ایک PTI دور کا کارڈ اور ایک ن لیگ دور کا کارڈ ہے
دونوں سے ملنے والی سہولتوں کا ذکر بعد میں کریں گے پہلے صرف ان دو کارڈز کی شکل کا ج��ئزہ لیجئے
عم��ان خان کے دور میں سب نے اعتراض کیا تھا کہ ہیلتھ کار ڈ پر تحریک انصاف کے جھنڈے کا رنگ کیوں ہے؟
اور آج محدود سہولتوں والے کارڈ پر فیملی فوٹو چسپاں ہے اور کوئی اعتراض نہیں؟
ڈی چوک انہوں نے چند لمحوں میں خالی کروا لِیا کیونکہ جانتے تھے دوسری طرف نہتے لوگ ہیں
پچھلے 77 سالوں سے کشمیر کا ایک چپا بھی ہندوستان سے خالی نہیں کروا سکے کیونکہ جانتے ہیں دوسری طرف بندوقوں والے ہیں
جب بندوق کا مقابلہ بندوق سے ہوتا ہے تو یہ لیٹ جاتے ہیں
ریڑھی والے کو بھی نو مئی کے کیس میں اندر کر دیا بعد میں پتا چلا کہ پولیس والے ریڑھی والے سے مفت میں مونگ پھلی کھانا چاہتے تھے انکار کی صورت میں اُس پر نو مئی کا کیس بنا دیا
مارشل لاء کے نفاذ کے بعد جنوبی کوریا میں ایک خاتون نے فوجی سے بندوق چھیننے کی کوشش کی، لیکن فوجی بے شرم نہیں تھا، بیغیرت نہیں تھا، دماغ رکھتا تھا، ڈفر نہیں تھا،اپنی لوگوں کو بھی انسان سمجھتا تھا اس لیے اس نے گولی نہیں چلائی. یہ ہوتے ہیں قوم کے اصل محافظ!
میرے پاکستانیو! آپ نے صرف پاکستانی رہنا ہے۔ یہ آپ کو آپ کے مسلک اور فرقے یاد دلائیں گے۔ نسل اور اصل میں الجھائیں گے۔ لہجے اور زبان کو بنیاد بنائیں گے، مگر جب تک آپ ایک جھنڈے تلے متحد رہیں گے، یہ اپنے ناجائز قبضے کے لیے بھونڈی دلیلیں ہی گھڑ سکیں گے اور بہت جلد اپنے گناہوں کے بوجھ سے غرقاب ہوجائیں گے۔ مراد سعید
@MuradSaeedPTI #MuradSaeed
https://t.co/OoyE3Ukkas
دو ریڑھی والوں سے مصطفیٰ نامی ASI رمنا پولیس اسٹیشن اسلام آباد، مفت کھانا کھاتا تھا اور جوس پیتا تھا۔ پیسے نہیں دیتا تھا۔
ایک دن اس نے انہیں اٹھا کر جیل میں ڈال دیا اور 9 مئی کا مقدمہ بنا دیا۔
ایمان مزاری کی زبانی پولیس کے ظلم کی داستان۔👇
کیسے کیسے لوگوں کو مسلط کر دیا گیا ہے میں نے 2 دن پہلے اس منافت کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا کہ انکا اگلا منصوبہ جعلی مقتول کھڑے کرنے کا ہوگا تاکہ اصلی مقتولوں کا معاملہ دبایا جا سکے۔ تحریک انصاف نے جن 12 شہدا کے نام دیئے ہے ان میں سے کوئی سامنے لاؤ۔
بنگالی غدار نہیں تھے، بلوچ بھی غدار نہ��ں ہیں، پختون بھی غدار نہیں ہیں، بس ہماری ریاست دیوار سے لگا کر لوگوں کو اس مقام پر لا کھڑا کرتی ہے کہ کوئی آپشن ہی نہیں رہتا۔
There are eyewitness reports alleging that a massacre took place in Islamabad on Wednesday, November 25th, and as many as 400 peaceful demonstrators were killed. There must be an independent investigation to determine exactly what happened. Both Pakistanis and those in the international community who support freedom and human rights must insist on it. #Pakistan
اکنامک ٹائمز نے سٹوری شائع کردی 🚨
انٹرنیشنل میڈیا کی ایک اور تہلکہ خیز سٹوری
اس بار اکنامک ٹائمز نے ڈی چوک میں برپا کی جانیوالی درندگی رپورٹ شائع کی ہے
https://t.co/sQhV04F5wa
اپنے پرامن رہنا ہےایک پودا بھی نا ٹوٹے، ایک گملا بھی نہ ٹوٹے
عمران خان جب آئیں گے ہم صفائی کر کے اٹھیں گے
ڈی چوک کے قریب پی ٹی آئی کے کنٹیرز سے اعلانات ہوئے تھے