ناظرین!
یہ ہیں سہیل آفریدی کے آبائی ضلع میں پیدا ہونے والی وہ معدنیات جن کی خرید و فروخت افغانستان میں جاتی تھی۔
ان معدنیات کو افغانستان بھیجنے کے لئے افغان شہری اور خوارج دونوں کردار ادا کرتے تھے۔
ان معدنیات کی اصلی تکلیف ہے، جس کی وجہ سے چیخیں نکلتی ہیں۔
اُس درد کو، جو تم سہتے ہو،
ہر اُس خوف کو، جو تمہارے دل کو جکڑ لیتا ہے،
ہر اُس فکر کو، جو راتوں کی نیند چھین لیتی ہے،
ہر اُس نقصان کو، جس کا غم تمہیں اندر سے توڑ دیتا ہے،
اور ہر اُس آزمائش کو، جس کا بوجھ تمہارے لیے اٹھانا مشکل ہو جائے…
سب کچھ ربّ العالمین کے سپرد کر دو!
یاد ر��ھو! تمہارا رب تمہارے دل کے ہر درد سے واقف، تمہاری خاموش آہوں سے باخبر اور تمہاری بے بسی سے آگاہ ہے۔
امریکہ نےطویل عرصہ مشرق وسطی میں اڈےبیسسز فوج نیوی ائیرفورس رکھےاور عربوں سے اسکامعاوضہ بھی لیامگر پھر جنگ چھیڑکرایران کیخلاف وہ بیسسزتباہ کروائیں اورخاموش ہوگیاایران کےحملوں کےجواب میں نہ دفاع کیانہ حوثیوں کیخلاف سعودی عرب کاساتھ دیا۔
مگرابتک سارے مسلمان ملک امریکہ کی مٹھی میں ہیں وجہ ۰۰۰۰اورخوشنودی حاصل کرنےکیلئےایڑی چوٹی کازورلگاتےہیں
یہ وہ وقت تھا جب جنگ عروج پر تھی جب ایران کے 30 ہزار لوگوں کو عمرہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی تھی ان کا استقبال سب نے دیکھا تھا
آج اُسی ایران نے اپنے حوثیوں سے مسلمان سکالر شھید کروا دئیے پاکستانی زخمی کروا دئیے وہ بھی اُس وقت جب وہ احرام میں تھے
کاٹنا ان کی فطرت میں ہے
جو اہل تشیع ایران کے فراق میں مرے جارہے وہ دیکھ لیں کہ ان کی امام بارگاہوں میں پھٹنے والے فتنہ الخوارج کے کتوں سے ان کے پسندیدہ لیڈر ملنے جارہے ہیں
کیا ایرانی قیادت کو ان فتنہ الخوارج سے ملتے ہوۓ پاکستان کی مساجد و امام بارگاہوں کے شہدا کا خیال نہیں آیا؟
یہ ہے بھارتی سیکولر جمہوریت کا سیاہ ترین چہرہ.
بھارتی انتہا پسند ہندو جماعتوں RSS, BJP اور ہندوتوا کے غنڈوں سے عام ہندو بھی محفوظ نہیں.
دیکھئے کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں کس طرح ہندوتوا کے ��نتہا پسند غنڈے ہندو خواتین کو سرعام تشدد کا نشانہ بنا رہے اور انہیں ہراساں کر رہے ہیں.
