈنے پر بھی پتا نہیں چلا۔
بچون کا باپ بچے جھنگ واپس لے آیا۔ اور 6 ماہ کے اندر اندر ایسی رنج دکھ میں رب کو پیارا ہو گیا جب پتا چلا کہ اس کی بیوی کسی دوسرے مرد کے ساتھ اس سے طلاق لئے بنا بھاگ کر زندگی گزار رہی ہے ۔
وہان اس عورت نے 3 اور بچے پیدا کر لئے ہین اب تک ۔
بڑا بیٹا ایک بار ماں سے ملنے گیا تھا۔
ماں نے مار کر گھر سے نکال دیا دو سال پہلے باپ کے فوت ہونے کے بعد۔
۔۔۔۔۔۔
کیا زندگی ہو گی ان معصوم بچون کی کیا قصور تھا کے ان کو ایسے برباد کر دیا اس عورت نے ۔
لوگ کہتے ہیں مرنے والا نہایت شریف اور اعلی کردار کا مالک تھا اس نے اپنی ساری زندگی ایک ہی زمیندار کے پاس گزار دی تھی کبھی چوری دھوکہ جھوٹ اس کے پاس سے نہین گزرا۔
اسی وجہ سے زندگی میں مزدوری کی محنت کی بنا کچھ نہین سکا۔
۔۔۔۔۔۔
بچہ جس ہوٹل پر کام کرتا ہے وہان سے اس کو روز کے 3 سو ملتے ہیں ۔ جس سے یہ اپنے 3 چھوٹے بہن بھائیون کی روٹی سالن پوری کرتا ہے۔
بڑا یہ بچہ ہے پھر دو چھوٹی بچیان ہین پھر چھوٹا بچہ ہے جس نے شلوار اوپر اڑس رکھی ہے ٹانگوں پر ۔ قمیض نہین پہنا ہوا۔
۔۔۔۔۔۔
دادا دادی دونون چارپائی پر ہین ۔
دونون تقریبا اندھے ہو چکے ہیں نہایت کمزور اور بیمار ہیں ۔ جس زمیندار نے کمرہ دیا ہوا ہے رہنے کو اسی نے ان دونون کی دوا دارو کا بھی ذمہ کسی حد تک لیا ہوا ہے ۔
دادی بھی چارپائی پر میرے پیچھے ایک چارپائی پر لیٹی ہوئی ہے ۔
سن نہین سکتی دیکھ نہین سکتی ۔
۔۔۔۔۔۔۔
بچے سے پوچھا پتر سکول جاتے تھے کہتا ہے جی ابو کی زندگی میں جاتا تھا بعد میں روٹی پوری کرنی مشکل ہو گئی سکول کیا جاتا۔
۔۔۔۔۔۔
ضرورت کس چیز کی ہے ۔ اس بچے نے تو راشن تک نہین مانگا ۔
بس گندم پوری کر دیں ہم چاروں بہن بھائی کی ۔
۔۔۔۔۔۔
ان کا گھر بنانا ہے ایک زمیندار سے 3 مرلہ زمیں مانگی ہے اگر وہ دے دے اسی علاقہ میں ۔
ہوٹل کے قریب تاکہ اس کا کام بھی چلتا رہے اور ان بچون کا اپنا گھر بھی ہو اپنی چھت ہو۔
ایک کمرہ ساتھ چھپر جیسا کچن ۔ اور ایک واشروم ۔ ۔ ۔
گندم رکھنے والی کلوٹی لینا ہے ۔
بچون کے کپڑے جوتے ۔ اور راشن کا مستقل انتظام کرنا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
میں کینسر والے مریض کو نہایت تکلیف دہ حالت میں دیکھ کر سٹریس میں تھا۔
اور رب کعبہ نے اس بچے سے ملوا کر بتا اور سمجھا دیا۔
تم ایک کا سوچ رہے ۔
ہم یہان اس سے بدتر حالات مین سڑک کنارے جوان ہوتی بچیون کو معاشرے کے لئے آزمائش بنا کر بیٹھائے ہویے ہین ۔
یہ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات ہے۔
کے اس عمر کی بچیان اور سڑک کنارے ایسے کھلے آسمان تلے ایک ایسی جگہ بیٹھی ہین جہان ان کا والی وارث رب کے سوا کوئی نہین ہے ۔
اور رب کی اصل وارث ہے دوسرا کوئی نہین
لیکن اسباب اور وسائل تو انسان کو خود مہیا کرنے پڑتے ہین ۔
۔۔۔۔۔۔
بچے کو اردو نہین آتی اس لئے گفتگو جو ہوئی وہ پنجابی میں ہے ۔
۔۔۔۔۔۔
بچی چھوٹی 3 بار میرے پاس ائی مین نے پوچھا پتر خیر ہے کوئی چیز چائیے حکم کرو۔
