@Waja__Baloch صرف 3 کی موت پر اظہار تعزیت باقی جو 24 لوگ وہاں مارے گئے وہ اب یہ نہ کہنا وہ دہشت گرد تھے ۔
اگر وہاں دہشت گرد موجود تھے فورسز کے پاس اطلاع تھی تو سوراب fc کیمپ وہاں سے 35 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے پولیس فورس بھی موجود تھی ائیر اسٹرائیک کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔
@BurakDigital55 چرواہے تھے بیچارے سوراب سے 25 منٹ کا سفر ہے ایک دیہات ہے گیدر غریب لوگ کچے مکانوں میں رہتے تھے دہشت گرد کہتے ہو ان کو یہ ہے وہ دہشت گرد جس سے تم لوگوں کو خطرہ تھا ۔
@_mahparaa یہ کونسا سوراب ہے اور سوراب کے جس علاقے میں واقع پیش آیا وہ چھوٹا سا گاؤں ہے وہاں براوی آباد ہیں پٹھان دال میں کنکر برابر بھی نہیں ملے گا ۔تحقیق کے بعد خبر پوسٹ کریں ۔
نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے ۔
@Dukhtar_B افسوس آپ کے اس بیان میں جیٹ کا ذکر ہی نہیں اور سورب کے لوگ رو رہے ہیں کہ ہم پر جیٹ طیارے سے بمباری ہوئی ۔ آپ تو کہہ رہے ہو بارودی مواد خود پھٹ گیا پتہ نہیں آپ ��چ بول رہے ہو یا پھر سوراب گیدر کے لوگ جو وہیں موجود تھے ۔
@bazai_tania کویٹہ کا پرانا نام شالکوٹ تھا ۔ اب یہ مت مت کہنا یہ پشتو لفظ ہے ۔ آج جو باتیں تم کر رہی ہو ایسی بات محمو�� خان اچکزئی کے والد نے بھی کی تھی میزان چوک پر بڑا سا پتھر رکھ کر ۔ باقی قصہ پورے کویٹہ کو پتہ ہے کیا ہوا تھا ۔
@Mahnoor_Haider2 او میڈیم جھنڈا لگانے والے کہیں بھی جھنڈا لگا کر چلے جاتے ہیں اور آپ عام لوگوں کو وارننگ دے رہی ہو کوئی بھی عام شہری ایسی حرکت نہیں کرتا اب آدھی رات کو کوئی لگا کر چلا جائے صبح فورسز آ کر دکاندار سے پوچھیں کہ کس نے لگایا تو وہ بیچارہ کیا جواب دے گا ۔
@khizarmumtaz2@RH_views چند کلو سے مراد کم از کم 20kg تو نکلتا ہو گا ۔ اور ریفائنری ایک ہی بار لگتی ہے یا ہر کلو کے لیے نئی ریفائنری لگانی پڑتی ہے ۔ اور یہ سیندک ریکوڈک کو 40 سال سے زیادہ ہو رہا ہے ۔ ابھی تک میرے خیال سے ریفائنری کی قسطیں جمع کروا رہے ہیں 😆
فی کلوگرام قیمت: تقریباً $139,604۔ڈالر
@Waja__Baloch کسی بھی ریاست میں امن تب تک نہیں آتی جب تک انصاف قائم نہیں ہوتا ۔ اور پاکستان میں انصاف کا تقاضہ یہ ہے جس کے پاس پیسہ اور طاقت ہے قانون اُس کے لیے نرم لہجہ استعمال کرتا ہے جو غیرب ہے اس پر قہر برساتا ہے ۔ جیب میں پیسے ہیں تو قتل کیس میں بری نہیں تو روٹی کے چوری پر بھی پھانسی ۔
@Abbasbugti52 ایک بات مجھے سمجھ نہیں آتی بچے دہشت گردوں سے نہیں ڈرتے لیکن فورسز کی گاڑیوں کو دیکھ کر بھاگ جاتے ہیں ۔