🚨🚨وفاقی حکومت نے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کو عہدے سے تبدیل کر دیا
چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کو فوری طور پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت
گریڈ 21 کے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے افسر شہاب علی شاہ کی خدمات فوری طور پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو رپورٹ کرنے کے احکامات جاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی تبدیلی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا
شہاب علی شاہ کو سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی دفعہ 10 کے تحت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت
نوٹیفکیشن کے مطابق شہاب علی شاہ فوری طور پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو رپورٹ کریں گے، آئندہ احکامات تک ہدایت برقرار رہے گی
وفاقی حکومت کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کی تبدیلی کا نوٹیفکیشن جاری، گزٹ آف پاکستان میں اشاعت کے لیے ارسال
خواجہ صاحب یہ جن کے لے پالک ہیں
وہ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں
یہ اگر میں نواز شریف ہوتا تو اب تک ہزار دفعہ
موت کی سزا ہو چکی ہوتی
جس کو اڈیالا میں حفاظت سے پرورش کی جارہی ہے
آج تک کون سی سزا دی گئ
سلامتی کے اداروں کو تباہ کیا کیا سزا ملی
ہمارے بعد کی نسلین قومی ترانے کیلئے کھڑی نہیں ہوں گی، ہمارے بعد کی نسلیں پاکستان کا جھنڈا نہیں اٹھائیں گی سہیل آفریدی۔
یہ الفاظ اس شخص کے ہیں جو خود کو ایک صوبے کا وزیراعلیٰ کہتا ہے اور ایسی آزادی بھی صرف پاکستان میں ہے جہاں ٹھہر کر آپ پاکستان کو توڑنے اور نفرت پھیلانے کا کام کر سکتے ہیں۔
اس لانگ مارچ میں یا اس سے پہلے کسی موقع پر سہیل آفریدی نے دہشتگردوں کی مذمت کی جو آئے روز پاکستانیوں کو مار رہے، جو آئے روز مسجدوں، بازاروں، حجروں، چیک پوسٹوں پر دھماکے کر رہے۔
جب سے سہیل آفریدی وزیراعلیٰ بنا ہے کیا اس نے کبھی دہشتگردوں کی مذمت کی؟ کیا اس نے کبھی سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی مذمت کی؟ کیا یہ کبھی سیکیورٹی فورسز کے جنازوں میں گیا؟
لیکن یہ پاکستان ہے جہاں آپ ٹھہر کر پاکستان کو گالی بھی دے سکتے، پاکستان کو توڑنے کی بات بھی کر سکتے، پاکستان کے جھنڈے کی تذلیل بھی کر سکتے کیونکہ یہاں سب کو لامتناہی شتر بے مہار نام نہاد آزادی حاصل ہے۔
13 سال سے KP میں انکی ��کومت ھے۔ چار سال وفاق میں یہ حکمران رھے۔ یہ اسی پاکستان کی نوازشیں ھیں جس کو یہ گالی دے رھے ھیں ۔ اسی پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ انکی ملی بھگت ھے۔ انکی وفاداری اقتدار اور صوبے اور وفاق کے وسائل کی لوٹ مار کے ساتھ ھے۔ یہ لوٹ مار اور اقتدار کے لئے وطن کی مٹی جس کو شہیدوں کے لہو نے سینچا ھے اس سے غداری کرنے کو ھر وقت تیار ھیں۔
💔 **ایک باپ کے خواب، ایک بیٹی کی امیدیں اور دھوکے کا ایسا زخم جس نے سب کچھ چھین لیا!**
*”میرے ساتھ ہونے والے فراڈ کا میرے والد کو مت بتانا، وہ مر جائیں گے۔۔۔“*
یہ الفاظ نہیں، ایک بیٹی کے ٹوٹے ہوئے دل کی وہ چیخ ہے جو ہر حساس انسان کو اندر تک ہلا کر رکھ دیتی ہے۔