بولی چاچا مجھے سوٹ کپڑون کا لے دو یہی کپڑے ہین میرے پاس جو پہنے ہوئے ہیں میں نے ۔
اس کے بعد مین وہان روکا نہیں نہ ہمت رہی ۔
۔۔۔۔۔۔
اس کے بعد کار مین بیٹھے دو بار مبشر سے سخت کلامی کی تو اس نے بولا ثاقب بھائی نہ پریشان ہون یہ رب کا فیصلہ ہے جو ہم سے ہو گا کریں گے ۔
مجھے فلاحی کام مین سب سے زیادہ تکلیف دہ چیزین 3 نظر ائی ہین جو مجھے شدید تکلیف دیتی ہین ۔
۔۔۔۔۔
1 ۔ ۔ ۔ اولاد کا بزرگ بیوا ماں کو تکلیف دینا بہت گھرون میں دیکھا ہے ۔ نہایت ذلیل اور نیچ لوگ دیکھے میں نے ۔
2 ۔ ۔ ۔ جوان ہوتی یا جوان بچیوں کا کھلے آسمان تلے بیٹھا ہونا ۔ میں نے جتنے گھر بنائے 197 ہو چکے ہین پہلی شرط یہی رکھی جس گھر مین جوان بچی ہو گی ان کا گھر بنا کر دون گا پردہ ان کو چاہیئے۔
3 ۔ ۔ ۔ شادی کی عمر کو پہنچئ اور عمر گزار رہی بچیون جو گھرون مین مان باپ کے بیٹھی ہیں ۔
میرے بس مین ہوتا تو جو اب تک 4 سو کے قریب شادی کروا چکا ہون۔
یہ فگر 4 ہزار سے اوپر ہوتا۔
۔۔۔۔۔۔
جوان بیٹی کو گھر بیٹھانا اور وسائل نہ ہونا اس کی شادی کے مان باپ کو زندہ درگور کر دیتا ہے ۔
#SaqibAllyana #Punjab
بیٹیاں باپ سے کتنی محبت کرتی ہیں اس فرسٹ ائیر کی طالبہ نے بتا دیا ۔۔
عمران اشرف کے شو میں ای اس بچی سے اس نے پوچھا کیا کہنا چاہو گی ۔۔
بچی نے جواب دیا اپنے بابا کیلے شعر سنانا چاہتی ہوں اور پھر رو رو کر شعر سنانے لگ گئی ۔۔
میں نہی جانتی بادشاہ کیسا ہوتا ۔۔۔
میرے خیال میں میرے بابا جیسا ہوتا ہے ۔۔،
کلپ واقعی جذباتی کر دینے والا ہے ۔۔ جب بچی نے بتایا اس کے والد فوت ہو گئے ہیں ۔۔
باپ کا وجود بیٹی کے لیے وہ محفوظ سایہ ہے جس کی پناہ میں وہ زمانے کی ہر دھوپ بھول کر دنیا کا سب سے پرسکون اور انمول احساس پاتی ہے۔
باپ کے بچھڑتے ہی بیٹی کے سر سے زندگی کا وہ مضبوط سائبان ہمیشہ کے لیے چھن جاتا ہے اور وہ تپتی دھوپ میں خود کو بے آسرا اور ویران محسوس کرتی ہے۔ رونا تو بنتا ہے قدم قدم پر والد کی کمی محسوس ہوتی ہے ۔۔
طائف میں موجود اس مبارک مسجد کی زیارت کریں جسے حضور کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا۔ اوپر سامنے جو پتھر نظر آ رہا ھے یہ کفار نے نبی کریم ص پر پھینکا تھا جسے آپ ص نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا تھا۔ یہ پتھر اب بھی وہی موجود ھے۔
غریبوں کو سینے سے لگانے کا صلہ، اللہ تعالیٰ نے انگلی پکڑ کر منزل تک پہنچا دیا۔
آزاد کشمیر کے علاقے چھمب میں حاجی منیر اور ان کے چار بیٹوں کی یہ کہانی اتفاق، محبت اور خدمتِ خلق کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
حاجی منیر اور ان کے چاروں بیٹے پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں کاروبار کرتے ہیں۔ پاکستان کے کئی شہروں میں ان کی دکانیں اور پلازے بھی ہیں۔ حال ہی میں حاجی منیر نے اپنے چاروں بیٹوں کے لیے چھمب میں ایک ہی چار دیواری کے اندر چار ایک جیسے بنگلے تعمیر کروائے ہیں۔ یہ بنگلے تمام بھائیوں کی باہمی رضامندی، پسند اور مشورے سے بنائے گئے ہیں۔