تربیت کی ضرورت فورسز کو ہے عام لوگوں سے اچھا سلوک کریں عوام کے دل میں اپنے لیے محبت پیدا کرے ۔ عوام کو لگے کہ یہ ہمارے محافظ ہیں یہاں پولیس کو دیکھ کر لوگ بولتے ہیں لُٹیرے آ گئے
@iAmjadKhann پہلے مردوں کو روزگار فراہم کرو جب ورکرز کم پڑ جائیں تب خواتین کو کام کرنے کا بولو ۔
75 فیصد نوجوان بے روزگار پھر رہے ہیں اور ان کو خواتین کو گھروں سے نکالنے کی پڑی ہے ۔ پوری دنیا عورتوں کو گھروں سے نکالنے کے پیچھے ہے ۔اصل ۔مقصد بتاؤ خواتین کے حقوق کا بہانا نہ کرو
@Waja__Baloch پاکستان کے آئین آرٹیکل 14 کے پولیس بھی کسی ناکے یا سڑک پر کسی شہری کا فون زبردستی چیک نہیں کر سکتی۔ پولیس کو کسی کا فون یا ڈیٹا چیک کرنے کے لیے باقاعدہ عدالتی وارنٹ یا ٹھوس قانونی وجہ (جیسے سنگین جرم کا شبہ) درکار ہوتی ہے۔
@MaherPK12 ویسے یہ ویڈیو بنانے کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی فورسز کو اطلاع دیتا تو یہ رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے نا مگر ان کو پکڑوانے سے زیادہ ویڈیو وائرل کرنے سے زیادہ فائدہ ہے کمنٹس بھی ملیں گے لائیکس بڑھیں گی ۔
@Abbasbugti52 یار پتہ نہیں آپ کہاں کی خبریں دے رہے ہو کویٹہ میں سیکیورٹی کے لیے 6 ہزار اہلکار ڈیوٹی پر تعین کر دیے گئے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کرفیو کا اعلان یہ کونسی کامیابی ہے بھائی لوگوں کو راشن نہیں مل رہا بازاروں میں سامان کی کمی سڑکیں سفر کے لیے محفوظ نہیں ۔
@muhammadaz53583@MaidahMuhammad دنیا میں صرف 2 ہی مُلک کے لوگ چوتیے ہیں جنہیں پولیس سڑکوں پر گھسیٹ گھسیٹ کر مارتی ہے ۔یورپ خلیج اور باقی ممالک میں پولیس بڑے سے بڑے مجرم کو بھی صرف قابو کرنے کے کوشش کرتی ہے مارتی نہیں ۔
کسی بھی شخص کے عزتِ نفس پر حملے کے اجازت کوئی بھی قانون نہیں دیتی ۔
@Abubakrnazir804 جرنیلوں نے جو کیا کیا سیاستدانوں نے بھی جو کیا کیا ۔ آپ نے بھی کمال کر دیا صرف ویڈیو بناتے رہے مالی مدد کرنے کی توفیق نہیں تو نا صحیح کم از کم بچی کا بوجھ تو ہلکا کرتے مریض کو منزل تک تو پہنچا دیتے
@cutehunmee یہ کیسے چوتیوں والے حرکت ہیں اس گورنمٹ کے سوشل میڈیا پر ایسی بیوقوفوں والے ویڈیو بنوا کر سیاست دانوں پر الزام لگانے کے لیے ۔ کوئی فطری عمل کرو جو دیکھنے میں بھی اصلی لگے اور ذہین بھی تسلیم کرے ۔ یا تو آپ عوام کو چوتیاں سمجھتے ہیں یا خود ہیں یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا میں ۔
@IG_Zahra یعنی یہ بھی سرکاری الہ ہے ۔
کسی نے کہا تھا اگر عوام کے غصے کو ختم کرنا ہے تو اُن کو چوکوں پر نعرے بازی کروا کر بڑے بڑے دعوے کر کے اگلے ہفتے تک انتظار کرواؤ پھر اگلے ہفتے یہی کرو بس عوام کی جذبات ختم ہو جائے گی ۔