اسلام آباد کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ، جس نے گولڈ میڈل کے ساتھ بی ایس کی ڈگری حاصل کی، جس کی آنکھوں میں روشن مستقبل کے خواب تھے اور جو مزید تعلیم کے لیے امریکہ جانا چاہتی تھی، مبینہ طور پر ایک بڑے فراڈ کا شکار ہوئی۔ افسوس ناک ��طلاعات کے مطابق، اس کی لاش جی ٹین اتوار بازار کے قریب سے برآمد ہوئی۔ اس واقعے کی مکمل حقیقت اور اس کے اسباب کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
لائبہ کے خاندان سے متعلق سامنے آنے والی معلومات کے مطابق، اس کا والد موٹر سائیکل پر دودھ فروخت کرکے اپنے بچوں کو تعلیم دلوا رہا تھا۔ وہ خود کرائے کے فلیٹ میں رہتا تھا، مگر بیٹی کے مستقبل کی خاطر اپنی جمع پونجی اور قربانیوں کی آخری حد تک چلا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نے پلاٹ فروخت کرکے 21 لاکھ روپے ایک کنسلٹنٹ کو دیے، جبکہ مزید رقم کا بندوبست کرنے کے لیے بیٹی کی والدہ کے زیورات بھی بینک میں رکھوائے گئے۔
یہ محض رقم کا نقصان نہیں تھا، یہ ایک غریب باپ کی عمر بھر کی محنت، ایک ماں کی جمع پونجی اور ایک بیٹی کے مستقبل پر لگائی گئی امیدوں کا معاملہ تھا۔
اطلاعات کے مطابق، جب لائبہ نے امریکی ی��نیورسٹی میں داخلے کے لیے فراہم کردہ دستاویزات کی تصدیق کروائی تو وہ مبینہ طور پر جعلی نکلیں۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف مالی فراڈ نہیں، بلکہ ایک ایسے خاندان کے اعتماد اور خوابوں کے ساتھ سنگین کھیل ہے جس نے بہتر مستقبل کی امید میں اپنی استطاعت سے بڑھ کر قربانیاں دیں۔
ذرا تصور کریں، ایک باپ جو اپنی بیٹی کو کامیاب دیکھنے کے لیے دن رات محنت کرتا رہا، ایک ماں جو اپنے زیورات تک قربان کرنے پر آمادہ ہوگئی، اور ایک بیٹی جو شاید اپنے والد کو مزید دکھ سے بچانے کے لیے اپنا درد بھی ان سے چھپانا چاہتی تھی۔
**کسی کے لیے 21 لاکھ روپے محض ایک رقم ہوسکتی ہے، لیکن کسی غریب خاندان کے لیے یہ پوری زندگی کی کمائی، برسوں کی محنت اور بچوں کے مستقبل کی آخری امید ہوتی ہے۔**
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خودکشی جیسے المناک واقعات کو صرف ایک وجہ سے منسوب کرنا درست نہیں؛ اس معاملے کے تمام پہلوؤں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ لائبہ کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس کی حقیقت سامنے آنا اور اس کے خاندان کو انصاف ملنا اب ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
متعلقہ حکام سے مطالبہ ہے کہ مبینہ فراڈ کی فوری، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور بیرون ملک تعلیم کے نام پر لوگوں سے بھاری رقوم وصول کرنے والے کنسلٹنٹس کی جانچ پڑتال کا مؤثر نظام بنایا جائے، تاکہ کسی دوسرے خاندان کو ایسی اذیت سے نہ گزرنا پڑے۔
سوشل میڈیا پر آواز اٹھائیں، مگر تصدیق شدہ معلومات کے ساتھ۔ اس معاملے کو انصاف کی آواز بنائیں، کسی کی کردار کشی یا غیر مصدقہ الزام تراشی کا ذریعہ نہیں۔
**لائبہ! تمہاری کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواب دیکھنے والے بچوں کو صرف تعلیم اور مواقع ہی نہیں، دھوکے بازوں سے تحفظ بھی چاہیے۔**
اور ہر اس باپ کے لیے جو اپنی اولاد کے روشن مستقبل کی خاطر اپنی خواہشیں قربان کردیتا ہے، ہمارا فرض ہے کہ ایسے نظام کا مطالبہ کریں جہاں اس کی محنت اور اعتم��د کو کوئی بے رحمی سے نہ لوٹ سکے۔