اس خوبصورت محل نما گھر کو دیکھنے کے لیے پاکستان اور بھارت سمیت مختلف ممالک سے ولاگرز بھی آ چکے ہیں۔
جب حاجی منیر سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ایک ہی چار دیواری میں چار الگ الگ بنگلے بنانے کا فیصلہ کیوں کیا تو ان کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ میرے بیٹے ہمیشہ اتفاق اور محبت کے ساتھ رہیں، ایک دوسرے کی چھاؤں بنیں اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔
حاجی منیر سے جب اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی اور کامیابی کے راز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ میں اور میرے بیٹے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ پاکستان بھر میں درجنوں بیواؤں، یتیموں اور معذور افراد کی مدد کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں وسیلہ بنایا ہے۔ ہم ہر ماہ اپنی آمدن کا ایک بڑا حصہ ضرورت مندوں پر خرچ کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ شاید یہی چھوٹی سی نیکی ہے جس کے صلے میں اللہ تعالیٰ ہمیں ہماری اوقات سے بڑھ کر نواز رہا ہے۔
دولت کمانا کامیابی ہے، لیکن اسے دوسروں کے کام لانا اور اپنے خاندان کو محبت و اتفاق کے ساتھ جوڑ کر رکھنا بھی ایک بڑی نعمت ہے۔
دعا ہے کہ اللہ کریم حاجی منیر اور ان کے بیٹوں کے مال، جان، عزت اور صحت میں برکت عطا فرمائے، ان کے درمیان محبت اور اتفاق ہمیشہ قائم رکھے اور انہیں اسی طرح ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی توفیق دیتا رہے۔ آمین ثم آمین۔
جھکی ہوئی یہ جبیں ہے، حضورﷺ دیکھیں نا
ہمارا قلبِ حزیں ہے، حضورﷺ دیکھیں نا
کسی کا کوئی تو ہوتا ہے اتنے لوگوں میں
ہمارا کوئی نہیں ہے، حضورﷺ دیکھیں نا
حضورﷺ کوئی نہیں آپ کے سِوا میرا
حضور کوئی نہیں ہے، حضورﷺ دیکھیں نا
میں نے یہ ویڈیو دیکھی اور سچ کہوں تو ڈاکٹر دعا اظہر کی باتیں سن کر میرے ہوش اڑ گئے۔ وہ بتا رہی ہیں کہ بل گیٹس اور پاکستان کے وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں جو ملاقات ہوئی ہے، اس کا اصل مقصد پاکستان میں زراعت اور بیجوں کے نظام پر قبضہ کرنا ہے۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ ہمارے دیسی بیجوں کی بجائے زبردستی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ یعنی جی ایم او (GMO) بیج لائے جا رہے ہیں، جنہیں اگانے کے لیے ایک خطرناک کیمیکل گلائفوسیٹ کی ضرورت پڑتی ہے جو کہ کینسر کی بہت بڑی وجہ ہے اور سبزیوں یا پھلوں کو دھونے سے بھی نہیں نکلتا۔
