عمران خان کی حکومت گرا کر، تین سال عمران خان کو بدترین قید میں ڈال کر پاکستان کے چپے چپے میں جو آگ لگا دی گئی ہے۔ کوئٹہ سے کشمیر تک، اسلام آباد سے مریدکے تک جیسے اپنے لوگوں پر انہی کی حفاظت کے لیے مہیا کی گئی بندوقوں سے، انہی کے پیسوں سے خریدی گئی گولیوں سے، انہی کا خون بہا کر، انہی کے دیس کو لہولہان کیا جارہا ہے۔ جیسے خیبر پختونخواہ سے بلوچستان تک کو اپنے مقاصد کے حصول کے لیے آگ کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ صرف اور صرف اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ رجیم چینج کی سازش صرف عمران خان کو ہٹانے کی سازش نہیں تھی یہ ملک توڑنے کا سودا تھا۔ عاصم منیر اور اس کے ماتحت ٹولے نے پاکستان کو جس آگ میں جھونک دیا ہے پاکستانی قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے ایک ایک کرکے اپنی باری کا انتظار کرنا ہے یا ایک ہی بار اور متحد ہوکر اس عفریت سے نجات کے لیے تگ و دو کرنی ہے۔ شاید ہمارے پاس ایسا کرنے کے لیے زیادہ وقت نہ بچا ہو۔
جیل کی سلاخوں کے پیچھے صرف عمران خان نہیں، ہماری قسمت، ہمارا ووٹ، ہماری خوشحالی اور ہماری آزادی بھی قید ہے۔
باہر نکلیں اور دنیا کو بتائیں کہ ہم اپنے لیڈر کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔
#خان_کو_رہا_کرکے_مقابلہ_کرو
اسلام آباد: میانوالی کے 200 بستروں والے مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال سے بانی چیئرمین عمران خان کے نام کی افتتاحی تختی ہٹانا ایک بار پھر اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکمران سیاسی مخالفین کا مقابلہ کارکردگی سے نہیں بلکہ تاریخ مٹانے کی کوششوں سے کرنا چاہتے ہیں۔
تقریباً 3 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ ہسپتال، جس کا افتتاح دسمبر 2022 میں عمران خان نے کیا، میانوالی اور سرگودھا ڈویژن کے لاکھوں عوام کے لیے اہم طبی سہولت ہے۔ اس منصوبے کی شناخت ختم کرنے کی کوشش عوامی خدمت کے منصوبوں کو سیاسی تعصب کی نظر سے دیکھنے کے مترادف ہے۔
یہ منصوبہ عوام کی سہولت کے لیے بنایا گیا تھا، کسی فرد یا جماعت کی ذاتی ملکیت نہیں۔
• پاکستان کا واحد کرکٹ ورلڈ کپ عمران خان کی قیادت میں جیتا گیا، یہ حقیقت کسی تصویر یا تختی سے تبدیل نہیں ہو سکتی۔
• شوکت خانم، نمل یونیورسٹی، صحت کارڈ اور دیگر فلاحی منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ میراث کام سے بنتی ہے، سرکاری احکامات سے نہیں مٹتی۔
• تاریخ تختیاں ہٹانے سے نہیں بدلتی، عوامی یادداشت اور خدمات اسے زندہ رکھتی ہیں۔
جو لوگ اپنی کارکردگی سے مقابلہ نہیں کر سکتے، وہ دوسروں کی شناخت مٹانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن منہ کی کھاتے ہیں۔
عمران خان کا نام کسی تختی کا محتاج نہیں، ان کی خدمات ، عوامی اثر اور اس چور ٹولے میں عمران خان کا خوف ہی خود ان کی پہچان ہیں۔
#مزاحمت_سے_ہوگی_خان_کی_رہائی
ایک بار @ImranRiazKhan نے کہا تھا کہ عمران خان کو نکالا تو بڑا نقصان ہوگا اسٹیبلشمنٹ کو۔”وہ نواز شریف کی طرح یہ نہیں پوچھے گا کہ مجھے کیوں نکالا، وہ سب کو بتائے گا کہ اس کو کیوں نکالا“
اس وڈیو میں عمران خان نے عوام کو سب کچھ سمجھایا اور تب سے لوگ دل و جان سے اس کے ساتھ ہیں اور نفرت سے دیکھتے ہیں جنرل باجوہ، جنرل عاصم منیر اور ان کی ٹیم کو کیونکہ انہوں نے اس بندے پر ظلم کیا جو پاکستان اور مسلمانوں کے لیے جدوجہد کر رہا تھا۔
#خان_کی_رہائی_تک_لڑتے_رہنا_ہے