اللہ تعالیٰ لائبہ کے اہلِ خانہ کو صبر عطا فرمائے اور انہیں انصاف نصیب کرے۔ آمین۔ 💔
**آئیے، آواز اٹھائیں تاکہ کسی اور گھر کا خواب یوں نہ بکھرے۔**
🚨 وہ صرف 7 سال کی ہے اور تکلیف میں ہے۔ 💔
7 سالہ اینجلیسا جینیفر ہرنیا کے درد میں مبتلا ہے۔ پمز کے ڈاکٹرز نے سرجری تجویز کی ہے اور تاریخ بھی 17 مارچ 2027 دی گئی ہ��۔ یہ فیملی بیٹی کی تکلیف اور محدود وسائل کے باعث شدید مشکل میں ہے۔ ہر گزرتا ��ن اس معصوم اور اسکے خاندان کی تکلیف بڑھا رہا ہے، جسے اس عمر میں ہنسنا کھیلنا چاہیے تھا وہ مشکل میں ہے ۔۔۔
کوئی آپ کا منتظر ہے ۔۔۔براہِ کرم اسے آگے شیئر کریں،
مدد اور مکمل تفصیلات کے لیے بچی کے والد ہنی سے رابطہ کریں:
📞 03461154336
آپ کی ایک چھوٹی سی نیکی اس کے بچپن کو درد سے آزاد کر سکتی ہے۔ 🙏
#HelpAngelica #Islamabad
یہ ہے ہمارا مستقبل۔۔۔۔💔
میرے ساتھ ہونیوالے فراڈ کامیرے والد کو نا بتانا،وہ مرجائیں گے ۔۔یہ ہے وہ آخری میسج جو اس طالبہ نے اپنے ماموں کو کیا ۔۔۔
اسلام آباد کی اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ نے گزشتہ روز مبینہ طور پر خود کشی کر لی جسکی لاش جی ٹین اتوار بازار کے قریب سے برآمد ہوئی۔۔۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ لائبہ جی ٹین میں رہائش پذیر تھی کل تقریباً 2 بجے گھر سے نکلی تھی۔۔۔اہلخانہ کہتے ہیں کہ لائبہ نے اسلامی یونیورسٹی سے گولڈ میڈل کیساتھ بی ایس کیا،مزید پڑھائی کیلئے بیرون ملک جانا چاہتی تھی ، ایک کنسلٹنٹ نے امریکی یونیورسٹی میں داخلہ کروانے کیلئے 70 لاکھ روپے مانگے۔۔غریب باپ موٹرسائیکل پر دودھ فروخت کرکے بچوں کو پڑھا رہا تھا۔خود کرایے کے فلیٹ پر رہنے والے والد نے پلاٹ بیچ کر 21 لاکھ کیش ایجنٹ کو دیا۔۔باقی رقم کا انتظام کرنے کیلئے طالبہ کی والدہ کا زیور بینک میں رکھوایا گیا۔۔طالبہ نےیونیورسٹی میں داخلے کے ڈاکومنٹس چیک کروائے تو سب جعلی نکلے۔۔۔
اس ایجنٹ کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ کوئی اور اپنے ادھورے خوابوں اور بھاری دل کے ساتھ اس دنیا سے رخصت نہ ہو ۔۔۔
یہ انڈیا کا دارلحکومت دہلی ہے
مودی ہمارا تماشہ لگانا چاہتا تھا
مگر اپنا لگ گیا
مگر یار یہ جوان لڑکیاں لڑکے کتنے بہادر ہیں
وہ پانچ ہزار سال تاریخ اور غیور اور فلاں فلاں کھلی گاڑی میں اغوا ہو گے تھے 😂
فیصل آباد میں 40 فیصد پاور لوم یونٹس بند ہو گئے
صنعتی نمائندوں کے مطابق ایک لاکھ سے زائد کارکن اپنی ملازمتوں سے محروم ہو چکے ہیں کیونکہ چین سے سستے دھاگے اور کپڑے کی درآمدات مقامی مصنوعات پر حاوی ہو گئی ہیں۔ یوٹیلیٹی بلوں اور ٹیکسوں میں اضافے نے مقامی مینوفیکچررز کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔
اے آئی کے بنے چاول
اے آئی کی بنی گاڑی
اے آئی کا بنا ہجوم
اور ہمارا یہ یوتھی بھائی اپنی تصویر لگا کر اس اے آئی ہجوم میں اے آئی چاول تقسیم کر رہا ہے
دس ہزار یوتھی بھائی اس بھائی کے بڑے دل پر اسکی تعریف کر ریے ہیں۔
یہ کیا کیا دیکھنا پڑ رہا ہے! 🤣🤣
حیرت ہے کہ جس علاقے میں شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس جیسے بڑے استاد اور عالم کو طالبان دھشت گردوں نے شہید کر دیا وہاں پی ٹی آئی کی ناچتی جھومتی خواتین لیڈران تک کو ٹی ٹی پی کے طالبان دہشت گرد سکیورٹی دے رہے ہیں
آخر تحریک طالبان جیسی دہشت گرد جماعت پی ٹی آئی سے کیا چاہتی ہے ؟