ویڈیو میں یہ بات سن کر واقعی ڈر لگتا ہے کہ ان بیجوں سے پیدا ہونے والے پھل اور سبزیاں سیڈلیس یعنی بغیر بیج کے ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے کسان خود اگلی فصل کے لیے بیج محفوظ نہیں کر پائیں گے۔ انہیں ہر بار یہ مہنگے بیج باہر کی کمپنیوں سے ہی خریدنے پڑیں گے، اور سارا کنٹرول انہی کے ہاتھ میں ہوگا۔ دعا اظہر یہ بھی پوچھ رہی ہیں کہ اگر یہ سب اتنا ہی اچھا ہے تو سعودی عرب اور یورپ نے اس پر پابندی کیوں لگائی ہے؟ ان کا یہ کہنا بالکل خوفناک ہے کہ اگر ہم ان جی ایم او بیجوں کے عادی ہو گئے اور کل کو کسی جنگ یا اختلاف کی وجہ سے ہمیں بیج دینے سے انکار کر دیا گیا، تو صرف چھ مہینے میں ہمارے ملک میں قحط آ سکتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے وہ یہ مشورہ دے رہی ہیں کہ ابھی سے اپنے پاس دیسی بیج محفوظ کرنا شروع کر دو اور جہاں بھی تھوڑی بہت زمین ملے، اپنی سبزی اور گندم خود اگاؤ۔
اس سب کے بعد جب میں نے دیکھا کہ ہمارے شوبز ستارے اس پر کیا ردعمل دے رہے ہیں، تو عمران عباس نے تو ڈاکٹر دعا کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے اس اہم مسئلے پر آواز اٹھائی، اور ماریہ بی نے بھی ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بل گیٹس کے اس گیم کو سمجھنے کے لیے واقعی عقل کی ضرورت ہے۔
اور جب میں نے تحقیق کی اور مختلف آرٹیکل پڑھے تو یہ بات سامنے آئی کہ گلائفوسیٹ (Glyphosate) کے استعمال اور جی ایم او بیجوں کے حوالے سے دنیا بھر میں پہلے ہی کافی بحث اور مخالفت موجود ہے۔ بہت سی سائنسی رپورٹس میں اس کیمیکل کو صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ کسانوں کے حقوق اور بڑی کارپوریشنز کے اجارہ دارانہ معاہدوں (جیسے کہ بیجوں کاپی رائٹ اور بار بار خریدنے کی پابندی) پر بھی بین الاقوامی سطح پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو فوڈ سیکیورٹی اور خود انحصاری کے حوالے سے اٹھائے جانے والے یہ خدکات مکمل طور پر بے بنیاد نہیں ہیں۔
#BillGates #GMOSeeds
یہ ہے ہمارا مستقبل۔۔۔۔💔
میرے ساتھ ہونیوالے فراڈ کامیرے والد کو نا بتانا،وہ مرجائیں گے ۔۔یہ ہے وہ آخری میسج جو اس طالبہ نے اپنے ماموں کو کیا ۔۔۔
سرگودھا سے تعلق رکھنے والی اسلام آباد کی اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ نے گزشتہ روز مبینہ طور پر خود کشی کر لی جسکی لاش جی ٹین اتوار بازار کے قریب سے برآمد ہوئی۔۔۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ لائبہ جی ٹین میں رہائش پذیر تھی کل تقریباً 2 بجے گھر سے نکلی تھی۔۔۔اہلخانہ کہتے ہیں کہ لائبہ نے اسلامی یونیورسٹی سے گولڈ میڈل کیساتھ بی ایس کیا،مزید پڑھائی کیلئے بیرون ملک جانا چاہتی تھی ، ایک کنسلٹنٹ نے امریکی یونیورسٹی میں داخلہ کروانے کیلئے 70 لاکھ روپے مانگے۔۔غریب باپ موٹرسائیکل پر دودھ فروخت کرکے بچوں کو پڑھا رہا تھا۔خود کرایے کے فلیٹ پر رہنے والے والد نے پلاٹ بیچ کر 21 لاکھ کیش ایجنٹ کو دیا۔۔باقی رقم کا انتظام کرنے کیلئے طالبہ کی والدہ کا زیور بینک میں رکھوایا گیا۔۔طالبہ نےیونیورسٹی میں داخلے کے ڈاکومنٹس چیک کروائے تو سب جعلی نکلے۔۔۔
اس ایجنٹ کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کوئی اور اپنے ادھورے خوابوں اور بھاری دل کے ساتھ اس دنیا سے رخصت نہ ہو ۔۔۔